... loading ...

ماہ ستمبر کے افسانے بہت ہیں۔ ہر گزرتے دن کوئی نہ کوئی کہانی دامن خیال کو کھینچتی اور اِسے تاریخ کی کہانیوں سے جوڑ دیتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر ملک بھر میں محسوس کی گئی کہ یوم دفاع کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کی ملک بھر میں کوئی خاص مصروفیت ہی نہیں تھی۔ گزشتہ برس وزیر اعظم نوازشریف یوم دفاع کے موقع پر میجر شبیر شہید کی قبر پر تشریف لے گئے تھے۔ مگر اس مرتبہ اُنہوں نے یوم دفاع کے موقع سے منسلک کسی سرگرمی کا حصہ بننا پسند نہیں کیا۔ سیاسی امور کے ماہر اور پس پردہ عوامل پر غور کرنے والے تجزیہ کار اس امر پر بحث کررہے ہیں کہ یہ وزیراعظم کا اختیاری فیصلہ تھا یا اُنہیں حالات نے دیوار سے لگا دیا ہے۔ یہ بات بالائے فہم ہے کہ وزیراعظم نوازشریف نے ٹھیک اسی دن سینیگال کے صدر سے ایوان وزیراعظم میں ملاقات کی اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رکن اسمبلی سحرش سے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرا عظم نوازشریف اس قابل تھے کہ وہ یوم دفاع کی مناسبت سے کسی نہ کسی سرگرمی میں شریک ہونے کا فیصلہ کرتے۔پھر ایسا کیا ہوا کہ وزیراعظم یوم دفاع کے موقع پر کسی بھی قسم کی خبر نہیں دے سکے۔ اگروزیراعظم کی یوم دفاع کے موقع پر عدم فعالیت کو سامنے رکھ کر جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مناسبت سے ہونے والی تقریب میں جھانکا جائے تو کچھ حیرتیں اپنے جلوے دکھاتی ہیں۔
جی ایچ کیو میں منعقد ہونے والی تقریب کے اندرون خانہ حالات سے باخبر افراد نے جرات سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں حکومت کی ہوا اُکھڑی ہوئی صاف محسوس ہو رہی تھی۔اس تقریب کے میزبان جی ایچ کیو کی مناسبت سے خود جنرل راحیل شریف تھے۔ اس لیے اہم مہمانوں کا روایت کے مطابق اُنہیں ہی استقبالی دروازے سے خیر مقدم کرنا تھا۔ بات بہت سادہ اور روایت کے عین مطابق تھی۔ مگر یہاں تو ماجرا ہی کچھ عجیب ہوا۔ وزیردفاع خواجہ آصف اور وزیراطلاعات پرویز رشید کچھ زیادہ عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تقریب میں اُس وقت تشریف لائے جب پاک فوج کے سربراہ اور تقریب کے میزبان خود خیرمقدم کے لیے استقبالی دروازے پر نہیں پہنچے تھے۔ چنانچہ وزیر دفاع اور وزیر اطلاعات اپنی اپنی نشستوں پر جاکر براجمان ہوگئے تو پاک فوج کے سربراہ استقبالی دروازے پر مہمانوں کا خیرمقدم کرنے کے لیے پہنچے۔ جہاں اُنہوں نے حزب اختلاف کے دورہنماؤں خورشید شاہ اور اعتزاز احسن کا استقبال کیا۔ آگے اس سے بھی زیادہ حیرت کا مرحلہ آیا ۔ جب پاک فوج کے سربراہ نے حزب اختلاف کے دونوں رہنماؤں کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ اُصولی طور پر اور پروٹوکول کے اعتبار سے وزیر دفاع اور وزیراطلاعات کو پاک فوج کے سربراہ کے ساتھ بیٹھنا چاہئے تھا۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔تقریب کے اندرونِ خانہ احوال سے واقفین کے مطابق تقریب کے بعد پاک فوج کے سربراہ دونوں رہنماؤں کو اپنے ساتھ یادگارِشہدا کے مقام پر بھی لے گئے۔ مگر تب وزیردفاع اور وزیراطلاعات واپسی کا راستا لے چکے تھے۔
گزشتہ دنوں ایک ایسا ہی حیرت انگیز واقعہ تب پیش آیا تھا جب مردان کے حملے کے بعد پاک فوج کے سربراہ مردان پہنچے۔ مردان کے ہیلی پیڈ پر پاک فوج کے سربراہ کے ہیلی کاپٹر نے جیسے ہی لینڈ کیا تو پروٹوکول اور حفاظتی انتظامات کے لیے بنائے گئے قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے عمران خان کے ہیلی کاپٹر کو بھی لینڈنگ کی اجازت دے دی گئی۔ قواعد کے مطابق ایک ہی وقت میں دو اہم ترین شخصیات کو ایک ہی مقام پر اپنے ہیلی کاپٹرز کو اتارنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مگر عمران خان کے ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے بعد فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اپنے ہیلی کاپٹر سے نکل کر سیدھے عمران خان کی طرف گئے اور دونوں شخصیات نے دس منٹ سے زائد ملاقات کی۔ اس ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو کا تجسس تمام سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ تھا۔ اگلے روز وزیراعظم نوازشریف اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق فیصل آباد ایک جلسے میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ جہاں اُن کی اراکین اسمبلی سے لے کر بلدیاتی نمائندوں تک ملاقاتیں بھی طے شدہ تھیں ۔ مگر وزیر اعظم نوازشریف جلسے میں شرکت کے بعد تمام طے شدہ پروگرامات منسوخ کرکے واپس چلے گئے تھے۔
واقعات کے اس بہاؤ میں سیاسی ماہرین اس کے منطقی نتائج پر غور کررہے ہیں۔ سیاسی ماہرین یہ اندازا لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جنرل راحیل شریف اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب کیا سیاسی مصلحتوں سے قطع نظر اپنی مرضی سے چلنے پر راغب ہیں کہ جاتے جاتے ان معاملات کی کیا پروا کی جائے یا پھر وہ سیاسی حالات سے ناخوش ہو کر اپنے مرضی کا کردار اداکرنے پر مائل ہیں۔ وجوہات کچھ بھی ہوں ، ان دنوں پاکستان کی سیاسی منڈی میں بھی مویشی منڈی کی طرح بہت اُبال آیا ہوا ہےاور افواہوں کی گرم بازاری بہت ہے۔ مگر یہ سارے حقائق اگلے چند دنوں میں اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...
امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...
فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...
حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...
جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...
ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...