وجود

... loading ...

وجود

ای او بی آئی کیس میں اے کے ڈی بے قصور قرار، ایف آئی اے کٹہرے میں

جمعرات 23 جون 2016 ای او بی آئی کیس میں اے کے ڈی بے قصور قرار، ایف آئی اے کٹہرے میں

عقیل کریم ڈھیڈی، چیئرمین اے کے ڈی گروپ

عقیل کریم ڈھیڈی، چیئرمین اے کے ڈی گروپ


عدالت عظمیٰ نے ای او بی آئی مقدمے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے سینئر عہدیداروں کو بے قصور قراردیتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایف آئی اے نے کس طرح اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمہ قائم کرکے بدترین میڈیا ٹرائل کیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بنڈیال اور جسٹس منظور احمد ملک کے دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے ایف آئی اے کا قدم غیر قانونی تھا کیونکہ ملزمان نے یہ جرم کیا ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود ایف آئی اے نے بہت عرصے بعد اور بغیر کسی وجہ کہ ان افراد کو تفتیشی رپورٹ میں نامزد کیا حالانکہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان جیسے مسابقتی ادارے کی جانب سے تحریری شکایت کے بغیر وہ ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مجاز ہی نہیں۔ اس لیے یہ معاملہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے درخواست گزاروں محمد فرید عالم، محمد اقبال اور طارق آدم کو 10، 10 لاکھ روپے کی ضمانت دے دی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں واضح طور پر درج ہے کہ 9 برکرویج ہاؤسز نے ای او بی آئی کی جانب سے ایم ٹیکس حصص کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس میں ایم کیپ سیکورٹیز پیش پیش تھا جو ایم ٹیکس کا ملحقہ ادارہ ہے۔ لیکن درخواست گزار، یعنی اے کے ڈی سیکورٹیز، کے علاوہ کسی بروکریج ہاؤس کا کوئی شخص گرفتار نہیں ہوا بلکہ زیادہ تر ملزمان مفرور ہیں۔

ای او بی آئی کے سرمائے یا املاک نہ ہی درخواست گزاروں اور نہ ہی اے کے ڈی کے سپرد تھے۔ اس لیے سیکشن 409 پی پی سی کے تحت اے کے ڈی ایس یا درخواست گزاروں نے ای او بی آئی کے فنڈز کا کوئی غلط استعمال نہیں کیا۔ یہ الزامات ان مخصوص افراد پر ہی لگ سکتے ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف لگایا گیا کوئی بھی الزام سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کے سیکشن 475 کے تحت قابل دست اندازی نہیں، نہ ہی ایس ای سی پی کی جانب سے تحریری شکایت کے بغیر اس پر کوئی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، آرڈیننس ہی کے تحت اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں، یوں اے کے ڈی سیکورٹیز اور درخواست گزاروں کے خلاف سیکشن 409 پی پی سی کے تحت مبینہ کمیشن کا الزام مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔ اس لیے 12 مئی 2016ء کے مختصر حکم نامے کی بنیاد پر درخواست گزاروں کو ضمانت دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں ای او بی آئی کیس میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین اعلیٰ عہدیداران فرید عالم، چیف ایگزیکٹو آفسر اور دو ڈائریکٹرز حاجی اقبال اور طارق آدم کو ضمانت دے دی تھی۔

درخواست گزاروں کے وکلا فروغ نسیم اور ارشد طیب علی ملزمان کی جانب سے بینچ کے روبرو پیش ہوئے تھے اور دعویٰ کیا کہ ایف آئی اے کا قدم غیر قانونی تھا کیونکہ ملزمان نے یہ جرم نہیں کیا اور ایف آئی اے کی ٹیم نے طویل عرصے کے بعد اور بغیر کسی وجہ کے انہیں انکوائری رپورٹ میں نامزد کیا۔ وکلا نے کہا کہ ای او بی آئی-ایم ٹیکس کیس میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے حکام کی شمولیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ایف آئی اے کی صریح عداوت تھی کہ جس میں ان معزز افراد کو پانچ ماہ تک بغیر کسی ثبوت کے حراست میں رکھا گیا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات نے ای او بی آئی ڈائریکٹرز کے بیانات کی بنیاد پر دوسری ایف آئی آر میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے نام شامل کیے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اے کے ڈی سیکورٹیز 2010ء میں میسرز ایم ٹیکس لمیٹڈ کا اہم مینیجر تھا اور اس سلسلے میں اس وقت حصص کی درست قیمت کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ ایف آئی اے نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے ملازمین کو جنوری 2016ء کے پہلے ہفتے میں گرفتار کیا تھا۔

مقدمے کا حقیقی پس منظر

شاہد حیات، ڈائریکٹر، ایف آئی اے

شاہد حیات، ڈائریکٹر، ایف آئی اے


اگر مذکورہ مقدمے میں ایف آئی اے کے کردار کا حقائق کی روشنی میں ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو بآسانی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست کے سرکاری ادارے کو بعض عناصر نے اپنے انتقامی ذہن کے ساتھ بُری طرح استعمال کیا۔ ایف آئی کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات پر ابتدا سے ہی یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مفادات کے تحت میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی ایماء پر سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ یہ پہلو جہانگیر صدیقی کے فرنٹ مین عمران شیخ کی پراسرار حراست کے دوران میں ہونے والی پوچھ گچھ میں بھی سامنے آیا تھا۔ واضح رہے کہ عمران شیخ پراسرار حراست سے رہائی کے بعدماہ اپریل کے ابتدائی دنوں میں صرف شاہد حیات سے ہی ملے تھے اور پھر خاموشی سے دبئی روانہ ہو گئے تھے۔ جب سے وہ تاحال پاکستان نہیں لوٹے۔ یہی نہیں بلکہ جہانگیر صدیقی بھی تب سے بیرون ملک ہیں اور اُنہوں نے عمران شیخ کی رہائی کے بعد نامعلوم انکشافات کے خوف سے ملک میں آنے کے فیصلے کو موخر رکھا ہے۔

ایف آئی اے نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مذکورہ مقدمہ دراصل جہانگیر صدیقی کے ساتھ اسی ملی بھگت سے قائم کیا تھا۔ اور اپنی عمومی مشق کے برخلاف مقدمہ قائم کرنے کے بعد شاہد حیات نے ذرائع ابلاغ پر اس کا خوب خوب ڈھندوڑا بھی پیٹا تھا۔ مگر تب اکے کے ڈی گروپ کے چیئرمین نے اپنے خلاف قائم مقدمے میں یہ بنیادی سوال اُٹھا یا تھا کہ ای او بی آئی اور اے کے ڈی گروپ کا اس معاملے میں کوئی براہ راست تعلق سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایف آئی اے کس بنیاد پر ایک ایسے معاملے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کو موردِ الزام ٹہرا رہی ہے جس میں سرمایہ کاری سے لے کر کسی بھی حوالے سے کسی بھی فیصلہ سازی میں اُس کا کوئی کردار سرے سے ہے ہی نہیں۔ گروپ چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی کے اس موقف کی سپریم کورٹ کے عدالتی فیصلے سے مکمل تائید ہوئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایف آئی اے نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جو قدم اُٹھایا تھا وہ ایس ای سی پی کی شکایت کے بغیر قانونی طور پر اُٹھایا نہیں جاسکتا۔ مگر ایف آئی اے نے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھتے ہوئے پہلے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف قدم اُٹھا لیا اور بعد ازاں ایس ای سی پی کے ذمہ داران پر سرکاری دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کوئی نہ کوئی ثبوت اُنہیں مہیا کرنے میں مدد فراہم کریں۔ دلچسپ طور پر ایس ای سی پی میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف پہلے سے مخالفانہ فضا ہونے کے باوجود ایس ای سی پی کے پاس اس ضمن میں ڈھونڈنے پر بھی کوئی ایسا ثبوت نہ تھا کہ وہ ایف آئی اے کی مدد کرسکتے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنے ہاتھ اوپر اُٹھاتے ہوئے معذرت کر لی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں بھی واضح کردیا گیا کہ نہ صرف ایف آئی اے ایس ای سی کی تحریری شکایت کے بغیر ایسا کوئی مقدمہ قائم نہیں کرسکتی تھی۔ بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ جو مقدمہ قواعد کے خلاف قائم کیا گیا ہے اُس میں لگائے گئے الزامات بھی ایسے نہیں ہیں جس پر دست اندازی کی جاسکے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد وزارت داخلہ کی ذمہ داری

چودھری نثار علی خان، وفاقی وزیر داخلہ

چودھری نثار علی خان، وفاقی وزیر داخلہ


وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے متعدد مرتبہ اپنی پریس کانفرنسوں میں خود کو قانون کے مطابق رکھنے اور اپنی وزارت کو انتقامی جذبے سے چلانے سے برات کا اعلان کیا ہے۔ وہ اپنی راست بازی کا چرچا بھی اکثر خود ہی کرتے رہتے ہیں۔ اور ایف آئی اے کو قانون کے مطابق چلانے کا ڈھندوڑا بھی خوب پیٹتے رہتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد اُن کے اِ ن تمام دعووں کی سچائی کا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ عدالت عظمی کے اس فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ یہ مقدمہ سرے سے قائم ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس مقدمے کے لیے مجاز اٹھارٹی ایف آئی اے نہیں بلکہ ایس ای سی پی تھا۔ اور ایس ای سی پی نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی۔ پھر ایف آئی اے قواعد کے خلاف اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بروئے کار کیوں آئی؟ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ ایف آئی اے نے جو الزامات قواعد کے خلاف قائم مقدمے میں لگائے تھے، وہ الزامات بھی قابل دست اندازی نہ تھے۔ اسے کے باوجود ایف آئی اے نے نہ صرف دست اندازی کی بلکہ دست درازی بھی کی۔ ایسی صورت میں ایف آئی اے کی بدنیتی اور انتقامی ذہنیت پوری طرح آشکار ہوجاتی ہے۔ وزارت داخلہ کوڈائریکٹر ایف آئی اے سدھ شاہد حیات کے خلاف ایک تفتیش کے بعد کھوج لگانے کی ضرورت ہے کہ وہ سرکاری ادارے کو کن افراد کی مرضی سے بہیمانہ اور منتقمانہ طور پر استعمال کرنے کے مرتکب ہوئے۔ ایف آئی اے نے اس مقدمے میں مجموعی طور پر وزیرداخلہ چودھری نثار کی ساکھ کوبھی داؤ پر لگادیا ہے۔ کیونکہ یہ بدترین انتقامی ذہنیت کے ساتھ قائم مقدمہ اُن کی وزارت کے عرصے میں عین اُن کی ناک کے نیچے ہوا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر