... loading ...

تحریر :۔ ایوان کورون
امریکہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے، انتخابی بخار بھی بڑھتاجارہاہے، انتخابات میں ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے ہیں، اگرچہ امریکی عوام کے موڈ کی موجودہ کیفیت کو دیکھ کر یہی اندازہ ہوتاہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہزیمت کاسامنا کرنا پڑے گا اور امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون صدارت کامنصب سنبھالنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اس طرح ہیلری کلنٹن کو امریکہ کی خاتون اول کا درجہ دلانے والے سابق صدر بل کلنٹن امریکہ کے مر د اول بن جائیں گے، لیکن اس کے باوجود ابھی وثوق سے نہیں کہاجاسکتاکہ انتخابات تک صورت حال کیا رخ اختیار کرتی ہے اور اس عرصے میں ہیلری کلنٹن کی کون سے دانستہ یانادانستگی میں ہونے والی غلطی ان کی مقبولیت میں کمی کا سبب بن جائے گی یا ڈونالڈ ٹرمپ کی کون سی چال ان کی مقبولیت میں اضافہ کردے گی، اس طرح یہ کہا جاسکتاہے کہ ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان یہ مقابلہ انتہائی سخت اور کانٹے کامقابلہ ثابت ہوگا۔
جہاں تک ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کا تعلق ہے تو سابق خاتون اول اور پھر امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے انھیں امور مملکت اور ان کی انجام دہی کے دوران پیش آنے والے ممکنہ مسائل کا اچھی طرح اندازہ ہے وہ امریکی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کے مزاج اور کام کے طریقہ کار کوبھی سمجھتی ہیں اور امریکہ کی فوجی اور اقتصادی ضروریات اور مشکلات سے بھی کماحقہ واقف ہیں۔ تاہم ری پبلکن ووٹرز کاخیال ہے کہ انھیں بلاشرکت غیر فیصلے کرنے کاکوئی تجربہ نہیں ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک معروف کاروباری ادارے کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اہم امور پر فوری فیصلے کرنے اوران پر عملدرآمد کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ دونوں کم وبیش ایک سال سے ایک دوسرے کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں لیکن اب تک ان دونوں کوآمنے سامنے آکر مناظرہ کرنے کا موقع نہیں ملا ہے، اب تک یہی ہواہے کہ ہلیری کلنٹن اپنی پارٹی کے جلسوں میں اپنی حیثیت کو اجاگر کرتی رہی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو انتہائی موزوں امیدوار گردانتے رہے ہیں۔ اس لئے ٹی وی پر ان دونوں کے درمیان مناظرہ یقینا دیکھنے کی چیز ہوگا جس میں یہ دونوں ایک ہی اسٹیج پر آمنے سامنے ہوں گے اور امریکہ کے کم وبیش10 کروڑ عوام اس منظر کو براہ راست ٹی وی پر دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ منظر اس اعتبار سے بھی تاریخی اور امریکی تاریخ کامنفرد منظر ہوگا کہ اب تک امریکہ میں کسی خاتون نے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں حصہ ہی نہیں لیاہے۔
امریکہ میں ٹی وی پر صدارتی امیدواروں کے درمیان مناظرے کاسلسلہ 1960 میں سینیٹر جان ایف کینیڈی کے دور سے ہواجب جان ایف کینیڈی نے شکاگو میں ٹی وی اسٹیشن پر اس وقت کے نائب صدر رچرڈ نکسن کامقابلہ کیاتھا۔ اگرچہ طویل انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر ووٹر اپنے دل میں اپنے پسندیدہ امیدوار کاانتخاب کرچکے ہیں لیکن ٹی وی پر ہونے والے اس مناظرے کے بعد بہت سے ووٹروں کو شاید اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر سوچنا پڑے اوراس طرح ان کا یہ فیصلہ کایا پلٹ بھی ثابت ہوسکتاہے جبکہ جن ووٹرز نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیاہے یہ مناظرہ ان کو فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے۔ این بی سی کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق صدارتی امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے گومگو کے شکار ووٹروں کی تعداد کم وبیش 9 فیصد ہے اور خیال کیا جاتاہے کہ 9 اور 19اکتوبر کو ٹی وی پر ہونے والے مناظروں سے ان کو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
میسوری یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل مک کینے کاکہناہے کہ ٹی وی پر ہونے والے 90 منٹ کے اس مناظرے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون سا امیدوار کتنا زیادہ اسمارٹ ہے یا اس کے پاس کتنے اعدادوشمار کاذخیرہ ہے بلکہ دیکھا یہ جاتاہے کہ اس کے پاس عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے کیا ہے وہ عوام کے مسائل کو کس حد تک سمجھتاہے اور ان کو کتنی اہمیت دیتاہے۔ سیاسی مباحثوں کے ماہر پروفیسر مک کینے کا کہناہے کہ ٹی وی پر لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون سا امیدوار صاف اور سیدھے الفاظ میں ان کے اور ملک کے مسائل کو کس طرح بیان کرتاہے اور ان کو حل کرنے کیلئے اس کے پاس کیاتجاویز ہیں۔ ہلیری کلنٹن کے پاس اعدادوشمار کاایک بڑا ذخیرہ موجود ہے لیکن ٹی وی پر مناظرے کے دوران انھیں سوال کرنے والوں کو مختصر اور مدلل جواب دے کر مطمئن کرنا ہوگا کیونکہ 90 منٹ کے اندر ہی انھیں ملک کی مستقبل کی خارجہ پالیسی، امریکی عوام کی فلاح وبہبود خاص طورپر انھیں محفوظ رکھنے کے اقدامات اور انھیں بنیادی سہولتوں کی بلاتعطل اور قابل برداشت قیمت پر فراہمی کے بارے میں اپنی مجوزہ پالیسیوں کی وضاحت کرنا ہوگی، انھیں بتانا ہوگا کہ برسراقتدار آنے کے بعد وہ مختلف ممالک کی جنگوں میں الجھے ہوئے اپنے فوجی جوانوں کو کس طرح بحفاظت وطن لاسکتی ہیں اور امریکہ کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنانے کیلئے ان کے ذہن میں کیاپروگرام اوراقدامات ہیں اور اس کیلئے ان کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں پھنسنے سے خود کو بچاناہوگا۔ انھیں اپنے ووٹرز کے ساتھ اپنے جذباتی لگاؤ کا اظہار کرناہوگا اور یہ ثابت کرناہوگا کہ وہ نہ صرف یہ کہ ان کودرپیش مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں بلکہ ان کے پاس ان مسائل کاقابل عمل حل بھی موجود ہے۔ امریکہ کے صدر اوباما سے سوال کیاگیا کہ وہ اپنی سابقہ وزیر خارجہ کو دوبدو بحث کے دوران کن باتوں کاخیال رکھنے کامشورہ دیں گے تو انھوں نے کہا کہ ہیلری کو مختصراً اور مدلل بات کرنی چاہئے اور ووٹرز کے ساتھ اپنی قربت اور یگانگت کو الفاظ کے ذریعے ثابت کرنا چاہئے۔ خود ہلیری کلنٹن بھی اپنی صلاحیتوں کے بارے میں زیادہ پر اعتماد نہیں ہیں وہ برملا اظہار کرتی ہیں کہ ان میں اپنے شوہر بل کلنٹن یا موجودہ صدر اوباما جیسی کرشماتی صلاحیت نہیں ہے، امریکی ووٹر بھی اس بات کو محسوس کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق نصف سے زیادہ ووٹروں کو اب بھی یہ یقین نہیں ہے کہ ہلیری کلنٹن منتخب ہوکر صدارتی منصب کے شایان شان کردار ادا کرکے ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
2008 میں صدارتی انتخاب کی دوڑ کے پہلے مرحلے میں ہلیری کلنٹن نے خود کو خاتون آہن کے طورپر پیش کرنے اور خواتین کے حقوق کی چمپئن ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی اس کے ساتھ ہی انھوں نے ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے خود کو دادی کے کردار کے طورپر پیش کیاتھا۔ لیکن 90منٹ کے ٹی وی مباحثے میں ان کے لئے کم وبیش ربع صدی کے دوران عوام کی نظروں میں ان کا جو تاثر قائم ہوا ہے اسے تبدیل کرنا شاید ہلیری کلنٹن کے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن ثابت ہوگا۔ ان کی جیت اسی میں ہے کہ مباحثے کے دوران اپنی ذات پر اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے کئے جانے والے تابڑ توڑ حملوں کاخندہ پیشانی کے ساتھ مدلل جواب دیتی رہیں۔
ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ووٹروں کے ساتھ جذباتی طور پر منسلک رہے ہیں اور اس جذباتی رشتے یا تعلق کو زبانی مباحثے کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ دولت مند ہونے کے ساتھ ہی ایک مقبول ٹی وی پروگرام کے میزبانی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ہیں اس طرح انھیں ہلیری کلنٹن پر جذباتی کے ساتھ ہی عوامی سطح پر بھی سبقت حاصل ہے۔ اس مقابلے میں شریک کوئی بھی امیدوارپنے سننے والوں کومسحور کردینے کی ڈونلڈ ٹرمپ جیسیصلاحیت نہیں رکھتالیکن اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 12 ری پبلکن پرائمریز میں ہر جگہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اور آخر میں جب ان کے مخالفین کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی انھوں نے صرف منفی تخریبی حربوں کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پرائمریز کے برعکس ٹی وی پر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنہا 90 منٹ میں سے نصف وقت یعنی 45 منٹ ملیں گے اور اس دوران انھیں اپنی خوبیاں بیان کرنا ہوں گی اور بحث کو اسی پر محدود رکھنے کی کوشش کرناہوگی۔ ٹی وی پر مباحثے کے دوران انھیں ٹھوس دلائل دینا ہوں گے اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اس طرح کے مدلل اور ٹھوس دلائل ان کے پاس موجود ہیں۔
ٹی وی مباحثے کے حوالے سے ہلیری کلنٹن کی ٹیم کو خدشہ یہ ہے کہ این بی سی کے ماڈریٹر لیسٹر ہول ڈونلڈ ٹرمپ سے تو آسان اور سیدھے سادھے سوال کریں گے لیکن ہلیری کلنٹن سے تیز وتند سوالات کے ذریعے انھیں نیچا دکھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تاہم ضروری نہیں کہ ایساہی ہو، بہرحال خواہ کچھ بھی ہو یہ بات یقینی ہے کہ یہ مباحثہ انتہائی دلچسپ ثابت ہوگا اور اس سے امریکہ کے مستقبل کی تصویر زیادہ واضح ہوکر سامنے آجائے گی۔
کسی شرپسند کو ملک کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ملک بھر میں پائیدار امن و استحکام کے قیام تک دہشتگردوں کیخلاف جنگ پوری قومی قوت اور بھرپور عزم کیساتھ جاری رہے گی شہداء اور غازی اس قوم کا دائمی فخر ہیں،سید عاصم منیرکاجی ایچ کیو میں فوجی اعزازات کی تقریب سے خطاب،50 اف...
