... loading ...

پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سرکاری سطح پر ہر یوم آزادی پر ایک روایتی جملہ کچھ اس طرح سنائی دیتا ہے کہ ملک بھر میں یوم آزادی روایتی جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے، یا منایاگیا۔ مگر بدقسمتی سے یوم آزادی کی اہمیت کا ادراک نہ ہونے کے باعث اس کے منائے جانے کا جذبہ بھی کچھ کچھ بالائے فہم ہی رہتا ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے یوم آزادی کے ساتھ ایک بدترین بدعت یہ وابستہ ہوگئی ہے کہ اب اِسےمنانے کی سرکاری سطح ذرائع سے باقاعدہ طور پر تحریک دی جاتی ہے۔اس کا ایک خطرناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یوم آزادی کے حوالے سے جو ذمہ داری سماجی سطح پر انفرادی اور اجتماعی دائروں میں متعین طور پیدا ہونی چاہئے تھی، وہ پیدا نہیں ہوسکی۔ یوم آزادی پر عوامی سطح پر ایک بے ساختہ جذبہ تو عام طور پر نظر آتا ہے، مگر اسے منانے کا انداز انتہائی پست اور پُرشور ہے۔
زیادہ وقت نہیں گزرا ، یوم آزادی کے موقع پر اسے ایک تربیت کا موقع سمجھا جاتا تھا اور تعلیمی اداروں سے لے کر مختلف فعال طبقات میں اسے مختلف النوع مذاکروں، مباحثوں ، مکالموں اور تقریروں میں ایک موضوعاتی فہم پیدا کرنے کا ذریعہ بنا یا جاتا تھا۔ تب اس دن کے حقیقی وارث اساتذہ،علماء ، دانشوراور ملک کے مخلصین ہوتے تھے۔ اب یہ دن منائے جانے سے لے کر منانے والوں تک ایک بدترین بدلاؤ کا شکار ہوچکا ہے۔یہ اب ایک طرح سے انتظامیہ کی مٹھی میں بند دن ہے۔ جس میں اسے بس دیواروں کو لیپنے پوٹنے اور جھنڈے جھنڈیاں لگانے کا موقع سمجھا جانے لگاہے۔ اب اس میں رنگوں کی بارش اور لائٹوں کا استعمال بھی ہونے لگا ہے۔ اس مرتبہ یہ دن پھلجڑیوں کے استعمال دھماکوں اور پٹاخوں کے ساتھ ہماری پرشور نفسیات کو بھی ظاہر کرنے لگا ہے۔ مگر ایک خوف ناک رجحان کا اندازا پہلی مرتبہ ہورہا ہے۔ جو اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا ،یا پھر جس کا اندازہ پہلے نہیں لگایا جاسکا۔
پاکستان میں دہشت گردی کے بدترین منظرنامے نے ریاستی اداروں کی ایک خاص اُپج بنا دی ہے اور وہ تھانوں اور دفتروں سے لے کر دیگر اداروں میں ایک خاص قسم کے مجرمانہ پس منظر کے حامل لوگوں کی سرپرستی کررہے ہیں ۔ جو دراصل ان کے لیے معلومات کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔یہ وہ نسل ہے جن کے کچھ جرائم سے پردہ پوشی کی جاتی ہے، اور اُنہیں سرکاری اداروں کی سرپرستی میں کچھ کھانے پینے یا کمانے وغیرہ کا موقع دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے اس یوم آزادی میں شورشرابے کے لیے پہلی مرتبہ اس نوع کی کھیپ کو میدان میں اُتارا گیا ہے جو مختلف گلی محلوں میں اس یوم آزادی کو محض نمائشی سرگرمیوں اور دکھاوے کے مختلف واقعات میں بدل رہے ہیں ۔ جس میں شورشرابہ ، ہلہ گلہ، ڈھول دھماکا اور گانا بجانا کا رجحان سب پر غالب ہے۔ بدقسمی سے پاکستان کے یوم آزادی کو اس پست ترین سطح کی سرگرمی میں بدل دیا گیا ہے۔جو ملک کے سنجیدہ فہمیدہ طبقوں کے لیے کوئی خوش کن واقعہ نہیں رہا۔ ملک میں کسی بھی سطح کی تربیت کا کوئی رجحان باقی نہیں رہا۔ اور یوم آزادی اس حقیقت کو پہلے سے زیادہ عریاں حالت میں بے نقاب کرتا ہے۔ جہاں تک یوم آزادی کی حوالے سے سالہاسال سے چلنے والے پروگرامات ہیں ، وہ اب مشینی انداز کی سرگرمی میں بدل گئے ہیں۔ جس میں روح کہیں غائب ہے۔ یہ مختلف قسم کے روایتی پروگرام اس کی افادیت کو نہیں بلکہ اس کے جمود کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...
ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...
فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...
خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...