وجود

... loading ...

وجود

آبی جارحیت کی دھمکی، بھارتی اقدام پر سندھ بنجر ہو جائیگا

بدھ 28 ستمبر 2016 آبی جارحیت کی دھمکی، بھارتی اقدام پر سندھ بنجر ہو جائیگا

water-scarcity

’’آب اور لہو ایک ساتھ نہیں بہ سکتے ‘‘ یہ نئی بڑھک جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے انتہا پسند ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے لگائی ہے ۔ کشمیری حریت پسندوں کے جذبہ حُریت سے خوفزدہ بھارتی قیادت نے بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کے خلاف ناکامی کے بعد سندھ طاس کمیشن کے مذکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ مذاکرات کے التواء کا اقدام دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بھارت کی جانب سے اُٹھایا جانے والا سب سے ٹھوس قدم ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی موجودگی اور اُس کی قانونی نوعیت کی وجہ سے بھارت کی جانب سے اُٹھایا جانے والا یہ اقدام اس لیے سنجیدہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ آبی جارحیت کی خاطر فی الحال بھارت اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا ۔ بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کے خلاف پانی کا ہتھیار استعمال کرنے کے لیے ماہرین اور متعلقہ وزارتوں کا جو اجلاس بُلایا تھا اُس اجلاس میں پاکستان کا دریائی پانی روکنے کی ان کی خواہش حسرت میں بدلتی نظر آئی ۔ اجلاس میں سندھ طاس معاہدے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیاگیا۔ کوئی حمتی فیصلہ نہ ہونے پر یہ کہ کر اجلاس کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا کہ اس معاملے پر قانونی مشاورت کی جائے گی ۔ اس اجلاس میں پرنسپل سیکرٹری نریپندر مشرا، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول اور سیکرٹری خارجہ جے شنکر بھی شریک تھے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے درمیان طے پایا تھا جس کے مطابق دریائے بیاس ، راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کے پاس ہے جبکہ دریائے سندھ ، جہلم اور چناب کا کنٹرول پاکستان کو دیا گیا تھا ۔ مذکورہ معاہدے کے تحت پاکستان دریائے سندھ ، جہلم اور چناب سے 144 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل کرتا ہے لیکن بھارت شروع سے ہی اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے اور پاکستان کے حصے کے ان دریاؤں پر اُس نے کئی ڈیموں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان دو ماہ قبل جولائی2016 ء میں بھی مذاکرات ناکام ہوئے تھے جس پر پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا اور معاملہ ابھی زیر سماعت ہے ۔

اب بھارت کی قیادت اس معاہدے کے بخیے ادھیڑنے کا سوچ رہی ہے جس کا اظہار نریندر مودی کے خیالات سے بخوبی ہوتا ہے۔اجلاس میں شریک بھارت کی وزارت پانی نے سندھ طاس کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کی ۔ بتایا جا رہا ہے کہ ماہرین نے یہ کہہ کر چانکیائی سیاست کے علمبردار مودی کو ٹھنڈا کر دیا کہ سندھ طا س معاہد ایک عالمی معاہدہ جسے بین الاقوامی مالیاتی ادارے ورلڈ بنک کی ضمانت حاصل ہے ،اس کی خلاف ورزی ایک ایسی غلطی ہو گی جس کے مضمرات بھارت کو نقصان پہچانے کا باعث بن سکتے ہیں ۔اجلاس میں پاکستان کے روایتی حلیف عوامی جمہوریہ چین کے ممکنہ کردار کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ اگر پاکستان کا پانی روکا گیا تو ردِ عمل اور پاکستان کی حمایت میں چین دریائے براہما پُترا سے بھارت کی جانب آنے والا پانی بند کر سکتا ہے جس کے سیاسی مضمرات بھی ہونگے جوانڈیا اور چائنا کے درمیان کشیدگی کا باعث بنیں گے اوراگر عوامی جمہوریہ چین کے ساتھ کشیدگی کا دروازہ کھلا تو بھارت پاکستان کے مقابلے میں کمزور پڑ جائے گا ۔

نریندر مودی کی صدارت میں کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس اجلاس میں سندھ طاس کمیشن کی سطح پر مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا گیا اور معاہدے پر نظرِ ثانی کے لیے بین الوزارتی پینل تشکیل دیا گیا ۔اجلاس کے بعد بھارت کے اندر بھی شدید قسم کا ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ انڈیا کے سنجیدہ حلقے آبی جارحیت کے حوالے سے مودی کے عزائم کو بین الا قوامی ضابطوں اورقوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں ۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے ہتھیار کا استعمال کیا گیا تو عالمی سطح پر بھارت کے اس اقدام کا دفاع مشکل ہو جائے گا ۔ بھارت کے سابق سیکرٹری خارجہ کنول سبھال کا کہنا تھا کہ ’’ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی انتہائی حساس اقدام ہوگا اس لیے بھارت کو عالمی سطح پر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ بھارت میں ایک ہندو انتہا پسند وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کیجانے والی درخواست کی فوری سماعت سے چیف جسٹس سمیت دو ججوں پر مشتمل بنچ نے انکار کر دیا ہے ۔ سندھ طاس کمیشن کے ذرائع نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ بھارت کو آبی جارحیت مہنگی پڑے گی ۔ پانی کا معاملہ انتہائی حساس ہے ۔ بھارت یکطرفہ طور ر سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کر سکتا اور اسے یہ قدم اُٹھانے سے پہلے کئی بارسوچنا ہوگا ۔ موجودہ حالات میں بھارت کا جنگی جنون کم ہونے میں نہیں آرہاہے ۔ بھارت نے پانی بند کرنے کی جو دھمکی دی ہے یہ انڈیا کی جانب سے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔ بھارت کے پالیسی ساز ادارے سندھ طاس معاہدے کے بعد سے پاکستان کو پانی سے محروم کرکے اس کی زراعت اور معیشت پر کاری ضرب لگانے کی منصوبہ بندی کرتے چلے آئے ہیں ۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں ہے کہ بھارت پاکستان میں ایسے تنازعات کی ہمیشہ سے سرپرستی اور حوصلہ افزائی کرتا چلا آیا ہے جن کا تعلق پانی کے معاملات سے ہے یا رہا ہے ۔ بھارتی قیادت کو اگرچہ اپنے ہی ملک میں آبی جارحیت کی مخالفت کا سامنا ہے لیکن جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی کی پاکستان دشمنی کی آگ ٹھنڈی ہو تی نظر نہیں آ رہی ۔ پاکستان کو بھارت کے اس طرزعمل کے خلاف عالمی اداروں اور فورم پر آواز اُٹھانے اور بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کی مہم تیز کرنی چاہیے ۔

بھارت کی جانب سے پانی روکنے یا سندھ طاس معاہدے میں مقررہ مقدار سے زیادہ پانی استعمال کرنے سے پاکستان کو پانی کی قلت کا سامنا ہوگا ۔ ایک ایسے وقت میں جب موسم سرما کی آمد آمد ہے ،دریاؤں میں پانی کی کمی کے دن آنے والے ہیں ۔بھارت کی جانب سے اگر پاکستان کا پانی روکا گیا یا پاکستان کی طرف آنے والے پانی میں کمی کی گئی تو موسم سرما کی فصلات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ جس سے پاکستان کا صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوگا ۔ دریائے سندھ کے ٹیل پر واقع ہونے کی وجہ سے پہلے ہی سردیوں کے موسم میں یہ علاقہ پانی کی قلت کا شکار رہتا ہے ۔ اگر ان دنوں میں بھارت پاکستان کے پانی میں کمی کرتا ہے تو اس کے اپنے علاقوں میں بھی سیلاب کا خطرہ موجود رہے گا تاہم بھارت کو برتری حاصل ہو گی کہ وہ ممکنہ سیلاب کے خطرات کے پیشِ نظر ذخیرہ شدہ پانی چھوڑکر پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرسکے گا ۔ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کی دھمکی سے جہاں ان کے پاکستان دشمن عزائم کا اعادہ ہوتا ہے وہاں پاکستان کے حکمرانوں اور امن کی آشا کے علمبردار طبقات پر بھی یہ حقیقت آشکارا ہو جانی چاہیے کہ بھارت نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا لہذا ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو نئے سرے سے اُستوار کرنا ہوگا تا کہ بھارت کی ہشت پہلو جارحیت سے پاکستان کو محفوظ بنا کر خطے کے امن کو برقرار رکھا جاسکے ۔


متعلقہ خبریں


ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر وجود - پیر 04 مئی 2026

مجھے ایران کی تازہ ترین تجاویز پیش کر دی گئی ہیں، تہران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے ہرمز کی ناکا بندی دوستانہ ہے، نہیں چاہتے ان کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں،ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل پر بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑ...

ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں،امریکی صدر

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں وجود - پیر 04 مئی 2026

میزائل زمین سے زمین تک 450 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے،حکام پاکستان نے دفاعی نظام کی جانچ سے بھارتی فالس فلیگ ہتھکنڈوں کامنہ توڑجواب دیا،ماہرین پاکستان نے ابدالی میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت اور تکنیکی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا ہ...

ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے نے دشمن کی نیندیں اڑا دیں

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم وجود - پیر 04 مئی 2026

25 کروڑ عوام پر آئی پی پیز، گیس، چینی اور آٹا مافیانے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے چند خاندان مختلف ناموں، جماعتوں، نعروں کیساتھ بار بار اقتدار میں آتے ہیں،خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کرپشن اور مافیا کلچر پاکستان کے مسائل کی جڑ ہیں، جنہ...

کرپشن،مافیا کلچر نے ملک کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، حافظ نعیم

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ وجود - پیر 04 مئی 2026

نئی قانون سازی کے تحت سپریم لیڈر سے اجازت لی جائے گی ، علی نیکزاد ایران آبنائے ہرمز میں اپنے جائز حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا،گفتگو ایران کی پارلیمنٹ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کی روشنی میں اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی شر...

آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرئیلی جہاز نہیں گزریں گے، ایران کا قانون سازی کا فیصلہ

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان وجود - اتوار 03 مئی 2026

بانی پی ٹی آئی ملک کا سب سے بڑا لیڈر ،یہاںوفاداریاں نہ بیچنے والے غدار ہیں، مائنس عمران خان کا ماحول بنایا جا رہا ہے،اداروں سے کہتے ہیں سیاست آپ کا کام نہیں ہے ،محمود اچکزئی تاریخ گواہ ہے عوام کے ریلے کو کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور یہ ریلا عمران خان کو آزاد کرائے گا، ہم بانی ...

اپوزیشن اتحاد،عمران خان کی رہائی کیلئے جلسے جلوسوں کااعلان

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی وجود - اتوار 03 مئی 2026

عالمی کمپنیاں سوشل میڈیا رولز اور مواد ہٹانے سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات رکھتی ہیں رجسٹریشن سے صارفین کی پرائیویسی، آزادیِ اظہارِ رائے پر اثر پڑیگا،قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دنیا کی معروف سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی ظاہر کردی۔ تفصیلات کے مطابق پاک...

سوشل میڈیا کمپنیوں کی پاکستان میں رجسٹریشن میں عدم دلچسپی

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی وجود - اتوار 03 مئی 2026

قیام امن کیلئے وسائل میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن میں امن کی ضمانت دیتا ہوں فوجی اور انٹیلی جنس کی کارروائیاں امن کے قیام میں ناکام ہوچکی ہیں، لویہ جرگہ سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ قیام امن کیلئے وسائل اگر میرے حوالے کیے جائیں تو100 دن ...

صوبے کا مقدمہ سیاسی جماعتوں سے ملکر لڑیں گے ،سہیل آفریدی

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار وجود - اتوار 03 مئی 2026

گھی ، کوکنگ آئل، چائے پتی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ، مرغی اورانڈ ے بھی مہنگے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ،سرکاری نرخوں پر عملدرآمد سوالیہ نشان بن گیا ملک کے مختلف شہروں کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار ہے مارکیٹ ذرائع کے مطابق گھی، کوکنگ آئل، چائے پتی، س...

ملک کے مختلف شہروں میں مہنگائی کا راج بدستور برقرار

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

پاکستان کو مسلسل افغان سرزمین سے دہشتگردوں کی دراندازی اور حملوں کا سامنا ہے بعض دہشت گرد کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ عناصرملوث پائے گئے، ترجمان پاکستان نے پاک افغان سرحد کی صورتحال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے حالیہ تبصرے کو یکطرفہ اور حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی...

شہری ہلاکتوں کے افغان حکام کے دعوے بے بنیاد ہیں، دفتر خارجہ

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ وجود - اتوار 03 مئی 2026

مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات سے فارمیسیوں سے اہم ادویات غائب ہونے لگیں صورتِ حال برقرار رہی تو آنیوالے دنوں میں ادویات کی قلت سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے،ماہرین مشرقِ وسطی میں جاری بحران کے اثرات برطانیہ تک پہنچنا شروع ہو گئے جہاں ملک بھر میں فارمیسیوں سے اہم ادویات غائ...

برطانیا میں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگ گئیں، ادویات کی شدید قلت کا خدشہ

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں وجود - هفته 02 مئی 2026

ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...

امریکا نے ایران کی نئی تجاویز مسترد کردیں

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل وجود - هفته 02 مئی 2026

وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...

مہنگائی کی شرح ایک بار پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل

مضامین
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ وجود پیر 04 مئی 2026
سکھ کمیونٹی کا یورپی یونین کے سامنے مظاہرہ

مکالمے کی ضرورت وجود اتوار 03 مئی 2026
مکالمے کی ضرورت

کشمیر ایک جیل وجود اتوار 03 مئی 2026
کشمیر ایک جیل

ہم خود ہی کافی ہیں! وجود اتوار 03 مئی 2026
ہم خود ہی کافی ہیں!

غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل وجود اتوار 03 مئی 2026
غزہ ہوگیا عالمی سرخیوں سے اوجھل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر