وجود

... loading ...

وجود

جنگ گروپ نے صحافتی ضابطہ اخلاق پامال کردیا

جمعه 11 مارچ 2016 جنگ گروپ نے صحافتی ضابطہ اخلاق پامال کردیا

mir-shakeel
جنگ جیو گروپ نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف اپنی منظم مہم میں پیشہ صحافت کے تمام اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا ہے۔ جس کے ثبوت ہر گزرتے دن ملتے جارہے ہیں۔ وجود ڈاٹ کام کے لیے یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے ابلاغی ادارے کے دعوے دار جنگ اور جیو گروپ کس اوچھے اور چھوٹے پن کے ساتھ جہانگیر صدیقی سے میر شکیل الرحمان کے رشتے کو نبھانے کی خاطر صحافتی ضابطہ اخلاق کے تمام تقاضوں کو پامال کررہا ہے۔ جہا نگیر صدیقی نے مختلف ہتھکنڈوں سے 200 ارب روپے کی بدعنوانی کی ہے جس کے ثبوت وجود ڈاٹ کام کسی بھی فورم پرپیش کرسکتا ہے۔ مگر جنگ اور جیو گروپ میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر حد پار کررہا ہے۔ اس ضمن میں خود جنگ گروپ نے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پچھلے دنوں ایک سوال نامہ بھیجا جس میں ایف آئی اے کی جانب سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بنائے گیے مقدمے پر کچھ سوالات کے جواب مانگے گیے۔ صحافتی ضابطہ اخلاق کے تحت جنگ گروپ کو اے کے ڈی سیکورٹیز کے تمام جوابات اور وضاحتیں جوں کی توں شائع کرنی چاہیئے تھیں۔ مگر جنگ گروپ نے کم علمی ، جہالت اور فریق بن کر پوچھے گیے سوالات کے جواب میں اےکے ڈی سیکورٹیز کے جوابات کو اس لیے شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ ان جوابات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جنگ گروپ کی چلائے جانے والی مہم کس طرح متعصبانہ اور جانب دارانہ ہے۔ نیز اے کے ڈی سیکورٹیز پر لگائے گیے تمام الزامات کس طرح غلط اور غیر پیشہ ورانہ ہیں۔جنگ گروپ کی طرف سے خود پوچھے گیے سوالات کے اے کے ڈی سیکورٹیز کے جن جوابات کو جنگ گروپ نے صحافتی ضابطہ اخلاق کو پامال کرتے ہوئے شائع نہیں کیا ، وہ ذیل میں جوں کے توں دیئے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام نے جنگ گروپ کے مختلف افراد اور جہانگیر صدیقی کے کچھ مقربین بشمول عمران شیخ کی جانب سے ایف آئی اے اور ملک کے دیگر قانونی اداروں پر اثر انداز ہونے کے مختلف طریقوں اور خفیہ ملاقاتوں کے ایک منظم سلسلے کے بھی شواہد حاصل کیے ہیں ، جسے کسی اور دن مناسب طور پر شائع کیے جائیں گے۔ سردست جنگ گروپ کے سوالات پر اے کے ڈی سیکورٹیز کے جوابات ملاحظہ کیجیے! جس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ آخر کیوں جنگ گروپ نے یہ شائع نہیں کیے۔

اے کے ڈی سیکورٹیز کی جوابات سے پہلے کی تمہید

آپ (جنگ گروپ )کے سوالوں کے جوابات سے قبل یہ جاننا اہم ہے کہ کوائف نامہ (prospectus) کیا ہے؟کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے مطابق کوائف نامہ کی تعریف درج ذیل ہے:

“کوائف نامہ” کا مطلب کوئی بھی ایسی دستاویز جسے کوائف نامے کے طور پر بیان کیا جائے یا جاری کیا جائے، اس میں کوئی بھی نوٹس، سرکلر، اشتہار، یا دیگر مراسلت شامل ہو سکتی ہے، جس میں عوام کو کسی بھی ادارے کے حصص حاصل کرنے یا خریدنے کے لیے مدعو کیا جائے، یا عوام سے ڈپازٹس طلب کیے جائیں، ایک بینکاری ادارے یا مالیاتی ادارے کی جانب سے وفاقی حکومت سے منظور شدہ ڈپازٹس طلبی کے علاوہ، چاہے وہ کوائف نامے کی حیثیت سے بیان ہوں یا نہیں۔

یہ بالکل واضح ہے کہ کوائف نامہ صرف خریداری کے مخصوص دنوں پر حصص خریدنے کے لیے سرمایہ کاروں کو ہدف بنانے کا نام ہے۔ کوائف نامے کے ذریعے آئی پی او کے حصول کی تاریخ 24 اور 25 مارچ 2010ء تھی۔ ای او بی آئی نے کوائف نامے کی بنیاد پر کوئی حصص نہیں خریدے جس میں مبینہ اختلاف کی نشاندہی کی گئی (ای او بی آئی نے 16 اور 25 اگست 2010ء کو ثانوی مارکیٹ سے ایم ٹیکس کے حصص خریدے)۔

جواب1

یہ جان لینا اہم ہے کہ کوائف نامہ ایک ادارے کی دستاویز ہے ،اے کے ڈی سیکورٹیز لمیٹڈ کی نہیں۔ ادارہ (اے کی ڈی سیکورٹیز)کوائف نامے میں شامل کرنے کے لیے تمام معلومات فراہم کرتا ہے۔ اے کے ڈی سیکورٹیز لمیٹڈ لیڈ منیجر اور آئی پی او کے بک رنر کی حیثیت سے ادارے کے امور کے حوالے سے داخلی معلومات نہیں رکھتا۔ مطلوبہ احتیاط کے طور پر ہم نے آڈٹ شدہ کھاتوں اور ادارے کی کریڈٹ ریٹنگ رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔

30 جون 2008ء اور 2009ء اور 31 اکتوبر 2009ء کو مکمل ہونے والے سال کے لیے ادارے کے آڈٹ شدہ کھاتے ،کوئی بھی نادہندگی اور/یا زائد المیعاد قرضہ ظاہر نہیں کرتے۔ ادارے کے آڈیٹرز معروف آڈیٹر ایم یوسف عادل سلیم اینڈ کمپنی ڈیلوئٹ ہیں جو جے ایس ویلیو فنڈ، جے ایس لارج کیپٹل فنڈ اور جے ایس اسلامک فنڈ سمیت دیگر اداروں کے بھی آڈیٹرز ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات کی شرائط کے مطابق زائد المیعاد قرضے اور نادہندگیاں ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے آڈٹ شدہ کھاتوں میں الگ سے ظاہر کی جاتی ہیں اور اس کو قانونی آڈیٹرز کی جانب سے یقینی بنایا جاتا ہے۔

اے کے ڈی سیکورٹیز نے ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی جے سی آر وس کی جانب سے جاری کردہ کریڈٹ ریٹنگ رپورٹ کا جائزہ بھی لیا ہے۔ جے سی آر وس نے 22 جنوری 2009ء کی رپورٹ میں ادارے کو A-/A-2 ریٹنگ جاری کی اور ادارے کی کوئی نادہندگی ظاہر نہیں کی۔ اس کریڈٹ ریٹنگ کو جے سی آر وس نے نومبر 2010ء تک برقرار رکھا۔ A- کریڈٹ ریٹنگ کی تعریف جے سی آر وس کی ویب سائٹ پر کچھ یوں ہے “اچھا کریڈٹ معیار؛ حفاظت کے عوامل موزوں ہیں۔ معیشت میں ممکنہ تبدیلیوں کے ساتھ خطرات کے عوامل تبدیل ہو سکتے ہیں” جبکہ A-2 کریڈٹ ریٹنگ کے بارے میں لکھا ہے کہ “بروقت ادائیگی کا اچھا یقین۔ لیکوئیڈٹی کے عوامل اور ادارے کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی اچھی ہے۔ خطرات کے عوامل کم ہیں۔” اس سلسلے میں یہ جاننا بہتر ہوگا کہ جے سی آر وس ایک معروف ریڈٹ ریٹنگ کمپنی ہے اور اس کے حصص یافتگان میں سے ایک نیوز پبلی کیشن لمیٹڈ (جس کا مالک جنگ گروپ خود ہے) شامل تھی اور میر شکیل الرحمٰن اُس کے ڈائریکٹر اور ادارے کے حصص یافتہ تھے۔ (فارم-اے اور فارم-29 کی نقول منسلک ہیں)۔ اس سلسلے میں یہ جاننا بھی بہتر ہوگا کہ اگر ایم ٹیکس سال 2008ء میں ایک ڈیفالٹر کمپنی تھی تو جے سی آر وس کی کریڈٹ ریٹنگ رپورٹ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جو جے سی آر وس اور اس کے ڈائریکٹر کے خلاف (دیوانی یا فوجداری) قانونی چارہ جوئی کا سبب بن سکتی ہے۔

جواب 2

کسی بھی قانون کے تحت آئی پی او/لسٹنگ/ریسرچ رپورٹ کے اجرا کے وقت آئی پی او کے بعد ریسرچ رپورٹ جاری کرنے کے لیے بلیک آؤٹ دورانیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلیک آؤٹ دورانیہ کے حوالے سے قواعد حال ہی میں 27 جولائی 2015ء کو ایس ای سی پی نے جاری کیے ہیں (ایم ٹیکس آئی پی او کے 5 سال بعد)۔

جواب 3

کل قرضہ/ایکوئٹی تناسب رحجان ریسرچ رپورٹ میں بالکل درست بیان کیا گیا تھا جو ادارے کے آڈٹ شدہ کھاتوں کی بنیاد پر ہے۔ آپ کی سہولت کے لیے کل قرضہ/ایکوئٹی تناسب کا حساب ذیل میں درج ہے :

[table id=11 /]

ذریعہ: آڈٹ شدہ کھاتے

اس کی تصدیق آڈٹ شدہ اعداد و شمار سے کی جا سکتی ہے جو ایم ٹیکس لمیٹڈ کی سالانہ رپورٹ بعنوان “6 سال پر ایک نظر” میں پیش کی گئی تھی (نقل منسلک ہے)۔ مزید برآں، ہم واضح کرنا چاہیں گے کہ کل قرضہ/ایکوئٹی تناسب کے حساب میں “قابل وصول” میں کوئی اضافہ یا اخراج نہیں کیا گیا۔

جواب 4

آئی پی او مقصد کے کوائف نامے میں آڈٹ شدہ کھاتے کراچی اسٹاک ایکسچینج کی شرائط کے مطابق کوائف نامے کی اشاعت سے 6 ماہ سے زيادہ پرانے نہیں ہونے چاہئیں۔ آپ جان سکتے ہیں کہ کوائف نامہ 17 مارچ 2010ء کو شائع ہوا تھا اس لیے آڈٹ شدہ کھاتے 31 اکتوبر 2009ء کے مطابق 6 مہینے سے زیادہ پرانے نہیں تھے اور قانون کے مطابق تھے۔ علاوہ، کے ایس ای اور ایس ای سی پی نے 31 اکتوبر 2009ء کے مطابق آڈٹ شدہ کھاتوں کی بنیاد پر آئی پی او کی منظوری دی تھی۔

جواب 5

ہماری ایکارڈین پروجیکٹ کمپنی – کریک ڈیولپرز (پرائیوٹ) لمیٹڈ ڈیلوئٹ کراچی دفتر کی جانب سے آڈٹ کی گئی ہے اس لیے نہ ہی یہ ہماری فکر کا موضوع ہے اور نہ ہی ہمیں بتایا گیا تھاکہ ان کے فیصل آباد دفتر کے ساتھ کوئی داخلی تنازع ہے۔ اسی صورت میں یہ بھی جانیں کہ مندرجہ ذیل اداروں کا آڈٹ بھی ڈیلوئٹ کرچکا ہے:

  • جے ایس انوسٹمنٹس
  • جے ایس گلوبل کیپٹل
  • جہانگیر صدیقی اینڈ کمپنی
  • جے ایس بینک
  • کئی دیگر ادارے/ جے ایس گروپ کے ماتحت ادارے

جہاں تک ایم ٹیکس لمیٹڈ کے آڈٹ کا تعلق ہے جان رکھیں کہ کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت قانونی آڈیٹر ادارے (ایم ٹیکس) کے حصص یافتگان کی جانب سے سالانہ عمومی اجلاس (اے جی ایم) میں مقرر کیا گیا اور یہی بات ادارے (ایم ٹیکس) نے ایس ای سی پی – کمپنیز رجسٹریشن آفس کو بیان کی ۔ اس لیے جان رکھیں کہ اےکے ڈی سیکورٹیز کا ایم ٹیکس کے آڈیٹرز کے انتخاب/تقرری سے کوئی سروکار نہیں۔

یہ بھی جانیں کہ ایم ٹیکس لمیٹڈ کے مالیاتی بیانات ڈیلوئٹ نے 2007ء، 2008ء اور 2009ء میں آڈٹ کیے تھے اس لیے لسٹنگ کے وقت یہ ڈیلوئٹ کی جانب سے ایم ٹیکس لمیٹڈ کا پہلا آڈٹ نہیں تھا۔

مزید برآں، یہ بھی جان رکھیں کہ آڈیٹرز کا نام اور آڈٹ شدہ مالیاتی بیانات قانون کے مطابق کوائف نامے میں شائع ہوئے تھے جو کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئے اور قومی اخبارات میں بھی شائع ہوئے۔ پھر آئی پی او کے وقت آڈیٹر یا ان کے اندرونی تنازع کے حوالے سے کسی بھی حلقے سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا۔ (اے کے ڈی سیکورٹیز کے جوابات یہاں ختم ہوئے)

آخری بات

اے کے ڈی سیکورٹیز کی جانب سے مذکورہ جوابات اور وضاحتوں کو جنگ گروپ نے اس لیے بھی شائع نہیں کیا کیونکہ جس کمپنی ایم ٹیکس کے حوالے سے اے کے ڈی سیکورٹیز کونشانہ بنایا گیا ہے ، اُس کی ریٹنگ جس ادارے نے دی ،اُس کے ایک ڈائریکٹر میں خود میر شکیل الرحمان شامل ہیں۔ اور جنگ گروپ یہ جانتا ہے کہ یہ انکشاف اخبار سے کہیں زیادہ ایف آئی اے کے لیے اہم ہے ، جو آج کل طاقت ور افراد کے ایماء پر جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن چکا ہے۔ ایف آئی اے نے آخر کیوں اب تک اس معاملے میں جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمان کو جے سی آر وس کی جانب سے ایم ٹیکس کی ریٹنگ (اگر وہ غلط ہےتو) پر شامل تفتیش نہیں کیا؟ جنگ گروپ کو یہ حساب بھی دینا چاہیے کہ وہ اب تک اے کے ڈی سیکورٹیز کے ایک ایک معاملے کی بار بار ، بتکرار ، بصد اصرار کتنی بار خبریں دے چکا ہے؟ کیا ایک ہی خبر کو کچھ دن گزرنے کے بعدالفاظ بدل بدل کر دہرائے جانا صحافتی ضابطہ اخلاق کے مطابق ہیں، یا اس سے جنگ گروپ کی اندرونی عداوت کا اظہار ہوتا ہے؟ کیا جنگ گروپ اے کے ڈی سیکورٹیز یا ان کے دیگر معاملات کے بارے میں جتنی خبریں بار بار دے چکا ہے، اس طرح کا رویہ اُس نے ماضی میں کسی اور کے ساتھ بھی روا رکھا ہے؟ میر شکیل الرحمان کے جہانگیر صدیقی کے ساتھ رشتے نے جنگ گروپ کو بھی جہانگیر صدیقی کے بیٹے کا سسرال بنا دیا ہے۔ اور وہ جنگ گروپ اور اُس کی ساکھ کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں جو بگڑا ہوا شوہر اور اُس کا باپ سسرالیوں کے ساتھ کرتا ہے۔وجود ڈاٹ کام جنگ گروپ کے باضمیر لکھاریوں ، دانشوروں اور تحقیقی وقائع نگاری سے منسلک لوگوں کو اس صورتِ حال پر متوجہ کرتا ہے کہ کیا یہ روش مستقبل میں پیشہ صحافت کی آبرو کو برقرار رہنے دے گی؟کیا یہ مناسب وقت نہیں کہ جنگ گروپ کی ساکھ کو داؤ پرلگانے والے اُن کے مالکان اور اُن کے سسرالی رشتے داروں کو روکا جائے؟کیا جنگ گروپ اپنی مصیبت کے دنوں میں پھر آزادی صحافت کے نام پر دوسروں سے کسی اخلاقی حمایت کا حقدار ہوگا؟


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر