وجود

... loading ...

وجود

معروف قوال امجد صابری قاتلانہ حملے میں جاں بحق، قانون نافذ کرنے والے ادارے تنقید کی زد میں

جمعرات 23 جون 2016 معروف قوال امجد صابری قاتلانہ حملے میں جاں بحق، قانون نافذ کرنے والے ادارے تنقید کی زد میں

amjad-sabri

کراچی کے مشہور ترین علاقے لیاقت آباد میں فائرنگ کےایک دل دہلادینے والے واقعے میں معروف قوال امجد صابری ہلاک ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امجد صابری اپنے ساتھی کے ہمراہ گاڑی میں جارہے تھے، کہ اسی دوران لیاقت آباد نمبر 10 کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار ملزمان نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔فائرنگ کے واقعے کے بعد امجد صابری کے پاس موقع پر پولیس کے پہنچنے میں کافی وقت لگا، عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے بعد اگلے دس سے پندرہ منٹ تک امجد صابری کی سانسیں چل رہی تھیں۔ مگر اُنہیں کوئی طبی امداد نہیں دی جاسکی۔ امجد صابری کی موقع پر بنائی گئی ویڈیو سے بھی ظاہر ہے کہ تماش بینوں کو اُنہیں اسپتال پہنچانے سے زیادہ اُن کی ویڈیو بنانے میں دلچسپی تھی۔ فائرنگ کے نتیجے امجد صابری موقع پر دس سے پندرہ منٹوں تک سانس لیتے رہنے کے بعدبآلاخر دم توڑ گئے۔ عباسی شہید ہسپتال کے ہیلتھ سروسز کے سینئر ڈائریکٹر نے امجد صابری کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امجد صابری ہسپتال پہنچنے سے قبل ہلاک ہوچکے تھے۔ان کے ساتھ گاڑی میں موجود سلیم صابری کےزخمی ہونے کے متعلق ذرائع ابلاغ میں آخر تک متضاد اطلاعات گردش کرتی رہیں۔

طریقہ واردات

امجد صابری پر حملے میں کچھ پہلو نئے اور طریقہ واردات میں مختلف لگتے ہیں ۔ اس ضمن میں اولین پہلو امجد صابری پر استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے۔ کرا چی میں گزشتہ چند برسوں میں عام طور پر نائن ایم ایم کی پستول استعمال ہوتی رہی ہے ۔ مگر ایک طویل عرصے کے بعد 30 بور کی پستول استعمال ہوئی ہے جسے عرف عام میں ٹی ٹی پستول کہتے ہیں۔ کراچی میں چند برس قبل تو یہ پستول استعما ل کی جاتی تھی مگر اب طویل عرصے سے ٹارگٹ کلنگ میں یہ ہتھیار استعمال نہیں ہورہا تھا۔

امجد صابری کو ہلاک کرنے والے گروہ نے ایک مختلف انداز سے سوچتے ہوئے جائے واردات بھی انتہائی معنی خیز چُنی ہے۔ لیاقت آباد کا یہ علاقہ عام طور پر متحدہ قومی موومنٹ کی متشددانہ حمایت کے اعتبار سے مشہور رہا ہے۔ عام طور پر کسی کو ہدف بنانے کے لیےایسے گنجان علاقے کو چننا انتہائی خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ پھر یہ علاقہ اس اعتبار سے زیادہ خطرناک بن جاتا ہے جب ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کر لیا جائے جو دن کا ہو۔ دوپہر یا سہ پہر کا وقت دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے عام طور پر کم کم منتخب کیا جاتا ہے۔ مگر اس سے قبل منصف اعلی سندھ کے صاحبزادے اویس شاہ کے اغوا اور اب امجد صابری کے اہدافی قتل میں مجرم وقت کے انتخاب میں بھی کچھ زیادہ دیدہ دلیری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یہ اب تک کے طریقہ واردات میں مجرموں کے ذہن سے مختلف نوعیت کے پہلو ہیں جو منصوبہ بندی میں مختلف دکھائی دیتے ہیں۔

امجد صابری کی ہلاکت کے بعد اب تک پولیس کی تفتیش میں کوئی خاص چیز نمایاں نہیں ہوسکی۔ تاہم جائے واردات کے حوالے سے پولیس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ جائے وقوعہ سے 30 بور کی 5 گولیوں کے خول ملے ہیں اور ملزمان فائرنگ کے بعد حسن اسکوائر کی جانب فرار ہو ئے تھے۔ گویا فائرنگ کرنے والے لیاقت آباد کے علاقوں میں چھپنے کے لیے گم نہیں ہوئے بلکہ وہ لیاقت آباد کے علاقے سے باہر نکلے ہیں۔ کیا یہ پہلو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ اہدافی قاتل لیاقت آباد کے علاقے سے باہر سے آئے تھے؟

امجد صابری کو ملنے والی دھمکیاں

سندھ سنسر بورڈ کے چیئرمین فخرعالم نے انکشاف کیا کہ امجد صابری کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے سیکیورٹی کے لیے درخواست بھی دی تھی مگر صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی اقدام نہیں لیا گیا۔اس ضمن میں ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی انتہائی سنسنی خیز موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امجد صابری ایم کیوایم کے کارکنوں کی طرح تھے اور اُنہوں نے خود ڈاکٹر فاروق ستار کو یہ بتایا تھا کہ اُنہیں دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اس ضمن کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ منکشف کیا گیا کہ ایم کیوایم کے اندر سے نئی وجود میں آنے والی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی طرف سے امجد صابری کو متعدد بار اُن کی جماعت کے پروگراموں میں پرفارمنس کے لیے درخواست کی جاتی رہی مگر وہ اس سے اجتناب کرتے رہے۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں نے اس سے یہ تاثر اُبھارنے کی کوشش کی کہ امجد صابری کو اس کے بعد دھمکیاں ملنے کا آغاز ہوا۔ الزامات کی حد تک پاکستان میں سیاسی جماعتیں کسی بھی حد سے آگے نکل جاتی ہیں۔ مگر یہ پہلو کراچی میں قیام امن کی سنجیدہ کوشش کرنے والے اداروں کے لیے انتہائی خطرناک حالات کی افزائش کی خبر دیتا ہے۔

اس ضمن میں ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح کسی بھی واردات کے بعد ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ محسود نے امجد صابری پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔


متعلقہ خبریں


مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ وجود - اتوار 05 اپریل 2026

شہباز حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر بجٹ سبسڈی 830 ارب تک محدود رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور سبسڈی میں کمی ہوگی پاور سیکٹر گردشی قرض کو ختم کرنیکا مطالبہ، آئی ایم ایف کو توانائی کے شعبے کی بہتری اور اصلاحاتی پیکیج پر عملدرآمد تیز ...

مہنگائی سے نئے طوفان کا خطرہ،حکومت کا بجلی، گیس کومزید مہنگی کرنے کافیصلہ

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

یاد رکھیںوقت نکلتا جا رہا ہے، ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت دیا ہے،معاہدہ نہ ہوا تو جہنم برسادیں گے، ٹرمپکا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں بیان امریکی صدر کے جھنجھلاہٹ کی وجہ امریکا میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ہیں، کیلیفورنیااور اوکلاہوما سمیت دیگر ...

ایران پر48 گھنٹے بعد قیامت ٹوٹ پڑے گی،امریکی صدر کی نئی دھمکی

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم وجود - اتوار 05 اپریل 2026

15 دن کے اندراندر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا کسی ٹرانسپورٹ پر لگے نشانات ہٹا دیں کسٹم کی کارروائی کے بعد بڑا اقدام،سندھ بار کونسل کاخلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ کسٹم حکام کی جانب سے ایڈووکیٹ مونوگرام لگی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے بعد سندھ بار کونسل نے اہم فیصلہ...

وکلاء کو گاڑیوں سے مونوگرام، تختیاں ہٹانے کا حکم

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی وجود - اتوار 05 اپریل 2026

حادثات واقعات میں 4 افراد لاپتا ہو گئے،2448 گھروں کو نقصان پہنچا بعض مکانات منہدم ،مختلف مقامات پر سینکڑوں مال مویشی ہلاک،افغان میڈیا حالیہ بارشوں اور قدرتی آفات کے باعث افغانستان میں 61 افراد جاں بحق جبکہ 116 افراد ہوئے ہیں، جبکہ ان واقعات میں 4 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔بارشو...

افغانستان میںطوفانی بارشوں سے 61 افراد جاں بحق، 116 زخمی

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب وجود - اتوار 05 اپریل 2026

جدید سرویلینس اور سپیڈ چیک کرنے کے کیمرے، سولر پلیٹس، لائٹس اور پولز کچے کے ڈاکوؤں نے چوری کرلیے موٹر وے ایم 5 بدانتظامی کا شکار ، پولیس کا عملہ پرانی طرز پر اسپیڈ کیمرے سڑک کنارے رکھ کر جرمانے کرنے لگا صوبہ سندھ میں سکھر ملتان موٹر وے پر 200 کلو میٹر تک لگے جدید کیمرے چوری ...

سکھر ملتان موٹر وے کے کیمرے و دیگر مہنگے آلات چوری، پولیس چوکیوں کی چھتیں غائب

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو) وجود - اتوار 05 اپریل 2026

مشکل معاشی حالات میں تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات بالائے طاق رکھ کر کام کرنا ہوگا ایران پر مسلط غیر قانونی جنگ کا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، چیئرمین کا جلسے سے خطاب چیٔرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ ...

صہیونی قوتیں پاکستان کی طرف ملی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتیں(بلاول بھٹو)

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز وجود - اتوار 05 اپریل 2026

ملک بھر میں توانائی کی بچت کیلئے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز صوبائی حکومتیں کی چیمبرز اور تجارتی تنظیموں سے مشاورت جاری ، ذرائع وزارتِ توانائی نے ملک بھر میں توانائی کی بچت کے لیے چاروں صوبوں سے مشاورت کا عمل تیز کر دیا۔ وزارتِ توانائی کے ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتیں چی...

مارکیٹیں، دکانیں شام 6 بجے بند کرنے کی تجویز

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

مضامین
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول وجود اتوار 05 اپریل 2026
مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول

کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟ وجود اتوار 05 اپریل 2026
کیا تمہارے پاس انسان بھی تھا؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا ! وجود اتوار 05 اپریل 2026
ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کر کے اپریل فول منایا !

امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر