... loading ...

امریکا کے معروف اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے جس نے ظاہر کیا کہ ملک کے صرف 9 فیصد عوام نے ابتدائی انتخابات میں، یعنی صدارتی امیدواروں کے انتخاب کے لیے، ہلیری کلنٹن یا ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیے ہیں۔ اس میں امریکا کے تمام شہری شامل ہیں، بچوں اور مجرموں سمیت – جن کو ووٹ کا حق تک حاصل نہیں ہے۔
اگر ہم صرف اہل ووٹرز کو گنیں تو بھی یہ تعداد بڑھ کر 14 فیصد تک پہنچتی ہے۔ یہ ٹرمپ اور کلنٹن کے مشترکہ ہیں، جس کا مطلب ہے کہ اگر الگ الگ امیدواروں کو دیکھاجائے تو یہ تعداد کہیں کم بنے گی۔
گو کہ یہ تعداد کافی کم لگتی ہے لیکن نیو یارک ٹائمز کہتا ہے کہ بنیادی ووٹرز کے رواں سال کے اعداد و شمار بالکل 2008ء کے پرائمریز جیسے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا میں ووٹرز کی ایک بہت معمولی تعداد اس رہنما کا انتخاب کرتی ہے جس نے بعد میں ملک سنبھالنا ہوتا ہے۔ لیکن یہ نئی بات نہیں ہے۔
امریکا ایک جمہوریت ہے جہاں پوری آبادی کی نمائندگی وہ افراد کرتے ہیں جنہیں علاقے سے منتخب کیا جاتا ہے۔ لیکن سیاست دان ان قوانین کو بنانے کا قانونی حق رکھنے کا دعویٰ کیسے رکھتے ہیں جو پوری آبادی کو متاثر کرتے ہیں حالانکہ انہیں صرف آبادی کے ایک حصے سے منتخب کیا ہوتا ہے؟
البتہ عام انتخابات میں ان ابتدائی انتخابات کے مقابلے میں ووٹرز کی زیادہ تعداد شریک ہوتی ہے۔ 2012ء کے انتخابات میں صدر براک اوباما کو 51.1 فیصد ووٹ نے منتخب کیا تھا جبکہ ان کے مقابلے میں مٹ رومنی نے 47.2 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ لیکن کل اہل ووٹرز کی صرف 57.5 فیصد تعداد نے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا یعنی کہ آبادی کے حساب سے دیکھیں تو براک اوباما نے 29 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
ایک طرف جہاں میڈیا منقسم رائے رکھنے والے ملک کی بات کرتا ہے کہ جہاں 50 فیصد لوگ ڈیموکریٹک پارٹی اور باقی نصف ری پبلکن پارٹی کے ساتھ ہیں، حقیقت زیادہ تشویش ناک ہے۔ امریکی حکومت کا انتخاب چند چند اہل ووٹرز کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں ہے یہ اقلیت کی حکومت ہے لیکن یہ مزید بدتر صورت اختیار کرتی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کا ایک حالیہ پول ظاہر کرتا ہے کہ سرگرم ووٹرز کی اکثریت درحقیقت اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم پر فخر نہیں کرتی بلکہ وہ دوسری پارٹی سے خوفزدہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں سیاست میں حریف کی مخالفت زیادہ بڑا محرک ہے۔ یہی رحجان 2016ء کے صدارتی انتخابات کی اب تک کی مہم پر غالب دکھائی دیا ہے۔
کیا ایسے انتخابات کو حقیقی عوامی رائے کا عکاس اور ایسے ملک کو حقیقی جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...
میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...
چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...
وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...
ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...
خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...
گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...
نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...
ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...
تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...
ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...
بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...