... loading ...

جنگ جیو گروپ نے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف اپنی منظم مہم میں پیشہ صحافت کے تمام اخلاقی اصولوں کو پامال کر دیا ہے۔ جس کے ثبوت ہر گزرتے دن ملتے جارہے ہیں۔ وجود ڈاٹ کام کے لیے یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے ابلاغی ادارے کے دعوے دار جنگ اور جیو گروپ کس اوچھے اور چھوٹے پن کے ساتھ جہانگیر صدیقی سے میر شکیل الرحمان کے رشتے کو نبھانے کی خاطر صحافتی ضابطہ اخلاق کے تمام تقاضوں کو پامال کررہا ہے۔ جہا نگیر صدیقی نے مختلف ہتھکنڈوں سے 200 ارب روپے کی بدعنوانی کی ہے جس کے ثبوت وجود ڈاٹ کام کسی بھی فورم پرپیش کرسکتا ہے۔ مگر جنگ اور جیو گروپ میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی بدعنوانیوں کو تحفظ دینے کے لیے ہر حد پار کررہا ہے۔ اس ضمن میں خود جنگ گروپ نے اے کے ڈی سیکورٹیز کو پچھلے دنوں ایک سوال نامہ بھیجا جس میں ایف آئی اے کی جانب سے اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف بنائے گیے مقدمے پر کچھ سوالات کے جواب مانگے گیے۔ صحافتی ضابطہ اخلاق کے تحت جنگ گروپ کو اے کے ڈی سیکورٹیز کے تمام جوابات اور وضاحتیں جوں کی توں شائع کرنی چاہیئے تھیں۔ مگر جنگ گروپ نے کم علمی ، جہالت اور فریق بن کر پوچھے گیے سوالات کے جواب میں اےکے ڈی سیکورٹیز کے جوابات کو اس لیے شائع کرنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ ان جوابات سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف جنگ گروپ کی چلائے جانے والی مہم کس طرح متعصبانہ اور جانب دارانہ ہے۔ نیز اے کے ڈی سیکورٹیز پر لگائے گیے تمام الزامات کس طرح غلط اور غیر پیشہ ورانہ ہیں۔جنگ گروپ کی طرف سے خود پوچھے گیے سوالات کے اے کے ڈی سیکورٹیز کے جن جوابات کو جنگ گروپ نے صحافتی ضابطہ اخلاق کو پامال کرتے ہوئے شائع نہیں کیا ، وہ ذیل میں جوں کے توں دیئے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں وجود ڈاٹ کام نے جنگ گروپ کے مختلف افراد اور جہانگیر صدیقی کے کچھ مقربین بشمول عمران شیخ کی جانب سے ایف آئی اے اور ملک کے دیگر قانونی اداروں پر اثر انداز ہونے کے مختلف طریقوں اور خفیہ ملاقاتوں کے ایک منظم سلسلے کے بھی شواہد حاصل کیے ہیں ، جسے کسی اور دن مناسب طور پر شائع کیے جائیں گے۔ سردست جنگ گروپ کے سوالات پر اے کے ڈی سیکورٹیز کے جوابات ملاحظہ کیجیے! جس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ آخر کیوں جنگ گروپ نے یہ شائع نہیں کیے۔
آپ (جنگ گروپ )کے سوالوں کے جوابات سے قبل یہ جاننا اہم ہے کہ کوائف نامہ (prospectus) کیا ہے؟کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے مطابق کوائف نامہ کی تعریف درج ذیل ہے:
“کوائف نامہ” کا مطلب کوئی بھی ایسی دستاویز جسے کوائف نامے کے طور پر بیان کیا جائے یا جاری کیا جائے، اس میں کوئی بھی نوٹس، سرکلر، اشتہار، یا دیگر مراسلت شامل ہو سکتی ہے، جس میں عوام کو کسی بھی ادارے کے حصص حاصل کرنے یا خریدنے کے لیے مدعو کیا جائے، یا عوام سے ڈپازٹس طلب کیے جائیں، ایک بینکاری ادارے یا مالیاتی ادارے کی جانب سے وفاقی حکومت سے منظور شدہ ڈپازٹس طلبی کے علاوہ، چاہے وہ کوائف نامے کی حیثیت سے بیان ہوں یا نہیں۔
یہ بالکل واضح ہے کہ کوائف نامہ صرف خریداری کے مخصوص دنوں پر حصص خریدنے کے لیے سرمایہ کاروں کو ہدف بنانے کا نام ہے۔ کوائف نامے کے ذریعے آئی پی او کے حصول کی تاریخ 24 اور 25 مارچ 2010ء تھی۔ ای او بی آئی نے کوائف نامے کی بنیاد پر کوئی حصص نہیں خریدے جس میں مبینہ اختلاف کی نشاندہی کی گئی (ای او بی آئی نے 16 اور 25 اگست 2010ء کو ثانوی مارکیٹ سے ایم ٹیکس کے حصص خریدے)۔
یہ جان لینا اہم ہے کہ کوائف نامہ ایک ادارے کی دستاویز ہے ،اے کے ڈی سیکورٹیز لمیٹڈ کی نہیں۔ ادارہ (اے کی ڈی سیکورٹیز)کوائف نامے میں شامل کرنے کے لیے تمام معلومات فراہم کرتا ہے۔ اے کے ڈی سیکورٹیز لمیٹڈ لیڈ منیجر اور آئی پی او کے بک رنر کی حیثیت سے ادارے کے امور کے حوالے سے داخلی معلومات نہیں رکھتا۔ مطلوبہ احتیاط کے طور پر ہم نے آڈٹ شدہ کھاتوں اور ادارے کی کریڈٹ ریٹنگ رپورٹ کا جائزہ لیا ہے۔
30 جون 2008ء اور 2009ء اور 31 اکتوبر 2009ء کو مکمل ہونے والے سال کے لیے ادارے کے آڈٹ شدہ کھاتے ،کوئی بھی نادہندگی اور/یا زائد المیعاد قرضہ ظاہر نہیں کرتے۔ ادارے کے آڈیٹرز معروف آڈیٹر ایم یوسف عادل سلیم اینڈ کمپنی ڈیلوئٹ ہیں جو جے ایس ویلیو فنڈ، جے ایس لارج کیپٹل فنڈ اور جے ایس اسلامک فنڈ سمیت دیگر اداروں کے بھی آڈیٹرز ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی رپورٹنگ معیارات کی شرائط کے مطابق زائد المیعاد قرضے اور نادہندگیاں ادارے کی انتظامیہ کی جانب سے آڈٹ شدہ کھاتوں میں الگ سے ظاہر کی جاتی ہیں اور اس کو قانونی آڈیٹرز کی جانب سے یقینی بنایا جاتا ہے۔
اے کے ڈی سیکورٹیز نے ایک کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی جے سی آر وس کی جانب سے جاری کردہ کریڈٹ ریٹنگ رپورٹ کا جائزہ بھی لیا ہے۔ جے سی آر وس نے 22 جنوری 2009ء کی رپورٹ میں ادارے کو A-/A-2 ریٹنگ جاری کی اور ادارے کی کوئی نادہندگی ظاہر نہیں کی۔ اس کریڈٹ ریٹنگ کو جے سی آر وس نے نومبر 2010ء تک برقرار رکھا۔ A- کریڈٹ ریٹنگ کی تعریف جے سی آر وس کی ویب سائٹ پر کچھ یوں ہے “اچھا کریڈٹ معیار؛ حفاظت کے عوامل موزوں ہیں۔ معیشت میں ممکنہ تبدیلیوں کے ساتھ خطرات کے عوامل تبدیل ہو سکتے ہیں” جبکہ A-2 کریڈٹ ریٹنگ کے بارے میں لکھا ہے کہ “بروقت ادائیگی کا اچھا یقین۔ لیکوئیڈٹی کے عوامل اور ادارے کی بنیادیں مضبوط ہیں۔ کیپٹل مارکیٹوں تک رسائی اچھی ہے۔ خطرات کے عوامل کم ہیں۔” اس سلسلے میں یہ جاننا بہتر ہوگا کہ جے سی آر وس ایک معروف ریڈٹ ریٹنگ کمپنی ہے اور اس کے حصص یافتگان میں سے ایک نیوز پبلی کیشن لمیٹڈ (جس کا مالک جنگ گروپ خود ہے) شامل تھی اور میر شکیل الرحمٰن اُس کے ڈائریکٹر اور ادارے کے حصص یافتہ تھے۔ (فارم-اے اور فارم-29 کی نقول منسلک ہیں)۔ اس سلسلے میں یہ جاننا بھی بہتر ہوگا کہ اگر ایم ٹیکس سال 2008ء میں ایک ڈیفالٹر کمپنی تھی تو جے سی آر وس کی کریڈٹ ریٹنگ رپورٹ پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے جو جے سی آر وس اور اس کے ڈائریکٹر کے خلاف (دیوانی یا فوجداری) قانونی چارہ جوئی کا سبب بن سکتی ہے۔
کسی بھی قانون کے تحت آئی پی او/لسٹنگ/ریسرچ رپورٹ کے اجرا کے وقت آئی پی او کے بعد ریسرچ رپورٹ جاری کرنے کے لیے بلیک آؤٹ دورانیہ کی کوئی ضرورت نہیں۔ بلیک آؤٹ دورانیہ کے حوالے سے قواعد حال ہی میں 27 جولائی 2015ء کو ایس ای سی پی نے جاری کیے ہیں (ایم ٹیکس آئی پی او کے 5 سال بعد)۔
کل قرضہ/ایکوئٹی تناسب رحجان ریسرچ رپورٹ میں بالکل درست بیان کیا گیا تھا جو ادارے کے آڈٹ شدہ کھاتوں کی بنیاد پر ہے۔ آپ کی سہولت کے لیے کل قرضہ/ایکوئٹی تناسب کا حساب ذیل میں درج ہے :
[table id=11 /]
ذریعہ: آڈٹ شدہ کھاتے
اس کی تصدیق آڈٹ شدہ اعداد و شمار سے کی جا سکتی ہے جو ایم ٹیکس لمیٹڈ کی سالانہ رپورٹ بعنوان “6 سال پر ایک نظر” میں پیش کی گئی تھی (نقل منسلک ہے)۔ مزید برآں، ہم واضح کرنا چاہیں گے کہ کل قرضہ/ایکوئٹی تناسب کے حساب میں “قابل وصول” میں کوئی اضافہ یا اخراج نہیں کیا گیا۔
آئی پی او مقصد کے کوائف نامے میں آڈٹ شدہ کھاتے کراچی اسٹاک ایکسچینج کی شرائط کے مطابق کوائف نامے کی اشاعت سے 6 ماہ سے زيادہ پرانے نہیں ہونے چاہئیں۔ آپ جان سکتے ہیں کہ کوائف نامہ 17 مارچ 2010ء کو شائع ہوا تھا اس لیے آڈٹ شدہ کھاتے 31 اکتوبر 2009ء کے مطابق 6 مہینے سے زیادہ پرانے نہیں تھے اور قانون کے مطابق تھے۔ علاوہ، کے ایس ای اور ایس ای سی پی نے 31 اکتوبر 2009ء کے مطابق آڈٹ شدہ کھاتوں کی بنیاد پر آئی پی او کی منظوری دی تھی۔
ہماری ایکارڈین پروجیکٹ کمپنی – کریک ڈیولپرز (پرائیوٹ) لمیٹڈ ڈیلوئٹ کراچی دفتر کی جانب سے آڈٹ کی گئی ہے اس لیے نہ ہی یہ ہماری فکر کا موضوع ہے اور نہ ہی ہمیں بتایا گیا تھاکہ ان کے فیصل آباد دفتر کے ساتھ کوئی داخلی تنازع ہے۔ اسی صورت میں یہ بھی جانیں کہ مندرجہ ذیل اداروں کا آڈٹ بھی ڈیلوئٹ کرچکا ہے:
جہاں تک ایم ٹیکس لمیٹڈ کے آڈٹ کا تعلق ہے جان رکھیں کہ کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت قانونی آڈیٹر ادارے (ایم ٹیکس) کے حصص یافتگان کی جانب سے سالانہ عمومی اجلاس (اے جی ایم) میں مقرر کیا گیا اور یہی بات ادارے (ایم ٹیکس) نے ایس ای سی پی – کمپنیز رجسٹریشن آفس کو بیان کی ۔ اس لیے جان رکھیں کہ اےکے ڈی سیکورٹیز کا ایم ٹیکس کے آڈیٹرز کے انتخاب/تقرری سے کوئی سروکار نہیں۔
یہ بھی جانیں کہ ایم ٹیکس لمیٹڈ کے مالیاتی بیانات ڈیلوئٹ نے 2007ء، 2008ء اور 2009ء میں آڈٹ کیے تھے اس لیے لسٹنگ کے وقت یہ ڈیلوئٹ کی جانب سے ایم ٹیکس لمیٹڈ کا پہلا آڈٹ نہیں تھا۔
مزید برآں، یہ بھی جان رکھیں کہ آڈیٹرز کا نام اور آڈٹ شدہ مالیاتی بیانات قانون کے مطابق کوائف نامے میں شائع ہوئے تھے جو کراچی اسٹاک ایکسچینج میں بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئے اور قومی اخبارات میں بھی شائع ہوئے۔ پھر آئی پی او کے وقت آڈیٹر یا ان کے اندرونی تنازع کے حوالے سے کسی بھی حلقے سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا۔ (اے کے ڈی سیکورٹیز کے جوابات یہاں ختم ہوئے)
اے کے ڈی سیکورٹیز کی جانب سے مذکورہ جوابات اور وضاحتوں کو جنگ گروپ نے اس لیے بھی شائع نہیں کیا کیونکہ جس کمپنی ایم ٹیکس کے حوالے سے اے کے ڈی سیکورٹیز کونشانہ بنایا گیا ہے ، اُس کی ریٹنگ جس ادارے نے دی ،اُس کے ایک ڈائریکٹر میں خود میر شکیل الرحمان شامل ہیں۔ اور جنگ گروپ یہ جانتا ہے کہ یہ انکشاف اخبار سے کہیں زیادہ ایف آئی اے کے لیے اہم ہے ، جو آج کل طاقت ور افراد کے ایماء پر جہانگیر صدیقی اور میر شکیل الرحمان کے جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن چکا ہے۔ ایف آئی اے نے آخر کیوں اب تک اس معاملے میں جنگ گروپ کے میر شکیل الرحمان کو جے سی آر وس کی جانب سے ایم ٹیکس کی ریٹنگ (اگر وہ غلط ہےتو) پر شامل تفتیش نہیں کیا؟ جنگ گروپ کو یہ حساب بھی دینا چاہیے کہ وہ اب تک اے کے ڈی سیکورٹیز کے ایک ایک معاملے کی بار بار ، بتکرار ، بصد اصرار کتنی بار خبریں دے چکا ہے؟ کیا ایک ہی خبر کو کچھ دن گزرنے کے بعدالفاظ بدل بدل کر دہرائے جانا صحافتی ضابطہ اخلاق کے مطابق ہیں، یا اس سے جنگ گروپ کی اندرونی عداوت کا اظہار ہوتا ہے؟ کیا جنگ گروپ اے کے ڈی سیکورٹیز یا ان کے دیگر معاملات کے بارے میں جتنی خبریں بار بار دے چکا ہے، اس طرح کا رویہ اُس نے ماضی میں کسی اور کے ساتھ بھی روا رکھا ہے؟ میر شکیل الرحمان کے جہانگیر صدیقی کے ساتھ رشتے نے جنگ گروپ کو بھی جہانگیر صدیقی کے بیٹے کا سسرال بنا دیا ہے۔ اور وہ جنگ گروپ اور اُس کی ساکھ کے ساتھ وہی سلوک کررہے ہیں جو بگڑا ہوا شوہر اور اُس کا باپ سسرالیوں کے ساتھ کرتا ہے۔وجود ڈاٹ کام جنگ گروپ کے باضمیر لکھاریوں ، دانشوروں اور تحقیقی وقائع نگاری سے منسلک لوگوں کو اس صورتِ حال پر متوجہ کرتا ہے کہ کیا یہ روش مستقبل میں پیشہ صحافت کی آبرو کو برقرار رہنے دے گی؟کیا یہ مناسب وقت نہیں کہ جنگ گروپ کی ساکھ کو داؤ پرلگانے والے اُن کے مالکان اور اُن کے سسرالی رشتے داروں کو روکا جائے؟کیا جنگ گروپ اپنی مصیبت کے دنوں میں پھر آزادی صحافت کے نام پر دوسروں سے کسی اخلاقی حمایت کا حقدار ہوگا؟
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...