اسپن وام میں سکیورٹی فورسزکا آپریشن،زیر زمین بنکر، سرنگیں، بارودی جال بچھا رکھا تھا خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی سمیت پ...
چینی بھائیوں کیلئے اعلیٰ ترین پیمانے کی سیکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے شہبازشریف کا پاک چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام ، مبارکباد پیش وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون ...
اپنے تمام ایم پی ایز کو ہر شہر میں احتجاج کی ہدایت کرتا ہوں، ہمارا رویہ آنے والے منگل کو مزید سخت ہوگا، پورا پاکستان دیکھے گا پی ٹی آئی ایک مٹھی ہو کر میدان میں نکل رہی ہے،وزیراعلیٰ پولیس نے اسلام آباد میں منتخب نمائندوں کو روکنے کیلئے فائرنگ کی،وقت نے ثابت کر دیا سائفر معامل...
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے متعلقہ افسران کو بلا کر ہدایات دے دیں مجھے یقین دلایا ہے کہ مقدمات عید کے بعد لگ جائیں گے، سلمان اکرم راجا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے عمران خان کے مقدمات عید کے بعد مقرر کرانے کی یقین دہانی کرا دی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلم...
نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای اوز، پارٹی بوائز، سیاستدان، بیوروکریٹ شامل ہیں شوبز کی بیشتر شخصیات کے نام، نمبرز اور گھر کے پتے حاصل کرلیے گئے ہیں ،ذرائع قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ انمول پنکی کے کسٹمرز میں 881 اہم شخصیات شامل تھیں۔نجی کمپنیوں کے مالک، سی ای ا...
متحدہ قومی موومنٹ قیادت کی شہباز شریف سے ملاقات ،کسی بھی آئینی ترمیم پر بات نہیں ہوئی،ذرائع آئندہ بجٹ میں ٹیکس ریلیف پر بات کی،کراچی پیکیج اور کے فور پر گفتگو کی، اندرونی کہانی سامنے آگئیں متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) قیادت کی وزیراعظم سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ...
پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی پیشرفت روکنے کی کوششیں ناکام ہوں گی، عوام کی ثابت قدم حمایت سے مسلح افواج دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں بلوچستان میں امن و استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کیلئے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ و...
انکوائری کے دوران عدالت میںپیشی کے وقت پنکی کو موبائل فون دینے کا انکشاف سیکیورٹی میں کئی خامیاں سامنے آئیں ، ملزمہ کو غیر معمولی سہولتیں فراہم کی گئیں،رپورٹ کوکین گینگ کی سرغنہ انمول عرف پنکی کی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران غیر معمولی پروٹوکول دیئے جانے کے معاملے پر کراچی پ...
نظم و ضبط، قیادت اور پیشہ ورانہ تربیت کی درخشاں روایات کا امین ہے،شہباز شریف ایران، امریکا جنگ نے خطے کو غیریقینی صورتحال، معاشی چیلنجز سے دوچار کر دیا،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے محافظوں پر فخر ہے، جو ہماری خودمختاری کے نگہبان ہیں۔کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئ...
سکیورٹی فورسز کا خورج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ضلع شیوا میں کامیاب کارروائی انڈین ا سپانسرڈشرپسندوں سے فائرنگ کا تبادلہ، اسلحہ ، گولہ بارود برآمد،آئی ایس پی آر سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران 22 خوارج جہنم واصل ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئ...
امریکا ایران جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کی ایران جنگ دوبارہ چھڑنے کے امکان پر گفتگو ، ٹرمپ اس ہفتے قومی سلامتی ٹیم سے مشاورت کریں گے پینٹاگون نے ایران میں اہداف کا چنا ئوکرلیا، توانائی اور انفرااسٹرکچر سمیت مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بن...