وجود

... loading ...

وجود

بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس نہتے کشمیریوں کو بلا جواز قتل کررہی ہے ! ریاستی پولیس افسر کا انکشاف

اتوار 17 جولائی 2016 بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس نہتے کشمیریوں کو بلا جواز قتل کررہی ہے ! ریاستی پولیس افسر کا انکشاف

Kashmir-Violence

بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکار نہتے کشمیری عوام کی عزت کو پامال کرنے،عمر بھر کیلئے معذور بنانے اور انہیں قتل کرنے کا شوق پورا کررہے ہیں۔ ان با توں کا انکشا ف ریاستی پولیس کے ایک افسر محمد اشرف پال انچارج پولیس پوسٹ سنگم کشمیر نے سری نگر کی ایک معروف نیوز ایجنسی “سی این ایس”سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اشرف پال نے کہا سی آر پی ایف اہلکاروں نے سنگم علا قے میں خواتین سے دست درازی کی کوشش کی،بغیر کسی وجہ کے پرائیویٹ گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور نہتے لوگوں مار پٹائی کی۔ ہمارے پولیس جوانوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو ان پر بھی ہلہ بول دیا اور انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔

پولیس افسر نے کہا کہ سی آر پی ایف کی 90بٹالین نے ایک جواں سال لڑکی سے دست درازی کی کوشش کی جو اپنی بیمار ماں اور بھائی کے ساتھ جارہی تھی۔ اس موقع پر ہمارے پولیس کے جوانوں نے اس خاتون کو بچایا تاہم اس پر مشتعل اہلکاروں نے پولیس پارٹی پر ہلہ بول دیا اور پولیس اہلکاروں کی پٹائی کی اور مارنے کی دھمکیاں دیں۔ان اہلکاروں نے ہر حد عبور کی، ہمارے سر شرم سے جھک گئے۔ وہ ہمیں عمر بھر کیلئے معذور کرنا چا ہتے تھے تاہم ہم نے صبر اور حوصلے کے ساتھ ماں، بیٹی اور بیٹے کو ان کے چنگل سے نکالا۔ اشرف پال نے مزید کہا کہ بغیر کسی وجہ کے یہ اہلکار عام گاڑیوں کو روکتے اور ان میں سوار خواتین سے بد تمیزی اور مرد وں کوگھسیٹ کر باہر نکالتے، اور ان کی پٹائی کرتے ہیں۔ پولیس افسرنے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ پولیس تھانے کے پاس موجود عام لوگوں کے موٹر سائیکلوں کو سی آر پی ایف کے اہلکار، دریا جہلم میں پھینکتے رہے۔ یہ لوگ کسی قانون کو اہمیت نہیں دیتے، اور اس طرح کے طریقہ کار سے امن نہیں بلکہ حالات بہت زیادہ خراب ہونگے۔ادھر بھارت نواز نیشنل کا نفرنس کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ نے بھی بھارتی فورسز کی بد ترین انسانی خلاف ورزیوں کو فوراََ روکنے کا مطا لبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں پر پوری عالم انسانیت نالاں ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، جو اس وقت لندن میں علاج معالجہ کے سلسلے میں قیام پزیر ہیں، نے وہاں سے اپنے ایک بیان میں وادی میں لگاتار نوجوانوں کی ہلاکتوں پر زبردست رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے لگام اور بے قابو فورسز کو قابو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا بے تحاشہ استعمال اور اہل کشمیر پر ظلم و ستم اور مار دھاڑ کا سلسلہ بند کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس، بی جے پی اور پی ڈی پی کشمیری عوام کے بدترین دشمن ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کشمیر میں گجرات اور ترکمان گیٹ جیسے واقعات دہرائے جارہے ہیں۔

اس دوران وادی میں8ویں روز بھی ہڑتال،کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جبکہ کپوارہ میں پولیس چوکی پر سنگبازی کے بعد فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان جان بحق ہوا۔تازہ شہادت کے بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جان بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 44 تک پہنچ گئی ہے۔واضح رہے کہ زخمیوں کی تعداد 2,500 سے متجاوز کرگئی ہے۔ادھر سرینگر سمیت وادی کے جنوب و شمال میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور پیلٹس کا استعمال کیا۔ حزب کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد کپوارہ سے کشتواڑ تک احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔ترال میں کشیدہ صورت حال کے بعد کئی پولیس تھانوں پر مظاہرین کے حملوں اور اسلحہ چھیننے کے واقعات کے بعد ترال میں اقلیتی فرقوں اور کئی زیارت گاہوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو ہٹا لیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے ترال سے نمائندہ سید اعجاز کے مطابق کنگہ لورہ،نہر کھاسی پورہ،چھتروگام،کے علاوہ دیگر مقامات کے ساتھ ساتھ کئی زیارت گاہوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو ہٹالیا گیا ہے۔نمائندے کے مطابق ان علاقوں میں رہائش پذیر اقلیتی طبقے کا کہنا ہے کہ دوران شب ہی ان پولیس کو ہٹایا گیا ہے اور وادی میں پہلی بار اس طرح کے اقدامات اٹھا ئے گے ہیں جہاں نا مساعدحالات کے دوران اقلیتی فرقوں کی حفاظت کے لئے تعینات اہلکاروں کو اچانک ہٹایا گیا۔اس دوران آٹھ ویں روز بھی احتجاجی بھی ہڑتال اور اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا جس کی وجہ سے، کاروباری و تجارتی مرکز بند رہے جبکہ نجی و سرکاری دفاتر کے علاوہ اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ انٹرنیٹ سروس اور موبا ئل سروس بند بھی بند کردئیے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر