... loading ...

ایم کیو ایم کے 140 دفاتر مسمار کرنے کے بعد کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے دفاتر گرانے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ شاید اس لیے کیا ہے کہ ایم کیوایم مخالف تنظیم کے دفاتر گرانے سے متعصبانہ اقدامات کا تاثر ماند پڑجائے گا۔
ایم کیوایم پاکستان نے اپنے دفاتر کی مسماری کے ساتھ ہی کہا تھا کہ بات عمارت ڈھانے کی نہیں بلکہ وقت کے انتخاب اور عجلت برتنے پر اعتراض ہے۔ بے ہنگم انداز میں شروع کیے گئے اس آپریشن نے اس کی افادیت کو گنوا دیا۔ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے اس پر موقف اختیار کیا کہ یہ اقدامات ایم کیوایم کے حق میں جائیں گے، اس لیے ان پر غور وفکر کیا جائے۔ نامعلوم مقاصد کے تحت شروع کیے گئے مسماری آپریشن کا انجام کیا ہوگا؟ اس پر نہ کوئی بات کرنے پر تیار ہے اور شاید سوچنے پر بھی نہیں۔
اس امر پر تو سب کا ہی اتفاق ہے کہ جہاں بھی غیرقانونی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کا دفتر قائم ہے، اسے گرایا جانا چاہیے کیونکہ چھوٹے چھوٹے پارکس اورکھیل کے میدانوں پر ان دفاتر کی موجودگی کے باعث تفریحی مقامات نوجوانوں، خواتین اور بچوں کی پہنچ سے دور ہوگئے مگر سوال اب بھی یہی ہے کہ دفاتر مسمار کرنے کے بعد ہوگا کیا؟ ترقی یافتہ دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی جگہ کومنہدم کرنے سے پہلے سوچ لیا جاتا ہے کہ وہاں کیا تعمیر ہوگا ؟
مان لیا کہ وہاں پہلے سے طے ہے کہ یہ پلے گراؤنڈ ہے یا پارک ہے تو پھر ان مسمار دفاتر کے ملبے کویونہی کس لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟ شہر تو پہلے ہی کچرا گھر بنا ہوا ہے، اس پر مستزاد ایک نیا کچرے کا ڈھیر سرکاری طور پر بنا دیا گیا ہے، گویا ایم کیوایم کے 140دفاتر اس ڈھیر میں تبدیل ہوگئے، پانچ سے زائد لیاری کی کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے دفاتر کا بھی یہی حال ہے، ان میں مزید اضافے کا بھی امکان ہے۔ مان لیا کہ ابتداء میں جلدی تھی، اس لیے بس دفتر گرا دیئے گئے اور کچھ سوچا ہی نہیں گیا مگر اب تو کئی ہفتے ہوگئے، یہ نئے کچرے کے ڈھیر رات میں آوارہ کتوں کے ٹھکانے بن گئے ہیں، ان سے تعفن بھی اٹھے گا۔
شہر کے بلدیاتی مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ شہری ناک پر رومال رکھ کر اکثرمقامات سے گزرتے ہیں، ٹوٹی سڑکیں، کھلے گٹر اور جگہ جگہ کھڑا سیوریج کا پانی شہریوں کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ ڈی ایم سیز بھی قائم ہیں اور بلدیہ عظمی کے میئر کا انتخاب بھی ہوچکا ہے مگرشہری مسائل ہیں کہ کم ہونے کے بجائے بڑھتے جارہے ہیں۔ ایم کیوایم تو اپنے متبادل دفاتر قائم کرلے گی مگرکراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر علاقوں کے مسائل حل کرنا کس کی ذمے داری ہے……؟
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...
حکومت ناکام نظر آرہی ہے ،دہشت گردی کیخلاف حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار بورڈ آف پیس میں ہم ڈھٹائی سے وہاں پہنچے اور کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،مصطفیٰ نواز کھوکھر کی پریس کانفرنس اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے ...
خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے وفاقی وزیر کے بیانات سے سوال پیدا ہوتا ہیکیایہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے؟ ردعمل سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئ...
یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...