وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

امریکہ کے صدارتی انتخابات: ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے

منگل 27 ستمبر 2016 امریکہ کے صدارتی انتخابات: ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے

trump-clinton

تحریر :۔ ایوان کورون

امریکہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے، انتخابی بخار بھی بڑھتاجارہاہے، انتخابات میں ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے ہیں، اگرچہ امریکی عوام کے موڈ کی موجودہ کیفیت کو دیکھ کر یہی اندازہ ہوتاہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہزیمت کاسامنا کرنا پڑے گا اور امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون صدارت کامنصب سنبھالنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اس طرح ہیلری کلنٹن کو امریکہ کی خاتون اول کا درجہ دلانے والے سابق صدر بل کلنٹن امریکہ کے مر د اول بن جائیں گے، لیکن اس کے باوجود ابھی وثوق سے نہیں کہاجاسکتاکہ انتخابات تک صورت حال کیا رخ اختیار کرتی ہے اور اس عرصے میں ہیلری کلنٹن کی کون سے دانستہ یانادانستگی میں ہونے والی غلطی ان کی مقبولیت میں کمی کا سبب بن جائے گی یا ڈونالڈ ٹرمپ کی کون سی چال ان کی مقبولیت میں اضافہ کردے گی، اس طرح یہ کہا جاسکتاہے کہ ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان یہ مقابلہ انتہائی سخت اور کانٹے کامقابلہ ثابت ہوگا۔

جہاں تک ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کا تعلق ہے تو سابق خاتون اول اور پھر امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے انھیں امور مملکت اور ان کی انجام دہی کے دوران پیش آنے والے ممکنہ مسائل کا اچھی طرح اندازہ ہے وہ امریکی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کے مزاج اور کام کے طریقہ کار کوبھی سمجھتی ہیں اور امریکہ کی فوجی اور اقتصادی ضروریات اور مشکلات سے بھی کماحقہ واقف ہیں۔ تاہم ری پبلکن ووٹرز کاخیال ہے کہ انھیں بلاشرکت غیر فیصلے کرنے کاکوئی تجربہ نہیں ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک معروف کاروباری ادارے کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اہم امور پر فوری فیصلے کرنے اوران پر عملدرآمد کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہیلری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ دونوں کم وبیش ایک سال سے ایک دوسرے کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہیں لیکن اب تک ان دونوں کوآمنے سامنے آکر مناظرہ کرنے کا موقع نہیں ملا ہے، اب تک یہی ہواہے کہ ہلیری کلنٹن اپنی پارٹی کے جلسوں میں اپنی حیثیت کو اجاگر کرتی رہی ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ اپنے آپ کو انتہائی موزوں امیدوار گردانتے رہے ہیں۔ اس لئے ٹی وی پر ان دونوں کے درمیان مناظرہ یقینا دیکھنے کی چیز ہوگا جس میں یہ دونوں ایک ہی اسٹیج پر آمنے سامنے ہوں گے اور امریکہ کے کم وبیش10 کروڑ عوام اس منظر کو براہ راست ٹی وی پر دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ منظر اس اعتبار سے بھی تاریخی اور امریکی تاریخ کامنفرد منظر ہوگا کہ اب تک امریکہ میں کسی خاتون نے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں حصہ ہی نہیں لیاہے۔

امریکہ میں ٹی وی پر صدارتی امیدواروں کے درمیان مناظرے کاسلسلہ 1960 میں سینیٹر جان ایف کینیڈی کے دور سے ہواجب جان ایف کینیڈی نے شکاگو میں ٹی وی اسٹیشن پر اس وقت کے نائب صدر رچرڈ نکسن کامقابلہ کیاتھا۔ اگرچہ طویل انتخابی مہم کے دوران زیادہ تر ووٹر اپنے دل میں اپنے پسندیدہ امیدوار کاانتخاب کرچکے ہیں لیکن ٹی وی پر ہونے والے اس مناظرے کے بعد بہت سے ووٹروں کو شاید اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر سوچنا پڑے اوراس طرح ان کا یہ فیصلہ کایا پلٹ بھی ثابت ہوسکتاہے جبکہ جن ووٹرز نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیاہے یہ مناظرہ ان کو فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے۔ این بی سی کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق صدارتی امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے گومگو کے شکار ووٹروں کی تعداد کم وبیش 9 فیصد ہے اور خیال کیا جاتاہے کہ 9 اور 19اکتوبر کو ٹی وی پر ہونے والے مناظروں سے ان کو کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔

میسوری یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل مک کینے کاکہناہے کہ ٹی وی پر ہونے والے 90 منٹ کے اس مناظرے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون سا امیدوار کتنا زیادہ اسمارٹ ہے یا اس کے پاس کتنے اعدادوشمار کاذخیرہ ہے بلکہ دیکھا یہ جاتاہے کہ اس کے پاس عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لئے کیا ہے وہ عوام کے مسائل کو کس حد تک سمجھتاہے اور ان کو کتنی اہمیت دیتاہے۔ سیاسی مباحثوں کے ماہر پروفیسر مک کینے کا کہناہے کہ ٹی وی پر لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون سا امیدوار صاف اور سیدھے الفاظ میں ان کے اور ملک کے مسائل کو کس طرح بیان کرتاہے اور ان کو حل کرنے کیلئے اس کے پاس کیاتجاویز ہیں۔ ہلیری کلنٹن کے پاس اعدادوشمار کاایک بڑا ذخیرہ موجود ہے لیکن ٹی وی پر مناظرے کے دوران انھیں سوال کرنے والوں کو مختصر اور مدلل جواب دے کر مطمئن کرنا ہوگا کیونکہ 90 منٹ کے اندر ہی انھیں ملک کی مستقبل کی خارجہ پالیسی، امریکی عوام کی فلاح وبہبود خاص طورپر انھیں محفوظ رکھنے کے اقدامات اور انھیں بنیادی سہولتوں کی بلاتعطل اور قابل برداشت قیمت پر فراہمی کے بارے میں اپنی مجوزہ پالیسیوں کی وضاحت کرنا ہوگی، انھیں بتانا ہوگا کہ برسراقتدار آنے کے بعد وہ مختلف ممالک کی جنگوں میں الجھے ہوئے اپنے فوجی جوانوں کو کس طرح بحفاظت وطن لاسکتی ہیں اور امریکہ کو زیادہ مضبوط اور محفوظ بنانے کیلئے ان کے ذہن میں کیاپروگرام اوراقدامات ہیں اور اس کیلئے ان کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں پھنسنے سے خود کو بچاناہوگا۔ انھیں اپنے ووٹرز کے ساتھ اپنے جذباتی لگاؤ کا اظہار کرناہوگا اور یہ ثابت کرناہوگا کہ وہ نہ صرف یہ کہ ان کودرپیش مسائل سے اچھی طرح واقف ہیں بلکہ ان کے پاس ان مسائل کاقابل عمل حل بھی موجود ہے۔ امریکہ کے صدر اوباما سے سوال کیاگیا کہ وہ اپنی سابقہ وزیر خارجہ کو دوبدو بحث کے دوران کن باتوں کاخیال رکھنے کامشورہ دیں گے تو انھوں نے کہا کہ ہیلری کو مختصراً اور مدلل بات کرنی چاہئے اور ووٹرز کے ساتھ اپنی قربت اور یگانگت کو الفاظ کے ذریعے ثابت کرنا چاہئے۔ خود ہلیری کلنٹن بھی اپنی صلاحیتوں کے بارے میں زیادہ پر اعتماد نہیں ہیں وہ برملا اظہار کرتی ہیں کہ ان میں اپنے شوہر بل کلنٹن یا موجودہ صدر اوباما جیسی کرشماتی صلاحیت نہیں ہے، امریکی ووٹر بھی اس بات کو محسوس کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق نصف سے زیادہ ووٹروں کو اب بھی یہ یقین نہیں ہے کہ ہلیری کلنٹن منتخب ہوکر صدارتی منصب کے شایان شان کردار ادا کرکے ان کے اعتماد پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

2008 میں صدارتی انتخاب کی دوڑ کے پہلے مرحلے میں ہلیری کلنٹن نے خود کو خاتون آہن کے طورپر پیش کرنے اور خواتین کے حقوق کی چمپئن ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی اس کے ساتھ ہی انھوں نے ووٹروں کی ہمدردی حاصل کرنے کیلئے خود کو دادی کے کردار کے طورپر پیش کیاتھا۔ لیکن 90منٹ کے ٹی وی مباحثے میں ان کے لئے کم وبیش ربع صدی کے دوران عوام کی نظروں میں ان کا جو تاثر قائم ہوا ہے اسے تبدیل کرنا شاید ہلیری کلنٹن کے لئے مشکل ہی نہیں ناممکن ثابت ہوگا۔ ان کی جیت اسی میں ہے کہ مباحثے کے دوران اپنی ذات پر اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے کئے جانے والے تابڑ توڑ حملوں کاخندہ پیشانی کے ساتھ مدلل جواب دیتی رہیں۔

ہلیری کلنٹن کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ووٹروں کے ساتھ جذباتی طور پر منسلک رہے ہیں اور اس جذباتی رشتے یا تعلق کو زبانی مباحثے کے ذریعے ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وہ دولت مند ہونے کے ساتھ ہی ایک مقبول ٹی وی پروگرام کے میزبانی کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ہیں اس طرح انھیں ہلیری کلنٹن پر جذباتی کے ساتھ ہی عوامی سطح پر بھی سبقت حاصل ہے۔ اس مقابلے میں شریک کوئی بھی امیدوارپنے سننے والوں کومسحور کردینے کی ڈونلڈ ٹرمپ جیسیصلاحیت نہیں رکھتالیکن اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو 12 ری پبلکن پرائمریز میں ہر جگہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی، اور آخر میں جب ان کے مخالفین کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی انھوں نے صرف منفی تخریبی حربوں کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ پرائمریز کے برعکس ٹی وی پر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنہا 90 منٹ میں سے نصف وقت یعنی 45 منٹ ملیں گے اور اس دوران انھیں اپنی خوبیاں بیان کرنا ہوں گی اور بحث کو اسی پر محدود رکھنے کی کوشش کرناہوگی۔ ٹی وی پر مباحثے کے دوران انھیں ٹھوس دلائل دینا ہوں گے اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اس طرح کے مدلل اور ٹھوس دلائل ان کے پاس موجود ہیں۔

ٹی وی مباحثے کے حوالے سے ہلیری کلنٹن کی ٹیم کو خدشہ یہ ہے کہ این بی سی کے ماڈریٹر لیسٹر ہول ڈونلڈ ٹرمپ سے تو آسان اور سیدھے سادھے سوال کریں گے لیکن ہلیری کلنٹن سے تیز وتند سوالات کے ذریعے انھیں نیچا دکھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ تاہم ضروری نہیں کہ ایساہی ہو، بہرحال خواہ کچھ بھی ہو یہ بات یقینی ہے کہ یہ مباحثہ انتہائی دلچسپ ثابت ہوگا اور اس سے امریکہ کے مستقبل کی تصویر زیادہ واضح ہوکر سامنے آجائے گی۔


متعلقہ خبریں


اسپین سے برطانیا جانیوالی خاتون کو قابل اعتراض لباس پر طیارے سے نکال دیا گیا وجود - پیر 01 جولائی 2019

اسپین سے برطانیہ جانے کی خواہشمند ایک خاتون کوقابل اعتراض لباس پہننے پر پرواز سے نکال دیا گیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق31سالہ ہیریٹ اوسبورن اسپین کے شہر مالاگا سے لندن کا سفر کررہی تھیں اور ان کے لباس پر مسافروں کے اعتراضات کے بعد فضائی عملے نے لباس بدلنے کو کہا۔برطانیا کی سب سے بڑی بجٹ ائیرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خاتون نے ایسا لباس پہن رکھا تھا جس سے جسم ظاہر ہورہا تھا اور مسافروں کے اعتراض کے بعد ہیریٹ کو اضافی قمیض پہننے کے لیے دی گئی۔ایزی جیٹ کے ترجمان کے مطابق ہم...

اسپین سے برطانیا جانیوالی خاتون کو قابل اعتراض لباس پر طیارے سے نکال دیا گیا

امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں سیکورٹی خطرات رہیں گے،امریکا وجود - پیر 01 جولائی 2019

امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل برائے افغانستان ری کنسٹرکشن (سگار) جان اسپوکو نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مفاہمتی سمجھوتاہونے کے باوجود افغانستان شدت پسند تنظیموں سے نبرد آزما رہے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق سگار کو امریکی کانگریس کی جانب سے 18 سال سے جاری جنگ کی نگرانی اور جنگ زدہ ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے حوالے سے سہ ماہی رپورٹس جمع کروانے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔چنانچہ اپنی رپورٹ میں سگار نے بتایا کہ امن سمجھوتے کے ساتھ اور اس کے بغیر بھی ممکنہ طور پر افغان...

امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں سیکورٹی خطرات رہیں گے،امریکا

امریکی مندوبین پہلی بار سرکاری سطح پر یہودی آبادکاری کی تقریب میں شریک وجود - پیر 01 جولائی 2019

امریکی حکومت کی طرف سے فلسطین میں یہودی آباد کاری کی خاموش حمایت کے بعد اب اعلانیہ اور کھلے عام حمایت اور مدد کی جانے لگی ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کے لیے سرگرم تنظیم العادکی جانب سے ایک سرنگ کی کھدائی کی افتتاحی تقریب میں اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین اور مشرق وسطی کے لیے امریکا کے امن مندوب جیسن گرین بیلٹ نے بھی شرکت کی۔خیال رہے کہ العادنامی یہودی تنظیم بیت المقدس کو یہودیانے کیلیے سرگرم عمل ہے۔امریکی مندوبین کی فلسطین...

امریکی مندوبین پہلی بار سرکاری سطح پر یہودی آبادکاری کی تقریب میں شریک

ٹرمپ کی ہلاک باپ، بیٹی کی تصویر پر گولف کھیلنے کی ڈرائنگ وائرل وجود - پیر 01 جولائی 2019

گزشتہ ماہ 26 جون کو امریکا اور میکسیکو کے بارڈر پر امریکا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران دریائے ریو گرینڈے میں پانی کی لہروں میں چل بسنے والے ایل سلواڈور کے مہاجر باپ اور بیٹی کی موت کی تصاویر نے دنیا کو جھنجوڑ دیا تھا۔پانی کی لہروں میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایل سلواڈور کے 25 سالہ آسکر البرٹو اور ان کی 2 سالہ بیٹی کی پانی میں تیرتی لاش کی تصاویر سامنے آنے کے بعد دنیا بھر میں غم کی لہر چھاگئی تھی اور لوگوں نے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرنا شروع کردی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا ا...

ٹرمپ کی  ہلاک باپ، بیٹی کی تصویر پر گولف کھیلنے کی ڈرائنگ وائرل

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، 53افراد زخمی، ہلاکتوں کا خطرہ وجود - پیر 01 جولائی 2019

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 53افراد زخمی ہو گئے، دھماکے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر زخمیوں کی اطلاع کے باعث ہلاکتوں کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے اطراف میں واقع گنجان آباد علاقہ طاقتور دھماکے سے گونج اٹھا، جس کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق دھماکا کابل کے علاقے پی ڈی 16 میں کیا گیا، جس میں 2 حملہ آوروں نے...

افغان دارالحکومت کابل میں دھماکا، 53افراد زخمی، ہلاکتوں کا خطرہ

دوسری جنگ عظیم میں فتح کا 75 واں جشن صدر ٹرمپ کو روس آنے کی دعوت وجود - اتوار 30 جون 2019

روس نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دیدی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کریملن کے مشیر یوری اوشاکوو نے بتایا کہ ہم نے امریکی صدر کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کے 75 ویں جشن کے موقع پر 09 مئی 2020 کو روس آنے کی دعوت دی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی تاحال مدت صدارت میں روس کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں شہبات حاوی چلے آ رہے ہیں۔رابرٹ ملر کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات ابھی تک کسی ایسی دوٹوک دلیل تک نہیں پہنچی جس سے یہ بات ثابت ہ...

دوسری جنگ عظیم میں فتح کا 75 واں جشن صدر ٹرمپ کو روس آنے کی دعوت

ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجیے گا،ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ مذاق وجود - هفته 29 جون 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے جی ٹوئنٹی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر باہمی مذاکرات کرتے ہوئے ان سے پیش آئند امریکی انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا اظہار تفنن ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب کانگرس 2016 کے امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم چلانے والی ٹیم اور روس کے درمیان جوڑ توڑ کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔کیمروں کے فلیش کی چکا چوند میں صدر ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب سے از راہ تفنن یہ کہتے ہوئے مخاطب ہوئے ...

ہمارے انتخابات میں دخل نہ دیجیے گا،ٹرمپ کا پوٹن کے ساتھ مذاق

امریکی پابندیوں کے باوجودچین کا ایران سے تیل خریداری جاری رکھنے کا اعلان وجود - هفته 29 جون 2019

چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف لگائی گئی امریکی پابندیوں کے باوجود ایران سے تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہم امریکا کی طرز پر ایرانی تیل کی درآمدات کم سے کم کرنے کی پالیسی پر نہیں چلیں گے۔ ہم یکطرفہ سزاؤں کے خلاف ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ جوہری معاہدے کا پاس رکھتے ہوئے ایران کو اپنا تیل برآمد کرنے کا موقع دیا جائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ میں اسلحہ کنڑول کے ڈائریکٹر جنرل فو کانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ چین ایران کے خلاف لگائی گئی امریکی پابندیو...

امریکی پابندیوں کے باوجودچین کا ایران سے تیل خریداری جاری رکھنے کا اعلان

امریکا اور طالبان میں مذاکرات کا اگلا دور آج سے دوحہ میں شروع ہوگا وجود - جمعه 28 جون 2019

امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کا اگلا دور دوحہ میں ہفتے (کل) سے شروع ہورہا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان میں 18 سال سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے دونوں فریقین دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے لیے پر پرامید ہیں جن میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا، قومی سطح پر سیزفائر اور بین الافغان بات چیت جیسے اہم نکات شامل ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور افغانستان کے حالیہ دورے کی بنیاد پر میں یقینی طور پر کہہ سک...

امریکا اور طالبان میں مذاکرات کا اگلا دور آج سے دوحہ میں شروع ہوگا

امریکی اتحادی فورسز نے داعش جنگ میں 1300 سے زائد شہری قتل کیے وجود - جمعه 28 جون 2019

امریکی سربراہی اتحاد نے کہا ہے کہ 2014 سے عراق اور شام میں داعش (آئی ایس) کے خلاف اپنی لڑائی کے دوران ایک ہزار 3سو 19 عام شہریوں کو قتل کردیا۔تاہم یہ اعداد و شمار اس تعداد سے کافی کم ہے جو ان دونوں ممالک میں تنازع کی نگرانی کرنے والے گروپس کی جانب سے دیے گئے تھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں کہا گیا کہ اگست 2014 سے مئی 2019 کے اختتام تک اتحاد نے 34 ہزار 5 سو 14 حملے کیے، تاہم اس عرصے کے دوران یہ جائزہ لیا گیا کہ اتحادیوں کے حملے سے کم از کم ایک ہزار 3 سو 19 عام شہری ہلاک ...

امریکی اتحادی فورسز نے داعش جنگ میں 1300 سے زائد شہری قتل کیے

پوتن کا ایرانی بوشہر پلانٹ میں روسی ماہرین کی سیکورٹی بڑھانے پر غور وجود - جمعرات 27 جون 2019

روسی وزارت خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو ایران میں بوشہر کے جوہری توانائی کے پلانٹ میں موجود روسی ماہرین کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اقدامات میں اضافے پر غور کر رہا ہے۔ روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریبکوف نے روسی خبررساں ادارے سے سے گفتگو میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کو اس اقدام کا جواز قرار دیا۔تاہم روسی ذمے دار نے ممکنہ اقدامات کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں۔روسی نائب وزیر خارجہ نے امریکا پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن زیادہ ذمے دارانہ پالیسی اختیار کرتا تو اس شعبے میں ہ...

پوتن کا ایرانی بوشہر پلانٹ میں روسی ماہرین کی سیکورٹی بڑھانے پر غور

کانگریسی رہنما وکاس چودھری کو دہلی میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا وجود - جمعرات 27 جون 2019

کانگریسی رہنما وکاس چودھری کو بھارتی دارالحکومت دہلی کے قریب واقع فریدآباد میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ وہ کانگریس ہریانہ کے ترجمان تھے۔بھارتی نشریاتی ادارے کے مطابق نامعلوم حملہ آور نے انہیں اس وقت گولیوں کا نشانا بنایا جب وہ معمول کے مطابق جم سے واپس آرہے تھے۔جائے وقوع پر پہنچنے والی پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ماروتی سوزوکی کار میں سوار چار افراد نے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں انہیں دس گولیاں لگیں۔بھارتی نشریاتی ادارے کے مطابق کانگر...

کانگریسی رہنما وکاس چودھری کو دہلی میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا