... loading ...

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے حکومت مخالف اور پاناما لیکس پر احتجاج سے حکومت اب کچھ بدحواس نظر آتی ہے۔ کنٹینرز سے احتجاج اور ریلیوں کوروکنے کے عمل نے کہ ثابت کردیا ہے کہ حکومت “نے باگ ہاتھ میں ہے ، نہ پاہے رکاب میں” کی عملی تصویر بنتی جارہی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی گفتگو میں سرکاری اداروں کے سربراہان پر ہونے والی تنقید نے اب ان اداروں کی جانبداری کو تقریباً بے نقاب کردیا ہے۔ حکومت نے پاناما لیکس پر جس لیت ولعل سے کام لیا ہے، وہ اب اُس کے اعتبار کومجروح کر چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے عوام میں آنے کے فیصلے نےاب حکومت اور سرکاری اداروں کو کچھ بیدار کیا ہے۔ گزشتہ روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیرقانون زاہد حامد اچانک ذرائع ابلاغ کے سامنے نمودار ہوئے اور پاناما لیکس کے حوالے سے اپنی وضاحتیں کچھ اس طرح پیش کی کہ یوں لگتا تھا کہ حکومت نے احتساب سے پہلے ہی خود اپنے اوپر چھری چلا لی ہے۔ دیانت داری کے یہ مجسم نمونے اس کی کوئی وضاحت نہیں کرپارہے کہ آخر پانچ ماہ قبل بے نقاب ہونے والے اس اسکینڈل پر حکومت اب تک ایک قدم بھی کیوں نہیں چل سکی؟
تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے سڑکوں پر آنے کے بعد اب پانچ ماہ کے بعد ایف بی آر کو ہوش آیا ہے کہ اُنہیں ان مخفی اور ناجائز اثاثوں کے مالکان سے اُن کی آمدنی کے ذرائع بھی پوچھنے چاہئے۔ اب جب سیاسی جماعتیں احتجاج کے لیے سڑکوں کا رخ کر رہی ہیں تو ایف بی آر قوم کو یہ بتا رہا ہے کہ اُس نے وزیراعظم کے بچوں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز سمیت 350 سے زائد افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔
عمران خان نے احتساب ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر یہ سوال اُٹھایا کہ چیئرمین نیب آخر کیا کر رہے ہیں؟ عمران خان کی جانب سے ایف بی آر، نیب اور ایف آئی اے پر تنقید کے نشتر چلانے سے ایک بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ سرکاری ادارے دراصل ریاست کے لیے نہیں بلکہ کچھ لوگوں کے مفادات کے تحت کام کررہے ہیں۔ اگر ایف بی آر کی جانب سے دیئے گیے نوٹسز آج ٹھیک ہے تو یہ پورے پانچ ماہ کے بعد کیوں جاری کیے گیے، جب عوامی احتجاج سڑکوں پر آنے لگا۔
مسئلہ صرف پانچ ماہ کا نہیں، بلکہ عوامی تحریک کے چودہ افراد کو سڑکوں پر گولیوں سے بھون ڈالنے کا بھی ہے۔ 2014 میں جب عوامی تحریک کے کارکنوں کو دن دیہاڑے قتل کردیا گیا تو اِ س معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خود جو وعدے ذرائع ابلاغ کے سامنے کیے اُن میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں کیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر دو سال گزرنے کے باوجود بھی اس معاملے میں آج تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا گیا۔ اس معاملے کی حساسیت کا یہ عالم ہے کہ طاہر القادری نے یہ دعویٰ کیا کہ اُن سے شریف خاندان اور وفاقی وزراء مسلسل رجوع کر رہے ہیں کہ مرنے والوں کا قصاص اُنہیں اُن کے مطالبے کے مطابق دے دیا جائے گا، مگر وہ اِسے احتجاج کا موضوع نہ بنائیں۔ حکومت نے آج تک طاہر القادری کے اس الزام کی تردید نہیں کی۔
اطلاعات کے مطابق حکومت واضح طور پر ردِ عمل کی ان لہروں سے پریشان نظر آنے لگی ہے۔ اور وہ اُن خبروں کو جو حکومت کے غیر مستحکم کرنے سے متعلق ہیں ، اُسے بہت تشویش سے دیکھنےلگی ہیں۔ ایف بی آر کی طرف سے پانچ ماہ کے بعد اچانک بیداری یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت اب واضح طور پر دباؤ محسوس کررہی ہے۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...