... loading ...

برہمن اپنی گمراہیوں کو راست بازی اور پھر اُس “راست بازی “پر اصرار کی صدیوں پرانی ذہنیت کا شکار ہے۔ جس سے وہ کھلی اور ننگی سچائیوں کے اعتراف سے بھی کتراتا ہے۔ اس کا تازہ مظاہری کلبھوشن کے اعترافی بیان پر بھارتی ردِ عمل سے ہوتا ہے۔ بھارت نے را کے پاکستان میں گرفتار ایجنٹ کے اعترافی بیان کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ کلبھوشن کو ایسا کہنے کے لیے تربیت دی گئی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اُسے ایران سے اغوا کیا گیا ہو۔ بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم نے”سابق نیوی افسر “(حالانکہ وہ حاضر سروس افسر ہیں) کی پاکستانی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو دیکھی ہے، اُسے ایران میں کاروبار کرنے کے دوران ہراساں کیا گیا اور اب وہ نامعلوم حالات میں پاکستان میں زیر حراست ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلبھوشن یادو کے ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے بیان میں کوئی سچائی نہیں، جبکہ کسی انفرادی شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ یہ بیان اپنی مرضی سے دے رہا ہے نہ صرف اس کی صداقت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے بلکہ اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسے یہ سب کچھ کہنے کی تربیت دی گئی۔بیان کے مطابق پاکستانی حکام نے درخواست کے باوجود بھارتی قونصلر حکام کو کلبھوشن یادو سے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں، لیکن سابق نیوی افسر کی پاکستان میں موجودگی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے جس میں اُس کا ایران سے اغوا کیا جانا بھی شامل ہے، تاہم تمام صورتحال اُس وقت واضح ہوگی جب کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی دی جائے اور ہم حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے ہماری درخواست کا فوری جواب دے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مذکورہ بیان سے واضح ہے کہ بھارت اپنے دفاع میں کن مفروضوں کا سہارا لے رہا ہے اور وہ اپنے آئندہ دفاع کے لیے کس نوع کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔ سب سے پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ راایجنٹ کا جو اعترافی بیان سامنے آیا ہے ، اُسے یہ سب کہنے کی تربیت دی گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر یہ سب کہنے کی تربیت چند دنوں میں ہی مکمل ہو گئی ہے۔ ایک ایسے نیوی افسر کو جس کی خدمات را کے لیے مخصوص کر دی گئی ہو اور جو عرصہ دراز سے پاکستان کے اندر مختلف قسم کی دہشت گردیوں میں ملوث رہا ہو، جس میں مہران بیس جیسے واقعات بھی شامل ہو ، اُسے چند دنوں میں ہی پاکستانی ادارے اپنی ڈھب پر لاکر اتنی اچھی تربیت کیسے دے سکتے ہیں۔ا س کا مطلب تو یہ ہو اکہ پاکستان کی طرف سے گرفتاری سے بھی قبل مذکورہ افسر یہ سب کچھ بولنے کے لیے جیسے تیار ہی بیٹھا ہو۔
بھارتی ردِ عمل میں یہ مفروضہ بھی ایک نکتے کے طور پر شامل ہے کہ را ایجنٹ کو ایران میں کاروبار کرنے کے دوران میں ہراساں کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ ایجنٹ کو ایران میں پاکستان کیسے ہراساں کر سکتا ہے؟ ایران جو نہایت معمولی قسم کی باتوں کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے اور بعض اوقات سرحدی معاملات میں ایسی شکایتوں کا مرتکب بھی رہتا ہے جو بعد ازاں خلاف واقعہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ وہ ایران کے اندر ایک بھارتی کور ایجنٹ کو پاکستان کی جانب سے ہراساں کرنے کی مداخلت کو کیسے برداشت کر گیا۔ چلیں ایران تو برداشت کر گیا، بھارت جو پاکستان کی سرحد سے کبوتر اڑ کر بھارت جانے کے واقعے کو بھی آئی ایس آئی کی کارستانی قرارد یتا ہے،وہ آخر اپنے کور ایجنٹ کو ایران میں ہراساں کرنے کے واقعے کو نظر انداز کیسے کر گیا؟
بھارتی وزارت خارجہ کے ردِ عمل میں یہ مفروضہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ را ایجنٹ کو “ہو سکتا ہے کہ ایران سے اغوا کیا گیا ہو۔” اس حیرت انگیز مفروضے کو گھڑنے کی امید اُن سے ہی کی جاسکتی ہے جو پاکستانی سرحد سے اڑ کر بھارتی سرحد میں جانے والے کبوتر کر کسی جاسوسی سرگرمی پر محمول کردیتا ہو۔ کیا ایران نے اپنی سرزمین سے ایک بھارتی کور ایجنٹ کے اغوا ہونے کے کسی بھی معاملے پر کوئی تائیدی بیان اب تک جاری کیا ہے؟ کیا یہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسا واقعہ نہیں، اگر ایسا ہوتا! ایسی صورت میں ایران اس واقعے کو ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کرتا؟ پھر ایسے حالات میں جب پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس معاملے کو ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر اُٹھایا۔ اور یہ موقف اختیار کیا کہ بھارت پاکستان میں اپنی تخریبی سرگرمیوں کے لیے ایران کی سرزمین کو استعمال کرنے کا مرتکب ہے۔ ایران کے سامنے اس مسئلے کو اٹھانا خود ایران کے لیے باعث شرمندگی تھا۔ چنانچہ ایرانی صدر نے ایک سوال کے جواب میں اس طرح کی کسی بات چیت سے ہی انکار کیا۔ مگر پاکستان نے دوبارہ اس کی وضاحت کی کہ پاک فوج کے سربراہ کی جانب سےایرانی صدر کے سامنے یہ معاملہ اُٹھایا گیا تھا۔ ایسے حالات میں اگر یہ ایران سے اغوا کا معاملہ ہوتا تو ایرانی صدر یہ بات اُٹھانے سے کیسے چوکتے؟ پھر یہ موقف اس لیے بھی مکمل غلط ہے کہ را ایجنٹ کلبھوشن یادو ایک سے زائد مرتبہ پاکستان کادورہ ماضی میں کر چکا ہے۔ اور مختلف واقعاتی شہادتیں اس حوالے سے موجود ہیں۔ اس ضمن میں را ایجنٹ کے اعترافی بیان کے مطابق پاکستان کے اندر معروضی حقائق ایسے موجود ہیں جو اس کی واقعاتی تصدیق کرتے ہیں۔
بھارت اس پورے تناظر کو نظرانداز کرکے را ایجنٹ کلبھوشن یادو کے واقعے کو مختلف مفروضوں کی پتنگوں میں اڑانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...