وجود

... loading ...

وجود
وجود

جدید تعلیم اور معاش

منگل 27 ستمبر 2016 جدید تعلیم اور معاش

تعلیم کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ جدید تعلیم کا پورا نظام اسی سوال کے جواب میں کھڑا کیا گیا ہے۔ جدید فلسفۂ تعلیم اور اصولِ تعلیم کے وسیع علوم اس سوال کا تفصیلی جواب سامنے لاتے ہیں۔ اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ فرد کو ایک جمہوری اور لبرل معاشرے کا کارآمد شہری بنانا اور اسے زندگی گزارنے کے قابل بنانا جدید تعلیم کا بنیادی مقصد اور ذمہ داری ہے۔ انسانی معاشرے میں پایا جانے والا عام فرد خام مال کی حیثیت رکھتا ہے، جسے جدید تعلیم کے نظام سے گزار کر ایک مفید شہری بنایا جا سکتا ہے۔ ”شہری“ بن کر وہ ترقی کے انفرادی اور اجتماعی آدرش کا حامل ہو جاتا ہے۔ عام ”شہری“ معاشرے میں قانون کی پاسداری کرتا ہے اور معاشی نظام میں ”فرض“ کی بجا آوری کا اہل ہوتا ہے۔ جدید فلسفۂ تعلیم اور اصول تعلیم کو سرسری دیکھنے سے بھی فوراً اندازہ ہو جاتا ہے کہ جدید تعلیم کے تمام مقاصد سیاسی اور معاشی ہیں یعنی ”سسٹم“ کے لیے ہیں، اخلاقی یا مذہبی وغیرہ نہیں ہیں۔

جدید علم کی مستقل کارگزاری یہ ہے کہ وہ تعلیم کے سیاسی اور معاشی مقاصد کو ادھر ادھر نہ ہونے دے، اور اخلاقی مقاصد کو صرف ڈسپلن تک محدود رکھے۔ جدید علم چونکہ خود سرمائے اور عہدے سے استناد پاتا ہے، اس لیے جدید تعلیم کے حتمی مقاصد بھی صرف معاشی اور سیاسی ہیں۔ جدید تعلیم سے ایک اور مقصد ضمنی طور پر حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقوّم علم میں مسلسل توسیع کی خدمت بھی بجا لاتی رہے۔ مغرب نے ”علمی ترقی“ کی آڑ میں تعلیم کے تہذیبی ہونے کا التباس باقی رکھا ہے۔ ہمارے ہاں یہ پہلو کبھی موجود ہی نہیں تھا اور اب ہماری جدید تعلیم ایک ننگی اور سفاک کارپوریٹ سرگرمی بن کر سامنے آئی ہے جس میں ریاست اس کی مکمل معاونت کر رہی ہے، اور متوسط اور غریب طبقات کے لیے اچھی تعلیم کے مواقع بہت تیزی سے ناپید ہو رہے ہیں۔

ہماری روایت میں تعلیم کا مقصد متعین کرنے کے لیے کوئی لمبے چوڑے علمی یا نظری مباحث موجود نہیں رہے، اور نہ کبھی ان کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ ہماری روایت میں تعلیم کا پورا عمل اور اس کے مقاصد دینی اقدار سے متعین ہوتے تھے۔ تعلیم کا اولین مقصد بھی ان اقدار تک رسائی اور ان اقدار پر اپنی زندگی کو استوار کرنا تھا۔ جدید تعلیم اور روایتی تعلیم میں ایک فرق بہت بنیادی ہے، اور وہ زبان کی اعلیٰ تدریس کا تھا۔ روایتی تعلیم میں زبان کی تدریس کو بھی اقدار کی طرح مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ زبان کی اعلی تدریس اور زباندانی کی مہارت روایتی تعلیم کو معاشرے کی سیاسی اور معاشی ضروریات سے براہ راست متعلق کر دیتی تھی۔ اگر زبان معاشرے کے سیاسی اور معاشی عمل سے متعلق نہ رہے تو اس کی ضرورت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ عدالت و قانون اور تجارت و صنعت میں جو زبان استعمال ہو گی، وہی تعلیمی طور پر بھی اہم ہو گی۔ لارڈ میکالے کی سفارشات تعلیم میں زبان کی مرکزیت اور اس کی سیاسی اور معاشی اہمیت سے آگاہ تھیں اور مقامی زبانوں کے خاتمے کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی۔

ہمارے تہذیبی تناظر میں زبان ایک برزخ ہے جہاں دین اور دنیا کے دو دریا آ کر ملتے ہیں۔ روایتی تعلیم زبان کو idea (اقداری تصور) اور ”شے“ سے متعلق رکھتی تھی۔ جدید تعلیم زبان کو concept (صورت شے/مجرد تصور) اور ”شے“ سے متعلق کر دیتی ہے۔ جدید تعلیم، انفس اور آفاق میں، زبان کو ”شے“ اور ”صورت شے“ میں پورے کا پورا کھپا دیتی ہے۔ روایتی معنی میں یہ علم اور اقدار دونوں کی موت ہے۔ اب زبان کے اس برزخ میں صرف ایک ہی دریا باقی رہ گیا ہے جو دنیا کا ہے۔ زبان کو انسانی شعور کی تشکیل اور سیاسی اور معاشی ضروریات کی تکمیل کے بیک وقت قابل بنانا تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جدید معاشرے اور معیشت کی آمد کے ساتھ یہ کام ہمارے اختیار سے نکل گیا۔ ایک صحت مند اور زندہ معاشرے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنے قومی شعور کی تشکیل ایک زبان کے ذریعے سے کرے اور معاشی اور سیاسی ضروریات کسی دوسری زبان سے پوری کرے۔ جدید عہد میں ہر معاشرے نے اپنی زبان کو ”دنیا“ میں کارآمد بنا کر ترقی کی ہے۔ ہم نے تعلیم میں زبان کی اہمیت کو نظرانداز کر دیا اور یہ مقصد اپنے مذہب کو جدید بنا کر حاصل کرنے کی کوشش کی اور ساری چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اگر زبان کا ”شے“ سے تعلق کمزور ہو جائے تو وہ دنیا میں کسی کام کی نہیں رہتی، اور اگر زبان کا تعلق ”اقداری تصور“ سے کمزور ہو جائے تو مذہب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اور یہ دونوں کام بیک وقت کرنے کے ہیں۔ زبان کی معاش میں ضرورت اس کے بقا کی آخری سرحد ہوتی ہے۔ ہمیں اردو کو اپنی معاشی اور ذہنی دونوں ضرورتوں کے پورا کرنے کا وسیلہ بنانے کی ضرورت ہے۔


متعلقہ خبریں


جدید تعلیم، حافظہ اور اقدار محمد دین جوہر - بدھ 05 اکتوبر 2016

جدید عہد میں زمانے اور تاریخ کو دیکھنے کا انداز نیا ہے۔ جدید آدمی کا زمانے اور تاریخ کو دیکھنے کا انداز مذہبی انداز سے بالکل مختلف اور متضاد ہے۔ آج کا انسان زمانے کا خطی تصور رکھتا ہے، جبکہ مذہبی معاشرے میں زمانے کا تصور محوری تھا۔ سوال یہ ہے کہ زمانے کا تصور خطی ہو یا محوری، اس ...

جدید تعلیم، حافظہ اور اقدار

پاک بھارت کشیدگی محمد دین جوہر - اتوار 25 ستمبر 2016

برصغیر پاک و ہند ایک جغرافیائی وحدت کو ظاہر کرتا ہے، لیکن تاریخی سفر میں اس جغرافیائی وحدت نے ایک غیر معمولی لسانی، ثقافتی اور مذہبی کثرت کو جنم دیا ہے۔ اس خطے میں جغرافیائی وحدت اور ثقافتی کثرت ایک دوسرے کے معاون پہلو ہیں۔ برصغیر اپنی تمام تر رنگارنگی کے باوجود امن کی سرزمین صر...

پاک بھارت کشیدگی

نظریۂ پاکستان اور مزاحمتی موقف محمد دین جوہر - بدھ 21 ستمبر 2016

چند ہفتے قبل ایک سیاسی پارٹی کے رہنما نے اپنی تقریر میں پاکستان کو ”ناسور“ اور عالمی دہشت گردی کا ”مرکز“ قرار دیا جس پر بجا طور پر سخت ردعمل سامنے آیا، اور قومی سطح پر شدید سیاسی سرگرمی بھی وقتی طور پر دیکھنے میں آئی۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ ہمارے ہاں انفرادی، سماجی اور قومی سطح ...

نظریۂ پاکستان اور مزاحمتی موقف

جدید تعلیم اور تربیت محمد دین جوہر - پیر 19 ستمبر 2016

جدید تعلیم کے بارے میں ہماری ”دانش“ نے آج تک صرف دو چیزیں بہم پہنچائی ہیں، اور وہ بھی اب آخری اور نہایت درجے تک گھس پٹ کر بے معنی ہو گئی ہیں۔ تعلیم پر ہر گفتگو میں یہ دونوں چیزیں ایک یکسانیت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں اور بالکل کہاوت کی طرح کہی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ نصاب تبدیل ہونا چ...

جدید تعلیم اور تربیت

جدید تعلیم اور نصاب محمد دین جوہر - هفته 17 ستمبر 2016

مجھے افسوس ہے کہ عدیم الفرصتی اور اجنبی موضوع کی وجہ سے گزشتہ مضمون کچھ مشکل ہو گیا اور اختصار کی وجہ سے ابلاغ میں بھی کچھ دشواری پیدا ہو گئی۔ اس میں ہم نے عرض کرنے کی کوشش کی تھی کہ تعلیم میں بنیادی اہمیت تنظیمی عمل کی ہے اور باقی چیزیں ضمنی ہیں اور اس نظام کے کل پرزوں کی حیثیت ...

جدید تعلیم اور نصاب

جدید تعلیم اور تنظیمی عمل محمد دین جوہر - جمعه 16 ستمبر 2016

زوال، دینی روایت کے انتشار، عقلی علوم کے خاتمے اور خاص طور پر توحید کے جدید تصورات کی وجہ سے ہماری نظر بھی ”خوگرِ پیکر محسوس“ ہو گئی ہے۔ عام زندگی میں کسی موضوع پر کوئی گفتگو ہو، تو نیم خواندہ عام آدمی بھی فوراً ”نص“ کا مطالبہ کرتا ہے گویا کہ معلوم نصوص سے اس کا بہرہ مکمل ہو گیا ...

جدید تعلیم اور تنظیمی عمل

جدید تعلیم اور امتحانات محمد دین جوہر - اتوار 11 ستمبر 2016

جیسا کہ ہم نے اپنے گزشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ جدید تعلیم ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ اور سیاسی فیصلہ اگر قانون بن کر ”نافذ“ نہ ہو سکے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ریاست جبر و اختیار کا منبع ہے، لیکن جدید تعلیم اس کا اہم ترین ”پیداواری“ اظہار ہے۔ جدید تعلیم کا ریاستی فیصلہ استناد کی...

جدید تعلیم اور امتحانات

جدید تعلیم کیا ہے؟ محمد دین جوہر - جمعرات 08 ستمبر 2016

اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید تعلیم ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور طاقتور معاشرہ بنانے کی شرط اول ہے۔ ہمارے ہاں یہ سوال کا ایک حصہ ہے اور غیر اختلافی ہے۔ سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ کیا اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے جدید تعلیم معاون ہے یا نہیں؟ یہ حصہ اختلافی ہے۔ اسی وجہ سے جدید تعلیم ہم...

جدید تعلیم کیا ہے؟

نظریۂ پاکستان اور ہمارا سیاسی ادراک محمد دین جوہر - منگل 06 ستمبر 2016

سیاسی ادراک اجتماعی عمل کا نہ صرف رہنما ہے بلکہ اس کی معنویت کا سرچشمہ بھی ہے۔ کسی قوم کی سیاسی قوت اور اجتماعی عمل کا تشکیل کنندہ بھی سیاسی ادراک ہی ہے۔ سیاسی قوت اور اجتماعی عمل کے مسائل بھی اول اول سیاسی ادراک ہی میں ظاہر ہوتے ہیں۔ سیاسی ادراک کا اضمحلال بہت جلد سیاسی طاقت کی ...

نظریۂ پاکستان اور ہمارا سیاسی ادراک

سیکولرزم اور لبرلزم میں کیا فرق ہے؟ محمد دین جوہر - جمعرات 01 ستمبر 2016

سیکولرزم اور لبرلزم میں فرق کو مختلف اسالیب میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ مختصراً عرض ہے کہ یہ دونوں تحریک ِتنویر کی جڑواں اولاد ہیں اور جدیدیت کی پیدا کردہ مغربی تہذیب میں ایک ساتھ پروان چڑھے ہیں۔ اب سیکولرزم سٹھیا گیا ہے اور لبرلزم پوپلا گیا ہے۔ تنویری اور جدید عقل نئے انسان اور...

سیکولرزم اور لبرلزم میں کیا فرق ہے؟

بچوں کی شخصیت کی خاکہ کشی کے لیے امریکا کا متنازع بل وجود - جمعرات 05 مئی 2016

امریکی کانگریس میں ایک نئے بل کی تجویز دی گئی ہے جو امریکا میں تمام بچوں کی نفسیاتی ٹیسٹنگ اور پروفائلنگ کے لیے سرمایہ دے گا۔ منصوبہ امریکی اسکولوں کو طلبا کا حساس ڈیٹا جمع کرنے پر مجبور کرے گا جس میں سماجی و جذباتی تعلیم، رویے، اقدار، عقائد اور دیگر پہلوؤں کے حوالے سے معلومات ...

بچوں کی شخصیت کی خاکہ کشی کے لیے امریکا کا متنازع بل

مضامین
شادی۔یات وجود بدھ 24 اپریل 2024
شادی۔یات

جذباتی بوڑھی عورت وجود بدھ 24 اپریل 2024
جذباتی بوڑھی عورت

تمل ناڈو کے تناظر میں انتخابات کا پہلامرحلہ وجود منگل 23 اپریل 2024
تمل ناڈو کے تناظر میں انتخابات کا پہلامرحلہ

بھارت اورایڈز وجود منگل 23 اپریل 2024
بھارت اورایڈز

وزیر اعظم کا یوتھ پروگرام امید کی کرن وجود منگل 23 اپریل 2024
وزیر اعظم کا یوتھ پروگرام امید کی کرن

اشتہار

تجزیے
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے! وجود جمعه 23 فروری 2024
گرانی پر کنٹرول نومنتخب حکومت کا پہلا ہدف ہونا چاہئے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر