وجود

... loading ...

وجود

کیا عدالتی عمل ملک ریاض کا راستہ روک پائے گا؟

منگل 02 اگست 2016 کیا عدالتی عمل ملک ریاض کا راستہ روک پائے گا؟

بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض نے ملک بھر میں اپنے اثرورسوخ اور پیسوں کے جال سے ایک ایسا نظام بنا رکھا ہے کہ اُنہیں قانون ، عدالتیں اور حکومتیں کہیں پر بھی روک نہیں پاتیں ۔ اُن کے خلاف ہونے والی ہر عدالتی کارروائی دو چار قدم آگے بڑھ کر ہانپنے لگتی ہے۔ ملک ریاض نے ایک ایسا ہنر سیکھ لیا ہے کہ وہ بلیک میلنگ کا الزام بھی بلیک ملینگ کے لئے لگاتے ہیں ۔ وہ پاکستان کے روایتی سرکاری ڈھانچے کو اتنی اچھی طرح جانتے ہیں کہ جہاں چمک سے کام چلتا ہے، وہاں وہ اسے استعمال کرتے ہیں اور اگر کہیں “ایمانداری” منہ کا ذائقہ خراب کرنے کے لئے سامنےآتی ہے تو وہ کا مقابلہ بھی اتنی “ایمانداری” سے کرتے ہیں کہ سارے ایماندار عام لوگوں کی نظروں میں مشتبہ بن جاتے ہیں ۔ وہ جو دروازے ہاتھ سے کھلتے ہیں ، اُسے ہاتھ سے کھولتے ہیں اور جو سرکاری یا نجی دروازے لات سے کھلتے ہیں اُسے لات مار کے کھولتے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ ڈھانچہ جس قسم کے لوگ پیدا کرسکتا ہے، ریاض ملک اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ جن کے خلاف ایک بار پھر عدالتی کارروائی حرکت میں ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ایم ڈی اے (ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی) کی جانب سے متعین کردہ (الاٹ) زمین پر بحریہ ٹاؤن کو ہر قسم کی تعمیراتی سرگرمیوں سے روک دیا ہے۔ اور نیب کو دو ماہ میں معاملے کی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت عظمیٰ کی کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایم ڈی اے کی جانب سے 43 دیہہ کی سرکاری زمین کو غیر قانونی طریقے سے الاٹ کرنے اور ان کی ایڈجسٹمنٹ کے خلاف دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کی ہے۔ واضح رہے کہ ایم ڈی اے پر بحریہ ٹاؤن کو غیر قانونی سرکاری زمین الاٹ کرنے کے الزام ہے۔ٹول پلازہ سے نو کلومیٹ دور کراچی حیدرآباد سپرہائی سے پر زیر تعمیر بحریہ ٹاؤن کا منصوبہ بھی اِسی تنازع کی زد میں آتا ہے۔

ملک کے سارے سرکاری ادارے ملک ریاض کے ایک خدمتگار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اور اُنہیں کوئی بھی قدم اُٹھاتے ہوئے کہیں سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا، گستاخی معاف! عدالتوں سے بھی نہیں

بحریہ ٹاؤن میں نیب کے پراسیکوٹر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ پاکستان میں قانون وانصاف کا مزاق اڑاتی ہے۔ اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملک ریاض ملک کے تمام اداروں سے کتنے زیادہ مضبوط ہیں اور قانون وانصاف اور حکومت سمیت تمام سرکاری اداروں کو کس طرح اپنے جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

تفصیلا ت کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کو مجموعی طور پر 9 ہزار 185ء385 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی ہے۔ جس میں سے وہ 276ء386 ایکڑ رقبے پر اپنی تعمیرات مکمل کر چکا ہے۔ حیرت انگیز طور پر بحریہ ٹاؤن نے اس میں سے اُس زمین پر بھی اپنا کام مکمل کر لیا ہے جس کی ریکارڈ سازی کا کام تاحال ایم ڈی اے نے ابھی تک مکمل بھی نہیں کیا۔ ایم ڈی اے کی جانب سے ریکارڈ سازی نہ ہونے کے باوجود بحریہ ٹاؤن نے اس پر اپنی تعمیرات مکمل کرلی ہے یا تعمیرات شروع کررکھی ہے اُس کا رقبہ مجموعی طور پر دو ہزار 79ء771ایکڑ بنتا ہے۔یہ سب کچھ ایک مزاق لگتا ہے۔مگر اس لیے حقیقت ہے کہ ملک کے سارے سرکاری ادارے ملک ریاض کے ایک خدمتگار کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اور اُنہیں کوئی بھی قدم اُٹھاتے ہوئے کہیں سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا، گستاخی معاف! عدالتوں سے بھی نہیں۔

اس سے بھی کہی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایم ڈی اے نے ملک ریاض کے منصوبے کی راہ میں رکاؤٹ بننے والے نجی زمین کے ٹکڑوں کو بھی سرکاری زمین میں منتقل کرکے بعد ازاں اسے بحریہ ٹاؤن کے سپرد کردیا ہے۔ واضح رہے کہ اس عمل میں مجرمانہ طور پر منظور کاکا اور آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی خاصے سرگرم عمل رہے تھے۔ عدالت عظمی کے دورکنی بینچ نے اب چیف سیکریٹری سندھ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیواور ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے اس بابت پوچھا ہے کہ ایم ڈی اے کو کس قانون کے تحت یہ اختیار ملا تھا کہ وہ نجی زمین کو سرکاری زمین میں منتقل کرتی۔ حیرت انگیز طور پرا س میں راہداری کے لیے مختص زمینوں کو بھی نگل لیا گیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے دورکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جو احکامات دیئے ہیں، وہ اس مقدمے میں انصاف کےتقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔مثلاً

٭عدالت نے نشان زد زمین پر کسی بھی قسم کی تعمیرات روکنے کا حکم دیا ہے۔

٭ایم ڈی اے کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ نجی زمین کا مزید کوئی بھی حصہ بحریہ ٹاؤن یا کسی بھی نجی کمپنی کو الاٹ نہ کرے۔

٭بورڈ آف ریونیو کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایم ڈی اے یا اس مقدمے میں کسی بھی طرح سے شامل ذمہ داران سے کسی بھی نوع کی زمینوں کا لین دین نہ کرے۔

٭عدالت نے نشان زد زمینوں پر مزید ترقیاتی وتعمیراتی کاموں کو روکنے کے لیے نیب حکام کوحکم دیا کہ وہ جلد از جلد سروے رپورٹ میں بحریہ ٹاؤن کے زیرقبضہ دکھائی گئی زمین کے نقشے اور تصاویر گوگل ارتھ سے حاصل کرکے عدالت میں پیش کرے۔

بحریہ ٹاؤن کے اس منصوبے پر عدالت عظمیٰ کے یہ احکامات پاکستانی ذرائع ابلاغ میں مناسب توجہ نہیں پاسکے۔ اور اُسے صرف انگریزی روزنامہ ڈان نے جائز کوریج دی۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کایہ رویہ ناقابل فہم نہیں۔ پاکستان کے مرکزی ذرائع ابلاغ مکمل طور پر سرمایہ کار کارپوریشن کے رہین منت ہیں ۔ اور وہ مفادات کے اس کھیل میں جرائم کےشراکت دار بن چکے ہیں۔ اس لیے وہ ملک ریاض یا اس نوع کے دیگر کاروباری اداروں کے خلاف ملک میں ہونے والے فیصلوں کی مناسب کوریج نہیں کرتے ۔اس طرح یہ سرکاری ادارے بھی مناسب پزیرائی نہ ملنے کے باعث اُس دباؤ کو سہہ نہیں پاتے جو اُنہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ مختلف ذرائع سے سہنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ حرص اور ترغیبات کو پھر انصاف یا قانون کی بالادستی پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک گھن چکر بن چکا ہے جس نے ملک بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اس کا اندازا اس امر سے لگائیں کہ ملک ریاض اپنے رہائشی منصوبوں کی ہمیشہ سے فروخت میں اُس سے کہیں زیادہ فائلیں فروخت کراتے ہیں جتنی کہ اُس منصوبے پر دستیاب پلاٹوں کی بنتی ہیں۔ پھر وہ ان مہنگی فروخت ہونے والی فائلوں کو اپنے ہی لوگوں کے ذریعے تب خریدلیتے ہیں جب اُن کےخلاف قانون عارضی طور پر حرکت میں آتا ہے۔ عام خریدار اُ ن کے منصوبے کے خلاف عدالتی کارروائیوں میں رقم ڈوبنے کے خطرے سے مہنگی خریدی گئی فائلیں ، جلدی جلدی میں سستی فروخت کردیتے ہیں۔ اور یوں اپنے خلاف یہ عدالتی کارروائیوں کو بھی نفع بخش بنا لیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ کا حالیہ فیصلہ بحریہ ٹاؤن کے خلاف کوئی مختلف نتیجہ پیدا کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ کیونکہ اس قسم کے معاملات میں اصل سوال عدالتی کارروائیوں کے آغاز کا نہیں بلکہ اُن نتائج کا ہے جو اس کے انجام میں پیدا ہوتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر