وجود

... loading ...

وجود

ریحام خان کو لندن کا دورہ پھر بھاری پڑ گیا! "نیو" نے فارغ کر دیا

جمعه 10 جون 2016 ریحام خان کو لندن کا دورہ پھر بھاری پڑ گیا!

reham-khan

یوں لگتا ہے کہ ریحام خان کے لیے دورہ لندن اب ایک ڈراونے خواب سے کم نہیں۔ ریحام خان کو نیو ٹی وی کی انتظامیہ نے اُس وقت ادارے سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا جب وہ لندن کے دورے پر ہیں۔ لندن کے نشریاتی ادارے بی بی سی میں ویڈھر گرل سے معروف اور عمران خان سے شادی کرکے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی ریحام خان کے لیے اس مرتبہ بھی بُری خبر اُس وقت آئی جب وہ لندن کے دورے پر ہیں۔عمران خان سے ناچاقیوں میں گھری ریحام خان اپنی شادی کے آخری ایام میں بنی گالہ سے باہر نکلنے کو تیار نہیں تھیں۔ ریحام خان نے دورہ لندن کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا تھا جب عمران خان بلدیاتی انتخابات کی سیاسی مجبوریوں میں گھرے ہوئے تھے۔ اور ریحام خان کا اندازہ یہی تھا کہ وہ ان دنوں میں لندن کا دورہ کرسکتی ہیں، کیونکہ تب ریحام خان کے خیال میں عمران خان نجی زندگی کا کوئی ایسا فیصلہ نہیں کریں گے جو اُنہیں سیاسی طورپر نقصان پہنچانے کا باعث بنتا۔ مگر جیسے ہی ریحام خان نے لندن کے لیے پرواز لی تو عمران خان نے سیاسی مجبوریوں کی پرواہ کیے بغیر اُنہیں ساتھ ہی پروانہ طلاق بھی بھجوادیا۔ نیو ٹی وی کی انتظامیہ نے بھی کچھ ایسا ہی راستا چُنا۔

ابتدا میں ریحام خان کا خیال تھا کہ وہ ایک سلیبرٹی کے طور پر پاکستان کے کسی بھی ٹیلی ویژن پر منہ مانگے داموں سے جلوہ گر ہو سکتی ہیں۔ مگر ابتدائی کوششوں میں ہی ریحام خان کے تمام خواب چکناچور ہونے لگے۔ اُنہیں پاکستان کے بڑے نجی اداروں نے کسی بھی طرح کی کوئی پیشکش ہی نہیں کی

عمران خان کی طرف سے طلاق ہونے کے بعد ریحام خان نے ایک مرتبہ پھر ٹیلی ویژن کی دنیا میں قدم جمانے کی کوشش کی۔ ابتدا میں ریحام خان کا خیال تھا کہ وہ ایک سلیبرٹی کے طور پر پاکستان کے کسی بھی ٹیلی ویژن پر منہ مانگے داموں سے جلوہ گر ہو سکتی ہیں۔ مگر ابتدائی کوششوں میں ہی ریحام خان کے تمام خواب چکناچور ہونے لگے۔ اُنہیں پاکستان کے بڑے نجی اداروں نے کسی بھی طرح کی کوئی پیشکش ہی نہیں کی۔ جیو کی انتظامیہ پہلے سے ہی عمران خان سے خائف تھیں ، اور وہ نوازشریف کی حکومت سے بے پناہ قربت کے باعث عمران خان کے خلاف ایک مہم کا مستقل حصہ تھیں۔ جس کے باعث عمران خان نے دھرنے کے ایام میں جیو ٹی وی کی انتظامیہ کو بھی اچھا خاصا سبق سکھانے کی کوشش کی تھی۔ دھرنے کے بعد جیو کی انتظامیہ عمران خان کے ساتھ “ڈیمیج کنٹرول ” کی کوششوں میں جُتی تھیں ، اس لیے جیو نے ریحام خان کو پیشکش کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ یہاں تک کہ ریحام خان ڈان ٹی وی میں بھی طلاق کے بعد اپنی واپسی نہ کراسکی تھیں ، جہاں وہ شادی سے قبل کام کررہی تھیں۔ان حالات میں ریحام خان کو “نیو” ایسے نوآموز ادارے میں کام کرنا پڑا۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق ریحام خان نے نیو انتظامیہ کو باور کرایا تھا کہ اُس کا پروگرام “تبدیلی” چینل کے لیے کافی کارآمد، تجارتی طور پر مفید اور شہرت کا باعث ثابت ہوگا۔ مگر ریحام کا پروگرام نیو ٹی وی کو ریٹنگ دلانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ ایسی صورت میں پچاس لاکھ کی تنخواہ ادارے کے لیے ایک بوجھ بنتی جارہی تھی۔ ایک ناکام پروگرام کے باوجود نیو انتظامیہ ریحام خان کی مستقل ڈیمانڈز سے بھی خاصی تنگ تھی۔ جبکہ ریحام خان کی جھگڑالو طبعیت خود اُس کے اسٹاف کے لیے مسلسل اذیت کا باعث بنتی رہتی۔ان حالات میں جب نیو انتظامیہ نے ریحام خان کو مسلسل گراوٹ سے دوچار ریٹنگ کی طرف متوجہ کیا تو اُس نے پلٹ کر یہ جواب دیا تھا کہ نیو کو تو جانا ہی میری وجہ سے جاتا ہے۔ریحام خان کی طرف سے اکثر مواقع پر کہے گیے اس فقرے کانیو انتظامیہ نے بہت بُرا منایا۔ مگر ان تمام مسائل کے باوجود “نیو” انتظامیہ ریحام خان سے مسلسل نباہ کررہی تھی۔ مگر ریحام خان کو فارغ کرنے کی فوری وجہ اُس کا غیر پیشہ ورانہ رویہ بنا۔

اطلاعات کے مطابق رمضان کی آمد سے ایک ماہ قبل ریحام خان نے نیو انتظامیہ کو کہا تھا کہ وہ ٹی وی کی رمضان نشریات خود کرینگی۔ اس ضمن میں ریحام خان نے باور کرایا تھا کہ وہ نیو کوایک بڑا بزنس بھی دلائیں گی۔ جبکہ وہ اپنے اضافی معاوضے کا بندوبست بھی اسی بزنس سے خود کرینگیں۔ نیو انتظامیہ نے ریحام خان کو اُس کی پیشکش کے مطابق رمضان نشریات دینے کا فیصلہ کیا۔ رمضان نشریات کے سیٹ وغیر ہ کی تیاری ریحام خان کو سامنے رکھ کر کی گئی۔ مگر رمضان سے صرف ایک روز قبل اُس نے نیو انتظامیہ کو بغیر کوئی وجہ بتائے پروگرام نہ کرنے کا کہہ دیا۔ اور خود لندن چلی گئیں۔ اس اچانک افتاد کے باعث نیو کی انتظامیہ کو اپنی رمضان نشریات کے لیے اپنے ہی نیوز اینکرز پر انحصار کرنا پڑا۔ اور رمضان نشریات جیسے تیسے اپنے نیوز اینکرز فرید رئیس ، مشل بخاری اور مریم اسماعیل سے شروع کرانی پڑیں۔ نیو انتظامیہ نے اس موقع پر ریحام خان سے جان چھڑانے کا موقع غنیمت جانتے ہوئے اُنہیں فارغ کرنے کا فیصلہ بھی کر دیا۔ اور اس سے باقاعدہ طور پر اُنہیں آگاہ بھی کردیا گیا۔اس طرح ریحام خان نے اپنی زندگی کی دونوں بُری خبریں اُس وقت سنیں جب وہ لندن کے دورے پر تھیں۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں وجود هفته 18 اپریل 2026
معاشرتی تبدیلی کا تدریجی سفر اور ہماری ذمہ داریاں

بھارت میں مزدوروں کا احتجاج وجود هفته 18 اپریل 2026
بھارت میں مزدوروں کا احتجاج

پتھرکا انسان وجود هفته 18 اپریل 2026
پتھرکا انسان

ہم صرف مردہ روحیں بن چکے ! وجود جمعه 17 اپریل 2026
ہم صرف مردہ روحیں بن چکے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر