وجود

... loading ...

وجود

شاہد حیات کی چھٹیاں یا چھٹی؟

جمعرات 14 اپریل 2016 شاہد حیات کی چھٹیاں یا چھٹی؟

shahid-hayat

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات عمران شیخ کے دبئی فرار کے بعد بآلاخر چھٹیوں پر چلے گیے۔ پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار کے ذریعے اپنی “جعلی”ایمانداری کا تاثر مستحکم رکھ کر بے ایمان لکھنے والوں سے اپنی “ایمانداری” کی سند پانے والے شاہد حیات اپنے کیرئیر کے عروج میں مکمل بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اور یہ کام کسی اور نے نہیں اُن کے سب سے قریبی دوست اور اُن کی تمام دن کی روشنیوں اور رات کی تاریکیوں کی سرگرمیوں کے رازداں عمران شیخ نے سرانجام دیا۔

عمران شیخ کے پاس سے ایک 148 گیگا بائٹس کا ڈیٹا ملا ہے جس میں ایف آئی اے ، نیب، پولیس اور اعلی عدلیہ سے لے کر سفارت کاروں اور بیوروکریسی کے اہم ذمہ داروں تک کو اُن کے بیوی بچوں کے ساتھ “خوش رکھنے” کی مکمل اور باتصویر تفصیلات موجود ہیں

شاہد حیات نے ایف آئی اے میں مختلف متنازع سرگرمیوں میں جن دو بڑے مقدمات میں بدترین تنقید کا سامنا کیا اُن میں ایگزیکٹ (بول) اور اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف غلط مقدمات شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جہانگیر صدیقی کے فرنٹ مین اور مختلف اداروں کے افسران کی ہر قسم کی خواہشات کی تکمیل کرنے والے عمران شیخ ان دونوں مقدمات میں شاہد حیات کی پشت پر دکھائی دیئے۔ عمران شیخ نے گزشتہ دنوں اپنی حراست میں جو سنسنی خیز انکشافات کیے اُن میں شاہد حیات کے ساتھ “رفاقت” کی اُس “قیمت” کا بھی تذکرہ تھا جو وہ مختلف اوقات میں ادا کرتے رہے۔ اداروں کے لیے یہ ایک سنسنی خیز انکشاف تھا کہ ملک کی سب سے بڑی سویلین تحقیقاتی ایجنسی ، ایف آئی اے چند بااثر افراد کے نجی ہاتھوں میں اس طرح استعمال ہوتی ہو کہ اُسے حکومت میں موجود چند بااثر لوگوں کی طرف سے “نادیدہ” حمایت بھی ملتی رہے۔ اور نجی سطح پر بااثر لوگ اسے مسلسل استعمال بھی کرتے رہیں۔ اے کے ڈی سیکورٹیز اور بول کے خلاف مقدمات کی تیاری میں ثبوتوں کے بجائے پس منظر میں اس مکروہ کاریگری نے کام کیا۔ جس کی منفعت بخش نگرانی اور کسی نے نہیں بلکہ عمران شیخ نے کی۔ انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق عمران شیخ کو ان تمام کاموں کی ہدا یت جہانگیر صدیقی اور اُن کے سمدھی دیتے رہے۔ عمران شیخ شاہد حیات سے موثر کام لیتے ہوئے اُن کی تمام خواہشات کا خیال کرتے رہے۔ خود عمران شیخ کے ذریعے سامنے آنے والے ان حقائق کے بعد یہ ضروری تھا کہ اُس زنجیر پر دھیان دیا جاتا جو وزیر اعظم ہاؤس میں موجود وزیراعظم کے سیکریٹری فواد ، چیئرمین سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) طاہر محمود ، عمران شیخ، جہانگیر صدیقی کے صاحبزادے علی جہانگیراور شاہد حیات کے درمیان اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ناقابل فہم مقدمے کی تیاری میں مکروہ انداز سے حرکت میں آئی۔ اس ضمن میں شاہد حیات کی خو دایف آئی اے میں جن افسران نے صحیح و غلط کے امتیاز سے بے نیاز ہو کرحمایت کی اُن میں ڈپٹی ڈائریکٹر کمرشل بینکنگ سرکل الطاف حسین ، ڈپٹی ڈائریکٹر کارپوریٹ کرائم سرکل کامران عطااللہ اور انسپکٹر سراج پنہور شامل تھے۔ مگر اوپرسے نیچے تک قائم اس تال میل نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف قائم کیے گیے مقدمے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں دکھائی۔ یہاں تک کہ شاہد حیات نے عمران شیخ کی جانب سے دوران حراست شاہد حیات کے متعلق سنسنی خیز انکشافات کیے جانے کے بعد بھی ہاتھ پاؤں مارنے کی پوری کوشش کی۔ وہ ایک طرف ایف آئی اے سے ایک “آبرومندانہ” رخصت چاہ رہے تھے، تو دوسری طرف وہ جاتے جاتے ایس ای سی پی سے کسی نہ کسی حدتک کوئی ایسا ثبوت یا شہادت چاہ رہے تھے جو اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف قائم مقدمے میں کسی بھی طرح اُن کی فیس سیونگ کر سکتے۔ یا اُن کے “جعلی ایمانداری” کے بھرم کو برقراررکھنے میں مددگار ثابت ہوتے۔مگر ایسا کچھ بھی نہ ہو سکا۔ ایس ای سی پی نے شاہد حیات کی عزت بچانے سے زیادہ اپنے ادارے کی عزت بچانا زیادہ ضروری سمجھا اور ایک غلط مقدمے میں کسی غلط ثبوت کی فراہمی سے بھی خود کو الگ رکھا۔ دوسری طرف شاہد حیات کو خود اُن کے ہی رازداں عمران شیخ نے پوری طرح بے نقاب کردیا۔

عمران شیخ نے گزشتہ دنوں اپنی حراست میں جو سنسنی خیز انکشافات کیے اُن میں شاہد حیات کے ساتھ “رفاقت” کی اُس “قیمت” کا بھی تذکرہ تھا جو وہ مختلف اوقات میں ادا کرتے رہے

باخبر ذرائع کے مطابق عمران شیخ نے دوران حراست اُس پوری “سائنس” کو بیان کر دیا ، جو وہ مختلف اداروں میں اپنے اثرورسوخ کو پیدا کرنے اور پھر اُسے قائم رکھنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ عمران شیخ نے پولیس، ایف آئی اے، نیب اور عدلیہ میں اپنے اثرورسوخ کی تمام کہانیاں بیان کر دیں ۔ یہاں تک کہ اُن سب کے نام اور اُنہیں مختلف فوائد پہنچانے کے تمام طریقے بھی پوری تفصیلات کے ساتھ بیان کر دیئے۔ حساس ادارے کے ذمہ داران عمران شیخ کی گاڑی سے ملنے والی اشیاء دیکھ کر حیران ہو گیے جو ایک منی سپر اسٹور کی طرح لگ رہی تھی۔ اس میں موجود تین بڑے بکسوں میں سے ایک بکسے میں حیرت انگیز طور پر آب زم زم کی بوتلیں، تراجم کے ساتھ شائع ہونے والےقرآن پاک کے سعودی ایڈیشن ، قیمتی پتھروں پر مقدس شبیہیں اور دیگر مذہبی عقیدت کی اشیاء تھیں ۔ جبکہ دوسرے بکسے میں مختلف قسم کی مہنگے نشہ آور مشروبات تھے، نشہ آور چاکلیٹ کے علاوہ رات کی روشنیوں بھری سرگرمیوں کو خواب آور بنانے کے تمام لوازمات تھے۔ عمران شیخ کی گاڑی سے ملنے والے تیسرے بکسے میں بیش قیمت گھڑیاں ، پرفیوم ، سونے کے قیمتی ہار، ہیروں کی انگوٹھیاں ،کنگن ، اسمارٹ فون، بچوں کے لئےٹیب لیٹ سیٹ وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ عمران شیخ نے دوران حراست بتایا تھا کہ وہ ان اشیاء کو مختلف بااثر لوگوں کو تحائف کے طور پر تقسیم کرتے ہیں۔ اور پھر اُنہیں آہستہ آہستہ اپنی ڈھب پر لاکر بیرون ملک اُن کی اوقات کے مطابق فائیو اسٹار سے لے کر سیون اسٹار ہوٹلوں میں قیام کے ساتھ دورے کراتے ہیں۔ یہی لوگ بعد ازاں مختلف معاملات میں اُن کے مددگار بنتے ہیں۔ عمران شیخ کے پاس سے ایک 148 گیگا بائٹس کا ڈیٹا ملا ہے جس میں ایف آئی اے ، نیب، پولیس اور اعلی عدلیہ سے لے کر سفارت کاروں اور بیوروکریسی کے اہم ذمہ داروں تک کو اُن کے بیوی بچوں کے ساتھ “خوش رکھنے” کی مکمل اور باتصویر تفصیلات موجود ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس میں مختلف سیاست دانوں اور اُن کے خاندان کے دیگر افراد کی بھی اسی طرح کی فیض یابی کی تفصیلات پائی جاتی ہیں۔ شاہد حیات بھی اِسی سمندر کے غوطہ خور تھے۔ جن کی انتہائی شرمناک تفصیلات اُن کی” ایمانداری “کی تمام جعلی داستانوں کا بھرم کھول دیتی ہے۔

عمران شیخ کی حراست کے دوران زندگی کے تمام شعبوں کے اہم ترین افراد نے اُن کی رہائی کی کوششیں کی۔ اور یہ محض اس وجہ سے کہ عمران شیخ نے محض اُن افراد کو ہی نہیں بلکہ اُن کے اہل ِ خانہ ،بیوی بچوں تک کو رشوت سے آلودہ کررکھا تھا۔ جہانگیر صدیقی کے اس مہرے نے جو طریقہ واردات اختیار کر رکھا تھا ، اُس نے پاکستان کے تمام سرکاری اداروں ، عدلیہ کے کچھ ذمہ داروں، بیورو کریسی ، ایف آئی اے، نیب ، پولیس اور سیاست دانوں تک کو برہنہ کردیا ہے۔ افسوس ناک طور پر یہ ضروری سمجھا گیا کہ عمران شیخ کو رہائی کے بعد فرار ہونے کا موقع دیا جائے۔ مگر ساتھ ہی ایک دلچسپ قدم یہ سامنے آیا کہ جہانگیر صدیقی کے سب سے اہم دوست شاہد حیات کو خود جہانگیر صدیقی کے سب سے اہم مہرے نے مکمل بےنقاب کردیا۔ یہاں تک کہ اُنہیں جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا، جو ایف آئی اے سے اُن کی مستقل چھٹی کی طرف پہلا قدم ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق جبری چھٹی پر بھیجنے سے قبل شاہد حیات کو ایف آئی اے سے برطرف کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ مگر تب شاہد حیات نے ایک بار پھر اپنے سیاسی اور کاروباری سرپرستوں کو آواز دی کہ وہ یہ سارے کام اُن کی خواہشات کے مطابق سرانجام دیتے رہے ہیں۔ اور اُن کی ایف آئی اے سے معطلی یا برطرفی کا اُن کے کیرئیر پر بہت بُرا اثر پڑے گا۔ لہذا اُنہیں چھٹی پر بھج دیا جائے۔ عمران شیخ تو فرار ہو گیے مگر اُن کا طریقہ واردات شاید اب بھی کہیں نہ کہیں کام کررہا ہے۔ تب ہی تو شاہد حیات کو اپنی “فیس سیونگ” یعنی چہرہ بچائی کا پورا موقع مل رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

اصفہان، کرج سمیت دیگر شہر دھماکوں سے گونجتے رہے، شہریوں نے خوف کی رات گزاری کئی علاقوں میں زوردار دھماکے سنے گئے ،دھماکوں سے زمین اور عمارتوں کی کھڑکیاں تک لرز رہی تھیں،عینی شاہدین ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے بعد شہریوں نے خ...

امریکا و اسرائیل کی تہران پر بمباری

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

پاسدارانِ انقلاب کا کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ تازہ حملوں میں الادائری ہیلی کاپٹر ایٔر بیس، محمد الاحمد نیول بیس اور علی السالم ایٔر بیس شامل ہیں ،ذرائع ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈ...

ایران کے تابڑ توڑجوابی حملے جاری، کویت اور بحرین نشانہ

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

موجودہ حکمران ٹرمپ کو نوبل انعام دے رہے تھے ،ایوان میں قرارداد پیش کرکے اسرائیل کی مخالفت کی جائے( لطیف کھوسہ) رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کا قانون سازی کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں ایک بار پھر گرما گرمی، شاہد خٹک اور ڈاکٹر زرقا میں تلخ جمل...

اپوزیشن اتحاد کا اجلاس، اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویزپر غور

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر وجود - جمعرات 12 مارچ 2026

عالمی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی،سکیورٹی کو سنگین خطرات ہیں ایران امن قائم رکھنا چاہتا ہے، مسعود پزشکیان کی وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق و...

