وجود

... loading ...

وجود

وزیراعظم کا خطاب، بھارت میں ماتم، مقبوضہ کشمیر میں شادیانے

جمعه 23 ستمبر 2016 وزیراعظم کا خطاب،  بھارت میں ماتم، مقبوضہ کشمیر میں شادیانے

kashmiri-youth

وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطا ب کرتے ہوئے بھارت کوبڑی مدت بعد آئینہ دکھایا، جس کا چند ماہ پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہیدبرہان وانی کو تحریک آزادی کی علا مت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا تفصیلی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ حزب کے جواں سال رہنما برہان وانی 8جولائی کو شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد پوری کشمیری قوم نے بھارتی قبضے کے خلاف پر امن مظا ہروں کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی فورسز بے گناہ کشمیریوں کیخلاف پیلٹ گنوں کا استعمال کر کے ان پر بے انتہا تشدد کر رہی ہے،سینکڑوں لوگ شہیداور ہزاروں زخمی ہیں۔ بزرگوں، خواتین، مردوں اور بچوں کو بینائی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت سے مقبوضہ وادی سے اپنی فوجیں نکالنے کا کہے۔ وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قرادادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں استصواب رائے کروایا جائے اور جنرل اسمبلی کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت سے کشمیر میں استصواب رائے کروانے کا مطالبہ کرے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں پرتشدد واقعات کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا عمل دونوں ملکوں کے حق میں ہے۔ انہوں نے بھارت کو ایک بار پھر مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کی دعوت دی۔ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے،لیکن امن تب ہی ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی رائے کے عین مطا بق حل ہو۔نواز شریف کی تقریر سے جہاں جموں و کشمیر کے عوام میں مسرت اور خوشی کی لہر دوڑ گئی،وہیں بھارتی میڈیا اور بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما وں کو مرچیں محسوس ہوئیں اور بدحواسی کے مناظر ناظرین نے ضرور محسوس کئے ہونگے۔

وزیر اعظم نوازشریف کے خطاب کے بعد بھارتی میڈیا نے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا آغاز کردیا۔برہان وانی کا نام لیے جانے پر بھارتی میڈیا کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگئی، سچ ہضم نہ ہوا تو پاکستان پر بھی دہشت گردی کی حمایت کا الزام دھر دیا۔بھارتی اخبار فرسٹ پوسٹ نے پاکستان کو جنگی جرائم کا ہی مرتکب قرار دیا،بھارتی چینلز اور اخبارات بلوچستان کارڈ استعمال کرتے نظر آئے۔ٹائمزنو، انڈیا ٹوڈے، ہندوستان ٹائمز نے بھی نواز شریف کے خطاب کے بعد سخت رد عمل کا اظہار کیا۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی سبرامانین سوامی نے پاکستان کے خلاف سخت زمینی کارروائی کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ سخت فوجی کارروائی ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی لڑائی سے بچائے گا۔

فرسٹریشن کا عالم یہ تھا کہ WOINچینل کے نمائندے رمیش راما چند رن نے نواز شریف کی تقریر پر اپنے اینکر کے سوال کے جواب میں ایسی منطق بیان کی کہ اینکر کو دوسرا سوال پو چھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ کہا کہ پاکستان کو اب سخت مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔سفارتی تنہائی سے اسے کو ئی بچا نہیں سکتا۔ چین کے ساتھ اس کی دوستی ہے۔ تاہم امریکا اس سے ناراض ہے لیکن ا بھی افغا نستان میں اسے پاکستان کی ضرورت ہے۔ فرانس، جا پان، برطا نیہ اور جرمنی امریکاکی منشا ء کے مطا بق ہی اپنا رویہ دکھا ئیں گے۔جہاں تک اسلامی ممالک کا تعلق ہے، ان کی جانب سے پاکستان سے دوری رکھنے کے امکا نات بہت کم ہیں،تاہم افغا نستان اور بنگلہ دیش کیساتھ بھارت کے بہت زیادہ بہتر تعلقات ہیں۔

معروف بھارتی صحافی پروین سوامی نے انڈین ایکسپریس میں اپنے ایک آرٹیکل میں پاکستان کے خلاف سخت زبان استعمال کی تاہم اس میں اس نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا کہ سشما سوراج اپنی تقریر میں نواز شریف کے کشمیر کے بارے میں دیے گئے بیان، کا کوئی جواب نہ دے، کیو نکہ کشمیر ہمارا ہے اور اس کے اندر ہونے والے معاملات، ہمارا اندرونی معا ملہ ہیں۔ نواز شریف کی تقریر کا جواب نہ دے کر، ہم دنیا کو یہ بات بہت ہی خو بصورت انداز میں سمجھا سکتے ہیں کہ یہ ہمارا اپنا داخلی معا ملہ ہے۔ پروین سوامی کا کہنا ہے کہ ہم نے سفارت کاری کے نام پر ٹی وی چینلز پر ایک تماشا تھیٹر لگا یا ہے، جو ملک کے مفا د میں نہیں ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رہنما اور سابق ہوم سیکرٹری آر کے سنگھ نے کہا کہ اوڑی حملے پر نواز شریف نے ایک با ت بھی نہ کی، حا لا نکہ دنیا جانتی ہے کہ اس میں پاک فوج اور آئی ایس آئی ملوث ہے۔ آر کے سنگھ نے کہا کہ برہان وانی کو رہنما قرار دے کر نواز شریف نے نہ صرف خود کو بلکہ پوری پاکستانی فطرت اور مزاج کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

مضامین
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

یادوں کی نیلامی وجود جمعه 19 جون 2026
یادوں کی نیلامی

نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر وجود جمعه 19 جون 2026
نظامِ فاروقِ اعظم اور عصرِ حاضر

مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر