... loading ...

ذرا تصور کیجیے کہ امریکا میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں گزشتہ 15 سالوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا تصور کیجیے کہ یہ اموات بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں اور تقریباً برادریوں میں یکساں ہوئی ہیں۔ یہ بھی فرض کرلیجیے کہ ہر سال ملک میں 40 ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کے حملوں میں مارے جائیں اور یہ بھی کہ دہشت گردی امریکا میں اموات کے 10 سب سے بڑے اسباب میں سے ایک بن گئی ہے۔ یہ ناممکن ہے نا؟ اس لیے کیونکہ اس کے اثرات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جس پیمانے پر سخت اقدامات کیے گئے، وہ ملک کی بنیادی اقدار کے خلاف ہے۔ امریکا نے لوگوں کو گرفتار کیا، انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، انہیں قید خانں میں سڑا دیا، انہیں بنیادی عدالتی حقوق تک نہیں دیے، نگرانی کا ایک سخت قانون ترتیب دیا اور یوں ایک بہت بڑا اور بہت بھاری قیمت کا بنیادی ڈھانچہ ترتیب دیا تاکہ دہشت گردی سے بچا جا سکے۔ کیوں؟ تاکہ عوام کی بڑی تعداد کو مرنے سے بچایا جا سکے۔ لیکن اگر ہم صرف “قاتل” تبدیل کردیں، تو کیا اتنی ہی توجہ حاصل ہوگی؟ اگر یہ کہا جائے کہ دہشت گردی نہ سہی لیکن “خودکشی” اتنے بڑے پیمانے پر اموات کی وجہ ضرور ہے تو شاید کسی کو کان کھڑے نہیں ہوں گے۔
امریکا کے قومی مرکز برائے شماریات صحت نے حال ہی میں ایک بڑی تحقیق جاری کی ہے جس میں ملک میں خودکشی کے رحجانات کا جائزہ لیا گیا ہے جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ بھیانک ہیں۔ 1999ء سے 2014ء کے درمیان امریکا میں خودکشی کی شرح میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عمر کا وہ کون سا مرحلہ ہے، جس میں موجود افراد میں اپنی جان خود لینے کا رحجان نہیں دیکھا گیا، سوائے 75 سال سے اوپر کے۔ ہر نسل اور صنف میں یہ خطرناک روش پروان چڑھ رہی ہے، سوائے سیاہ فاموں کے۔ 2014ء میں ہر ایک لاکھ افراد پر اموات کی شرح 13 تک پہنچ گئی حالانکہ ایک سال پہلے ہی یعنی 2013ء میں یہ 5.1 تھی۔ اس لیے یہ کہنا تو غلط نہ ہوگا کہ قاتل کا تو کچھ پتہ نہیں، لیکن امریکی اپنے سب سے بڑے قاتل ضرور بن گئے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خودکشی و خود سوزی کا یہ رحجان ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھ رہا ہے کہ جو زیادہ محفوظ تصور کی جا رہی ہے۔ امریکا میں پرتشدد جرائم کی شرح ماضی کے مقابلے میں سب سے نچلی سطح پر ہے۔ جدید ادویات نے بھی امراض اور حادثات کے نتیجے میں اموات کی شرح کو کم کردیا ہے۔ چند امراض ایسے ضرور ہیں جو لاعلاح ہیں لیکن بحیثیت مجموعی صورت حال بہت بہت حد تک بہتر ہے۔ یہاں تک کہ گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں بہتری آنے کے بعد حادثات میں بھی کمی آئی ہے۔ سیٹ بیلٹ پہننے کے قانون میں سختی اور نشے میں ڈرائیونگ کرنے پر سخت سزاؤں نے بھی ٹریفک حادثات سے ہونے والی اموات کی شرح کو بہت گھٹا دیا ہے۔
لیکن ان تمام تر مثبت پہلوؤں کے سامنے خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان منہ چڑا رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس رحجان کو بہت کم توجہ دی جا رہی ہے۔ کئی ایسے غیر اہم مسائل ہیں جو امریکی ذرائع ابلاغ پر بہت نمایاں مقام حاصل کر جاتے ہیں۔ بیونسے کے نئے البم میں کیا کچھ ہے؟ “گیم آف تھرونز” کی نئی قسط میں کیا دکھایا گیا؟ بلاشبہ عوام کی بڑی اکثریت ان موضوعات کو پسند کرتی ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی اور داعش جیسے موضوعات کو بھی امریکا میں بہت اہمیت دی جاتی ہے، یعنی سوائے خودکشی کے رحجان میں ڈرامائی اضافے کے علاوہ سب موضوعات کو۔ اس کی وجہ شاید خودکشی کے معاملات کی پیچیدگی ہے۔ اس میں تو ایک ہی شخص “قاتل” بھی ہے اور “مقتول” بھی۔
خودکشی حالات کے مقابلے میں ہتھیار ڈالنے کا یہ “بزدلانہ طریقہ” ہے لیکن ہر بار معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ خودکشی کی وجہ نفسیاتی و ذہنی مسائل بھی ہو سکتے ہیں اور نشے کی عادت بھی۔ ان مسائل کی شرح جس قدر زیادہ ہوگی، خودکشی کا رحجان اتنا قوی ہوگا۔ کئی سماجی مسائل کی طرح خودکشی کی بھی کوئی واحد اور واضح وجوہات نہیں ہوتیں بلکہ مختلف عوامل پس پردہ ہوتے ہیں۔ صرف ذاتی چال چلن کو مورد الزام ٹھیرانا دراصل اس مسئلے سے نظریں ہٹانا ہے۔ اس لیے وجوہات پر نظر ڈالنی ہوگی۔
اعداد و شمار دیکھیں تو چند چیزیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے زیادہ خودکشی کا رحجان ان برادریوں میں ہے جنہیں معاشرے میں سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔ جیسا کہ امریکا کے اصل باسی۔ اس نسلی زمرے میں مردوں میں خودکشی کے رحجان میں 38 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ عورتوں میں حیران کن 89 فیصد۔ وجہ؟ اصل امریکی معیار زندگی کے عام معیارات سے کہیں نیچے رہتے ہیں، ان کی زندگیاں غربت اور استحصال کا نمونہ ہیں۔ نہ قومی ذرائع ابلاغ پر ان کا زیادہ ذکر ہوتا ہے اور نہ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ نسبتاً چھوٹی آبادی ہے اور دیہی علاقوں تک محدود ہے۔
دوسری جانب سفید فاموں کو دیکھیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ان میں بے روزگاری اور نشے کی لت کے مسائل میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی سیاہ فاموں اور ہسپانوی باشندوں کے مقابلے میں ان میں بے روزگاری، کالج تعلیم کی تکمیل اور گرفتار ہوکر قیدی بننے کی شرح کم ہے جو ایک ایسے ملک میں ہرگز حیران کن نہیں ہے جہاں آج بھی سفید فاموں کی بالادستی موجود ہے۔ اس کے باوجود سیاہ فاموں، ہسپانویوں اور ایشیائی امریکیوں کے مقابلے میں سفید فاموں میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے۔ یہ حیران کن ضرور لگتا ہے لیکن امریکا کی تاریخ دیکھیں تو یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ دیگر اقوام کے مقابلے میں سفید فاموں کے لیے بے روزگاری، غربت اور دیگر مسائل کو ہضم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ صدیوں سے غالب رہے ہیں۔
مغربی امریکا کی ریاستوں میں شمال سے جنوب کی طرف پھیلا ایک ایسا وسیع علاقہ بھی ہے جسے “Suicide Belt” یعنی “خودکشی کی پٹی” کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان میں ایریزونا، کولوراڈو، ایڈاہو، مونٹانا، نیواڈا، نیو میکسیکو، اوریگون، یوٹاہ اور وایومنگ کی ریاستیں شامل ہیں۔
ایک اور مسئلہ امریکا میں اسلحے کی عام دستیابی ہے۔ کسی بھی شخص کے پاس بندوق یا پستول کی موجودگی خودکشی کے رحجان کا اولین اشارہ ہوتی ہے۔ امریکا میں گولی سے مرنے والے افراد کی تعداد کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے زیادہ ہے اور بیشتر خودکشیاں بھی پستول یا بندوق کے ذریعے ہی ہوتی ہیں۔
جب ہتھیار بہت زیادہ ہوں، تنہائی بھی بہت ہو اور امید کی کوئی کرن نظر نہ آتی ہو تو کیا ہوگا؟

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...
کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...
اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...
مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...
عراق کی مزاحمتی فورسز نے امریکا کا ری فیولنگ طیارہ مار گرایا ، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی ایران کے خلاف جاری فضائی بمباری کے دوران امریکی طیارہ مغربی عراق میں گرکر تباہ ہوگیا۔ایران کی ختم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے دعوی کیا ہے کہ عراق کی م...
بصورت دیگر 26 مارچ سے پٹرول پمپس کی بندش کا سلسلہ شروع ہو جائے گا 21 روپے پیٹرولیم لیوی بڑھائی، باقی 36 روپے فی لیٹر کس کی جیب میں گئے؟ آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (اے پی پی ڈی اے)نے حالیہ قیمتوں میں اضافے اور ڈیلرز کے مارجن میں عدم اضافے کے خلاف عیدالفطر کے بعد مل...
عمران خان کا علاج ذاتی معالجین کی نگرانی اور فیملی کی موجودگی میں شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں فوری طور پر کرایا جائے تحریک انصاف کی منزل حقیقی آزادی ہے اور اس کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی،پریس کانفرنس سے خطاب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق ...
شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں گے،سندھ کی ترقی کے نقش قدم پر چلیں گے،نہال ہاشمی ایم کیو ایم والے ہمارے پاکستانی ہیں، ناراضگی چھوٹی چیز ہے ان کو منا لیں گے ، مزار قائد پر میڈیا سے گفتگو گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ شرارت کی سیاست نہیں قائد اعظم کی سیاست کریں...
صدرمملکت کی شہباز شریف کی ایڈوائس پر نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری ،تقرری کیلئے کمیشن آف اپائنٹمنٹ پر دستخط کر دیے،آصف زرداری کی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا نواز شریف،شہباز شریف ، آصف علی زرداری کا شکریہ،حلف لینے کے بعد اپنی ترجیہات بتاؤں گا، ایم ...
عید تک 3لیٹر پیٹرول مفت دیا جائے گا، آخری عشرے کی تمام افطار پارٹیاں منسوخ کر دی ہیں جو لوگ مہنگائی کے دور میں ہزار کا پیٹرول نہیں دلوا سکتے ان کیلئے یہ عید کا تحفہ ہوگا، کامران ٹیسوری گورنرسندھ کامران ٹیسوری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے پریشان موٹرسائیکل...
مجتبیٰ خامنہ ای کا شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان،دشمن پر دباؤ ڈالنے آبنائے ہرمز کو بند رکھیں گے،ایک ایک شہید کے خون کا بدلہ لیں گے،دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے،ایران کا نشانہ امریکی فوجی اڈے ہیں ایرانی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، قوم کا اتحاد دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گ...
کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا،شہباز شریف تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات کے خواہاں ، صو فیا ئے کرا م دین اسلام کے حقیقی سفیر ہیں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی دہشت گرد برداشت نہیں کرینگے، جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، دہشت گر...