وجود

... loading ...

وجود

جانے کی باتیں ہوئیں پرانی: خدا کے لیے اب آجاؤ۔۔۔ ملک کے تیرہ شہروں میں بینرز آویزاں!

منگل 12 جولائی 2016 جانے کی باتیں ہوئیں پرانی: خدا کے لیے اب آجاؤ۔۔۔ ملک کے تیرہ شہروں میں بینرز آویزاں!

raheel-and-nawaz-sharif

اگر چہ یہ معمول کی صورتِ حال ہے جسے ذرائع ابلاغ میں شریف خاندان کے خدمت گار غیر معمولی بنا کر پیش کرر ہے ہیں۔بینروں کے ذریعے مخصوص ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا طریقہ اب کوئی نیا نہیں رہا۔ اور اس کے پیچھے کارفرما عناصر کی پشت پناہ قوتوں سے بھی پاکستان کے فعال طبقات بخوبی آگاہ ہیں۔ عام طور پر اِن بینرز کو پڑھ کر لوگ باگ ذومعنی مسکراہٹ کے سا تھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔

پنجاب کی ایک سیاسی تنظیم “مووآن” نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے بینرز ملک کے تیرہ شہروں کی شاہراہوں پر گزشتہ دنوں آویزاں کردیئےہیں، جن کی عبارتوں میں فوجی سربراہ سے کچھ معنی خیز مطالبات کیے جارہے ہیں۔

پنجاب کی ایک سیاسی تنظیم “مووآن” نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی تصاویر والے بینرز ملک کے تیرہ شہروں کی شاہراہوں پر گزشتہ دنوں آویزاں کردیئےہیں، جن کی عبارتوں میں فوجی سربراہ سے کچھ معنی خیز مطالبات کیے جارہے ہیں۔مذکورہ تنظیم کی جانب سے جن شہروں میں جنرل راحیل شریف کی تصویر سے آراستہ بینرز آویزاں کیے گیے ہیں ، اُن میں لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، فیصل آباد، سرگودھا اور حیدرآباد شامل ہیں۔ مذکورہ بینرز پر جو عبارتیں تحریرکی گئی ہیں اُن میں سب سے زیادہ زیربحث عبارت میں یہ کہا گیا ہے کہ

“جانے کی باتیں ۔۔۔۔۔۔ہوئیں پرانی، خدا کے لیے! اب آجاؤ۔۔۔۔”

بینر پر لکھی اس عمومی عبارت کا ایک خاص مفہوم ہے۔ دراصل جنرل راحیل شریف کی طرف سے 25 جنوری کو اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اُن کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آئی ایس پی آر کے ٹوئٹر ہینڈل کو حرکت دیتے ہوئے یہ پیغام دیا تھا کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ مقررہ وقت پر ریٹائرڈ ہوجاؤں گامدت ملازمت میں توسیع پر یقین نہیں رکھتا، پاکستان کا مفاد سب سے اہم ہے پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے جس کا ایک باقاعدہ نظام ہے اور اسی نظام کے تحت چلوں گا۔پاکستان کا قومی مفادسب سے اہم ہے اور اس کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔ دہشتگردی کے خاتمے کا سلسلہ بھرپور عزم کے ساتھ جاری رہے گا اور آئندہ آنے والا فوجی سربراہ اسی عزم کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھائے گا۔ ” آئی ایس پی آر کی جانب سے اس اعلان کے باوجود مووآن نامی اسی تنظیم کی جانب سے فوراً ہی یہ بینرز آویزاں کردیئے گیے تھے کہ
“جانے کی باتیں جانے دو۔”

ظاہر ہے کہ اب منظر عام پر آنے والے تازہ بینرز کی یہ عبارت اسی پس منظر کو اُجاگر کرتی ہے ، جس میں یہ تحریر جگمگا رہی ہے کہ “جانے کی باتیں ۔۔ ہوئیں پرانی” ۔

move-on-banners

مسلم لیگ نون کے دستر خوان پر کبھی نہ ختم ہونے والی بھوک کے ساتھ ازلی بھکاریوں کی نفسیات کے ساتھ براجمان ان تجزیہ کاروں کو ابھی یہ اندازا ہی نہیں ہوسکا ہے کہ وہ اپنےایجنڈے کے ذریعے جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے ارادے کو زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ” مووآن ” نامی تنظیم کے ماہ جنوری میں آویزاں کیے گیے بینرز پر مسلم لیگ نون کا دستر خوانی قبیلہ کہاں سویاہوا تھا؟ تب اُنہیں آئین کی دفعہ 6 کے اطلاق کا خیال کہیں سے بھی کیوں نہیں آیا؟اب اچانک یہ پورا قبیلہ حرکت میں کیوں آگیا ہے اور کیوں اس امر پر زور دے رہا ہے کہ یہ مارشل لاء لگانے کی دعوت ہے اور اس پر آئین کی دفعہ چھ کا فوری اطلاق کیا جانا چاہیئے۔یوں لگتا ہے کہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کے ان وفاداروں نے ایک مرتبہ پھر نوازشریف کو اُن خاص حالات کی طرف دھکیلنا شروع کردیا ہے جس کے آگے گلی بند ملتی ہے۔جرنیلوں میں موجود ترک خون کو وزیراعظم نوازشریف کی ہٹ دھرمی کی نفسیات کے ذریعے جوش دینے کا یہ بندوبست ایک خاص طرح کا ماحول پیدا کررہا ہے۔ اگر چہ دستر خوانی قبیلہ تو اپنی پرانی نفسیات کے تحت “نمک حلالی” کا تاثر دے رہا ہے۔ مگر عملاً یہ سیاست کو جنگ زدہ بنانے کی تحریک بنتا جارہا ہے۔

یہ بات اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت رواں سال نومبر میں ختم ہورہی ہے۔ اور ملک میں سیاست دانوں کی طرف سے اُنہی ایک باوقار اور کامیاب جنرل کے علاوہ ایسے الفاظ سے یاد کیا جارہا ہے جو اس سے پہلے کسی جرنیل کے حصے میں نہیں آئے۔ مگر کون نہیں جانتا کہ یہ ساری باتیں دراصل جنرل راحیل شریف کو رخصت کرنے کی سیاسی تدبیریں ہیں ۔ عملاً جنرل راحیل شریف نے اب تک جو محاذ بھی کھولے ہیں ، اُن کا اگر دیانت داری سے تجزیہ کیا جائے تو کوئی ایک بھی محاذ مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوا۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ اپنے وقت پررخصت ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے پیش رو کوایک نامکمل ایجنڈا دے کر رخصت ہوں گے۔ جس کی تکمیل کے امکانات کا تعین نئے فوجی سربراہ کی اپنی افتادِطبع اور رجحانات پر منحصر ہوگا۔ اس تناظر میں جب سندھ کے مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو جنرل راحیل شریف کو ایک عظیم جرنیل کے طور پر یاد کرتے ہوئے اُنہیں چاپلوسوں سے خبردار رہنے کی بات کرتے ہیں ۔ تو وہ بھی عملاً چاپلوسی کے ذریعے ہی اُنہیں رخصتی کا راستہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اُنہیں بینرز کی عبارتوں سے روکنے والے اور اُنہیں عظیم جرنیل کہہ کر رخصت کرنے والے دراصل دونوں ہی چاپلوسی کی راہ پر اپنے اپنے مقاصد کے تحت گامزن ہیں۔ کچھ یہی ماجرا مسلم لیگ نون کے رہین منت تجزیہ کاروں اور اینکرز کا بھی ہیں ۔ جو غیر معمولی طور پرایک ایجنڈے کے ساتھ ایک ہی دن مختلف پروگرامات کے ذریعے میدان میں کودے ہیں، اور کچھ مخصوص ٹیلی ویژن کے پروگرامات سے اس ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں جو رائیونڈ کی راج دھانی کو مضبوط کرنے سے عبارت ہے۔

مسلم لیگ نون کے دستر خوان پر کبھی نہ ختم ہونے والی بھوک کے ساتھ ازلی بھکاریوں کی نفسیات کے ساتھ براجمان ان تجزیہ کاروں کو ابھی یہ اندازا ہی نہیں ہوسکا ہے کہ وہ اس ایجنڈے کے ذریعے جنرل راحیل شریف کی رخصتی کے ارادے کو زیادہ متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جو زیادہ خطرناک ردِ عمل کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ چاپلوسی سے کسی جرنیل کو اقتدار پر قبضے کی تحریک دینا اور کسی طاقت ور کو رخصت کرانے کے لیے غصے کا ماحول پیدا کرنے میں زیادہ خطرناک موقع دراصل موخر الذکر گروپ دیتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو مسلم لیگ نون کا دستر خوانی قبیلہ زیادہ یکسوئی سے وہ کام کررہا ہے جو دراصل “مووآن” نامی تنظیم کے بینرز کا مقصد ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر