وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

طالبان کا جنگ تیز کرنے کا منصوبہ

بدھ 06 اپریل 2016 طالبان کا جنگ تیز کرنے کا منصوبہ

افغانستان سے ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ افغان طالبان کے عسکری بازو حقانی نیٹ ورک نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ فیصلہ کن معرکے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ ایسا سب کچھ اس وقت سامنے آیا ،جب افغان طالبان نے امریکا کی چھتری تلے ’’امن مذاکرات‘‘ سے انکار کردیا ہے۔ ان مذاکرات میں امریکا خود کے بجائے کابل میں موجود اپنی کٹھ پتلی افغان انتظامیہ کو طالبان کے سامنے مذاکراتی فریق کے طور پر لانا چاہتا تھا ۔ اس سے پہلے دوحہ میں موجود چینی سفارتکاروں نے بھی بیجنگ کی ایماپر افغان طالبان کے آفس سے روابط شروع کردیئے تھے۔ خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن افغان طالبان کا موقف ہے کہ اصل جنگ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان ہورہی ہے۔ اس لئے مذاکرات کے دو اہم فریق افغان طالبان اور امریکا ہیں اس لئے اگر امریکا مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو سب سے پہلے افغانستان سے اپنی افواج نکالے، اس کے بعد مذاکرات کئے جاسکیں گے۔لیکن ان تمام عوامل کے باوجود امریکا کابل میں موجود اشرف غنی انتظامیہ کو سامنے لاکر خود ’’فیس سیونگ‘‘ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس مرحلے پر بھی طالبان قیادت نے امریکا کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

افغان طالبان کے عسکری بازو حقانی نیٹ ورک نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ فیصلہ کن معرکے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

چین کی خواہش ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ افغانستان سمیت تمام خطے میں امن وامان کی صورتحال قائم ہوجائے کیونکہ وہ اس وقت پاکستان میں پاک چین اقتصادی راہ داری کے علاوہ اور بھی بہت سے منصوبوں میں کئی بلین ڈالر لگا چکا ہے۔سرمایہ کاری کی یہ فصل اسی وقت بارآور ثابت ہوسکے گی جب خطے میں قیام امن کی صورت واضح ہو۔ لیکن امریکا اس صورتحال سے خوش دکھائی نہیں دیتا اب اگر وہ پاکستان اور چین کو معاشی ترقی سے روکنے کے لئے افغانستان میں جنگ کو ہوا دیتا ہے تو اسے خود بھی افغانستان میں بڑے نقصان کا سامنا ہوگا اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ افغانستان امریکی گلے کی ہڈی بن چکا ہے جسے آسانی سے نہ نگلا جاسکتا ہے اور نہ اگلا۔اس لئے افغانستان سے آمدہ اس قسم کی خبروں سے آئندہ کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ افغان طالبان ذہنی طور پر اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ امریکا کا علاج’’ امن مذاکرات‘‘ نہیں بلکہ جارحانہ جنگ ہے اسی لئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موسم بہار کی ابتدا پر افغان طالبان امریکاکے خلاف جارحانہ حملوں میں یکدم اضافہ کردیں گے۔

امریکا مذاکرات میں خود کے بجائے کابل میں موجود اپنی کٹھ پتلی افغان انتظامیہ کو طالبان کے سامنے مذاکراتی فریق کے طور پر لانا چاہتا تھا۔

ایسی صورتحال میں امریکا پاکستان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے لیکن اس دوران میں پاکستانی انتظامیہ کو بھی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین کو ساتھ ملاکرامریکا کوخطے کی نفسیات کے مطابق مسئلے کا حل تلاش کرنے پر مجبور کرنا ہوگا۔ جہاں تک اس پھیلتی جنگ میں امریکا کی اقتصادی صورتحال کا تعلق ہے تو وہ بھی کوئی خوش کن نظر نہیں آتی۔کیونکہ دوسری جانب مشرق وسطی کے حالات کسی وقت بھی ڈرامائی کروٹ لے سکتے ہیں۔ روس کے اچانک شام سے نکلنے کے اعلان نے عالمی ذرائع ابلاغ میں بہت سے سوال اٹھا دیئے ہیں، کوئی بھی صحیح حوالے سے ان معاملات کا درست تعین کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہم اس سلسلے میں پہلے کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور نیٹو نے روس کو شام میں پھنساکر افغانستان کی تاریخ دھرانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت اچانک پوٹن کی جانب سے انخلاء کے اعلان نے سب کو حیران کردیا ہے۔

امریکا کی عسکری قوت کا بھانڈا نہتے طالبان نے پھوڑ دیا ہے اور جنگ کی طوالت کی بنا پر معاشی صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بڑے بڑے امریکی بینک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

تاریخ انسانیت اس بات کی گواہ ہے کہ جنگوں نے ہمیشہ اقتصادیات کو دیمک کی طرح چاٹا ہے۔ اسکندر اعظم کی کشور کشائی اب ایک افسانوی داستان کا روپ دھار چکی ہے۔ دنیا سکندر مقدونی کی کشور کشائی سے تو اچھی طرح واقف ہے لیکن اس کی مہم جوئی نے بے پناہ ’’مال غنیمت‘‘ کے حصول کے باوجود یونان کو معاشی تباہی کے جس دہانے پر پہنچا دیا تھا، اس سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔ اسی طرح ہم ’’رومتہ الکبری‘‘ یا گریٹ رومن ایمپائر کا نام سنتے ہیں لیکن کئی دہائیوں تک دنیا پر اپنی عسکری قوت کی دھاک بٹھانے کی خاطر جاری جنگوں کے نتیجے میں اس عظیم سلطنت کو جس معاشی افراط زر کا سامنا کرنا پڑا، اس نے اس سلطنت کو خود اسی کے قدموں پر ڈھیر کردیا تھا۔ جدید تاریخ میں امریکاکی دریافت کے دوران میں اسپین کو سونے کی جن کانوں کی ملکیت حاصل کرنے کا موقع ملا ،اس نے ہسپانوی قوم کو دنیا کی متمول ترین قوم میں تبدیل کردیا تھا لیکن دیگر خطوں میں عسکری تسلط قائم کرنے کے لئے اسپین نے جن جنگوں کا آغاز کیا، اس نے جلد ہی اس قوم کو قلاش کرکے رکھ دیا اور اس کی جگہ یورپ میں برطانیہ کو حاصل ہوگئی۔ یہی صورتحال بعد میں فرانس کی بھی رہی۔ امریکا میں اپنی نوآبادیوں کو قائم رکھنے اور ان میں مزید اضافے کی خاطر فرانس نے اپنے بے پناہ وسائل فوجی مہمات میں جھونک دیئے جلد ہی کساد بازار ی نے فرانس کو چاروں طرف سے گھیر لیا ۔ یہی حال برطانیہ کو فرانس سے جنگوں میں مبتلا کرکے کیا گیا یہاں تک کہ حالت یہ ہوگئی کہ تاج برطانیہ ایک طرح سے صہیونی ساہو کاروں کے ہاتھوں گروی ہوگیا اس کے بعد سارے یورپ میں جو سماجی اور معاشی تبدیلیاں لائی گئیں وہ تمام کی تمام صہیونی ساہوکاروں کے مطالبات سے مشروط تھیں۔

ان حالات کا مشاہدہ ہم موجودہ دور میں بھی کرسکتے ہیں امریکا اس کی تازہ مثال ہے۔ جس وقت امریکا افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا وہ نہ صرف عسکری بلکہ معاشی میدان میں ایک ناقابل شکست قوت کا حامل تصور کیا جاتا تھا لیکن آج تقریبا پندرہ برس بعد صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کی عسکری قوت کا بھانڈا نہتے طالبان نے پھوڑ دیا ہے اور جنگ کی طوالت کی بنا پر معاشی صورتحال اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بڑے بڑے امریکی بینک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ امریکی حکومت صہیونی بینکوں کے ہاتھوں اپنے اثاثے گروی رکھ چکی ہے اور امریکی عوام سے سوشل اور میڈیکل کی سہولیات کہیں ختم اور کہیں کم کرکے ان پر بھاری ٹیکس لگائے جارہے ہیں تاکہ حکومت اور ملک کا کاروبار چلایا جاسکے۔بینکوں کے قرضوں کی بنیاد پر لاکھوں امریکیوں نے گھر حاصل کئے تھے اب وہ ان گھروں سے بے دخل ہوکر سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔یہ صورتحال صرف امریکا ہی کی نہیں ہے بلکہ افغانستان اور عراق کی جنگوں میں امریکاکے صہیونی صلیبی اتحاد نیٹو کے یورپی ممالک بھی اسی معاشی کساد بازاری کا شکار ہیں۔ اسپین، یونان، اٹلی اور پرتگال میں معاشی تباہی نے ہلچل مچا دی تھی جبکہ بڑے یورپی ممالک اپنے آپ کو معاشی زوال سے بچانے کی سر توڑ کوششوں میں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ امریکی اقتصادیات یا ڈالرسے ان کا منسلک ہونا تھا جب امریکی اقتصادیات زوال پذیر ہونا شروع ہوئی تو ان یورپی ممالک میں بھی اس کے واضح اثرات سامنے آنے لگے، اس کے علاوہ یہ ممالک خود امریکی جنگوں میں ایک اتحادی کا کردار ادا کررہے تھے اس لئے بھی ان حالات نے انہیں گھیر لیا۔

ایک اندازے کے مطابق امریکا گزشتہ پندرہ برس کی افغان جنگ میں 800بلین ڈالر جھونک چکا ہے۔ امریکی ادارہ برائے اقتصادی احتساب کے مطابق اگلے ایک یا دو برسوں کے دوران افغانستان سے اپنی فوجیں اور جنگی ساز وسامان واپس امریکا لانے کے لئے اسے 6.7بلین ڈالر کی ضرورت ہے۔جبکہ امریکا اور عراق کی جنگوں کے اخراجات کے طور پر امریکی حکومت پر ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کا قرضہ چڑھ چکا ہے۔ ان جنگوں کی ابتدا میں امریکی اقتصادیات کی مضبوطی کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جاسکتا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکی حکومت نے افغانستان اور عراق کی جنگوں کے لئے امریکی عوام پر کوئی اضافی جنگی ٹیکس عائد نہیں کیا تھا۔ لیکن کچھ عرصہ قبل حالت یہ ہوچکی تھی کہ اوباما انتظامیہ اور کانگریس کے درمیان اس ایک بات پر مذاکرات ہورہے تھے کہ حکومتی اخراجات کو کم کرکے معاشی خسارے کو پورا کیا جاسکے لیکن اس کے باوجود امریکی اقتصادی ماہرین کا کہنا تھاکہ ان کٹوتیوں سے کئی بلین ڈالر پر مشتمل ان اخراجات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے لئے ادا کرنا ہوں گے۔یہ تمام مذاکرات اس وقت ہوئے جب ایک ماہ بعد امریکی کانگریس ادائیگیوں کے لئے قرضوں کی شرح حد بڑھانے پر غور کررہی تھی اور اس سلسلے میں ایک بل لانے والی تھی۔

اس کے بعد امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے ایک تخمینہ پیش کیا تھا جس کے مطابق اس وقت افغانستان میں امریکی سازوسامان کی کل تعداد تقریبا 75000کے قریب تھی جس کی مالیت 36بلین ڈالر کے قریب ہے۔ ان میں 50000 جنگی اور دیگر گاڑیاں اور اور 90000کے قریب بحری جہازوں کے ذریعے سامان کی نقل وحمل کرنے والے کنٹینرز تھے۔2011ء میں امریکا نے شمالی افغانستان کی جانب سے 42000کنٹینروں کے ذریعے 268000ٹن جنگی سامان افغانستان میں بھیجا تھا۔ یہ سامان زمینی راستے سے افغانستان پہنچایا گیا تھا جس کے لئے روڈ اور ریل کا راستہ اختیار کیا گیا تھا۔ یہ سامان پاکستان کی جانب سے نیٹو سپلائی پر پابندی لگانے کے بعد پہلے یورپ اور وہاں سے وسطی ایشیا کے ذریعے سے افغانستان بھیجاگیاتھا۔افغانستان میں جنگی سازوسامان کو ٹھکانے لگانے کے لئے امریکی محکمہ دفاع کے پاس اس وقت تین راستے تھے۔ پہلا یا تو اس سامان کو امریکا یا کسی اور ملک منتقل کیا جائے۔دوسرے اس سامان کو افغانستان میں ہی تباہ کردیا جائے۔یا پینٹاگون کے زیر اثر کسی اور علاقے میں منتقل کر دیا جائے۔ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں امریکیوں نے افغانستان میں دس مقامات پر بڑے اسٹور قائم کئے جہاں پر اس سامان کو محفوظ رکھ کر باقاعدہ اس کی پڑتال کی جاسکے گی جہاں سے مناسب وقت پر انہیں امریکا منتقل کیا جاسکے گا۔

عراق سے انخلاء اور افغانستان سے انخلاء دو الگ اور مختلف چیزیں ہیں۔عراق سے انخلاء کے لئے امریکیوں نے چار برس قبل ہی خفیہ منصوبہ بندی کرلی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اسے وہاں پر ’’مقامی مدد ــ ‘‘ کی سہولت بھی حاصل تھی۔ لیکن افغانستان میں اس قسم کی کوئی صورت موجود نہیں ہے اور اگر کہیں ایسا کچھ ہے بھی تو امریکیوں کے لئے قابل اعتبار نہیں۔اس لئے عراق کی نسبت افغانستان سے انخلاء انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہے۔عراق میں امریکیوں کو شاہراہوں پرسے گزر کر ام قصر کی بندرگاہ تک پہنچنے میں آسانی تھی ۔اس کے ساتھ ساتھ عراقی سرحد کے قریب ہی کویت میں موجود امریکی عسکری اڈے بھی موجود تھے۔ اس طرح یہاں سے عسکری سامان کو اردنی اور کویتی بندرگاہوں تک پہنچانا انتہائی آسان تھا۔جبکہ سپلائی کے حوالے سے بڑاروٹ صرف پاکستان کی جانب سے ہی تصور کیا جاتاہے ۔اس کے ساتھ ساتھ امریکا کو شمال کی جانب سے کھلے راستے کا بھی بندوبست کرنا ہے تاکہ مستقبل میں افغانستان کی جانب سے کوئی ایسی عسکری کارروائی نہ ہو جس کے لئے ان راستوں کو استعمال کیا جاسکے ۔

اس سارے معاملے میں پاکستان کو کیا حاصل وصول ہوا ؟ صرف بیس بلین ڈالر، سو بلین ڈالر سے زیادہ کا نقصان ،پچاس ہزار سے زائد فوجی جوانوں اور شہریوں کی لاشیں، معاشی نظام کی تباہی، وطن عزیز میں دہشت گردی کا خانہ جنگی کی شکل اختیار کرجانا، بلوچستان ، کراچی اور خیبر پختون خوا میں غیر ملکی ایجنسیوں کی مداخلت سے تباہ کاری، قوم اور پاک فوج کے درمیان دوری کی کوششیں اور بین الاقوامی سطح پر وطن عزیز کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان۔ اس کے باوجود اس ملک کے نام نہاد حکمران کہتے ہیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی جنگ ہماری جنگ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ جب تک افغانستان میں پائیدار اور باعزت طور پر نکلنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوتی پاکستان میں اس کی جانب سے مسلط کردہ این آر او زدہ ٹولہ حکمرانی میں رہے۔

یہ ایک قدرتی امر ہے کہ اسلام آباد کابل کے حالات سے بے خبر نہیں رہ سکتا یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا ہے بلکہ اس تاثر کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں۔اس لئے اگر عسکری اور معاشی دہشت گردوں کی کارروائیوں سے متاثر ہوکر پاکستان اس قابل نہیں رہتا کہ وہ افغانستان میں کوئی مثبت کردار ادا کرسکے تو یہ بات بھی افغانستان کے مستقبل کے لئے صحیح ثابت نہیں ہوسکتی۔ اس لئے پاکستان کی حفاظت کے ضامن اداروں کو سنجیدگی سے اس جانب غور کرنا چاہئے کہ امن کی کوئی بھی راہ کسی بھی قیمت پر اختیار کی جائے۔ کیونکہ خطے میں امن جتنا افغانستان کے لئے ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ پاکستان کے لئے بھی ناگزیر ہے کیونکہ افغانستان کی اس جنگ کی وجہ سے پاکستان کے اقتصادی علاقوں میں دشمن نے ضرب لگائی ہے اور کراچی جیسے اقتصادی شہر کو دہشت گردی کی روز مرہ کی وارداتوں سے مفلوج کرکے پاکستان کی معاشیات کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔نہ صرف تاریخ میں بلکہ اگر جدید تاریخ میں بھی جنگوں کا موازانہ کیا جائے تو پہلے سوویت یونین اور اس کے بعد امریکا اور اس کے صہیونی صلیبی اتحادیوں کا حشر ہمیں سامنے رکھنا چاہے۔ اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ اس کیفیت سے ہی فائدہ اٹھاکر ہمارے ازلی دشمن بھارت نے پاکستان کے پانی پر ڈاکا ڈالا ہے اور ہم اس کا تاحال کچھ بگاڑ نہیں سکے ہیں۔ لیکن مستقبل قریب میں یہ مسئلہ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جائے گا اور تمام دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستان اور اسلام دشمن ملک اس معاملے میں بھارت کا ساتھ دیں گے۔ اس آنے والی قیامت خیز صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہو اور وہاں پر افغان عوام کی امنگوں کے مطابق ایک نمائندہ حکومت قائم ہو اس کے بعد ہی پاکستان میں بھی پائیدار امن قائم ہوسکے گا اور پاکستان کے اندر بیٹھے پاکستان اور اسلام دشمن عناصر کا سر کچلا جاسکے گا۔ اس کے بعد ہی ہم اس قابل ہوسکیں گے کہ بھارت سے اپنا چھینا ہوا حق دوبارہ حاصل کرسکیں۔


متعلقہ خبریں


ایغور مسلمانوں سے سلوک، امریکاسمیت 20ممالک کی چین پر تنقید وجود - بدھ 30 اکتوبر 2019

جرمنی اور امریکا سمیت کئی ممالک نے چینی حکومت پر ایغور مسلم اقلیت کے خلاف اس کے ناروا سلوک پر شدید تنقید کی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمنی، امریکا، برطانیہ اور 20 دیگر ریاستوں کی طرف سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ حکومت ایغور اور دیگر مسلم اقلیتوں کی بلا جواز حراستوں کا سلسلہ ترک کرے۔ یہ بیان اقوام متحدہ کے صدر دفتر سے جاری کیا گیا ۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کو اپنی ملکی اور غیر ملکی ذمہ داریوں کا پاس کرنا چاہیے اور انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کا ...

ایغور مسلمانوں سے سلوک، امریکاسمیت 20ممالک کی چین پر تنقید

امریکا میں یہودیوں کے خلاف سب سے خونریز حملہ، ایک سال مکمل وجود - اتوار 27 اکتوبر 2019

امریکی سرزمین پر یہودیوں کے خلاف سب سے خونریز حملے کو ایک برس مکمل ہو گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پچھلے سال ستائیس اکتوبر کو پٹسبرگ میں ایک مقامی شخص نے ٹری آف لائف نامی یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ کر کے گیارہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ پٹسبرگ میں یہودیوں کی ایک تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جبکہ دنیا کے کئی شہروں میں دعائیہ تقاریب منعقد کی گئیں۔

امریکا میں یہودیوں کے خلاف سب سے خونریز حملہ، ایک سال مکمل

چین ، امریکا تجارتی تنازعات کو حل کرنے کا مذاکراتی رائونڈ شروع وجود - هفته 26 اکتوبر 2019

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں چین اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازعات کو حل کرنے کا مذاکراتی رائونڈ شروع ہوگیا ہے ،امریکی ٹی وی کے مطابق توقع ہے ان مذاکرات میں امریکا چین کو پیشکش کرے گا کہ وہ امریکی زرعی مصنوعات کی خرید میں اضافہ کرے۔ اس کے جواب میں چین کی حکومت اپنی مصنوعات کی امپورٹ پر امریکی درآمدی ٹیکس میں کمی یا منسوخی کا مطالبہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی خصوصی تجارتی مندوب رابرٹ لائٹ ہائزر اور وزیر خزانہ اسٹیون منوچن ک...

چین ، امریکا تجارتی تنازعات کو حل کرنے کا مذاکراتی رائونڈ شروع

ٹرمپ کا ترکی پرامریکا کی عائد کردہ حالیہ پابندیوں کے خاتمے کا اعلان وجود - جمعرات 24 اکتوبر 2019

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی پر حال ہی میں عاید کردہ پابندیوں کو ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں ایک تقریر میں بتایاکہ میں نے سیکریٹری خزانہ کوترکی پر 14اکتوبر کو عائد کردہ پابندیوں کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ پابندیاں ترکی کی شام کے شمال مشرقی علاقے میں(امریکا کے اتحادی)کرد جنگجوئوں کے خلاف فوجی کارروائی کے ردعمل میں عاید کی گئی تھیں۔انھوں نے کہا کہ ترکی نے ان سے رابطہ کیا ہے اور مطلع کیا ہے کہ وہ شام میں اپنی جنگی کارروائی...

ٹرمپ کا ترکی پرامریکا کی عائد کردہ حالیہ پابندیوں کے خاتمے کا اعلان

ایران سے خطرات ، سعودی عرب کی مدد کے پا بند ہیں،امریکا وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا ہے کہ ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اس ملاقات میں خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایرانی سرگرمیوں پر بات چیت کی گئی۔ ایران کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکا سعودی عرب کی امداد کا پابند ہے ۔

ایران سے خطرات ، سعودی عرب کی مدد کے پا بند ہیں،امریکا

امریکا نے خاموشی سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی وجود - بدھ 23 اکتوبر 2019

امریکا نے خاموشی سے افغانستان سے اپنے دو ہزار امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کی ہے، یہ تعداد میں کمی ایک سال کے دوران ہوئی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کیساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا، امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر گزشتہ روز افغانستان کے دورہ پر پہنچے تھے۔ نیوز کانفرنس کے دوران افغانستان کے قائم مقام وزیرِ دفاع اور وزارت دفاع کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی اس با...

امریکا نے خاموشی سے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کم کر دی

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

ترکی اور امریکا کے درمیان شام میں کردوں کے خلاف جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا جس کے بعد ترکی نے شام میں عارضی طور پر سیز فائر کا اعلان کرتے ہوئے کردوں کو نکلنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دے دی۔جنگ بندی کے حوالے سے امریکا کے نائب صدر مائیک پینس ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کرنے انقرہ پہنچے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام پہنچایا، ان کے ساتھ وزیر خارجہ مائیک پومپیو بھی موجود تھے۔ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس میں مائیک پینس نے بتایا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان...

امریکا سے مذاکرات ‘ترکی نے کردوں کیخلاف آپریشن روک دیا

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب وجود - جمعه 18 اکتوبر 2019

شام میں ترکی کی فوجی کارروائی کے بعد امریکا نے ترک حکومت اور صدر طیب ایردوآن کے خلاف مزید اقدامات پرعمل درآمد شروع کیا ہے۔ ری پبلیکن رکن کانگرس سینیٹر لنڈسی گراہم اور متعدد امریکی سینیٹرز نے کانگرس میں ایک نیا بل پیش کیا ہے جس میں ترک عہدیداروں اور اداروں پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ترک صدر طیب ایردوآن اور ان کے خاندان کے اثاثوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ فراہم کرے۔ اس بل میں روس ، ایران اور ترکی کے لیے شام میں تیل پیدا کرن...

کانگرس میں ایردوآن اور خاندان کے اثاثوں کی رپورٹ طلب

امریکا کامزید 3 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

ا مریکا نے مزید تین ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کردیا ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے اضافی تین ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ایرانی حملے اور تہران کے ساتھ کشیدگی کے بعد مزید فوجی، لڑاکا طیاروں کے دو اسکواڈرن، میزائلز اور دیگر جنگی سازو سامان ریاض بھیجنا لازمی ہے ،اضافی امریکی فوجی، طیارے خطے میں مشکل وقت میں کام آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے جنگ نہیں چاہتے لیکن خطے کی سلامتی کیلئ...

امریکا کامزید 3 ہزار فوجی سعودی عرب بھیجنے کا اعلان

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا وجود - هفته 12 اکتوبر 2019

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے ۔بین الاقوامی کنسلٹنگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی ارنسٹ اینڈ ینگ کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق چین 2014 سے 2018 کے درمیان 72.2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ بر اعظم افریقہ کے لئے سب سے زیادہ براہ راست سرمایہ کرنے والا ملک ہے ۔چین کے بعد فرانسیسی زبان بولنے والے ممالک کے لئے 34.1ارب ڈالر سرمایہ کاری کے ساتھ فرانس دوسرے ، 30.8 ارب ڈالر کے ساتھ امریکہ تیسرے اور 25.2 ارب ڈالر کے ساتھ متحدہ عرب امارات چوتھے نمبر پر ہے ۔...

چین براعظم افریقا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والا ملک بن گیا

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین وجود - جمعه 11 اکتوبر 2019

ترکی کی جانب سے شام کے کرد جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیے جانے کے بعد چین نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کا مطالبہ کردیا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے ہزاروں لوگوں کو بے گھر اور گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرنے والوں کے خلاف بدھ کو بمباری کا اعلان کیا تھا۔کارروائی کے اعلان کے بعد امریکا نے ترکی اور شام کی سرحد سے اپنی فوج واپس بلانے کا اعلان کیا تھا جس امریکی سینیٹرز نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی افواج کو واپس بلانے سے داعش کے دہشت...

شام کی خودمختاری اور علاقائی سا لمیت کا احترام کیا جائے، چین

خواہش ہے، فریقین جلد مذاکرات کی طرف راغب ہوں، شاہ محمود کی افغان طالبان سے ملاقات وجود - جمعرات 03 اکتوبر 2019

افغانستان میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے کی ازسر نو کوشش کے تحت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں پاکستانی حکام اور طالبان رہنمائوں کے درمیان دفترخارجہ میں ملاقات ہوئی ،جس میں مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغان امن عمل کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا مصالحانہ کردار صدق دل سے ادا کرتا رہے گا، پاکستان، صدق دل سے سمجھتا ہے جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،افغانستان میں قیام امن کیلئے "مذاکرات"...

خواہش ہے، فریقین جلد مذاکرات کی طرف راغب ہوں، شاہ محمود کی افغان طالبان سے ملاقات