... loading ...

پاکستان میں سب کی خبریں دینے والے میر شکیل الرحمان گزشتہ رات سے سب سے بڑی خبر بن چکے ہیں ،مگر پاکستانی ذرائع ابلاغ اس کی خبر رکھتے ہوئے بھی بے خبر بنا رہا ہے۔ میر شکیل الرحمان کے اخبارات اور ٹی وی جو عہدفراعنہ سے بھی کمتر اخلاقیات کے حامل ہیں اور ملک بھر میں اپنے دشمنوں کو زمین سےاکھاڑنے ، رزق سے محروم کرنے اور اُن کے بیٹوں اور بیٹیوں تک کو ناجائز اور غلط خبروں کے ذریعے دباؤ میں لانے کی بدترین اور شرمناک تاریخ رکھتے ہیں۔ اب ایک ایسے ہی واقعے میں قدرت کی سخت ترین گرفت اور تنبیہ کے نرغے میں ہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ 29 اور 30 جولائی کی شب تقریباً سوابارہ بجے میر شکیل الرحمان کا بیٹا میر اسحق دبئی کی سڑکوں پر کرائے کی مرسڈیزچلارہا تھا۔ مگر وہ کرائے کی عدم ادائی کا مرتکب تھا۔ چنانچہ کرائے کی گاڑیاں مہیا کرنے والی کمپنی نے میر شکیل الرحمان کے بیٹے میر اسحٰق کے خلاف ایک شکایت نمبر 2016/18063 درج کرائی جس کے تحت میر اسحٰق 16ہزار 7 اماراتی درہم جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 4 لاکھ 64 ہزار روپے بنتے ہیں ، کا نادہندہ تھا۔ جس پر دبئی پولیس نے اُسے گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے باعث میر اسحٰق ہفتے کی صبح دبئی ائیرپورٹ سے کراچی کے لیے اپنی طے شدہ پرواز ای کے 600 لینے سے قاصر رہا۔ میر اسحٰق کو ہفتہ وار تعطیل کے باعث رات تھانے میں ہی گزارنی پڑی۔ بظاہر یہ ایک واقعہ ہے ، مگر اس میں بہت سے سبق پوشیدہ ہیں ۔
اس واقعے نے پاکستانی صحافت کا مکروہ ترین چہرہ پوری طرح عریاں کردیا ہے۔ یہ واقعہ دراصل ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں آزادی اظہار نام کی کوئی شے سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی ،یہ دراصل ایک طلسماتی دھوکا ہے۔ تمام پاکستانی ذرائع ابلاغ اس واقعے سے پوری طرح واقف تھے، مگر اپنے ذرائع ابلاغ میں سب کی پگڑی اچھالنے والے جنگ گروپ کے خلاف کوئی بھی دوسرا ابلاغی گروپ لب کشائی کو تیار ہی نہیں تھا۔یوں لگتا ہے کہ سب کی زبانوں کو لقوہ ہو چکا ہے۔پاکستان کے اینکر مافیا، کالم نگاراور دانشور چپ کاروزہ رکھ کر صحافت کے اس سیٹھ سے مستقبل میں نوکری کی آس لگا ئے دبکے رہے۔ اس مسئلے کو سوال بنا کر صرف ڈاکٹر معید پیر زادہ نے اپنے پروگرام میں میر شکیل الرحمان کا نام لیے بغیر نمایاں کرنے کی ہمت دکھائی۔ (ویڈیو دیکھی جاسکتی ہے۔)
اس واقعے کا ایک دوسرا سبق میر شکیل الرحمان ایسے تمام طاقت ور لوگوں کے لیے ہیں جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر یہ سبق فراموش کرگئے ہیں کہ دنیا دھوکے کا گھر ہے۔ اور یہاں ہر کمال کوزوال ہے۔ صرف انصاف اور حق کو دوام ہے۔ میر شکیل الرحمان نے اپنی مکروہ صحافت کو “مہذب” بلیک میلنگ کا ہتھیار اور طاقت ور لوگوں کو اپنا حاشیہ بردار بنانے کے لیے استعمال کیا ۔ اپنے اس زعم باطل میں وہ خود کو ملک میں بادشاہ گر سمجھنے کی اضافی خود فریبی میں بھی مبتلا ہو گئے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح کے واقعات قدرت کی طرف سے ایک امتحان اور تنبیہ کا کام کرتے ہیں۔ یہ دراصل انسانوں کے لیے ایک سبق ہوتے ہیں کہ وہ قدرت کی دراز کی گئی رسی کو اپنی طاقت سمجھ کر اِتراتے تو نہیں پھرتے؟
یہ واقعہ ان امراء کو یہ سبق بھی دیتا ہے کہ اُن کی اولاد کسی بھی نوع کی اخلاقی تربیت سے کیوں محروم رہتی ہیں ؟ ہمیں امراء کے گھروں میں ایسی اولادیں کیوں ملتی ہیں جو دولت کی بے پناہ ہوس میں آوارہ اور اپنے کردار میں آلودہ ہو جاتے ہیں؟ آخر وہ اپنی دولت سے ایسی اجتماعی سرگرمیاں کیوں جنم دینے کے محرک نہیں بنتے جو معاشرے میں اخلاقی نتائج پیدا کرسکیں۔ اگر والدین اپنے بچوں کو دولت کے پنگھوڑے میں حرص وہوس کی لوریاں سنائیں گے تو بچے وحشت کی دھمال اور آوارگی کی مثال بن کر ہی سامنے آئیں گے۔ قرآن پاک نے ایسے لوگوں کو “مترفین “کی اصطلاح سے پکارا ہے۔ اور امام غزالی ؒ نے ایسے لوگوں کو یہ زبردست تنبیہ کی ہے کہ جس گھر میں “ناجائز”دولت ایک گھر سے آتی ہے ، اُس گھر کے دوسرے دروازے سے شرم وحیا رخصت ہو جاتی ہے۔
میر شکیل الرحمان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کائنات کا خالق ایام کے اُلٹ پھیر میں زوال کو عروج اور عروج کو زوال آشنا کردیتا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ ہے مگر یہ پاکستان کی سب سے بڑی صحافتی طاقت کو دوروز کے لیے کتنا اپاہج بنا گیا۔ اور اُسے نفسیاتی طور پر کس تحت الثریٰ میں دھکیل گیا ہے۔ میر شکیل الرحمان صاحب یہ کوئی خوشی کی بات نہیں اور یہ بھی نہیں کہ آپ کے ذرائع ابلاغ میں آپ کے حریفوں کی پگڑیاں ناجائز اچھلتی رہیں۔
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...
پہلی منزل کی تلاش مکمل، دوسری منزل پر لوگوں کی تلاش جاری تھی کہ اس دوران دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں،غلطی ہوگئی ہو تو معاف کردینا' گل پلازہ میں پھنسے دکاندار کا آخ...
اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی ہی تقریر میں ایوان کو مضبوط بنانے کا مطالبہ، حکومت کا مشروط ساتھ دینے کا عندیہ دے دیا، ہمیں اپنی چادر چار دیواری کا تحفظ کرنا ہوگا بھارت نے پارلیمان کو مضبوط کیا وہ کہاں سے کہاں چلے گئے، ہم نے جمہوریت کو کمزور کیا تو کہاں پہنچ گئے، وینزو...
گل پلازہ واقعے کے بعد ریسکیو کا کام اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آگ کس وجہ سے لگی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ریسکیو گل پلازہ کو آگ ...
واقعے کی تحقیقات کروائی جائیں، ذمے داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے، اپوزیشن لیڈر یہاں سیکڑوں شہری قتل ہورہے ہیں کسی نے اپنا ناشتہ تک نہیں چھوڑا، سیمینار سے خطاب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ گل پلازا میں آگ لگی، کیوں باہر نکلنے کا راستہ نہیں تھا؟ ...
عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے، لاپتا افراد میں خواتین اور بچے شامل، 30 افراد زخمی،18 کی حالت تشویش ناک، گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں،چیف فائر آفیسر ایک ہزار سے زائد دکانیں شدید متاثر ، آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا،فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے ح...
حکومت ڈنڈے کے زور پر بلڈنگ سیفٹی کے قوانین نافذ نہیں کرواسکتی، صوبائی وزیر اس حادثے سے ہم نے سبق سیکھا ہے، حکومت ذمہ داری ادا کرے گی،سعید غنی کی گفتگو سندھ حکومت نے گل پلازہ آتشزدگی کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ...