وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

تاریخِ کشمیر کی پہلی سوگوار عید

منگل 20 ستمبر 2016 تاریخِ کشمیر کی پہلی سوگوار عید

eid-srinagar

کشمیر کے مسلمان گزشتہ ڈھائی سوسال سے عید ’’حکمِ شرع‘‘کی تکمیل کے لئے مناتے ہیں تاکہ اللہ کے حکم اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کی خلاف ورزی نہ ہو ورنہ کون نہیں جانتا ہے کہ عید صرف ’’صلوٰۃ العید‘‘تک محدود نہیں ہے بلکہ عید جہاں مظہر جلال ِمسلم ہے وہی تکمیل جمال بھی ہے ۔سوگواریت اور غم ناک ماحول میں عید بہت کچھ نظر آسکتی ہے پر عید نہیں ۔مسلمانانِ کشمیر کی تاریخ میں 13ستمبر2016ء کی عید پہلی عید تھی جو سارے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو غم و الم سے باہر نہیں نکال سکی بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سارے جہاں کا غم باشندگانِ کشمیر کے وجود پر ٹوٹ پڑاہے ۔ہر سو آہیں ،آنسواور نمناک آنکھوں کے بیچ جگر پاش نعرے تو دوسری طرف سے ڈنڈے،ٹائر گیس اور پیلٹ شیلوں کے علاوہ سینو ں کو چیرنے والی گولیاں ۔پیاروں کے پچھڑنے کے غم میں نڈھال مائیں اور بہنیں اور بے سہارا و بے بس بزرگ ۔آنکھوں کے نور سے محروم ’’انشاء‘‘جیسی سینکڑوں بچے اور بچیاں ،چادروں میں لپٹے مجروح اور ٹوٹے اجسام،موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاکئی نوجوان اور قید وبندکی بھٹیوں میں تڑپائے جا رہے معصوم !پھر عید آجائے تو کیا کوئی بناوٹی طور پر ہی صحیح عید منانے کاتاثر پیش کر سکتا ہے ؟مسلمانانِ کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ انھیں’’ گاندھی جی کے سیکولرو جمہوری نظام‘‘میں عید کی نماز ادا کرنے سے اجتماعی طور پر محروم رکھا گیا !عرفہ کا دن ختم ہو تے ہی شبِ عید میں ایسا کرفیو نافذ کیا گیا کہ کسی کو کھڑکی کھولنے تک کی اجازت نہیں تھی ۔فجر کی نماز بھی مسلمانوں نے گھروں میں ہی ادا کی ۔گزشتہ دو مہینوں سے مسلسل کرفیو کی سختیاں جھیل رہے بچوں کے چہروں پرخوف و دہشت میں عیدکے روزتب اور بھی اضافہ ہوا جب انھیں والدین یہ سمجھانے میں ناکام ہو رہے تھے کہ ’’عید کے باوجود ‘‘آپ باہر نہیں نکل سکتے ہیں ؟ بچے بچے ہوتے ہیں، پورا دن باہر نکلنے کی ضد اور والدین کے پیار سے سمجھانے کے بعد جب ڈانٹ ڈپٹ شروع ہو گئی تو بچے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے تو بڑے بھی ضبط نہ کر سکے ۔ آخر بچوں کو کیسے سمجھائیں کہ اگر آپ باہر نکلے تو پیلٹ کا چھرا تمہیں زندگی سے نہ صحیح آنکھوں کی بصارت سے ضرورمحروم کر دے گا۔

یوں بھی کشمیرمیں چھبیس برس سے عید کی روایات بہت محدود ہو کر رہ گئی ہیں مگر اس سب کے باوجودیہاں عید کی نمازاور بچوں کی چہل پہل سے یہ اجتماعی تاثر اُبھرتا تھا کہ ہم ایک منتشر ُامت کے بچھڑے ہو ئے لوگ ہیں جن کی خوشیاں تک گاندھی جی کے بلندبانگ آدرشوں کی تکمیل کے نام پر سیکولر بھارت نے ملیامیٹ کر رکھی ہیں ۔حیرت اور افسوس کی بات یہ کہ یہ سب کچھ ’’مہان جمہوری بھارت‘‘کے وہ’’ ملازم‘‘ انجام دیتے آئے ہیں جنہیں بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق پر فخر ہے اور اپنی مسلمانی پر ناز بھی ۔پہلے شیخ خاندان اور اب مفتی خاندان نے ’’مداخلت فی الدین‘‘کے اس شرمناک جرم کا سلسلہ دراز تر کردیا ہے ۔ قیام امن کے نام پر کشمیر میں وہ سب کچھ جائز قرار پا چکاہے جس سے لوگ ’’تصورِ آزادی‘‘سے باز آجائیں ۔’’کلہاڑی کے یہ دستے ‘‘جب عوامی جلسوں میں ظاہر ہوتے ہیں توسبز رومال ،راولپنڈی روڑ،کاروان ِامن ،قلم دوات ،جنگ بندی ،مسئلہ کشمیر کا عوامی اُمنگوں کے مطابق حل ،دفعہ 370کا تحفظ،اٹانومی ،سیلف رول اور فوجی انخلأ کے حسین نعروں کے نام پر لوگوں کے دل لبھانے میں جٹ جاتے ہیں مگر جوں ہی ’’اقتدار کی دیوی‘‘ان پر مہربان ہو تی ہے تو نہ صرف ان کی لغت و لہجہ تبدیل ہو جاتا ہے بلکہ ان کے ترجیحات بھی ۔حریت کے لوگ غداراور داغدار قرار پاتے ہیں ۔مجاہدین ملیٹینٹ اور عسکریت پسندہی نہیں بلکہ دہشت گرد بن جاتے ہیں ۔علماء ’’ بھڑکاؤجماعت‘‘ اور سنگ باز پاکستان کے زرخرید غلام سمجھے جاتے ہیں ۔دفعہ370کے خاتمے کا خاموشی سے آغاز کیا جاتا ہے۔ سینک اور پنڈت کالونیوں کی تعمیر کا مسئلہ ترجیحات میں شامل ہو جاتا ہے ۔شرنارتھیوں کو کشمیر کی آبادی میں ضم کرنے کی تحریک زور پکڑنے لگتی ہے ۔بھارت کے کروڑپتیوں کو زمینیں لیز پر دینے کا معاملہ زور پکڑتا ہے اور انڈسٹریاں کھولنے کے نام پر ہیجانی کیفیت کو جنم دیا جاتا ہے ۔آزادی پسندوں کو غیر متعلق ہو نے کے طعنے دئیے جاتے ہیں ۔ دھونس دباؤ سے رام کرنے کی پہل کی جاتی ہے ۔پبلک سیفٹی ایکٹ کی تلوار کی زد میں آئے لوگ دوبارہ جیلوں سے نہیں چھوٹتے ہیں اور یہ سب کچھ’’ گاندھی جی کے سیکولر بھارت کے اجتماعی ضمیرکے اطمینان کے لئے کیا جاتا ہے خدا جانے ’’افضل کی پھانسی ‘‘کے بعدسینکڑوں افضل کشمیر کی ماؤں سے چھین لینے کے باوجود بھی وہ ’’بے شرم ضمیر‘‘مطمئن کیوں نہیں ہو جاتا ہے !!!

بھارت کہنے کوتو سیکولر جمہوری ملک ہے مگر یہاں مسلمانوں کے لئے حالات ’’چینی اور برمی مسلمانوں‘‘سے زیادہ مختلف نہیں ہیں اور تو اور جس ملک میں خود ہندؤں کے ہم مذہب ’’دلت ہندو‘‘محفوط نہیں ہیں اس ملک میں مسلمانوں ،سکھوں یا عیسائیوں کو کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے ؟محمد اخلاق اور زاہد کشمیری اس کی عبرتناک مثالیں ہیں۔ ایک کو ہندو دہشت گردوں نے مارمار کر اپنے ہی گاؤں میں قتل کردیا جبکہ دوسرے کو ہندو جنونیوں نے ادھم پور میں ٹرک کے اندر زندہ جلادیا اور دونوں کا ایک ہی قصور تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور ان کے مذہب میں گائے کوئی مقدس جانور نہیں ہے بلکہ اس کو ذبح کرکے کھانے کی بھی اجازت ہے ۔بھارت کا سیکولر ازم اور جمہوریت یوں تو گجرات اور مظفر نگر میں بہت پہلے عریاں ہو چکا ہے پر اب اس کے انسانیت سوز اور جمہوریت کاخونین چہرہ کشمیر کی ہر گلی کوچے میں آپ ہی آپ بے نقاب ہوچکا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی’’جمہوری دیوی‘‘کے منہ کو کشمیریوں کا خون لگ چکا ہے اور اس کی بھوک تب ہی جا کر مٹتی ہے جب اس کے سامنے کچھ معصوم کشمیری مسلمان بچے ذبح کیے جائیں یا جب تک نہ چند ایک آنکھوں کی روشنی سے ہی محروم ہو جائیں یا جب تک نہ کئی معصوم مجروح ہو جائیں ۔ ’’قیامِ امن‘‘کے نام پرجب’’ جمہوریت کے دعویدار ملک‘‘ کے وزیر داخلہ سیکورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ دینے میں کوئی عار محسوس نہ کرتا ہو، اس ملک میں اقلیتیں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں ۔پھر حد یہ کہ انھیں اس کھلی چھوٹ میں ’’ایک ہفتے ‘‘کا محدود وقت دیکر احتجاج روکنے اور ہڑتال کھولنے پر دباؤ ڈالا جائے تو وہ لوگ تقاضے کو پورا کرنے کے لئے زمینی سطح پر کونسی قیامت برپا کررہے ہوں گے ،اس کو کشمیر سے باہر سمجھنا ناممکن ہے ،شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت کے میڈیا نے بھی کشمیر کی جانب سے آنکھیں مکمل طور پر پھیر لی ہیں، اور انھیں حکومتی وزراء کا سخت دباؤ ہے کہ اپنے چینلز پر وہ میدانی صورتحال دکھانے سے گریز کریں، حالانکہ بھارت کا میڈیا کشمیر کے حوالے سے اس قدر متعصب ہے جتنا خود وہ فوجی نہیں جو کشمیر میں بھارت کی جنگ لڑ رہا ہے ۔2010ء میں گیلانی صاحب نے TRCگراؤنڈمیں پانچ لاکھ لوگوں کے جلسے میں بالکل صحیح کہا کہ بھارتی میڈیا ’’وارمشینری‘‘کے طور پر کام کرتی ہے ۔ رہی بھارت کی جمہوریت اور انسانیت؟ اس کا مظاہرہ خود نریندر مودی کے وزارت اعلیٰ کے دور میں گجرات کے چپے چپے پر گجراتی مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیل کر کیا جا چکا ہے ۔نریندر مودی وزیراعظم نہ بنتے تو شاید اس کو زندگی کی آخری سانسوں تک امریکا اور یورپ کا ویزا نہیں ملتا ،پر کیا کیا جائے بھارت میں ہمیں انہی حضرات سے انسانیت کے بھاشن اور تقریریں بھی سننا پڑتی ہیں جنہیں کل تک مغرب اپنے ہاں آنا غلط اور نامناسب تصور کرتا تھا۔

kashmiri-woman-eid-prayer


متعلقہ خبریں


۔۔۔تو ہم سے ہماری دنیا چھین لی گئی‘‘ وجود - اتوار 05 فروری 2017

کشمیری افسانے سے ایک اقتباس وادی کشمیر کے معروف ادیب و افسانہ نویس نو ر شاہ کی ایک کتاب " کشمیر کہانی"ہے جس پر مایہ ناز افسانہ نویس اور دانشو ر ڈاکٹر ریاض توحیدی کا حال ہی میں ایک تبصرہ سری نگر کے ایک مؤقر اخبار "کشمیر عظمیٰ "میں شائع ہوا ہے ۔تبصرے میں جہاں اس کتاب کی اہمیت اور خصوصیت بیان کی گئی ہے ،وہیں اس تبصرے میں کچھ افسانوں سے چند اقتبا سات بھی درج ہیں۔ ان اقتباسات کو پڑھ کر یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس طرح اس جد ید اور نام نہاد مہذب دنیا میں ایک ثقافت سے بھرپورق...

۔۔۔تو ہم سے ہماری دنیا چھین لی گئی‘‘

کشمیری مجاہدین کا فدائی حملہ، 2افسران سمیت 7بھارتی فوجی ہلاک وجود - بدھ 30 نومبر 2016

فدائین نے رنگروٹہ کے اس فوجی کیمپ پر دھاوا بولا جس میں ایل او سی اور پاکستانی علاقے پر بلااشتعال فائرنگ کی منصوبہ سازی ہوتی تھی ،ذرائع۔درجنوں بھارتی فوجی زخمی۔3فدائین کی شہادت کی بھی اطلاعات ۔بھارتی فوج مظالم سے جذبہ آزادی کو ختم نہیں کرسکتی ،حریت رہنما ۔۔۔مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی  نے علاقے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ، ہماری برداشت کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا بھارت کے لیے خطرناک ہو گا،سبکدوش آرمی چیف راحیل شریف کی آخری خطاب میں تنبیہ، او آئی سی کا کشمیر...

کشمیری مجاہدین کا فدائی حملہ، 2افسران سمیت 7بھارتی فوجی ہلاک

کشمیر کی زمین پر تو بھارت کا قبضہ ہے ‘کشمیریوں پر نہیں،بھارتی صحافی وجود - منگل 25 اکتوبر 2016

کشمیر کے بارے میں معلومات اور خبریں حکومتی عہدیداران مسخ کردیتے ہیں،بھارتی نظام کے خلاف 80 سالہ شخص سے 6 سالہ بچے تک کے سینے میں تکلیف دہ جارحیت موجود ہے کچھ صحافی اراکین پارلیمان کی پٹی آنکھوں پر چڑھا کر صحافی کا حقیقی کردار فراموش کردیتے ہیں اوربھارت کی سالمیت اورقومی یکجہتی سے کھیلنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ،بھارتی وزیر اعظم کیلیے کھلا خط بھارتی صحافی ستوش بھاٹیہ نے مقبوضہ کشمیر کے 4روزہ دورے کے بعد بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کے نام ایک کھلا خط روزنامہ'رائزنگ کشمیر' می...

کشمیر کی زمین پر تو بھارت کا قبضہ ہے ‘کشمیریوں پر نہیں،بھارتی صحافی

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین شیخ امین - هفته 22 اکتوبر 2016

ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی افسوس ناک ہے،پاکستانی قیادت کو سمجھنا چاہیے مذاکرات اور قراردادوں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، مجاہدین کو وسائل مہیا کیے جائیں جب دنیا ہماری آواز نہیں سن رہی تو پھر ہمارے پاس آزادی کے لیے مسلح جدوجہد ہی آخری آپشن ہے،سید صلاح الدین کا ایوان صحافت مظفر آباد میں خطاب امیر حز ب المجاہدین وچیئرمین متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات اور قراردادوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ بھارت سے آزادی کے لیے پ...

برہمن باتوں سے ماننے والا نہیں, پاکستان کشمیریوں کی عسکری مدد بھی کرے,سپریم کمانڈر حزب المجاہدین

وزیراعظم کا خطاب، بھارت میں ماتم، مقبوضہ کشمیر میں شادیانے شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

وزیراعظم نوازشریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطا ب کرتے ہوئے بھارت کوبڑی مدت بعد آئینہ دکھایا، جس کا چند ماہ پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہیدبرہان وانی کو تحریک آزادی کی علا مت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا تفصیلی ذکر کیا۔ واضح رہے کہ حزب کے جواں سال رہنما برہان وانی 8جولائی کو شہید ہوئے۔ ان کی شہادت کے بعد پوری کشمیری قوم نے بھارتی قبضے کے خلاف پر امن مظا ہروں کا ایک طویل سلسلہ شروع کیا۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی فورسز بے...

وزیراعظم کا خطاب،  بھارت میں ماتم، مقبوضہ کشمیر میں شادیانے

جموں وکشمیر میں حریت رہنماؤں اور عوام کا زبردست ردِ عمل، یس سر اور لبیک لبیک کی صدائیں! شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

جموں و کشمیر میں نواز شریف کی تقریر کو خوب سراہا گیا اور اسے موجودہ حالات کے مطابق بہت ہی حوصلہ افزا قرار دیا جارہا ہے۔ عام کشمیریوں کا ما ننا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے جذبات و احساسات کو پوری ایمانداری کے ساتھ پیش کیا گیا اور جس طریقے سے میاں نواز شریف نے ریاست جموں کشمیر کے عوام کی طرف سے چلائی جارہی تحریک مزاحمت و انتفاضہ کی وکالت کی وہ قابل تحسین ہے۔ قائد تحریک حریت سید علی گیلانی نے نواز شریف کی تقریر کو بہت ہی حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کشمیریوں کے ...

جموں وکشمیر میں حریت رہنماؤں اور عوام کا زبردست ردِ عمل، یس سر اور لبیک لبیک کی صدائیں!

مقبوضہ کشمیر: بارہ مولا کے قصبے میں قائم فوجی مرکز پر حملہ، 17 فوجی ہلاک وجود - پیر 19 ستمبر 2016

مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولا کے ایک قصبے اوڑی میں قائم بھارتی فوجی مرکز پر مسلح افراد کے حملے میں 17 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ تفصیلا ت کے مطابق اتوار کو علی الصبح 5 بجکر 30 منٹ پر نامعلوم مسلح افراد نے بھارتی فوج کی 12 ویں بریگیڈ ہیڈکوارٹرز میں داخل ہوکر اچانک فائرنگ شروع کردی۔مذکورہ فوجی مرکز لائن آف کنٹرول کے قریب ہے جہاں سرحدی تنازع کی وجہ سے پہلے ہی سیکیورٹی بہت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں اور ہندوستانی فورسز کے درمیان فوجی مرکز...

مقبوضہ کشمیر: بارہ مولا کے قصبے میں قائم فوجی مرکز پر حملہ، 17 فوجی ہلاک

قربانی سے تکلیف کن کو ہے؟ رضوان رضی - جمعه 16 ستمبر 2016

ہمارا دفترگزشتہ ایک دہائی سے گلبرگ ، لاہور میں ہی واقع ہے۔ ادارہ بدلتا رہتا ہے لیکن علاقہ نہیں بدلتا۔ مشرف دور کی بات ہے ایک دن گھر کو واپسی کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب کے گھر والی سڑک سے گزر کر نہر کے کنارے والی سڑک پر مڑے تو نہر کے کنارے بنی حفاظتی دیوار پر لکھا تھا ’’قربانی کے نام پر لاکھوں جانوروں کا خون بہانا کہاں کا انصاف ہے؟یہ پیسے کسی غریب آ دمی کودے دیں‘‘۔ خون کھول کر رہ گیا کہ اب دریدہ دہنی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں یوں ک...

قربانی سے تکلیف کن کو ہے؟

مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144، نماز عید پڑھنے کی اجازت بھی نہیں! شیخ امین - منگل 13 ستمبر 2016

برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد عوامی مزاحمت کو کچلنے کیلئے، بھارتی فورسز جس بربریت کا مظا ہرہ کررہی ہیں اس کے نتیجے میں اب تک 80سے زائد معصوم افراد جاں بحق اور 11000سے زائدد زخمی ہوئے ہیں۔ 600کے قریب بچوں اور بچیوں کی بینائی جزوی طور پر متاثر ہوچکی جبکہ 300سے زائد افرد کی بینائی مکمل طور پر جانے کا اندیشہ ہے۔ 66دنوں سے بھارتی فورسز کی طرف سے بے انتہا ظلم و ستم کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہی حالات میں کشمیری منگل کے روز عید الاضحی منا نے جارہے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطا بق ک...

مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144، نماز عید پڑھنے کی اجازت بھی نہیں!

عید یا وعید!!! شیخ امین - منگل 13 ستمبر 2016

عید الاضحی ہمیں نہ صرف حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے فرزند ارجمند حضرت اسما عیل ؑ کی قربانی یاد دلاتی ہے بلکہ اس قربانی میں ان کے سرخرو ہونے پر خوشیاں منا نے کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ حکم خدا وندی کی تعمیل میں با پ بیٹا دونوں دل اور روح کی گہرائیوں سے راضی اور اس عمل پر ان کا رب بھی راضی۔انسا نی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ کے بندوں کا ایمان ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ، رب کا ئنات کے سوا وہ کسی کے غلام یا بند ے نہیں اوراسی حقیقت کا اظہار اس عظیم والد اور عظیم بیٹے نے اپنے عمل سے ثا بت کیا۔ تاریخ ...

عید یا وعید!!!

قربانی: تاریخ، فضائل اور مسائل وجود - منگل 13 ستمبر 2016

مولانا محمد نجیب سنبھلی قاسمی، ریاض قربانی کی تاریخ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے بیٹے (اسماعیل علیہ السلام )کو ذبح کررہے ہیں۔ نبی کا خواب سچا ہوا کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ جب باپ نے بیٹے کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہیں ذبح کرنے کا حکم دیا ہے تو فرمانبردار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا جواب تھا : یَآ اَبَتِ افْعَلْ مَا تُوٴمَرُ سَتَجِدُنِی اِنْ شَاءَ اللّ...

قربانی: تاریخ، فضائل اور مسائل

مقبوضہ کشمیر میں 52 ویں روز کرفیو، بندشیں ہٹتے ہی عوامی احتجاج پھر شروع شیخ فرخندہ - بدھ 31 اگست 2016

سری نگر کے دو پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ علاقے اور جنوبی ضلع پلوامہ کو چھوڑ کر پیر کو وادی میں جاری احتجاجی لہر کے52ویں روز جونہی کرفیو اور بندشیں ہٹائی گئیں، تو شہر ودیہات میں شمال سے لیکر جنوب تک کشمیری ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر آگئے اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا۔سری نگر کی معروف نیوز ایجنسی کے این این کے مطابق اگرچہ کرفیو ہٹائے جانے کا سرکاری طور پر اعلان کیاگیا ہے، لیکن بیشتر علاقوں میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے بعد غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کردیا گیا اور متاثرہ ع...

مقبوضہ کشمیر میں 52 ویں روز کرفیو، بندشیں ہٹتے ہی عوامی احتجاج پھر شروع