خطے کے کسی ملک کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں،ایرانی صدر

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی وجود - بدھ 11 مارچ 2026

ابھی تو آغاز ہے ایران جنگ کے خاتمے کا حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے، ہمارا عزم لامتناہی جنگ ہے ٹرمپ پر منحصر ہے جنگ کب تک چلتی ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے،امریکی وزیر دفاع نئے سپریم لیڈرعقلمندی کا مظاہرہ کریں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواب ترک کر دیں، جنگ کے نت...

آج ایران پر حملوں کا شدید دن ہوگا،امریکا کی نئی دھمکی

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ وجود - بدھ 11 مارچ 2026

آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، سپر ٹیکس کا خاتمہ اور تنخواہ پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد ممکنہ کمی عالمی مالیاتی ادارہ کی منظوری سے مشروط کردی تیسرے اقتصادی جائزے کے حوالے سے ورچوئل مذاکرات جاری،وزارت خزانہ حکام نے معاشی صورت حال اور نئے بجٹ سے متع...

زرمبادلہ کے ذخائر کا 18 ارب ڈالرکا ہدف پورا کریں،آئی ایم ایف کا مطالبہ

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب وجود - بدھ 11 مارچ 2026

بلوچستان پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن، ایک ہی جھٹکے میں 144 ملزمان کو دھر لیا 122 پسٹل، ریوالور، 4 مہلک کلاشنکوف، 594 کارتوس اور 91 میگزین برآمد بلوچستان میں پولیس کی شاندار کریک ڈاؤن: اشتہاریوں اور منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی گئی، 10 مغوی بازیاب کرالیے گئے۔آئی جی پولیس بلوچ...

پولیس نے اشتہاریوں،منشیات فروشوں کی کمر توڑ دی، 10 مغوی بازیاب

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط وجود - بدھ 11 مارچ 2026

نئے سپریم لیڈر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد والد کی شہادت پر تعزیت کا اظہار ان کی قیادت میں امن، استحکام، وقار اور خوش حالی کی طرف ایران کی رہنمائی کرے گی وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارک باد اور ان کے والد کی شہ...

ایرانی قیادت و عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، وزیراعظم کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع وجود - بدھ 11 مارچ 2026

پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا متحدہ عرب امارات سے جہاز تقریباً 50 ہزار میٹرک ٹن خام تیل لے کر آیا ہے مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث پاکستان می...

توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ وجود - منگل 10 مارچ 2026

55 روپے اضافہ اشارہ ہے کہ آگے کیا ہوگا، خطے میں کہیں پیٹرول کی قیمت اتنی زیادہ نہیں بڑھی، عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے پر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، سلمان اکرم راجا ہم ایٹمی قوت ہیںپاکستان اپنا کردار ادا کرے، بدقسمتی سے ملک میں اداروں اور عوام کو ا...

بورڈ آف پیس چھوڑیں، پیٹرول کی قیمت کم کریں،اپوزیشن اتحاد کا ایران جنگ میں فریق نہ بننے کا مطالبہ

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم وجود - منگل 10 مارچ 2026

ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے، ساکھ متاثر کرنے کے مقدمے کی سماعت سینئر سول جج عباس شاہ نے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر د...

سہیل آفریدی کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند وجود - منگل 10 مارچ 2026

سرکاری افسران کی گاڑیوں کیلئے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی صوبائی وزراء اور اعلی سرکاری افسر کے ہمراہ چلنے والی پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے خطے میں جنگ کے نتیجے میں غیر معمولی معاشی مشکلات کے مقابلے کے لیے غیر معمولی اقدامات ک...

پیٹرول بحران خاتمے تک صوبائی وزراء کیلئے سرکاری فیول بند

مضامین
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت وجود جمعرات 12 مارچ 2026
ذہنی ادراک اور نصاب کی عجلت

مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
مجتبیٰ خامنہ ای بڑے سے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں!

کشمیریوں سے امتیازی سلوک وجود جمعرات 12 مارچ 2026
کشمیریوں سے امتیازی سلوک

سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے! وجود جمعرات 12 مارچ 2026
سب سے بڑی غلامی اپنی خواہشات کی غلامی ہے!

منٹو کا انسانیت پر ایمان وجود بدھ 11 مارچ 2026
منٹو کا انسانیت پر ایمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر