وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!!

منگل 30 اگست 2016 گستاخی معاف ۔۔۔۔ذرا اپنا احتساب بھی کریں!!!

kashmir-indian-army

میرا خیال ہے کہ سال 1990ء ابھی تک لوگ بھولے نہیں ہوں گے جب پوری کشمیری قوم سڑکوں پر نکل آئی تھی، بھارت کے خلاف کھلم کھلا نفرت کا اظہار ہر طرف ہورہا تھااوربھارت کا سارا انٹلیجنس کا نظام تتر بتر ہوچکا تھا۔ بھارتی پالیسی ساز اس صورتحال کو دیکھ کر دم بخود تھے۔ انہیں اس بات پر حیرانی تھی کہ اچانک اس حد تک یہ عوامی غم و غصے کا لاوا کس طرح پھٹ پڑا؟ان کی انٹلیجنس ایجنسیاں کہاں تھیں۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس عوامی مزاحمت کو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا۔ انہوں نے اسے کشمیریوں کی بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف ایک جدوجہد قرار دیا۔

برطانوی اخبار “گارجین” 29جنوری1990ء کے شمارے میں یوں حالات پر تبصرہ کرتا ہے:

’’بھارتی صحافیوں پر یہ سرکاری مؤقف تسلیم کرنے کیلئے بڑا دباؤ ہے کہ ریاست کی موجودہ سال کی پر تشدد کاروائیوں میں وہ جنگجو ملوث ہیں جنہیں پاکستان نے تربیت دی ہے اور ہتھیار بھی دے رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس حقیقت کے بھاری شواہد موجود ہیں کہ کشمیر میں ایک مقبول عام تحریک چل رہی ہے جہاں مسلمانوں کی غالب اکثریت یا توایک آزاد ریاست کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چا ہتی ہے۔ ”

اخبارانڈیپنڈنٹ لندن نے 30جنوری 90کے شمارے میں حکومت ہند کو یوں آڑے ہاتھوں لیا۔

“بھارتی حکومت نے پھر بیرونی مداخلت کا واویلا مچانے کی اپنی معروف ترکیب کی طرف رجوع کیا جیسا کہ وہ بحران کے وقت اکثر کیا کرتی ہے بھارت کا پاکستان پر یہ الزام لگانا کہ وہ کشمیر میں افرا تفری کو ہوا دے رہا ہے اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ آزادی کشمیر کی تحریک کو یہاں مقامی طور پر قبول عام حاصل ہے”

نیو یارک ٹائمز کا تبصرہ جو 22جنوری 1990کے شمارے میں موجودہے:

“کشمیر میں افرا تفری کو بھڑکانے میں پاکستان کو قصور وار ٹھہرانے کیلئے کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ کشمیر کی تحریک آزادی کی جڑیں عوام میں ہیں”

بھارتی اخبار دی سنڈے آبزرور 25؍فروری کی اشاعت میں یوں اپنے قارئین سے مخاطب ہورہا ہے :

“کشمیر کے معاملات میں پاکستان کا رول صفر ہے یا بہت کم۔ کشمیری عوام کی مایوسیوں کی ذمہ داری مختلف ریاستی سرکاروں اور بھارت کی مرکزی سرکار پر عائد ہوتی ہے”

لیکن پھر کیا ہوا، اس عوامی مزاحمت کو عروج کی انتہاوں سے زوال کی انتہاوں تک کس طرح پہنچایا گیا اور اس عمل میں کس طرح ہماری سیاسی قیادت اور پاکستانی قیادت استعمال ہوتی رہی۔ کس طرح مفادات کی بھینٹ چڑھی۔ چوراہوں پر بیٹھ کے کس طرح اس تحریک کا مذاق اڑاتے رہے، من پسند فارمولے دیتے رہے، اس تحریک کو خود ہی دہشت گرد تحریک ثابت کرنے پر مصر رہے۔ اپنی سرزمین اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں اس تحریک کی بنیادوں کو ہلانے کیلئے ہر وہ طریقہ اپنایا گیا جو ان کے بس میں تھا۔ سیاست کے نام پر اپنی دُکانیں چمکاتے رہے۔ بھارت کے سامنے امن و رحم کی بھیک مانگتے رہے، تحریک رسوا ہوتی رہی، لیکن ان لوگوں کی جبینوں پر شکنیں بھی نہ آئیں۔

ریاست جموں و کشمیر کی سب بڑی مقامی آزادی پسند تنظیم حزب المجاہدین کو جدید تقا ضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے، عسکری جدوجہد کو ایک نئی جہت دینے کاکردار نبھانے والے اور کشمیری عوام کے محبوب ترین جواں سال مجاہد رہنماکمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں ایک بار پھر بھارت کے خلاف ایک نئی عوامی تحریک شروع ہوگئی ہے۔ پوری کشمیری قوم اپنے اس جواں سال ہیرو کیلئے گھروں سے باہر نکل آئی ہے۔ لاکھوں لوگوں نے ان کے جنازے میں شرکت کی۔ ریاست کے چپے چپے پر ہزاروں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئیں۔ لاکھوں لوگ جن میں بچے، خواتین، بزرگ اور جوان شامل ہیں، بھارتی فورسز اور بھارتی قبضے کے خلاف مظا ہرے کررہے ہیں۔ 50دنوں سے کرفیو جاری ہے۔ پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے 2004ء میں جس خاتون کو کشمیر کا مستقبل قرار دیا تھا، اسی خاتون یعنی پی ڈی پی کی سربراہ اور مقبوضہ ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی ہدایات پر بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 70لوگ اب تک شہید ہوچکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد آٹھ ہزار کا ہند سہ عبور کرچکی ہے۔ سینکڑوں بچوں کی بینائی متاثر ہوچکی ہے۔ لیکن اس سب کے با وجود جدوجہد میں روز بروز تیزی آرہی ہے۔ 90کا منظر نامہ پھر ایک بار نظر آرہا ہے۔

پورا بھارت ہل چکا ہے، کٹھ پتلی محبوبہ مودی حکومت مفلوج ہوچکی ہے۔ ایک برہان کی شہادت ہزاروں برہانوں کو جنم دے چکی ہے۔۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کشمیر کی سیاسی و عسکری قیادت اس نئی تحریک کو سنبھالنے اور اسے ایک رخ دینے کی صلاحیتیں رکھتی ہے۔ کیا ان برسوں میں اس قیادت نے کچھ سبق حاصل کیا ہے، کیا کوئی ایسی منصوبہ بندی ترتیب دی گئی ہے جس کے نتیجے میں کل کوئی اور مشرف اس تحریک کو سبو تاژ نہ کرسکے۔ فلسطینی تحریک حماس نے اپنی کا میاب سیاسی و سفارتی مہم سے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکاکو بھی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ وہی حماس جسے امریکانے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے لیکن اپنی کامیاب اور مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں انہوں نے یورپی عوام کو متحرک کیا ہے۔ کیا کشمیری قیادت نے ان سے کچھ سیکھنے کی کوشش کی ہے؟کیا کشمیریوں کاسفارتی محاذ فلسطینیوں کے سفارتی محاذ سے کچھ سیکھ سکاہے؟ یہ وہ چند سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ ٹھوس بنیادوں پر ایک واضح پالیسی ترتیب دینے کی فوری ضرورت ہے، ورنہ چند دن، چند مہینے، چند سال یہ ہنگامہ رہے گا، اور پھر کہیں سے ڈور ہلائی جائیگی، اور پھر تاجرانہ ذہنیت کے حامل لوگ تحریک کی لگام سنبھالیں گے اور پھر وہی ہوگا جو ازل سے اب تک اس تحریک کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔۔۔ اللہ رحم فرمائے!


متعلقہ خبریں


طبل جنگ بج چکا ہے !!! شیخ امین - جمعرات 06 اکتوبر 2016

برہان وانی کی شہادت کے بعد بھارتی فوج کا خیال تھا کہ وہ انتہائی مطلوب حریت پسند رہنماکی موت کا جشن منا ئیں گے، مٹھا ئیاں با نٹیں گے اور نئی کشمیری نسل کو یہ پیغام دیں گے کہ بھارت ایک مہان ملک ہے اور اس کے قبضے کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو وہ ختم کرنا جا نتے ہیں۔ لیکن انہیں کشمیریوں کے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا، جنہوں نے وانی کی شہادت پر ایسا کر دکھایا کہ نہ صرف بھارتی فوج بلکہ پورا بھارت ہل کررہ گیا۔ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پر امن مظا ہ...

طبل جنگ بج چکا ہے !!!

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا شیخ امین - جمعه 30 ستمبر 2016

اڑی حملے کے بعد نریندر مودی سرکار اور اس کے زیر اثر میڈیا نے پاکستان کیخلاف ایک ایسی جارحا نہ روش اختیار کی، جس سے بھارتی عوام میں جنگی جنوں کی کیفیت طاری ہوگئی اور انہیں یوں لگا کہ دم بھر میں پاکستان پر حملہ ہوگا اور چند دنوں میں اکھنڈ بھارت کا آر ایس ایس کا پرانا خواب پورا ہوگا۔ ڈاول ڈاکٹرائن کے عین مطا بق نریندر مودی سرکار ان دھمکیوں سے دو طرح کے فائدے حاصل کرنا چا ہتی تھی۔ ایک یہ کہ جنگ کے خوف سے وزیر اعظم نواز شریف، سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف کی طرح خو فزدہ ہوکر جنرل ا...

دوال ڈاکٹرائن۔۔۔ الٹی ہوگئی سب تد بیریں ،کچھ نہ دوا نے کام کیا

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین شیخ امین - جمعه 23 ستمبر 2016

معروف کشمیری دانشور و صحافی پریم نا تھ بزاز نے 1947ء میں ہی یہ پیش گوئی کی تھی کہ اگر مسئلہ کشمیر، کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہ ہوسکا، تو ایک وقت یہ مسئلہ نہ صرف اس خطے کا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے خرمنِ امن کو خا کستر کردے گا۔ 1947ء سے تحریک آزادی جاری ہے اور تا ایں دم یہ مسئلہ لٹکا ہوا ہے۔ کئی جنگیں ہوئیں اور ایک خو فناک جنگ کے سائے منڈ لا رہے ہیں۔ 9جولائی حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد جموں و کشمیر کے عوام نے تنگ آمد بہ جنگ آمد کے مترادف، بھارت کے خلاف ...

خواہش ہے جنگ نہ ہو لیکن!!! شیخ امین

پاک چین دوستی زندہ باد!!! شیخ امین - اتوار 18 ستمبر 2016

پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند ہوتی ہوئی دوستی کی جڑیں نہ صرف تاریخ میں موجود اورتجربات میں پیوست ہیں بلکہ مستقبل کے امکانا ت میں بھی پنہاں ہیں،کئی ایک ملکوں کے سینوں پر مونگ دلتی چلی آرہی ہے ۔وہ جن کا خیال ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں اور روایتی دوستوں کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے تعلقات اس خطے کے لئے بین الاقوامی ا سکیم کی راہ میں رکاوٹ اور ان کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں سدِراہ ہیں ۔وہ خاکہ یہ ہے کہ اس خطے کی سب سے بڑی طاقت بھارت بنے اور خطے کے تمام ملک اس کے سامنے دست بستہ کھڑے ...

پاک چین دوستی زندہ باد!!!

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!! شیخ امین - منگل 06 ستمبر 2016

تاریخ گواہ ہے کہ 2002 ء میں گجرات میں سنگھ پریوار کے سادھو نریندر مودی (جو اس وقت وہاں وزیر اعلیٰ تھے) کی ہدایات کے عین مطابق کئی ہزار مسلمان مرد عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ عورتوں کی عزت کو داغدار کرنے کے علاوہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کر دیے گئے تھے۔ ہزاروں رہائشی مکانات نذر آتش کیے گیے۔ پولیس نہ صرف تماشائی بلکہ کئی مقامات پر مسلمانوں کے قتل عام میں بلوائیوں کی صفوں میں شامل ہوئی اور ایسی سیاہ تاریخ رقم کی کہ خود بھارتی معتدل ہندو طبقہ بھی شرمسار ہوا۔ 26مئی 2014س...

کہیں بعد میں پچھتانا نہ پڑے!!!

جواب دو!!! شیخ امین - جمعه 02 ستمبر 2016

سقوط ڈھاکا ہوا۔ کشمیری درد و غم میں ڈوب گئے۔ ذولفقار علی بھٹو کو سولی پر چڑھایا گیا تو کشمیری ضیاء الحق اورپاکستانی عدالتوں کے خلاف سڑکوں پرنکل آئے۔ پاکستان نے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تو کشمیر یوں نے کئی روز تک جشن منایا۔ جنرل ضیاء الحق ہوائی حادثے میں شہید ہوئے تو کشمیر یوں نے اس کا بھی ماتم منایا۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو کشمیریوں نے کئی روز تک جانوں کی پرواہ کیے بغیرگلیوں اور کوچوں میں رقص کیا، مٹھائیاں بانٹیں۔ اسکے برعکس بھارت کے ساتھ نفرت کا اظہار بار بار کیا۔ ...

جواب دو!!!

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!! شیخ امین - پیر 27 جون 2016

۲مئی۲۰۱۶کو میری تحریر)وہ ورق تھا دل کی کتاب کا!!!(کے عنوان سے پاکستان کی معروف ویب سائٹ (http://wujood.com/) میں شائع ہوئی۔اس کا ابتدائی پیراگراف ان جملوں پر مشتمل تھا۔ ’’تحریک آزادی کشمیر کے عظیم رہنما اور مقبول بٹ شہید کے دست راست امان اﷲ خان طویل علالت کے بعد ۲۶اپریل کو ہم سے جدا ہوئے۔یہ جدائی اگرچہ خلاف فطرت نہیں ،لیکن میرے لئے اس حد تک تکلیف دہ تھی کہ دل نا تواں پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگیا۔آنکھوں سے خود بخود عقیدت و محبت کے آنسو ٹپکنے لگے۔یوں لگا جیسے میں ماں کی...

وہ ورق ہے دل کی کتاب کا!!!

میرا کشمیر چھوڑ دو!!! شیخ امین - جمعرات 04 فروری 2016

باور یہ کیا جا رہا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ کشمیری عوام حالات سے مایوس ہو کر تھک جائیں گے ،انہیں پُلوں ،ہسپتالوں ،ریلوے ٹریک ،سڑکوں کے نام پر ایک نئی اقتصادی ترقی کا سراب دکھا کر نظریات سے برگشتہ کر دیا جائے گا۔کشمیر کی نئی نسل اپنے بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ عملیت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔ بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں آگے نکل جانا ،اقتصادی اعتبار سے مضبوط تر ہوجانا کشمیر کی نئی نسل کی آنکھوں کو خیرہ کر دے گا ۔لیکن یہ قیاس آرائیاں اور اندازے وقت نے غلط ثابت کئے۔ بھارتی ...

میرا کشمیر چھوڑ دو!!!

وفا کے بدلے جفا کیوں!!! شیخ امین - منگل 02 فروری 2016

فروری کا مہینہ پاکستان میں کشمیریوں سے یک جہتی کا پیغام لے کر آتا ہے ۔پانچ فروری کو پاکستان میں کراچی سے خیبر تک اہل پاکستان کشمیری عوام اور تحریک آزادیٔ کشمیر سے یک جہتی کا اظہار جلسے جلوس کے ذریعے کرتے ہیں۔یہ سلسلہ 1990ء سے جاری ہے اور اس کی ابتداء قاضی حسین احمد مرحوم کی کال سے ہوئی تھی ۔اس کے بعد پاکستان میں اس دن کو سرکاری سطح پر منایا جانے لگا۔اس دن ریاست پاکستان،سیاسی جماعتیں اور عوام ،کشمیریوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ...

وفا کے بدلے جفا کیوں!!!