وجود

... loading ...

وجود

بھارتی فوجی اہلکارکشمیری خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث !!!

جمعه 11 مارچ 2016 بھارتی فوجی اہلکارکشمیری خواتین کے جنسی استحصال میں ملوث !!!

indian-army-in-kashmir
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں کشمیر کے حق میں اٹھنے والی آواز کا سلسلہ جاری ہے۔ وہاں کی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری خواتین جنسی استحصال کی شکار ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ افسپاء اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر نے کشمیر میں رائے شماری کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے اس خطے پر غیر قانونی طور پر قبضہ جما کر کشمیریوں کے ساتھ استصواب رائے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔ بھارتی ٹی وی’زی نیوز ‘‘ کی جانب سے’’ یوٹیوب ‘‘ پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار نے عالمی یوم حقوق نسواں کے دن کے موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کچھ فوجی اہلکاروں کی جانب سے خواتین کی عصمت ریزی ہوئی ہے۔ کنہیا کمار نے کہا ’’ہم یہاں کہہ دینا چاہتے ہیں کہ تم لاکھ کوشش کروں ہمیں روکنے کی، ہم انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف بولیں گے،ہم افسپا کے خلاف بولیں گے،ہم فوج کا احترام کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر ی خواتین کی کچھ فوجی اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت ریزی ہوئی ہیں۔ ‘‘کنہیا کمار کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پروہ آواز بلند کرتے ہیں گے اور افسپا کے خلاف بھی وہ اپنی آواز بلند کریں گے، بھلے ہی انہیں روکنے کی لاکھ کوششیں کی جائیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کنہیا کمار کو 12فروری کوبھارت مخالف نعرے لگانے کے خلاف حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھاکہ انہوں نے 9فروری کو افضل گورو کی برسی پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران میں یہ نعرے لگائے اور انہیں بعد میں عبوری ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ضمانت پر رہائی کے بعد کنہیا کمار نے یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوے بھارتی سرکار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ’’ وہ بھارت سے نہیں بلکہ بھارت میں آزادی چاہتے ہیں۔ ‘‘انہوں نے اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم ہند نریندرا مودی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ من کی بات کرتے ہیں لیکن سنتے نہیں۔ ان کا کہناتھا کہ وہ حکومت کے خلاف اپنی نظریاتی لڑائی جاری رکھیں گے اور ان پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ کنہیا کمار کو22 دن کی حراست کے بعد جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ کنہیا کمار پر الزام ہے کہ انھوں نے کشمیری علیحدگی پسند افضل گورو کی پھانسی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک تقریب منعقد کی تھی جس میں بھارت کے خلاف اور کشمیر کی علیحدگی کے حق میں نعرے بلند کیے گئے تھے۔ افضل گورو اس ملک کا شہری تھا، اُسے قانون نے سزا دی ہے اور وہی قانون اس دیش کی جنتا کو اس سزا کے خلاف بولنے کا اختیار دیتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ محمد افضل گورو کی برسی کے موقع پر جے این یو نیورسٹی دلی میں احتجاج کے بعد پیدا شدہ تنازعات پر ابھی بحث جار ی ہے کہ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب کی ویڈیو نے نئی دلی کے سیاسی حلقوں میں ہل چل مچادی ہے۔ اس ویڈیو میں یونیورسٹی کی خاتون پروفیسر نویدیتا مینن نے نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بھرپور حمایت کی ہے بلکہ کشمیر پر

بھارت کے قبضے کو غیر قانونی بھی قرار دیا۔ پروفیسر نویدیتا مینن انٹرنیشنل اسٹڈیز اسکول میں سیاست سے جڑے مضامین پڑھاتی ہیں۔ یونیورسٹی میں نیشنلزم کے موضوع پر طلبہ و طالبات سے اپنے خطاب میں خاتون پروفیسر نے کہا’’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جمہوریت ایک مضبوط چیز ہے لیکن اگر یہ اتنی مضبوط ہے تو اس طرح کے(بھارت مخالف) نعرے بلند کرنے والے چند طلباء کو گرفتار کیوں کیا گیا؟‘‘انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو برقرار رکھنے کیلئے بقول ان کے بندوقوں اور توپوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا’’اگر اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں تو جمہوریت اتنی مضبوط نہیں ہے، جیسا کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ جمہوریت کو برقرار اور مضبوط رکھنے کیلئے بندوق اور توپیں استعمال کی جارہی ہیں۔ ‘‘انہوں نے کشمیر میں رائے شماری کے حق میں آوازاُ ٹھاتے ہوئے کہا’’آزادی کے بعد ہند پاک جنگ کے تناظر میں کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق اس وعدے کے ساتھ کیا گیا تھا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد رائے شماری کرائی جائے گی لیکن تب سے ایسا نہیں ہوا‘‘۔ پروفیسر نویدیتا مینن نے مزید بتایا’’ہم سب جانتے ہیں کہ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بھارت نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کررکھا ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بلند کرنا حق پر مبنی ہے۔

Kanhaiya-Kumar


متعلقہ خبریں


آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر