وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

فوج کے باغی ٹولے کو متاثر کرنے والے فتح اللہ گولن کون ہیں؟

هفته 16 جولائی 2016 فوج کے باغی ٹولے کو متاثر کرنے والے فتح اللہ گولن کون ہیں؟

fethullah-gulen

ترکی میں فوج کے ایک ٹولے کی ناکام بغاوت کے بعد یہ بات منکشف ہو رہی ہے کہ ترکی کے منتخب جمہوری نظام کو اُتھل پتھل کرنے والے فوجی دراصل فتح اللہ گولن سے متاثر تھے۔ فتح اللہ گولن ایک ترک مبلغ اور گولن تحریک کے بانی ہیں۔ جو ترکی میں تحریک خذمت (خدمت) کے نام سے معروف جماعت ہے۔ فتح اللہ گولن ترکی کی ایک انتہائی متنازع شخصیت کا روپ دھار رہے ہیں۔ وہ 1999 سے امریکی ریاست پنسلوینیا کے ایک شہر سیلرزبرگ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

فتح اللہ گولن 27 اپریل 1941 میں اناطولیہ میں واقع ایک چھوٹی سی بستی کوروجک میں پیدا ہوئے جو صوبہ ارضروم کے شہر’حسن قلعہ‘کاایک نواحی علاقہ ہے، جہاں سال کے نوماہ موسم سرما رہتاہے۔

فتح اللہ گولن پر ایک طویل عرصے سے یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ ملک میں اپنا اثرورسوخ حکومت مخالف تحریک کو وسیع کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ فتح اللہ گولن ایک مسلم عالم دین بدیع الزماں کے حنفی فقہ کی اناطولوی شاخ کے مطابق خود کو اسلام کا مبلغ قراردیتے ہیں۔ مگر ماہرین کا خیال ہے کہ اُن کے خیالات اس شاخ سے بھی خاصے دور ہوتے جارہے ہیں۔فتح اللہ گولن کے مطابق وہ سائنس، بین المذاہب مکالمہ اور اہل کتاب کے درمیان مذکرات کے حامی ہیں جبکہ سیاسی طور پر وہ متنوع جماعتی جمہوریت کا خود کو قائل بتاتے ہیں۔ وہ پاپائیت کے حامیوں اور یہودی جماعتوں سے مکالمے کے نام پر ایک طویل سلسلہ روابط رکھتے ہیں۔ فتح اللہ گولن کی ان سرگرمیوں پر ترکی کے ایک بڑے طبقے میں وہ مشکوک سمجھے جاتے ہیں مگر مغربی حلقے اُنہیں اپنا پسندیدہ اور برداشت کے حامل اور ایثار کے قائل مسلم مبلغ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

فتح اللہ گولن ایک طویل عرصے سے ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف بروئے کار ہیں۔ اس دوران میں ترک حکومت کی طرف سے فتح اللہ گولن کو ترکی واپس آنے اور معاملات سلجھانے کی دعوت بھی دی گئی، مگر وہ مسلسل حکومت کے خلاف فعال رہے۔ وہ 2013 میں اردوان کے قریبی وزراء کی بدعنوانیوں کے اسکینڈلز کو اچھالنے اور اُسے حکومت کے خلاف محاذ آرائی میں تبدیل کردینے کے ذمہ دار بھی رہے ہیں۔ فتح اللہ گولن کے خلاف دسمبر 2014 میں ترکی میں ایک پروانہ گرفتاری بھی جاری ہو چکا ہے۔ ترکی کے وزیراعظم کے طور پر رجب طیب اردوان نے پہلی مرتبہ فروری 2014 میں فتح اللہ گولن کو ایک عوامی اجتماع میں براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ترکی واپس آجائیں اور ملکی سلامتی کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات سے اجتناب کریں۔ مگر فتح اللہ گولن نے ایسی تمام پیشکشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ترک حکومت کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

ترکی کے ایک سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے فروری 2015 میں ترکی کے ذرائع ابلاغ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی میں ذرائع ابلاغ مکمل طور پر آزاد ہیں، ترکی میں سات ہزار کے قریب اخبارات اور چار سوکے قریب قومی و علاقائی ٹی وی چینلز ہیں جو حکومت پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔ ترکی میں پانچ بڑے اخبارات ہیں جن میں سے چار حکومت مخالف ہیں مگر کچھ مفاد پرست عناصر ذرائع ابلاغ کے روپ میں حکومت کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں، کسی بھی گروپ کو حکومت کے متوازی نظام بنا کر ملک کے خلاف کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی تنقید کی جا سکتی ہے۔ ترک وزیر اعظم نے اُس موقع پر فتح اللہ گولن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ترکی کا امیج دنیا بھر میں بگاڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ فتح اللہ گولن کے ہم خیال ذرائع ابلاغ کے لوگ ترکی کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ترک وزیر اعظم نے تب دلچسپ طور پر فتح اللہ گولن اور طاہر القادری میں دلچسپ مماثلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذہب کی آڑ میں سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانا قابل مذمت ہے۔


متعلقہ خبریں


خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں وجود - بدھ 05 اگست 2020

الحرمین الشریفین کے انتظامی امور کی ذمہ دار جنرل پریذیڈنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خطبہ حج کا مختلف زبانوں میں براہ راست اور فوری ترجمہ پروگرام کامیابی کے ساتھ اپنی منزلیں طے کر رہا ہے ۔ تین سال پیشتر شروع کیے گئے اس پروگرام میں رواں سال 10 زبانوں میں میدان عرفات سے خطبہ حج براہ راست پیش کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ رواںسال کرونا وبا کی وجہ سے حج متاثر ہوا مگر اس کے باوجود میدان عرفات سے خطبہ حج کے ترجمہ پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ترجمہ پروگرام کو پوری ...

خطبہ حج کے فوری ترجمہ پروگرام کو 22 ملین زائرین وزٹ کرچکے ہیں

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی وجود - بدھ 05 اگست 2020

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے ۔روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی...

روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کر لی

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش وجود - هفته 01 اگست 2020

بنگلہ دیش کی ''کوئی دشمن نہیں''کی ڈپلومیسی کے باعث پاکستان سے تعلقات بہتر ہورہے ہیں اور اس قربت پر بھارت میں ہونے والے تبصروں پر بنگلہ دیشن کے وزیر خارجہ عبدالمومن نے کہا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں ، کسی کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کا حق نہیں ۔ ترک خبر ایجنسی کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیشی رہنمائوں کے درمیان حالیہ رابطوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی موہوم سی امید پیدا ہو چلی ہے ۔مبصرین کے مطابق دسمبر 1971 میں انتہائی خون خرابے کے بعد زوا...

بھارتی ذرائع ابلاغ کے تبصرے بیمار ذہنیت کی نشانی ہیں 'بنگلہ دیش

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا وجود - هفته 01 اگست 2020

مصر میں القرآن چینل پر نماز مغرب کی اذان وقت سے پہلے دیے جانے کے نتیجے میں لاکھوں روزہ دار روز توڑ بیٹھے ۔عرب ٹی وی کے مطابق یوم عرفہ کو مغرب کی اذان وقت مقررہ سے 4 منٹ قبل دے دی گئی جسے سنتے ہی لاکھوں افراد نے نفلی روزہ کھول دیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے ٹی وی چینل کے عہدیداروں کو تحقیقات اور انکوائری کے لیے طلب کرلیا گیا ہے ۔انکوائری کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ آیا قبل از وقت اذان کسی فنی خرابی سے نشر ہوئی یا یہ کسی شخص کی دانستہ شرارت تھی۔ تحقیقات کے بعد اس واقعے کے ذمہ دار...

مصرمیں قبل از وقت اذان مغرب، لاکھوں روزہ داروں نے نفلی روزہ توڑ دیا

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان وجود - هفته 01 اگست 2020

یوکرین کی حکومت نے ایران میں ایک میزائل حملے میں تباہ ہونے والے اپنے مسافر جہاز کے واقعے پر ایران سے بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان کیا ہے ۔یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کالیبا نے کہا کہ ان کا ملک 8 جنوری کو ایران یوکرین کے جہاز کو فضا میں میزائل سے تباہ کرنے کا زیادہ سے زیادہ معاوضہ وصول کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت شروع ہوئی ہے مگر یہ بات چیت اتنی آسان نہیں ہو گی۔ایرانی افواج کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ سخت کشیدگی کے وقت ...

یوکرین کا ایران سے طیارہ حادثے پر بھاری معاوضہ وصول کرنے کا اعلان

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین وجود - هفته 01 اگست 2020

برطانیہ میں چین کے سفیر کا کہنا ہے کہ امریکہ نومبر کے صدارتی انتخابات کی وجہ سے چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔برطانیہ میں چین کے سفیر لیو زیاؤمنگ کا لندن میں رپورٹرز سے گفتگو میں کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات سے پہلے امریکہ' 'قربانی کا بکرا'' ڈھونڈ رہا ہے اس لیے وہ چین کے ساتھ ایک نئی سرد جنگ چھیڑنا چاہتا ہے ۔'یہ چین نہیں جو جارح بنا ہوا ہے بلکہ دوسرا فریق ہے جو کہ چین کے خلاف سرد جنگ شروع کرنا چاہتا ہے ۔ اور ہمیں اس کا جواب دینا پڑ رہا ہے ۔چین کے سفیر کا کہنا...

امریکہ صدارتی انتخابات سے پہلے نئی سرد جنگ چاہتا ہے 'چین

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا وجود - هفته 01 اگست 2020

سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں سام سنگ الیکٹرانکس کو پیچھے چھوڑ دینے کے بعد ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا ہے ۔ریسرچ فرم کینیلس کے اعداد و شمار کے مطابق ہواوے نے سام سنگ کی 53.7 ملین کے مقابلے میں 55.8 ملین ڈویوائسز فروخت کیں۔پچھلے سال دوسری سہ ماہی میںکمپنی کی بیرون ملک شپمنٹس میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی لیکن کمپنی نے چینی مارکیٹ پر اپنے تسلط کو بہتر بنایا ہے جو کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے میں تیز رفتار رہا ہے اور یہاں ہواوے اب 70 فیصد سے زائد اپنے ہینڈ ...

ہواوے دنیا کا سب سے بڑا اسمارٹ فون فروخت کنندہ بن گیا

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان وجود - هفته 01 اگست 2020

1980 کی دہائی میں ایران میں شرحِ پیدائش غیر معمولی طور پر بلند تھا۔ حالیہ برسوں میں اس میں اتنی کمی واقع ہوئی کہ ملکی رہنماؤں نے اس پر پریشانی کا اظہار شروع کر دیا ہے ۔ 1979 کا ایران مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی آبادی کا ملک تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایرانی شیعہ علماء اس کثیر آبادی کے تناظر میں اپنے ملک کو ایک طاقتور شیعہ ریاست خیال کرتے تھے جو خلیج فارس اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی اہل تھی۔اسلامی انقلاب کے کچھ ہی مہینوں بعد ایران کو سن 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ خ...

ایران میں شرح پیدائش میں کمی پر رہنما ء پریشان

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا وجود - هفته 01 اگست 2020

امریکی معیشت کو سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا پہنچا ہے ، تجارتی ویب سائٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت 32 اعشاریہ 9 فیصد کے سالانہ اندازوں کے حساب سے سکڑی ہے ۔تجارتی ویب سائٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے امریکا کو معاشی کساد بازاری کا سامنا ہے ، وبا نے کاروباری مصروفیات کو بند کردیا اور شہریوں کو گھر بٹھا دیا ہے ۔ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ معیشت میں بہتری اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب کورونا کی وبا پر موثر طریقے سے قابو پایا جائے اور وائرس کی نئی لہر کو...

امریکی معیشت کو 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی وجود - بدھ 22 جولائی 2020

کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت کی ناکامی بے نقاب ہوگئی۔ امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت وبا کے دوران اپنے شہریوں کے تحفظ کی بنیادی ذمے داری اٹھانے میں بھی ناکام رہی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد 10لاکھ کا ہندسہ چھو چکی ہے اور اس حوالے سے بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر آچکا ہے ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں دس لاکھ شہریوں میں سے صرف نو ہزار، جبکہ ایک ہزار میں سے صرف نو افراد کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔دوسری جانب بھارت می...

کورونا سے نمٹنے میں بھارتی حکومت ناکام ہوگئی، امریکی ٹی وی

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق وجود - بدھ 22 جولائی 2020

طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع تحقیق میں فضائی آلودگی اور جسمانی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں 91 فیصد افراد ایسے خطوں میں مقیم ہیں، جہاں فضائی آلودگی کی شرح عالمی ادارہ صحت کی گائیڈلائنز سے زیادہ ہے ۔ہانگ کانگ کے جوکی کلب اسکول آف پبلک ہیلتھ اینڈ پرائمری کیئر کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ شہری علاقوں میں چاردیواری سے باہر زیادہ وقت رہنے سے فضائی آلودگی میں رہنے کا امکان بڑھتا ہے ، جو صحت کے لیے نقصان دہ اثرات مرتب کرتا ہے ۔تحقیق میں بتا...

جسمانی طورپرفعال رہناہائی بلڈ پریشر جیسی بیماری سے بچنے میں مددگار، تحقیق

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ وجود - بدھ 22 جولائی 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بھی بدتر ہوگئی ہے ۔ جو بائیڈن کا جیتنا ملک کو دوزخ میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا، اس لیے ری پبلکنز امریکا کو دوزخ میں دھکیلنے کی کوششیں ناکام بنادیں گے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ نسل پرستی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو کچلنے کے لیے اہم شہروں میں قانون نافذ کرنیوالے اہلکار بھیجے جائیں گے ۔ پورٹ لینڈ اور اوریگن میں اہلکاروں کو بغیر وردی کے تعینات کیا جائے گا اور وہ سادہ گاڑیوں میں گشت کریں ...

مظاہروں کے سبب امریکا کی صورتحال افغانستان سے بدتر ہوگئی، ٹرمپ