وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!!

منگل 06 ستمبر 2016 کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!!

RSS-India

تاریخ گواہ ہے کہ 2002 ء میں گجرات میں سنگھ پریوار کے سادھو نریندر مودی (جو اس وقت وہاں وزیر اعلیٰ تھے) کی ہدایات کے عین مطابق کئی ہزار مسلمان مرد عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ عورتوں کی عزت کو داغدار کرنے کے علاوہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دیے گئے تھے۔ ہزاروں رہائشی مکانات نذر آتش کیے گیے۔ پولیس نہ صرف تماشائی بلکہ کئی مقامات پر مسلمانوں کے قتل عام میں بلوائیوں کی صفوں میں شامل ہوئی اور ایسی سیاہ تاریخ رقم کی کہ خود بھارتی معتدل ہندو طبقہ بھی شرمسار ہوا۔ 26مئی 2014سے اس شخص نے پورے بھارت کی زمام اقتدار سنبھالی ہے، تب سے پورے بھارت میں سنگھ پریوار کو جیسے نئی طاقت مل گئی ہے۔

آر ایس ایس کی سرپرستی میں بھارت کی انتہا پسندہندو تنظیموں نے ہندوستان کو ایک ہندو مملکت میں تبدیل کرنے کا راگ الاپنا شروع کردیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت، مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے اپنی ہر تقریر میں ملک کے باشندوں کو ہندو اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کا تذکرہ مسلسل کرتے آرہے ہیں۔ بی جے پی اور اس کی ذیلی انتہا پسند تنظیموں نے جگہ جگہ مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر انھیں ڈرانا دھمکانا، پاکستانی ایجنٹ کا طعنہ دینا اور ان پر حملے شروع کر نے کا عمل تیزی سے شروع کیا ہے۔ گجرات، مدھیہ پردیش اور دیگر کئی ریاستوں میں اسکولوں میں وندے ماترم گانے اور سرسوتی پوجا، سوریہ نمسکار کے لئے مسلمان بچوں کو مجبور کیا جارہا ہے۔ قومی سطح پر تعلیمی نصاب کو زعفرانی رنگ(Saffaronisation of Education) میں ڈھالنے کی منظم کوشش ہورہی ہے۔ اردو زبان کو ختم کرنے کے منصوبے بھی شروع ہوچکے ہیں اور اب کھلے عام، آر ایس ایس کے تھنک ٹینک ” انڈیا پالیسی فاونڈیشن” نے اردو میڈیا کو ہندومخالف قرار دیا ہے۔ انڈیا پالیسی فاونڈیشن نے 28اردو اخبارات کی خبروں پر تبصرہ کیا ہے اور ان کی سبھی خبروں کو آر ایس ایس اور ہند مخا لف پروپیگنڈے کے طور پر پیش کیا ہے۔ آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر واقع ناگپور سے ہدایت پا کر بھارت کے کئی شہروں میں غریب اور ان پڑھ مسلمان خاندانوں کو جبراً ہندو بنانے کا شرمناک عمل” گھر واپسی “کے نام سے شروع کیا گیا۔ جموں و کشمیر کے اکثریتی کردار کو اقلیتی کردار میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی طرز پر بھگوڑے پنڈتوں کیلئے ریاست کے اندر ریاست بنانے اور مغربی پاکستان سے آئے 5لاکھ شرنارتھیوں کو ریاستی شہریوں کے حقوق دینے کی حکمت عملی نہ صرف ترتیب دی گئی ہے بلکہ اسے ریاستی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ مفتی سعید کے کندھوں کا سہارا لے کر عملی جامہ پہنانے کے اقدامات بھی کیے جارہے ہیں۔ ان اقدامات سے بھارتی شہریوں کو بھی شرناتھیوں اور کشمیری پنڈتوں کے نام پر جموں و کشمیر میں بسایا جائیگا اور اس طرح ریاست کی مسلم اکثریتی شناخت کو ختم کرنے کا ایک موقع انہیں فراہم ہوگا۔ جموں و کشمیر میں پاکستان سے محبت کرنے والوں کو کشمیر چھوڑنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ 10جون2015کوبرما کے سرحدی علاقے میں حملہ کرکے پاکستان کو خبردار کیا گیا تھاکہ بھارتی فوج پاکستانی سرزمین میں بھی داخل ہوسکتی ہے اور مجاہدین کے کیمپوں پر حملہ کرسکتی ہے۔ اگر چہ پاکستانی حکومت اور فوج کی طرف سے سخت رد عمل نے بھارتی انتہا پسند قیادت کو کچھ دیر سوچنے پر مجبور کیا، لیکن یہ ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ مودی جب تک بھارت کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں، تب تک بے انتہا ہوشیار رہنے اور حالات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اسرائیلی نیتن یاہو سے زیادہ اسلام دشمن ہے اور اکھنڈ بھارت اس کا وہ خواب ہے جسے پوراکرنے کیلئے وہ اس پورے برصغیر کے امن کوداؤ پر بھی لگانے سے نہیں ہچکچائے گا۔ معذرت خواہانہ خارجہ و دفا عی حکمت عملی اس کے حوصلے بڑھائے گی۔ یہ اسی معذ رت خوانہ دفاعی حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ مودی نے بلو چستان کے حوالے سے اپنے مکروہ عزائم کا بر ملا اعلان کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح برہمن کو سمجھ چکے تھے، اور اسے سمجھنے کے بعد ہی انہوں نے ایک علٰیحدہ مملکت کا مطا لبہ کیا تھا۔ کشمیرکے مقبول ترین رہنما کو سمجھنے میں دیر لگی، اس کا نتیجہ یہ نکلا، کہ اپنا زوال اپنی آنکھوں سے خود دیکھا۔

اُنہوں نے ـ’’کشمیری برہمن زادے “کے عنوان سے اپنی خود نوشت داستاں “آتش چنار “میں برہمن کے منا فقانہ کردار کو بڑی احتیاط سے تحریر کیا ہے۔ وہ قائد اعظمؒ کی باتوں کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے قائد اعظم کے ساتھ اپنی ایک گفتگو کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں “جناح صاحب کچھ بے تابی سے میری باتیں سنتے رہے۔ ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ سے لگتا تھا کہ وہ ان باتوں سے خوش نہیں، لیکن حق تو یہ ہے کہ انہوں نے کمال صبر سے میری گفتگو سنی اور آخر ایک مرد بزرگ کی طرح فہمائش کے انداز میں کہنے لگے”میں آپ کے باپ کی مانند ہوں اور میں نے سیاست میں اپنے بال سفید کیے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ ہندو پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی آپ کے دوست نہیں بن سکتے۔ میں نے زندگی بھر ان کو اپنانے کی کوشش کی، لیکن مجھے ان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ وقت آئے گا تو آپ کو میری بات یاد آئے گی اور آپ افسوس کریں گے”(آتش چنار۔۔ 310)شیخ صاحب کے قریبی رفیق کار اور اس کی سوانح حیات” آتش چنار “کے قلمی معاو ن محمد یوسف ٹینگ کے مطابق شیخ صاحب ایک بڑے معرکے کیلئے جست لگانے کیلئے پھر پر پھڑ پھڑ ا رہے تھے۔ (آتش چنار پیش لفظ)۔ اس بات کی وضاحت ٹینگ صاحب نے بعد میں اپنے ایک کالم میں ان الفاظ میں کی “مجھے پورا یقین ہے کہ شیخ صاحب جون 1982ء میں اپنی نزع کی بیماری میں مبتلا نہ ہوجاتے تو شاید ان کی وفات جیل خانے کی ان ہی سلاخوں کے اندر ہوتی، جن کا ان سے بہت لمبا رشتہ رہا تھا ”

پاکستانی قائدین بھی اپنے قائد اعظمؒ کے انمول الفاظ پر غور کرلیں، تاکہ بعد میں پچھتانے کی نو بت نہ آئے، کیو نکہ نزع کی حالت میں پھر انسان کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔۔ اللہ رحم فر مائے۔


متعلقہ خبریں


طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا شیخ امین - جمعه 30 ستمبر 2016

اڑی حملے کے بعد نریندر مودی سرکار اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پاکستان کیخلاف ایک ایسی جارحا نہ روش اختیار کی، جس سے بھارتی عوام میں جنگی جنوں کی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں یوں لگا کہ دم بھر میں پاکستان پر حملہ ہوگا اور چند دنوں میں اکھنڈ بھارت کا آر ایس ایس کا پرانا خواب پورا ہوگا۔ ڈاول ڈاکٹرائن کے عین مطا بق نریندر مودی سرکار ان دھمکیوں سے دو طرح کے فائدے حاصل کرنا چا ہتی تھی۔ ایک یہ کہ جنگ کے خوف سے وزیر اعظم نواز شریف، سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کی طرح خو فزدہ ہوکر جنرل ا...

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف ...

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

پاک چین دوستی زندہ باد!!! شیخ امین - اتوار 18 ستمبر 2016

پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند ہوتی ہوئی دوستی کی جڑیں نہ صرف تاریخ میں موجود اورتجربات میں پیوست ہیں بلکہ مستقبل کے امکانا ت میں بھی پنہاں ہیں،کئی ایک ملکوں کے سینوں پر مونگ دلتی چلی آرہی ہے ۔وہ جن کا خیال ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں اور روایتی دوستوں کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تعلقات اس خطے کے لئے بین الاقوامی ا سکیم کی راہ میں رکاوٹ اور ان کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں سدِراہ ہیں ۔وہ خاکہ یہ ہے کہ اس خطے کی سب سے بڑی طاقت بھارت بنے اور خطے کے تمام ملک اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ...

پاک چین دوستی زندہ باد!!!

جواب دو!!! شیخ امین - جمعه 02 ستمبر 2016

سقوط ڈھاکا ہوا۔ کشمیری درد و غم میں ڈوب گئے۔ ذولفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھایا گیا تو کشمیری ضیاء الحق اورپاکستانی عدالتوں کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے۔ پاکستان نے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تو کشمیر یوں نے کئی روز تک جشن منایا۔ جنرل ضیاء الحق ہوائی حادثے میں شہید ہوئے تو کشمیر یوں نے اس کا بھی ماتم منایا۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو کشمیریوں نے کئی روز تک جانوں کی پرواہ کیے بغیرگلیوں اور کوچوں میں رقص کیا، مٹھائیاں بانٹیں۔ اسکے برعکس بھارت کے ساتھ نفرت کا اظہار بار بار کیا۔ ...

جواب دو!!!

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!! شیخ امین - منگل 30 اگست 2016

میرا خیال ہے کہ سال 1990ء ابھی تک لوگ بھولے نہیں ہوں گے جب پوری کشمیری قوم سڑکوں پر نکل آئی تھی، بھارت کے خلاف کھلم کھلا نفرت کا اظہار ہر طرف ہورہا تھااوربھارت کا سارا انٹلیجنس کا نظام تتر بتر ہوچکا تھا۔ بھارتی پالیسی ساز اس صورتحال کو دیکھ کر دم بخود تھے۔ انہیں اس بات پر حیرانی تھی کہ اچانک اس حد تک یہ عوامی غم و غصے کا لاوا کس طرح پھٹ پڑا؟ان کی انٹلیجنس ایجنسیاں کہاں تھیں۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس عوامی مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا۔ انہوں نے اسے کشمیریوں کی بھارت ک...

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!!

مقبوضہ کشمیر میں 44 ویں روز بھی کرفیو اور بندشیں سختی کے ساتھ برقرار شیخ امین - پیر 22 اگست 2016

مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو مسلسل44ویں روز بھی ہڑتال ، دن ورات کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ سختی کے ساتھ جاری رہنے کے باعث معمول کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔جبکہ شمال وجنوب میں فورسز کے ہاتھوں شبانہ چھاپوں، توڑ پھوڑ ، مارپیٹ اور گرفتاریوں کے بیچ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جار ی رہا جس دوران مرد و خواتین نے قریہ قریہ احتجاجی جلسوں کا اہتمام کرنے کے علاوہ جلوس اور ریلیاں بھی نکالی اور کئی مقامات پر کھلے آسمان تلے نماز یں بھی ادا کی گئیں ۔رواں آزادی حامی احتجاجی لہر کے مرکز جنوب...

مقبوضہ کشمیر میں 44 ویں روز بھی کرفیو اور بندشیں سختی کے ساتھ برقرار

شراب خباثت کا خزانہ الطاف ندوی کشمیری - جمعرات 30 جون 2016

[caption id="attachment_38309" align="aligncenter" width="621"] وزیر خزانہ حسیب درابو[/caption] 22جون 2016ء کوجموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ جی نے علماءِ کرام اور خطباء حضرات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ یہ لوگ ماحولیات کے بگاڑ،سماجی بدعات اور سنگین مسائل کے خلاف اْف بھی نہیں کرتے ہیں تاہم صنعتی پالیسی اور سینک کالنویوں کے خلاف مساجد میں شور مچاتے ہیں۔اس کے بعداب 25جون 2016ء کو وزیر خزانہ حسیب درابو نے شراب پر پابندی لگانے سے یہ کہتے ہو ئے انکار کیا کہ We canno...

شراب خباثت کا خزانہ

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!! شیخ امین - پیر 27 جون 2016

۲مئی۲۰۱۶کو میری تحریر)وہ ورق تھا دل کی کتاب کا!!!(کے عنوان سے پاکستان کی معروف ویب سائٹ (http://wujood.com/) میں شائع ہوئی۔اس کا ابتدائی پیراگراف ان جملوں پر مشتمل تھا۔ ’’تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما اور مقبول بٹ شہید کے دست راست امان اﷲ خان طویل علالت کے بعد ۲۶اپریل کو ہم سے جدا ہوئے۔یہ جدائی اگرچہ خلاف فطرت نہیں ،لیکن میرے لئے اس حد تک تکلیف دہ تھی کہ دل نا تواں پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگیا۔آنکھوں سے خود بخود عقیدت و محبت کے آنسو ٹپکنے لگے۔یوں لگا جیسے میں ماں کی...

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!!

کشمیر میں اسرائیل طرز کی ہندو بستیاں بنانے کا منصوبہ!!!! وجود - جمعرات 05 مئی 2016

آل پارٹیز حریت کا نفر نس (گیلانی)نے حکومتِ ہند کے آبادکار پنڈتوں کے لیے کمپوزٹ ٹاؤن شپ قائم کرنے کے منصوبے پر بضد رہنے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیریوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے اور پنڈتوں کو سماج سے الگ تھلگ کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی اور دونوں برادریاں مل کر اس خطرناک منصوبے کو ناکام بنائیں گی۔ ذرائع ابلاغ کے نام جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ پنڈت کشمیری سماج کا ایک حصہ ہیں اور کوئی بھی فرد یا گروہ ان کی وادی وا...

کشمیر میں اسرائیل طرز کی ہندو بستیاں بنانے کا منصوبہ!!!!

مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا! وزیراعظم نوازشریف کا کشمیری رہنما یاسین ملک کو جوابی خط وجود - جمعرات 05 مئی 2016

دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے ڈپٹی ہائی کمشنر سید حیدر شاہ اور سفارت خانے کے فرسٹ سیکریٹری نے جموں و کشمیرلبریشن فرنٹ کے علیل چیئرمین محمد یاسین ملک سے فورٹس ہسپتال دہلی میں ملاقات کی ہے۔ہائی کمشنر نے اس موقع پر محمدیاسین ملک کو پاکستانی وزیر اعظم محمد نواز شریف کا خط بھی پہنچایا جو انہوں نے محمدیاسین ملک کے 12جنوری 2016ء کو لکھے گئے خط کے جواب میں لکھاہے۔ محمدیاسین ملک نے مذکورہ خط میں حکومت پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ گلگت بلتستان کی آئینی پوزیشن کو...

مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچانے والا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا! وزیراعظم نوازشریف کا کشمیری رہنما یاسین ملک کو جوابی خط

حریت کی موجودگی میں کبھی قیادت کا بحران پیدا نہیں ہوگا: سید علی گیلانی وجود - منگل 29 مارچ 2016

بزرگ رہنما اوتحریکِ حریت جموں و کشمیر کے سربراہ سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ ’’تحریکِ حریت جموں و کشمیر‘‘ اگرچہ ریاست کے طول وعرض میں پھیلی ایک مضبوط اور فعال تنظیم ہے تاہم اس کو مز ید وسعت دینا اور زیادہ فعال بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جس کی طرف فوری توجہ کرنا ناگزیر ہے۔ معرف نیوز ایجنسی کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق سیدعلی گیلانی نے ’’تحریکِ حریت‘‘ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2004 میں اس تنظیم کو دوسری درجنوں پارٹیوں میں کسی اضافے کے طور پر نہیں بنایا گیا ہے اور نہ ...

حریت کی موجودگی میں کبھی قیادت کا بحران پیدا نہیں ہوگا: سید علی گیلانی