وجود

... loading ...

وجود

امریکا میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان

بدھ 13 جولائی 2016 امریکا میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان

cemetery

ذرا تصور کیجیے کہ امریکا میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں گزشتہ 15 سالوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا تصور کیجیے کہ یہ اموات بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں اور تقریباً برادریوں میں یکساں ہوئی ہیں۔ یہ بھی فرض کرلیجیے کہ ہر سال ملک میں 40 ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کے حملوں میں مارے جائیں اور یہ بھی کہ دہشت گردی امریکا میں اموات کے 10 سب سے بڑے اسباب میں سے ایک بن گئی ہے۔ یہ ناممکن ہے نا؟ اس لیے کیونکہ اس کے اثرات کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد امریکا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جس پیمانے پر سخت اقدامات کیے گئے، وہ ملک کی بنیادی اقدار کے خلاف ہے۔ امریکا نے لوگوں کو گرفتار کیا، انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، انہیں قید خانں میں سڑا دیا، انہیں بنیادی عدالتی حقوق تک نہیں دیے، نگرانی کا ایک سخت قانون ترتیب دیا اور یوں ایک بہت بڑا اور بہت بھاری قیمت کا بنیادی ڈھانچہ ترتیب دیا تاکہ دہشت گردی سے بچا جا سکے۔ کیوں؟ تاکہ عوام کی بڑی تعداد کو مرنے سے بچایا جا سکے۔ لیکن اگر ہم صرف “قاتل” تبدیل کردیں، تو کیا اتنی ہی توجہ حاصل ہوگی؟ اگر یہ کہا جائے کہ دہشت گردی نہ سہی لیکن “خودکشی” اتنے بڑے پیمانے پر اموات کی وجہ ضرور ہے تو شاید کسی کو کان کھڑے نہیں ہوں گے۔

امریکا کے قومی مرکز برائے شماریات صحت نے حال ہی میں ایک بڑی تحقیق جاری کی ہے جس میں ملک میں خودکشی کے رحجانات کا جائزہ لیا گیا ہے جو نتائج سامنے آئے ہیں، وہ بھیانک ہیں۔ 1999ء سے 2014ء کے درمیان امریکا میں خودکشی کی شرح میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ عمر کا وہ کون سا مرحلہ ہے، جس میں موجود افراد میں اپنی جان خود لینے کا رحجان نہیں دیکھا گیا، سوائے 75 سال سے اوپر کے۔ ہر نسل اور صنف میں یہ خطرناک روش پروان چڑھ رہی ہے، سوائے سیاہ فاموں کے۔ 2014ء میں ہر ایک لاکھ افراد پر اموات کی شرح 13 تک پہنچ گئی حالانکہ ایک سال پہلے ہی یعنی 2013ء میں یہ 5.1 تھی۔ اس لیے یہ کہنا تو غلط نہ ہوگا کہ قاتل کا تو کچھ پتہ نہیں، لیکن امریکی اپنے سب سے بڑے قاتل ضرور بن گئے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خودکشی و خود سوزی کا یہ رحجان ایک ایسی دنیا میں پروان چڑھ رہا ہے کہ جو زیادہ محفوظ تصور کی جا رہی ہے۔ امریکا میں پرتشدد جرائم کی شرح ماضی کے مقابلے میں سب سے نچلی سطح پر ہے۔ جدید ادویات نے بھی امراض اور حادثات کے نتیجے میں اموات کی شرح کو کم کردیا ہے۔ چند امراض ایسے ضرور ہیں جو لاعلاح ہیں لیکن بحیثیت مجموعی صورت حال بہت بہت حد تک بہتر ہے۔ یہاں تک کہ گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں بہتری آنے کے بعد حادثات میں بھی کمی آئی ہے۔ سیٹ بیلٹ پہننے کے قانون میں سختی اور نشے میں ڈرائیونگ کرنے پر سخت سزاؤں نے بھی ٹریفک حادثات سے ہونے والی اموات کی شرح کو بہت گھٹا دیا ہے۔

لیکن ان تمام تر مثبت پہلوؤں کے سامنے خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان منہ چڑا رہا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس رحجان کو بہت کم توجہ دی جا رہی ہے۔ کئی ایسے غیر اہم مسائل ہیں جو امریکی ذرائع ابلاغ پر بہت نمایاں مقام حاصل کر جاتے ہیں۔ بیونسے کے نئے البم میں کیا کچھ ہے؟ “گیم آف تھرونز” کی نئی قسط میں کیا دکھایا گیا؟ بلاشبہ عوام کی بڑی اکثریت ان موضوعات کو پسند کرتی ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی اور داعش جیسے موضوعات کو بھی امریکا میں بہت اہمیت دی جاتی ہے، یعنی سوائے خودکشی کے رحجان میں ڈرامائی اضافے کے علاوہ سب موضوعات کو۔ اس کی وجہ شاید خودکشی کے معاملات کی پیچیدگی ہے۔ اس میں تو ایک ہی شخص “قاتل” بھی ہے اور “مقتول” بھی۔

خودکشی حالات کے مقابلے میں ہتھیار ڈالنے کا یہ “بزدلانہ طریقہ” ہے لیکن ہر بار معاملہ ایسا نہیں ہوتا۔ خودکشی کی وجہ نفسیاتی و ذہنی مسائل بھی ہو سکتے ہیں اور نشے کی عادت بھی۔ ان مسائل کی شرح جس قدر زیادہ ہوگی، خودکشی کا رحجان اتنا قوی ہوگا۔ کئی سماجی مسائل کی طرح خودکشی کی بھی کوئی واحد اور واضح وجوہات نہیں ہوتیں بلکہ مختلف عوامل پس پردہ ہوتے ہیں۔ صرف ذاتی چال چلن کو مورد الزام ٹھیرانا دراصل اس مسئلے سے نظریں ہٹانا ہے۔ اس لیے وجوہات پر نظر ڈالنی ہوگی۔

اعداد و شمار دیکھیں تو چند چیزیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ سب سے زیادہ خودکشی کا رحجان ان برادریوں میں ہے جنہیں معاشرے میں سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔ جیسا کہ امریکا کے اصل باسی۔ اس نسلی زمرے میں مردوں میں خودکشی کے رحجان میں 38 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا جبکہ عورتوں میں حیران کن 89 فیصد۔ وجہ؟ اصل امریکی معیار زندگی کے عام معیارات سے کہیں نیچے رہتے ہیں، ان کی زندگیاں غربت اور استحصال کا نمونہ ہیں۔ نہ قومی ذرائع ابلاغ پر ان کا زیادہ ذکر ہوتا ہے اور نہ ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ نسبتاً چھوٹی آبادی ہے اور دیہی علاقوں تک محدود ہے۔

دوسری جانب سفید فاموں کو دیکھیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ان میں بے روزگاری اور نشے کی لت کے مسائل میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن پھر بھی سیاہ فاموں اور ہسپانوی باشندوں کے مقابلے میں ان میں بے روزگاری، کالج تعلیم کی تکمیل اور گرفتار ہوکر قیدی بننے کی شرح کم ہے جو ایک ایسے ملک میں ہرگز حیران کن نہیں ہے جہاں آج بھی سفید فاموں کی بالادستی موجود ہے۔ اس کے باوجود سیاہ فاموں، ہسپانویوں اور ایشیائی امریکیوں کے مقابلے میں سفید فاموں میں خودکشی کی شرح زیادہ ہے۔ یہ حیران کن ضرور لگتا ہے لیکن امریکا کی تاریخ دیکھیں تو یہ بات صاف سمجھ میں آتی ہے کہ دیگر اقوام کے مقابلے میں سفید فاموں کے لیے بے روزگاری، غربت اور دیگر مسائل کو ہضم کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ صدیوں سے غالب رہے ہیں۔

مغربی امریکا کی ریاستوں میں شمال سے جنوب کی طرف پھیلا ایک ایسا وسیع علاقہ بھی ہے جسے “Suicide Belt” یعنی “خودکشی کی پٹی” کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ان میں ایریزونا، کولوراڈو، ایڈاہو، مونٹانا، نیواڈا، نیو میکسیکو، اوریگون، یوٹاہ اور وایومنگ کی ریاستیں شامل ہیں۔

ایک اور مسئلہ امریکا میں اسلحے کی عام دستیابی ہے۔ کسی بھی شخص کے پاس بندوق یا پستول کی موجودگی خودکشی کے رحجان کا اولین اشارہ ہوتی ہے۔ امریکا میں گولی سے مرنے والے افراد کی تعداد کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے زیادہ ہے اور بیشتر خودکشیاں بھی پستول یا بندوق کے ذریعے ہی ہوتی ہیں۔

جب ہتھیار بہت زیادہ ہوں، تنہائی بھی بہت ہو اور امید کی کوئی کرن نظر نہ آتی ہو تو کیا ہوگا؟

depressed


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر