... loading ...

سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو تقریباً پانچ سال قبل انتہائی پراسرار حالات میں اغوا کیا گیا تھا۔ اور آج 8 مارچ کو اُن کی رہائی بھی انتہائی پراسرار حالات میں ہوئی ہے۔ تاحال اس حوالے سے کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تاوان کے بعد رہا کیے گیے ہیں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق کسی مشترکہ کارروائی کے دوران بازیاب کرائے گئے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر شہباز تاثیر کے متعلق اب تک جتنے بھی دعوے کیے جاتے رہے وہ تمام کے تمام غلط ثابت ہوتے رہے۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو تقریباً پانچ سال قبل اگست 2011 میں لاہور کے علاقے گلبرگ سے اغوا کیا گیا تھا۔ مگر اُن کی بازیابی کچلاک سے ہوئی ہے۔ اس دوران میں سامنے آنے والے اکثر دعوے نہایت پراسرار اور اکثر خلاف واقعہ ثابت ہوئے۔
شہباز تاثیر کے منظر عام پر آتے ہی سب سے بڑا سوال ذرائع ابلاغ کی اب تک پھیلائے جانے والی خبروں کے حوالے سے پیدا ہوا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ اپنے “نامعلوم “ذرائع سے اکثر یہ عویٰ کرتے رہے ہیں کہ 2012 میں شہباز تاثیر ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جاچکے ہیں تاہم یہ خبر غلط ثابت ہوئی۔
سابق وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ نے فروری 2015 میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ شہباز تاثیر اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی افغانستان میں ہیں جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یہ معاملہ افغان حکومت کے ساتھ اٹھایا ہے۔ لیکن غیر متوقع طور پر شہباز تاثیر کی رہائی بلوچستان کے علاقے کچلاک سے ہوئی ہے۔ اس دوران میں ایک مرتبہ بھی شہباز تاثیر کے بلوچستان میں ہونے کے حوالے سےکوئی قیاس آرائی تک بھی نہیں کی گئی۔
لاہور پولیس نے شہباز تاثیر کے اغوا کے دوسال بعد جولائی 2013 میں چار افراد فرہاد بٹ، عثمان بسرا، رحمت اللہ اور عبدالرحمن کو گرفتار کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ افراد شہباز تاثیر کے اغوا میں ملوث تھے۔ مگر اُن افراد کی گرفتاری سے بھی شہباز تاثیر کی رہائی ممکن نہ ہو سکی تھی۔ اور یہ بات واضح تک نہیں ہو سکی تھی کہ مذکورہ افراد کے متعلق لاہور پولیس کا دعویٰ درست بھی تھا یا نہیں۔ تاہم شہباز تاثیر کے حوالے سے یہ بات زیر گردش رہی کہ وہ اپنے اغوا کیے جانے کے بعد کئی ماہ تک لاہور میں ہی رکھے گئے اور بعد ازاں اغوا کاروں کی طرف سے اُنہیں لاہور سے کہیں اور منتقل کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اغوا کاروں نے شہباز تاثیر کو ایک کے بعد دوسرے گروہ کے ہاتھوں فروخت کیا تھا۔
شہباز تاثیر کا معاملہ زیادہ دلچسپ طور پراُس وقت موضوع بحث بنا جب مارچ 2014 میں حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ تب مذاکراتی ٹیم کی جانب سے شہباز تاثیر کی رہائی کا معاملہ اُٹھا یا گیا تھا مگر طالبان نے اُن کی رہائی سے انکار کر دیا تھا۔ باخبر ذرائع کا تب اصرار تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کا اُن اغواکاروں پر کوئی اثر نہیں تھاجو شہباز تاثیر کے اغوا کے بعد ایک کے بعد دوسرے ہاتھوں سے آخری ڈیل کے لیے جن کے پاس یرغمال تھے۔ طالبان کی جانب سے رہائی سے انکار کی وجہ بھی دراصل یہی تھی۔ مگر ذرائع ابلاغ میں اغوا کے اس واقعے کے حوالے سے ہمیشہ طالبان کا نام ہی سامنے آتا رہا۔ اس ضمن میں آخری اطلاع یہ سامنے آئی کہ شہباز تاثیر کے اغوا کاروں نے اُن کی رہائی کے بدلے میں ممتاز قادری کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ مگر یہ بات بھی کچھ عجیب ثابت ہوئی کیونکہ ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد اغواکاروں نے غصے میں آکر کسی ردِعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ شہباز تاثیر کی رہائی ممتاز قادری کی سزائے موت کے چند دنوں کے بعد ہوئی۔
شہبازتاثیر کے حوالے سے بلوچستان میں سی ٹی ڈی کے سربراہ اعتزاز گورایا نے یہ دعویٰ کیا کہ شہباز تاثیرکو پولیس اور انٹیلی جنس فورسز نے خفیہ اطلاع پر کچلاک کے ایک کمپاؤنڈ میں کارروائی کرکے بازیاب کرایا ہے۔ مگر اب یہ بات بھی سامنے آگئی ہے کہ شہباز تاثیر رہائی کے بعد ایک ہوٹل میں پہنچے جہاں اُنہوں نے کھانا کھایا اور اس دوران میں وہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار پہنچے جنہیں شہبا زتاثیر نے تقریباً چلا کر متوجہ کیا کہ وہ سلمان تاثیر کے صاحبزادے شہباز تاثیر ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ اگر کسی ہوٹل میں پہلے پہنچے تھے تو کچلاک کے کسی کمپاؤنڈ میں کارروائی کرکے شہباز تاثیر کی بازیابی کا دعویٰ کیوں کیا گیا؟ظاہر ہے کہ اس حوالے سے تمام سوالات کے جواب تب ہی میسر آسکیں گے جب خود شہباز تاثیر اس معاملے پر لب کشائی کریں گے۔ ابھی تک آنے والی آخری اطلاعات کے مطابق شہباز تاثیر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اغواکاروں کوئی ٹھوس معلومات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ جب کہ اُن سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد سوالات کیے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...