... loading ...

ترکی میں فوج کے ایک ٹولے کی ناکام بغاوت کے بعد یہ بات منکشف ہو رہی ہے کہ ترکی کے منتخب جمہوری نظام کو اُتھل پتھل کرنے والے فوجی دراصل فتح اللہ گولن سے متاثر تھے۔ فتح اللہ گولن ایک ترک مبلغ اور گولن تحریک کے بانی ہیں۔ جو ترکی میں تحریک خذمت (خدمت) کے نام سے معروف جماعت ہے۔ فتح اللہ گولن ترکی کی ایک انتہائی متنازع شخصیت کا روپ دھار رہے ہیں۔ وہ 1999 سے امریکی ریاست پنسلوینیا کے ایک شہر سیلرزبرگ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
فتح اللہ گولن 27 اپریل 1941 میں اناطولیہ میں واقع ایک چھوٹی سی بستی کوروجک میں پیدا ہوئے جو صوبہ ارضروم کے شہر’حسن قلعہ‘کاایک نواحی علاقہ ہے، جہاں سال کے نوماہ موسم سرما رہتاہے۔
فتح اللہ گولن پر ایک طویل عرصے سے یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ ملک میں اپنا اثرورسوخ حکومت مخالف تحریک کو وسیع کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ فتح اللہ گولن ایک مسلم عالم دین بدیع الزماں کے حنفی فقہ کی اناطولوی شاخ کے مطابق خود کو اسلام کا مبلغ قراردیتے ہیں۔ مگر ماہرین کا خیال ہے کہ اُن کے خیالات اس شاخ سے بھی خاصے دور ہوتے جارہے ہیں۔فتح اللہ گولن کے مطابق وہ سائنس، بین المذاہب مکالمہ اور اہل کتاب کے درمیان مذکرات کے حامی ہیں جبکہ سیاسی طور پر وہ متنوع جماعتی جمہوریت کا خود کو قائل بتاتے ہیں۔ وہ پاپائیت کے حامیوں اور یہودی جماعتوں سے مکالمے کے نام پر ایک طویل سلسلہ روابط رکھتے ہیں۔ فتح اللہ گولن کی ان سرگرمیوں پر ترکی کے ایک بڑے طبقے میں وہ مشکوک سمجھے جاتے ہیں مگر مغربی حلقے اُنہیں اپنا پسندیدہ اور برداشت کے حامل اور ایثار کے قائل مسلم مبلغ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
فتح اللہ گولن ایک طویل عرصے سے ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف بروئے کار ہیں۔ اس دوران میں ترک حکومت کی طرف سے فتح اللہ گولن کو ترکی واپس آنے اور معاملات سلجھانے کی دعوت بھی دی گئی، مگر وہ مسلسل حکومت کے خلاف فعال رہے۔ وہ 2013 میں اردوان کے قریبی وزراء کی بدعنوانیوں کے اسکینڈلز کو اچھالنے اور اُسے حکومت کے خلاف محاذ آرائی میں تبدیل کردینے کے ذمہ دار بھی رہے ہیں۔ فتح اللہ گولن کے خلاف دسمبر 2014 میں ترکی میں ایک پروانہ گرفتاری بھی جاری ہو چکا ہے۔ ترکی کے وزیراعظم کے طور پر رجب طیب اردوان نے پہلی مرتبہ فروری 2014 میں فتح اللہ گولن کو ایک عوامی اجتماع میں براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ترکی واپس آجائیں اور ملکی سلامتی کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے اجتناب کریں۔ مگر فتح اللہ گولن نے ایسی تمام پیشکشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ترک حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
ترکی کے ایک سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے فروری 2015 میں ترکی کے ذرائع ابلاغ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی میں ذرائع ابلاغ مکمل طور پر آزاد ہیں، ترکی میں سات ہزار کے قریب اخبارات اور چار سوکے قریب قومی و علاقائی ٹی وی چینلز ہیں جو حکومت پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ ترکی میں پانچ بڑے اخبارات ہیں جن میں سے چار حکومت مخالف ہیں مگر کچھ مفاد پرست عناصر ذرائع ابلاغ کے روپ میں حکومت کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں، کسی بھی گروپ کو حکومت کے متوازی نظام بنا کر ملک کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی تنقید کی جا سکتی ہے۔ ترک وزیر اعظم نے اُس موقع پر فتح اللہ گولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ترکی کا امیج دنیا بھر میں بگاڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ فتح اللہ گولن کے ہم خیال ذرائع ابلاغ کے لوگ ترکی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ترک وزیر اعظم نے تب دلچسپ طور پر فتح اللہ گولن اور طاہر القادری میں دلچسپ مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب کی آڑ میں سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانا قابل مذمت ہے۔
امریکی بحریہ میرے حکم پر عمل میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ دکھائے، امریکاکی اجازت کے بغیر کوئی جہاز آسکتا ہے نہ جاسکتا ہے، ایران کے معاہدہ کرنے تک آبنائے ہرمز مکمل بند،سخت ناکابندی جاری رہے گی کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم، اس معاملے میں کوئی تاخیر یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی،...
ایشیائی ترقیاتی بینک کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم نے یہ قدم اٹھایا،شرجیل میمن حکومت اس کوریڈور کو جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہے،سینئروزیرکی خصوصی گفتگو سندھ کے سینئروزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 48 گھنٹے میں ریڈلائن منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خصوصی گفتگو کرتے ...
ملائشیا سے بھتا گینگ آپریٹ کرنیوالے 3سرغنوں کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری ہوچکے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے،صنعت کاروں سے خطاب آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ایران میں موجود صمد کاٹھیاواڑی سمیت ملائشیا سے بھتہ گینگ آپریٹ کرنے والے 3سرغنوں...
چیف آف ڈیفنس فورسزمذاکرات کو ٹوٹنے سے بچانے اور رابطہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں، فنانشل ٹائمز دونوں ممالک میں اعتماد کی کمی، پابندیوں ،فوجی کشیدگی کے باعث امن مذاکرات مشکل صورتحال کا شکار ہیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا ایران مذاکرات کو مکمل طور پر ٹوٹنے سے...
بلاول کی سیاست محض دعوؤں تک محدود ہے، ریڈ لائن منصوبہ عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے پاکستانی سفارتی کوششیں قابل ستائش،آبنائے ہرمز کا گھیراؤ ختم کیے بغیر معاہدہ ممکن نہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ایران و امریکہ مذاکرات کے حوالے سے ایران کے مؤقف...
اسرائیلی فوج کیجنوبی لبنان کے قصبے ال خیام سمیت مختلف علاقوں میں منظم بمباری توپ خانے کا استعمال، رہائشی عمارتیںبلڈوزر کے ذریعے مسمار ، مساجد کو بھی نشانہ بنایا صیہونی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنوبی لبنان پر حملہ کرکے صحافی سمیت 5 افراد کو موت کی وادی ...
ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے،جنگ بندی کو اس وقت تک بڑھایا جا رہا ہے جب تک ایران اپنی تجاویز پیش نہیں کر دیتا،فوج کو ہدایت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں،امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب...
غیر تسلی بخش کارکردگی اور عالمی معیار کی خلاف ورزی پر کنٹریکٹرز کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کارروائی شہریوں کو درپیش شدید مشکلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحفظات کے بعد عمل میں لائی گئی سندھ حکومت نے بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا ٹھیکہ منسوخ کر دیا اور کہا حکومت ا...
فروخت میں ملوث ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیجز کیخلاف کریک ڈاؤن جنسی صحت، وزن میں کمی، ذہنی امراض ادویات کی آن لائن فروخت غیر قانونی قرار پی ٹی اے نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ادویات کی آن لائن تشہیر اور غیر قانونی فروخت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لے لیا۔غیر رجسٹرڈ ادویات ک...
جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار، حکومت کی سخت الفاظ میں مذمت شہری دریائے لیطانی، وادی السلوقی اور السلھانی کے علاقوں سے دور رہیں لبنان کے جنوبی علاقے میں ایک چلتی ہوئی کار پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جسے حکومت نے جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے...
امریکی افواج بے تاب ، گن لوڈڈ ہیں،حکم ملتے ہی ایران پر حملہ کردیں گی، مجھے یقین ہے ایران کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ،ہمارے پاس بہت زیادہ اسلحہ اور وسائل موجود ہیں پوری امید ہے ایران کے ساتھ جنگ ایک عظیم ڈیل پر ختم ہوگی،2 ہفتوں کی جنگ بندی کو اپنی تیاری بڑھانے ...
ثالثی کی کوششوںسے حکمرانوں کو ملنے والا عروج عارضی ہے، موجودہ حالات عالمی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں، اگر یہ صورتحال جاری رہی تو دوسری بڑی طاقتیں جنگ کا حصہ بن جائیں گی خلیجی ممالک کو سمجھنا ہوگا امریکی اڈے اُن کے لیے نقصان کا باعث ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہو رہی ہے ا ور نہ ہی اکاؤن...