وجود

... loading ...

وجود

میاں منشاء کے اربوں روپے کے فراڈ ، تحقیقات کب ہونگیں؟

جمعه 25 مارچ 2016 میاں منشاء کے اربوں روپے کے فراڈ ، تحقیقات کب ہونگیں؟

Mian-Mansha

میاں برادران تو خیر ہر قانون سے بالاتر ہیں ہی لیکن اس ملک میں ایک اور میاں صاحب ہیں جن کی “منشا” کے خلاف کوئی کام ہوتا ہے نہ کوئی ان کی سرزنش کرسکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود حالات میں اچانک کچھ تبدیلیاں نظر آرہی ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ میاں منشا کی فائلیں بهی کهل گئی ہیں۔

کسے یاد نہیں کہ کچھ عرصے پہلے بڑے میاں صاحب نے بہاولپور کے دورے کے دوران نیب کو شٹ اپ کال دی تهی۔ وجہ یہی میاں منشا تهے۔نیب تو ڈرپوک نکلی اور اُس نے میاں صاحب کی تنبیہ کے بعدچپ سادھ لی۔ لیکن کچھ نادیدہ قوتوں کے میاں صاحب کی شٹ اپ کال پر کان کهڑے ہوگئے جس کے بعد فائلیں کهلنا شروع ہوگئیں۔ اطلاعات کے مطابق اب میٹرو ٹرین منصوبہ، اورنج ٹرین ،ایل این جی گیس ، نندی پور پراجیکٹ، اسحاق ڈارکی منی لانڈرنگ اور سانحہ ماڈل ٹاون سمیت کئی وفاقی اور پنجاب کے صوبائی وزرا کے خلاف شواہد اکٹھے کر لیے گیے ہیں۔

لاہور کے جوہر ٹاون میں نشاط امپوریم کے نام سے شاپنگ مال میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر لگوانے کیلئے سرکاری خزانے کو 4 ارب روپے سے زائد کا چونالگادیا گیا۔

باخبر ذرائع کے مطابق میاں منشا کے خلاف جو فائل تیار ہوئی ہے اس کے سامنے تو ایگزیکٹ کیس کوئی حیثیت ہی نہیں رکهتا،ایگزیکٹ کیس تو ایک اخباری رپورٹ کی بنیاد پر بنایا گیا جس کا کوئی مدعی ہے نہ گواہ۔ گیارہ ماہ سے ن لیگی حکومت کوئی ایک ثبوت حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن مسلسل ناکامی کا شکار ہے۔چوہدری نثار صاحب اگر واقعی قانون کی بالادستی پر یقین رکھتےہیں۔ اور اپنے دعووں میں سچے ہیں اور شاہد حیات واقعتاً قانون کے نفاذ اور بدعنوانیوں کے خلاف حقیقتاً بروئے کار ہیں تو پهر میاں منشا کے کارنامے اب تک اُن کی توجہ کیوں حاصل نہیں کرسکے؟

لندن میں فائیو اسٹار جیمز ہوٹل 6 کروڑ پونڈ سے ایک تگڑم بازی سے خریداگیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کا دعوی ہے کہ منی لانڈرنگ سے ہوٹل خریدا گیا۔

ن لیگی حکومت کی ناک کے بال میاں منشاءجو 1977 میں ایک چهوٹی سی ٹیکسٹائل مل “نشاط” کے نام سے چلاتے تھے اورپرانے کپڑے اور ٹوٹی چپل پہنا کرتے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے میاں منشا ملک کے امیر ترین لوگوں میں شامل ہو گیے ۔ کیا اُن کی موجودہ بے تحاشا دولت کا سراغ لگانے کی ضرورت نہیں ہے؟ایک سادہ سوال تو یہ ہے کہ میاں منشاء 2010 میں پاکستان کا امیر ترین شخص بن گیا ۔ مگراُن کی یہ امارت ٹیکس سے ظاہر نہیں ہو سکی۔ ایف بی آر کا ریکارڈ اس کی کوپوری وضاحت کرتا ہے۔
لاہور کے جوہر ٹاون میں نشاط امپوریم کے نام سے جو شاپنگ مال بنایا جارہا ہے اس میں بجلی کا ایک ٹرانسفارمر لگوانے کیلئے سرکاری خزانے کو 4 ارب روپے سے زائد کا چونالگادیا گیا۔لیسکوکا ریکارڈ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔میاں منشاء کے تمام ہی کاموں میں کوئی نہ کوئی ہیر پھیر ملتی ہے۔لندن میں فائیو اسٹار جیمز ہوٹل 6 کروڑ پونڈ سے ایک تگڑم بازی سے خریداگیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس کا دعوی ہے کہ منی لانڈرنگ سے ہوٹل خریدا گیا۔اس ضمن میں ایف بی آر کے تین اعلی افسران نے جب اس کی تحقیقات کی اور شواہد حاصل کئے تو ان کو انکے عہدوں سے ہٹادیا گیا۔
ایک آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی پیدا کرنے والی آئی پی پیز کو 400 ارب روپے سے زائد کی سال 2015 میں غیرآئینی اور غیرقانونی ادائیاں کی گئیں جس کا بڑا حصہ میاں منشا کی آئی پی پیز کو گیاہے۔ بات ابهی ختم نہیں ہوئی۔ میاں منشا کو مسلم کمرشل بینک نجکاری کے نام پر جس طرح تهالی میں رکھ کے پیش کیا گیا تھا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس نے جب اس کا سارا ریکارڈ طلب کیا تو یہ معاملہ بهی دبا دیا گیا۔کمیٹی کا آرڈر اور اجلاسوں کے منٹس اس چشم کشا کہانی کی تفصیلات بیان کرتے ہیں ۔

اسحاق ڈار صاحب نے میاں منشا کے صاحبزادے کو سوئی نادرن کا ڈائریکٹر کیابنوادیا ،وارے نیارے ہوگئے۔ پورے پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی سپلائی بند رہتی ہے لیکن جب سے صاحبزادے ڈائریکٹر بنے ہیں میاں منشا کی ڈی جی سیمنٹ فیکٹری میں ایک منٹ کیلئے بهی گیس بند نہیں ہوئی اور نہ پریشر میں کوئی کمی آنے دی گئی ہے۔
کیا قومی وسائل ایک شخص کی صوابدیدپر چھوڑ دیئے گیے ہیں؟

باخبر ذرائع کے مطابق میاں منشا کی ان دنوں نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔کیونکہ اُنہیں پتہ لگ چکا ہےکہ اب بچت کا راستہ ہے اور نہ کوئی پتلی گلی ہے جس سے نکلا جاسکے۔ایک طرف میاں نوازشریف صاحب کے چہیتے میاں منشا کی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ ، ٹیکس چوری، مالی بے ضابطگیوں کے ٹهوس شواہد ریاستی اداروں کے پاس محفوظ ہیں لیکن کوئی کارروائی نہیں ہورہی ۔ اوردوسری طرف ایگزیکٹ اور بول کا مالک شعیب شیخ گیارہ ماہ سے سلاخوں کے پیچهے ہے۔ شعیب شیخ کے خلاف حکومت پورا زور لگاکر بهی ایک ثبوت حاصل نہ کرسکی لیکن دوسری طرف میاں منشا کی موٹی موٹی فائلیں ثبوتوں سے بهری پڑی ہیں۔مگر کسی کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر