وجود

... loading ...

وجود

ای او بی آئی کیس میں اے کے ڈی بے قصور قرار، ایف آئی اے کٹہرے میں

جمعرات 23 جون 2016 ای او بی آئی کیس میں اے کے ڈی بے قصور قرار، ایف آئی اے کٹہرے میں

عقیل کریم ڈھیڈی، چیئرمین اے کے ڈی گروپ

عقیل کریم ڈھیڈی، چیئرمین اے کے ڈی گروپ


عدالت عظمیٰ نے ای او بی آئی مقدمے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے سینئر عہدیداروں کو بے قصور قراردیتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایف آئی اے نے کس طرح اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بدنیتی پر مبنی مقدمہ قائم کرکے بدترین میڈیا ٹرائل کیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بنڈیال اور جسٹس منظور احمد ملک کے دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے ایف آئی اے کا قدم غیر قانونی تھا کیونکہ ملزمان نے یہ جرم کیا ہی نہیں تھا۔ اس کے باوجود ایف آئی اے نے بہت عرصے بعد اور بغیر کسی وجہ کہ ان افراد کو تفتیشی رپورٹ میں نامزد کیا حالانکہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان جیسے مسابقتی ادارے کی جانب سے تحریری شکایت کے بغیر وہ ان افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مجاز ہی نہیں۔ اس لیے یہ معاملہ مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے درخواست گزاروں محمد فرید عالم، محمد اقبال اور طارق آدم کو 10، 10 لاکھ روپے کی ضمانت دے دی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں واضح طور پر درج ہے کہ 9 برکرویج ہاؤسز نے ای او بی آئی کی جانب سے ایم ٹیکس حصص کے حصول میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس میں ایم کیپ سیکورٹیز پیش پیش تھا جو ایم ٹیکس کا ملحقہ ادارہ ہے۔ لیکن درخواست گزار، یعنی اے کے ڈی سیکورٹیز، کے علاوہ کسی بروکریج ہاؤس کا کوئی شخص گرفتار نہیں ہوا بلکہ زیادہ تر ملزمان مفرور ہیں۔

ای او بی آئی کے سرمائے یا املاک نہ ہی درخواست گزاروں اور نہ ہی اے کے ڈی کے سپرد تھے۔ اس لیے سیکشن 409 پی پی سی کے تحت اے کے ڈی ایس یا درخواست گزاروں نے ای او بی آئی کے فنڈز کا کوئی غلط استعمال نہیں کیا۔ یہ الزامات ان مخصوص افراد پر ہی لگ سکتے ہیں، جنہوں نے سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف لگایا گیا کوئی بھی الزام سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس 1969ء کے سیکشن 475 کے تحت قابل دست اندازی نہیں، نہ ہی ایس ای سی پی کی جانب سے تحریری شکایت کے بغیر اس پر کوئی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مزید برآں، آرڈیننس ہی کے تحت اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں، یوں اے کے ڈی سیکورٹیز اور درخواست گزاروں کے خلاف سیکشن 409 پی پی سی کے تحت مبینہ کمیشن کا الزام مزید تحقیق کا متقاضی ہے۔ اس لیے 12 مئی 2016ء کے مختصر حکم نامے کی بنیاد پر درخواست گزاروں کو ضمانت دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے رواں ماہ کے اوائل میں ای او بی آئی کیس میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے تین اعلیٰ عہدیداران فرید عالم، چیف ایگزیکٹو آفسر اور دو ڈائریکٹرز حاجی اقبال اور طارق آدم کو ضمانت دے دی تھی۔

درخواست گزاروں کے وکلا فروغ نسیم اور ارشد طیب علی ملزمان کی جانب سے بینچ کے روبرو پیش ہوئے تھے اور دعویٰ کیا کہ ایف آئی اے کا قدم غیر قانونی تھا کیونکہ ملزمان نے یہ جرم نہیں کیا اور ایف آئی اے کی ٹیم نے طویل عرصے کے بعد اور بغیر کسی وجہ کے انہیں انکوائری رپورٹ میں نامزد کیا۔ وکلا نے کہا کہ ای او بی آئی-ایم ٹیکس کیس میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے حکام کی شمولیت کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ ایف آئی اے کی صریح عداوت تھی کہ جس میں ان معزز افراد کو پانچ ماہ تک بغیر کسی ثبوت کے حراست میں رکھا گیا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات نے ای او بی آئی ڈائریکٹرز کے بیانات کی بنیاد پر دوسری ایف آئی آر میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے نام شامل کیے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اے کے ڈی سیکورٹیز 2010ء میں میسرز ایم ٹیکس لمیٹڈ کا اہم مینیجر تھا اور اس سلسلے میں اس وقت حصص کی درست قیمت کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی تھی۔ ایف آئی اے نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے ملازمین کو جنوری 2016ء کے پہلے ہفتے میں گرفتار کیا تھا۔

مقدمے کا حقیقی پس منظر

شاہد حیات، ڈائریکٹر، ایف آئی اے

شاہد حیات، ڈائریکٹر، ایف آئی اے


اگر مذکورہ مقدمے میں ایف آئی اے کے کردار کا حقائق کی روشنی میں ایک سرسری جائزہ لیا جائے تو بآسانی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ریاست کے سرکاری ادارے کو بعض عناصر نے اپنے انتقامی ذہن کے ساتھ بُری طرح استعمال کیا۔ ایف آئی کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات پر ابتدا سے ہی یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنے مخصوص مفادات کے تحت میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی ایماء پر سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ یہ پہلو جہانگیر صدیقی کے فرنٹ مین عمران شیخ کی پراسرار حراست کے دوران میں ہونے والی پوچھ گچھ میں بھی سامنے آیا تھا۔ واضح رہے کہ عمران شیخ پراسرار حراست سے رہائی کے بعدماہ اپریل کے ابتدائی دنوں میں صرف شاہد حیات سے ہی ملے تھے اور پھر خاموشی سے دبئی روانہ ہو گئے تھے۔ جب سے وہ تاحال پاکستان نہیں لوٹے۔ یہی نہیں بلکہ جہانگیر صدیقی بھی تب سے بیرون ملک ہیں اور اُنہوں نے عمران شیخ کی رہائی کے بعد نامعلوم انکشافات کے خوف سے ملک میں آنے کے فیصلے کو موخر رکھا ہے۔

ایف آئی اے نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف مذکورہ مقدمہ دراصل جہانگیر صدیقی کے ساتھ اسی ملی بھگت سے قائم کیا تھا۔ اور اپنی عمومی مشق کے برخلاف مقدمہ قائم کرنے کے بعد شاہد حیات نے ذرائع ابلاغ پر اس کا خوب خوب ڈھندوڑا بھی پیٹا تھا۔ مگر تب اکے کے ڈی گروپ کے چیئرمین نے اپنے خلاف قائم مقدمے میں یہ بنیادی سوال اُٹھا یا تھا کہ ای او بی آئی اور اے کے ڈی گروپ کا اس معاملے میں کوئی براہ راست تعلق سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایف آئی اے کس بنیاد پر ایک ایسے معاملے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کو موردِ الزام ٹہرا رہی ہے جس میں سرمایہ کاری سے لے کر کسی بھی حوالے سے کسی بھی فیصلہ سازی میں اُس کا کوئی کردار سرے سے ہے ہی نہیں۔ گروپ چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی کے اس موقف کی سپریم کورٹ کے عدالتی فیصلے سے مکمل تائید ہوئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ایف آئی اے نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جو قدم اُٹھایا تھا وہ ایس ای سی پی کی شکایت کے بغیر قانونی طور پر اُٹھایا نہیں جاسکتا۔ مگر ایف آئی اے نے گھوڑے کے آگے گاڑی باندھتے ہوئے پہلے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف قدم اُٹھا لیا اور بعد ازاں ایس ای سی پی کے ذمہ داران پر سرکاری دباؤ ڈالتے رہے کہ وہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کوئی نہ کوئی ثبوت اُنہیں مہیا کرنے میں مدد فراہم کریں۔ دلچسپ طور پر ایس ای سی پی میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف پہلے سے مخالفانہ فضا ہونے کے باوجود ایس ای سی پی کے پاس اس ضمن میں ڈھونڈنے پر بھی کوئی ایسا ثبوت نہ تھا کہ وہ ایف آئی اے کی مدد کرسکتے۔ چنانچہ اُنہوں نے اپنے ہاتھ اوپر اُٹھاتے ہوئے معذرت کر لی تھی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں بھی واضح کردیا گیا کہ نہ صرف ایف آئی اے ایس ای سی کی تحریری شکایت کے بغیر ایسا کوئی مقدمہ قائم نہیں کرسکتی تھی۔ بلکہ یہ بھی واضح کر دیا کہ جو مقدمہ قواعد کے خلاف قائم کیا گیا ہے اُس میں لگائے گئے الزامات بھی ایسے نہیں ہیں جس پر دست اندازی کی جاسکے۔

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد وزارت داخلہ کی ذمہ داری

چودھری نثار علی خان، وفاقی وزیر داخلہ

چودھری نثار علی خان، وفاقی وزیر داخلہ


وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے متعدد مرتبہ اپنی پریس کانفرنسوں میں خود کو قانون کے مطابق رکھنے اور اپنی وزارت کو انتقامی جذبے سے چلانے سے برات کا اعلان کیا ہے۔ وہ اپنی راست بازی کا چرچا بھی اکثر خود ہی کرتے رہتے ہیں۔ اور ایف آئی اے کو قانون کے مطابق چلانے کا ڈھندوڑا بھی خوب پیٹتے رہتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے بعد اُن کے اِ ن تمام دعووں کی سچائی کا امتحان شروع ہو گیا ہے۔ عدالت عظمی کے اس فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ یہ مقدمہ سرے سے قائم ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس مقدمے کے لیے مجاز اٹھارٹی ایف آئی اے نہیں بلکہ ایس ای سی پی تھا۔ اور ایس ای سی پی نے ایسی کوئی شکایت نہیں کی۔ پھر ایف آئی اے قواعد کے خلاف اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بروئے کار کیوں آئی؟ عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ ایف آئی اے نے جو الزامات قواعد کے خلاف قائم مقدمے میں لگائے تھے، وہ الزامات بھی قابل دست اندازی نہ تھے۔ اسے کے باوجود ایف آئی اے نے نہ صرف دست اندازی کی بلکہ دست درازی بھی کی۔ ایسی صورت میں ایف آئی اے کی بدنیتی اور انتقامی ذہنیت پوری طرح آشکار ہوجاتی ہے۔ وزارت داخلہ کوڈائریکٹر ایف آئی اے سدھ شاہد حیات کے خلاف ایک تفتیش کے بعد کھوج لگانے کی ضرورت ہے کہ وہ سرکاری ادارے کو کن افراد کی مرضی سے بہیمانہ اور منتقمانہ طور پر استعمال کرنے کے مرتکب ہوئے۔ ایف آئی اے نے اس مقدمے میں مجموعی طور پر وزیرداخلہ چودھری نثار کی ساکھ کوبھی داؤ پر لگادیا ہے۔ کیونکہ یہ بدترین انتقامی ذہنیت کے ساتھ قائم مقدمہ اُن کی وزارت کے عرصے میں عین اُن کی ناک کے نیچے ہوا ہے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر