وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

بدھ 28 ستمبر 2016 کشمیر کی گونج اقوام متحدہ میں

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71ویں اجلاس سے خطاب کو جو پذیرائی کشمیر میں حاصل ہوئی ہے ماضی میں شاید ہی کسی پاکستانی حاکم یا لیڈر کی تقریر کو ایسی اہمیت حاصل ہوئی ہو۔ کشمیر کے لیڈر، دانشور، صحافی، تجزیہ نگار، علماء، طلباء اور عوام کو اس تقریر کا بڑی بے صبری سے انتظار تھااگرچہ یہاں آج کل پاکستان کے تمام نیوزچینلزمکمل طور پر بند ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز بھی گذشتہ ڈھائی مہینے سے بند ہیں، البتہ بھارتی نیوز چینلز کے ذریعے سے’ اس تقریر کے بعض حصے پیش کر کے وزیر اعظم پر شدید تنقید کی گئی‘ جس سے کشمیریوں نے سمجھ لیا کہ شاید اس دفعہ کسی نے درست ترجمانی کی ہوگی اس لئے کہ کشمیری بخوبی سمجھتے ہیں کہ’’مبہم اور مشکوک قومی مفاد‘‘کے نام پر کس حد تک بھارتی نیوز چینلز کے اینکروں پر پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ اخلاق واقدار سے عاری بیہودہ پن کا مرض ان ’’لکھے پڑھے جہلا‘‘میں کس قدر سرایت کر چکا ہے کہ IBN7کے ساتھ کام کرنے والے کشمیری صحافی نصیر احمد سے چینل مالک نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ’’شہید برہان وانی‘‘کے خلاف بدکرداری پر مبنی کوئی ایسی رپورٹ تیار کرے جس کو ٹی وی پر چلا کر برہان وانی کو بدنام کیا جائے، نصیر کے انکار پر اسے استعفیٰ مانگا گیا اور بعد میں ’’کذب و افترأ پر مبنی یہ شرمناک فائل‘‘جموں کے رپورٹر سے تیار کروا کے کئی روز تک چلائی گئی۔ یہ ہے بھارت کے نیوز چینلزکے مالکان اور ان چینلوں میں کام کرنے والے اینکروں کے اخلاق و اقدار کا حال۔

خیر بات ہو رہی ہے پاکستانی وزیر اعظم کی اقوام متحدہ میں تقریر کی، دوسرے دن وزیر اعظم پاکستان کی تقریر جب اخبارات میں شائع ہوئی تو پتہ چلا کہ بھارتی الیکٹرانک میڈیا پر ’’مرگی کے دورے‘‘پڑنے کا بنیادی سبب کیا تھا اور ان کے سیاسی تجزیہ نگاربوکھلائے ہو ئے کیوں تھے؟حالانکہ وزیر اعظم کی تقریر میں ایک بھی لفظ ایسا نہیں تھا جس کو غلط قرار دینے کی گنجائش ہو۔ وزیر اعظم پاکستان نے کہاکہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیرپاکستان اوربھارت میں امن ممکن نہیں ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام 70 سال سے آزادی کا انتظار کررہے ہیں، بے گناہ کشمیری بچوں اور خواتین کے قتل عام کی تحقیقات کی جائے، لوگوں کو حق خود ارادیت سے محروم نہیں رکھا جاسکتاہے۔ بھارت کے ساتھ امن مذاکرات چاہتے ہیں، سرینگرمیں بچوں، خواتین کی بڑی تعدادسڑکوں پرنکل کرآزادی مانگ رہی ہے، ان مظالم سے کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے، برہان وانی کشمیر کی تحریک میں نئی علامت بن کر سامنے آئے، دہشت گردی کی جڑیں لوگوں کے حق خود ارادیت سے محرومی میں ہے، بھارت کی قابض فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانیت سوزمظالم ڈھائے، اس وقت تک دہشتگردی کاخاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک اس کی جڑوں کا تعین نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات دونوں ممالک کی ضرورت ہیں، بھارت کی پیشگی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں، پاکستان بھارت کیساتھ امن چاہتاہے، مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے ہی خطرے میں اضافہ ٹل سکتا ہے، کشمیر میں ہلاکتوں پر اقوام متحدہ کی ’’فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی‘‘ بنائی جائے، کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کی تحقیقات ہونی چاہیے، مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر پاکستان اور بھارت کے آپس کے مسائل کا حل ہونا ناممکن ہے، کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کرے، بھارت کی پیشگی شرائط مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

بھارتی میڈیا اور سیاستدان شہید برہان وانی کے اقوام متحدہ میں تذکرے سے آگ بگولہ نظر آتے ہیں اور تو اور ایک بھارتی انتہا پسند تنظیم جو بی جے پی کی اتحادی پارٹی ہے، نے وزیر اعظم پاکستان کا سر کاٹ کر لانے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کر دیا۔ مودی سرکار کا جنگی جنون دیکھ کر بھارتی میڈیا بھی پاگل پن میں مبتلا نظر آتا ہے انتہا پسند تنظیم کا بیان مسلسل مختلف چینلز پر چلا یا جاتا رہا۔ بھارت میں انتہاپسندی کی انتہایہ ہے کہ زرد صحافت نے ماضی کے تمام ریکارڈتوڑتے ہوئے نہ صرف یہ بیان نشر کیا بلکہ اس کی بالواسطہ حمایت بھی کی۔ مودی سرکار کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ایک جانب پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگاتی ہے لیکن قومی ٹیلی ویژن پر ایک انتہاپسند کی جانب سے سرکاٹنے کا بیان ٹیلی کاسٹ کروا کر ثابت کرتی ہے کہ اس سے بڑا ریاستی دہشت گرد دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔ بھارتی حکمران پاکستانی وزیر اعظم کے بیان پر صرف اس لئے مشتعل نظر آتے ہیں کہ ایک ’’یتیم قوم‘‘ کو جس طرح گذشتہ ستر برس سے انھوں نے دبا کر رکھا ہے، اس پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ’’ایک مسلمان ایٹمی قوت‘‘نے اقوام عالم کے سب سے بڑے سیاسی فورم پر بے نقاب کرتے ہو ئے جمہوریت کے جھوٹے دعویدار کو عریاں کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی سبھی سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے وزیر اعظم کی تقریر کا خیر مقدم کیا۔ محترم سید علی شاہ گیلانی صاحب نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’انہوں نے عالمی فورم میں جموں وکشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھا کر کشمیریوں کا بہی خواہ اور محسن ہونے کا حق ادا کیا۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ پاکستانی وزیرِ اعظم نے عالمی ادارے کے اسٹیج پر کشمیریوں کی امنگوں، آرزوؤں کی صحیح ترجمانی کی ہے اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ اور موجودہ صورتحال سے پوری عالمی برادری کو آگاہ کیا۔ انھوں نے وزیر اعظم پاکستان کے جموں وکشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جما ؤوالا خطہ ہے اور بھارتی فوج یہاں سنگین قسم کے جنگی جرائم کا ارتکاب کررہی ہے۔ انہوں نے نواز شریف کے جموں کشمیر میں ’’فیکٹ فائنڈنگ مشن‘‘ بھیجنے کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ عالمی برادری کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کے انکار کے باوجود جموں کشمیر میں ایسی ایک ٹیم بھیجے جو خود مشاہدہ کرے کہ جموں کشمیر میں بھارت کی فوج کس طرح انسانیت کو ’’سرحد پار دہشت گردی‘‘ کی آڑ میں تاراج کررہی ہے۔ گیلانی نے ترکی اور چین کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مظلوم اور محکوم کشمیریوں کے مصائب اور مشکلات کا سنجیدہ نوٹس لیکر ایک جرأت مندانہ موقف اختیار کیا ہے۔ ‘‘۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے ’’حکومت پاکستان، پاکستانی عوام اور خاص طور پر میاں نواز شریف کا اس بات کیلئے شکریہ ادا کیا ہے جو انہوں نے 22جولائی کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے جموں وکشمیر کی اصل اور زمینی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے یہاں ہو نے والے ظلم و تشدد، قتل و غارت، حریت قائدین، عہدیداروں اور کارکنوں کے علاوہ آئے دن سینکڑوں کشمیریوں خاص طور پر نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں اور بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں سے بین الاقوامی برادری کو واقف کرایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ نواز شریف نے اس سلسلیمیں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کو اس دیرینہ مسئلہ کے حل کیلئے جو تجاویز پیش کیں وہ حریت کے دیرینہ مطالبوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور خاص طور پر نواز شریف کی یہ تمام مثبت کاوشیں ہمارے لئے نہ صرف اطمینان بخش ہیں بلکہ حوصلہ افزا بھی ہیں اور ان سنجیدہ اور مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں کشمیری عوام کو اپنی پر امن جدوجہد کو آگے لے جانے کیلئے تقویت مل رہی ہے ‘‘۔

اسی طرح شبیر احمد شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے معزز نمائندگان اگرچہ جموں و کشمیر میں ہونے والے قتل و غار ت گری کی بنیادی وجہ اور بھارتی مظالم سے بخوبی واقف ہیں لیکن پاکستان نے ایک محسن کا کردار ادکرتے ہوئے اس بات کاثبوت پیش کیا کہ پاکستان کے عوام اور وہاں کی حکومت ہمارے دکھ درد کی ٹیس اپنے دلوں میں محسوس کرتی ہیں۔ انھوں نے نواز شریف کے خطاب کو مدلل اور مربوط اور جموں کشمیر کے مظلوم عوام کی آواز قرار دیتے ہوئے اس کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی کہ اقوام عالم کے قائدین اس سلسلے میں عملی اقدامات کرکے دنیا میں امن کے قیام کے لئے مثبت رول ادا کریں گے۔ شبیر شاہ نے نواز شریف کے بیان کو جموں کشمیر کے عوام کے دلوں کی آواز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی قائدین نشستند، گفتند اور برخاستند کی روایت سے اوپراْٹھ کر ریاست میں انسانیت سوز کاروائیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں گے۔ محمد یاسین ملک نے میاں محمد نواز شریف کے خطاب کوخوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کی آواز کو دنیا تک پہنچانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا ’’ ہمیں امید ہے کہ اقوم عالم نواز شریف کی تجاویزپر غور کرکے عملی اقدامات کریں گے اور دنیا کے اس دیرینہ تنازعہ کو حل کرنے کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں گے۔

وزیر اعظم پاکستان کی تقریر پر سب سے زیادہ مسرت کشمیر کی مظلوم عوام محسوس کر رہی ہے۔ ہر جوان، بزرگ، بہن، بیٹی اور ماں ان کی تقریر کو گویا اپنے جذبات تصور کرتے ہیں۔ کاش ماضی کے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈال کر ’’غیر فطری اورغیر ضروری حل‘‘پیش کرنے کے بجائے اس مسئلے کو بین الاقوامی برادری تک پہنچانے کے لئے عملی طور پر کچھ کیا ہوتا تو یقیناََ آج صورتحال بہت مختلف ہوتی۔ بھارت کی اشتعال انگیزی کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ کل تک مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں ڈالنے والے یا اگلی نسلوں کے لئے چھوڑنے کے شوشے پھیلانے والوں کے برعکس میاں محمد نواز شریف کو ہوکیا گیا کہ اقوام عالم کے سب سے بڑے فورم پر بھارت کی ناک کاٹ ڈالی۔ جو جمہوریت اور گاندھی ازم کی آڑ لیکر مسلمانانِ ہند کے ساتھ ساتھ بھارت کی تمام اقلیتوں کا کھلواڑ کرکے انھیں جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس لحاظ سے وزیر اعظم پاکستان یقیناََمبارکباد کے مستحق ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیر اعظم اکیلے سب کچھ نہیں کر سکتے۔ انھیں اس حوالے سے اداروں کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں جوابدہ بنانا چاہیے اس لئے کہ برصغیر میں عمومی تاثر یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو پاکستانی حکمران سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے سب بڑی مثال کشمیر کمیٹی کی دی جاسکتی ہے جس کی کارکردگی صفر کے برابر ہے۔ حیرت یہ کہ اس کمیٹی کا سربراہ کسی بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور اور کشمیر سے متعلق ماہر کو رکھنے کے برعکس ایک ایسے بزرگ شخصیت کو رکھا گیا ہے جو کئی لحاظ سے میرے لئے قابل احترام ہیں۔ لیکن خود بھی انھیں یہ منصب قبول نہیں کرنا چاہیے تھا اس لئے کہ یہ مسئلہ ’’فاٹا کا قبائلی یا مقامی اشو‘‘نہیں ہے بلکہ فلسطین کی طرح ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ الحاصل یہ کہ مدت مدید کے بعد پاکستان کے کسی لیڈر نے کشمیری مظلومین کے دل جیت لیے یقیناََ ان کی دعائیں ان کے لئے باعث راحت ثابت ہوں گی مگر اسی پر قناعت کرنے کے برعکس اب اس مشن کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے اس حوالے سے تسلسل قائم کرکے تمام ممکنہ طریقوں اور راستوں سے اس کے حل کی جانب پوری قوت اور جرأت کے ساتھ آ گے بڑھنا ہوگا۔


متعلقہ خبریں


میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی وجود - هفته 29 جولائی 2017

سابق وزیراعظم نوازشریف کی نااہلیت کے بعد اب اُن کا نام تمام قومی اور سرکاری جگہوں سے بتدریج ہٹایا جانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے رکن اسمبلی کے طور پر اُن کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ اسی طرح کراچی ائیرپورٹ پر قائداعظم اور صدرِ مملکت ممنون حسین کے ساتھ اُن کی موجود تصویر کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے نوازشریف کو 28 جولائی کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد فوری طور پر لندن میں بھی زیر بحث آگئی اور نوازشریف کی نااہلیت کے عدالتی فیصل...

میں کوئی حرفِ غلط ہوں کہ مٹایا جاؤں۔نوازشریف کا نام اور تصویر ہٹائی جانے لگی

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں وجود - هفته 29 جولائی 2017

٭3 اپریل 2016۔پاناما پیپرز (گیارہ اعشاریہ پانچ ملین دستاویزات پر مبنی ) کے انکشافات میں پہلی مرتبہ وزیراعظم نوازشریف اور اْن کا خاندان منظر عام پر آیا۔ ٭5 اپریل 2016۔وزیراعظم نوازشریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خاندان کے حوالے سے ایک جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا عندیہ دیاتاکہ وہ پاناما پیپرز میں آف شور کمپنی کے قیام کے حوالے سے اپنی تحقیقات کرے۔ ٭22 اپریل 2016- وزیراعظم کا دوسرا خطاب نشر کیا گیا جس میں اْنہوں نے یقین دلایا کہ اگر پاناما کیس کی تحقیقات میں ذمہ دار ثابت ہوئے...

پاناما فیصلہ کب کیا ہوا؟اہم واقعات تاریخ کے آئینے میں

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ انوار حسین حقی - هفته 29 جولائی 2017

عدالت ِ عظمیٰ کے لارجر بنچ کی جانب سے میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے فیصلے نے پاکستان تحریک انصاف اور اُس کی قیادت کی اُس جدو جہد کو ثمر بار کیا ہے جو 2013 ء کے عام انتخابات کے فوری بعد سے چار حلقے کھولنے کے مطالبے سے شروع ہوئی تھی۔ عمران خان کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزام کو اُن کے مخالفین نے ر وایتی قرار دے کر حصول انصاف کی جدو جہد کو لا حاصل اور لکیر پیٹنے کے مترادف قرار دیا جا رہا تھا۔ لیکن ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے کارکن...

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹہرے  مولانا فضل الرحمان ، عمران خان کا اگلانشانہ

نوازشریف کی نااہلی عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ رانا خالد محمود - هفته 29 جولائی 2017

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعدعمومی طور پر پنجاب اور خاص طور پر لاہور میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے جیسے ہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں5رکنی بینچ نے اپنا فیصلہ سنایا اور میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی خبر عوام تک پہنچی تو ان کا پہلا رد عمل وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے ساتھ ہمدردی اور دوسرا سپریم کورٹ پر تحفظات کا اظہار تھا۔ اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ بھی کہا جارہا ہے مگر پنجاب کے عوام کی نظر میں یہ ایسا فیصلہ نہیں ہے جس کی مثال دی جاسکے ۔اس حوالے سے ن لیگ سے تعلق رکھنے ...

نوازشریف کی نااہلی  عوامی جلسوں کے ذریعے طاقت ظاہر کرنے کا فیصلہ

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری ابو محمد نعیم - جمعرات 24 نومبر 2016

وادیٔ نیلم میں مسافر بس کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایاگیا ، تین شہری موقع پر شہید ، زخمیوں میں شامل سات افراد ہسپتال میں دم توڑ گئے گزشتہ روز ہندوستانی فوج نے اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کی تھی اور ٹوئٹ میں اس کارروائی پر شدید ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی بھارتی افواج کی دیدہ دلیری اتنی بڑھتی جارہی ہے کہ پاک فوج سے مقابلے میں لاشیں اٹھانے کا بدلہ شہری آبادی ،مسافر بسوں، اسکول جاتے بچوں اور حد یہ کہ ایمبولینسز کو نشانہ بنا کر لیا جارہا ہے ۔گزشتہ سے پیوستہ روز 3بھارتی...

 بھارتی فوج کی دیدہ دلیری فوجی پوسٹ کے بعد مسافر بس،ایمبولینس پر گولہ باری

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو وجود - جمعرات 27 اکتوبر 2016

پاکستان بار بار یہی بات دہرارہا ہے لیکن بھارت فوجی قبضے اورتسلط پراَڑاہوا ہے ،نتیجہ آنے تک مقد س اورجائزجدوجہد جاری رکھیں گے بھارتی مظالم کے آگے سینہ سپر87سالہ ناتواں بزرگ لیکن جواں عزائم اورمضبوط اعصاب کے مالک چیئرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس انٹرویوپینل:شیخ امین ۔مقصود منتظر وجود:1990 سے لیکر آج تک ہزاروں نامور عسکری کمانڈر اور سیاسی رہنماشہید ہوئے ۔ آپ کی نظر میں وہ کیا خاص چیز تھی جس نے حزب المجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کو مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچا یا اور 8جولائی...

کشمیری حق خود ارادیت کے سوا کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے،سید علی گیلانی کا وجود کو خصوصی انٹرویو

شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان وجود - پیر 24 اکتوبر 2016

انٹونیو گیٹریز کے حق میں سلامتی کونسل کے 15 مستقل ارکان میں سے 13 نے ووٹ دئے، 2ارکان غیر حاضر رہے،کوئی ووٹ ان کے خلاف نہیں پڑا پرتگال کے سابق وزیر اعظم، 10 سال تک اقوام متحدہ کے ایک اہم عہدے کے سربراہ رہے، رکن ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کے منشور پر عملدرآمدکے لیے پرعزم جنرل اسمبلی نے گزشتہ دنوں اپنے اجلاس میں پرتگال کے سابق وزیراعظم انٹونیو گیٹریز کوبان کی مون کی جگہ اگلے 5سال کیلیے اقوام متحدہ کانیا سیکریٹری جنرل منتخب کرلیا۔وہ اگلے سال جنوری میں اپنے عہدے کاحلف اٹھائی...

شام،فلسطین،عراق،کشمیرودیگرخطوں کی سلگتی صورتحال, نئے یو-این سیکریٹری کاامتحان

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین شیخ امین - هفته 22 اکتوبر 2016

ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے،پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہیے مذاکرات اور قراردادوں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مجاہدین کو وسائل مہیا کیے جائیں جب دنیا ہماری آواز نہیں سن رہی تو پھر ہمارے پاس آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ہی آخری آپشن ہے،سید صلاح الدین کا ایوان صحافت مظفر آباد میں خطاب امیر حز ب المجاہدین وچیئرمین متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات اور قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ بھارت سے آزادی کے لیے پ...

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین

طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر ایچ اے نقوی - بدھ 05 اکتوبر 2016

اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے گزشتہ روز وزیراعظم کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی اور بھارت کے جنگی جنون سے نمٹنے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی بھرپور مدد کرنے کے حوالے سے کوششوں کیلیے وزیر اعظم کابھر پور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔اپوزیشن کے رہنماؤں نے اس نازک وقت میں وزیر اعظم کے ساتھ اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ہاتھ مضبوط کرنے اور ان کابھرپور ساتھ دینے کااعلان کرکے نہ صرف بالغ نظری کاثبوت دیاہے بلکہ پاکستان کو ایک منقسم قوم تصور کرنے و...

پاک بھارت تنازع، بھارتی سیاستدان منتشراور پاکستانی سیاستدان متحد، خوش کن منظر

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ الطاف ندوی کشمیری - بدھ 05 اکتوبر 2016

یوں توآج کل پورا برصغیر آپریشنوں اور اسٹرائیکوں کے شور سے پریشان ہے مگر کشمیر براہ راست ان کی زد میں ہے۔ یہاں حکومت نے آپریشن ’’کام ڈاؤن‘‘کا آغاز کرتے ہو ئے پورے کشمیر کو بالعموم اور جنوبی کشمیر کو بالخصوص سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑا ہے۔ انھیں مکمل طور پر کھلی چھوٹ ہے۔ جسے چاہیں گرفتار کرسکتے ہیں، جہاں چاہیں چھاپا مار سکتے ہیں،جس کو چاہیں گولی یا پیلٹ کے ذریعے جان سے مار سکتے ہیں۔ آنسو گیس، پاواشیلنگ اور لاٹھی چارج اب ان کے لیے معمول کی مشق بن چکی ہے۔ انھیں انسانیت...

کشمیر میں جاری آپریشن توڑ پھوڑ

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور انوار حسین حقی - منگل 04 اکتوبر 2016

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں زبردست سفارتی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہو اہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی نے سفارتی حلقوں کو بہت زیادہ سرگرم کیا ہواہے ۔ پاکستان کے دفاعی اور سفارتی حلقوں کی شبانہ روز کاوشوں نے بھارت کو سفارتی اور دفاعی لحاظ سے پسپائی پر مجبور کر دیا ہے ۔ انڈین آرمی کی جانب سے جس سرجیکل اسٹرائک کا دعویٰ کیا گیا تھا اس من گھڑت معرکے کے حوالے سے پاکستان کے دفاعی ذرائع نے جو جرات مندانہ پالیسی اختیار کی اور انہیں قوم کے ا...

پاکستان کی مضبوط سفارتی مہم اور قومی یکجہتی، مودی پسپائی پر مجبور