وجود

... loading ...

وجود

بول ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی غیر قانونی ہے، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی

بدھ 02 مارچ 2016 بول ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی غیر قانونی ہے، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی

bol-demo

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے چیئرمین کامل علی آغا نے کہا ہے کہ بادی النظر میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ بول ٹی وی کے لائسنس کی منسوخی غیر قانونی ہے اور میری نظر میں بول ٹی وی کو این او سی و سیکورٹی کلیئرنس جاری کے بعد واپس لینا درست نہیں جبکہ پیمرا کے قائم مقام چیئرمین کے فیصلے پر مستقل چیئرمین اب درست فیصلہ کر سکتا ہے۔

کامل علی آغا نے مزید کہا ہے کہ این او سی کی منسوخی کی غلطی قانونی نظر نہیں آ رہی اور یہ غلطی بول کے موقف کی تائید کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ طاقت ور حلقوں نے طاقت کا مظاہرہ کیا اور حکومت نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔ انہوں نے چیئرمین پیمرا کو ہدایت کی کہ بول والوں کو زندہ رہنے دیں اور کہا کہ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ این او سی جاری کرنے کے بعد آخر کس طرح واپس لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بول ملازمین کی تنخواہ اور بول ٹی وی کے لائسنس کا معاملہ ایک ہی ہے، ان کو الگ نہ سمجھا جائے نیز اب اس مسئلے کو جلد از جلد حل کیا جائے کیونکہ یہ بول ملازمین کے اہل خانہ کا مسئلہ ہے جو بحیثیت صحافی انصاف کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

علاوہ ازیں سیکریٹری اطلاعات عمران گردیزی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کچھ چینل مالکان بول کو بند کرنے کے درپے تھے۔ کامل علی آغا نے مزید کہا کہ پیمرا کا آزاد حیثیت میں نہ چلنا بھی آزادی صحافت پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر ڈی جی لائسنس وکیل خان کی سخت سرزنش کی اور کہا کہ وزارتِ داخلہ سے پوچھا جائے کہ انہوں نے بول ٹی وی کو سیکورٹی کلیئرنس جاری کرنے کے بعد واپس کیوں لی۔

اس موقع پر سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ وزارت اطلاعات نے 28 مئی 2015ء کو بول کی نشریات رکوانے کے لیے پیمرا کو خط لکھ کر قانون کا مذاق اڑایا ہے۔ کامل علی آغا کا مزید کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی نے بول کے بارے میں جو قرار داد منظور کی ہے وہ سینیٹ کمیٹی کے لیے رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے اور اس قرار داد کو ہماری نظر میں تقدس حاصل ہے۔ اجلاس میں بول ٹی وی کے فیصل عزیز خان نے سندھ اسمبلی کی قرار داد تفصیل سے پڑھ کر سنائی جس پر اراکین کمیٹی نے قرارداد کو سراہا اور کہا کہ قرارداد سے ہی رہنمائی لیں گے۔

دریں اثناء سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ جن الزامات کے تحت بول کو بند کیا گیا اسی طرح دیگر نشریاتی اداروں کو بھی بند کیا جا سکتا ہے۔ دو سال تک بول چینل کے ملازمین کی بھرتی ہوتی رہی اور بول چینل اپنی نشریات کے آغاز کی تیاری کر رہا تھا تو حکومت اس وقت کیا کر رہی تھی اور صرف امریکی اخبار میں خبر چھپنے کے بعد ہی بول چینل کے خلاف یہ کارروائی کیوں کی گئی۔ بول ٹی وی کی بندش کے لیے وزارت اطلاعات کا خط غیر قانونی تھا اور اس خط کی روشنی میں پیمرا کی کارروائی بھی غیر قانونی ہے، جب کہ ‘کونسل آف کمپلین’ میں پی بی اے کی شکایت بھی غیر قانونی تھی اور اس درخواست پر بول کا لائسنس معطل کرنے کی سفارش بھی غیر قانونی عمل تھا۔

چیئرمین کامل علی آغا نے مزید کہا کہ جرم ثابت ہوئے بغیر بول کو سزا دے دی گئی ہے، جبکہ پیمرا کی ٹیم گزشتہ اجلاس میں کی گئی باتیں دہرا کر محض وقت ضائع کر رہی ہے۔ ڈی جی لائسنسنگ پیمرا وکیل خان ہائی کورٹ کے فیصلے کا غلط مطلب نکال رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ انصاف کی بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر آئندہ اجلاس جلد بلایا جائے گا جس میں وزارت داخلہ سے وضاحتیں طلب کی جائیں گی۔

اس موقع پر چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی سفارشات نے ہمیں ایک نئی طاقت دی ہے اور اب ہم ان سفارشات پر عمل کرنے کے قابل ہیں۔

علاوہ ازیں سیکریٹری اطلاعات عمران علی گردیزی نے اعتراف کیا کہ یہ بات درست ہے کہ بول کے دفتر سے ایف آئی اے سامان اٹھا کر لے گئی۔ جبکہ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ ملک دشمن، بلیک میلرز، ٹیکس چور، کالا دھن کرنے والے اور سزا یافتہ میڈیا مالکان کے نام ظاہر کیے جائیں اور ایسے مجرموں کے نام چھپانے نہیں چاہئیں۔ واضح رہے کہ بول انتظامیہ کی جانب سے اجلاس میں نذیر لغاری، فیصل عزیز خان اور ظاہر شاہ شیرازی نے شرکت کی۔ فیصل عزیز خان نے کہا کہ پیمرا کو مستقل چیئرمین کی غیر موجودگی میں بول کا لائسنس معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے، جب کہ وزارت داخلہ سیکورٹی کلیئرنس جاری کرنے کے بعد واپس لینے کی مجاز نہیں ہے۔ معروف صحافی نذیر لغاری کا کہنا تھا کہ اگر اسی طرح سرکاری نوٹیفکیشن، احکامات، کرنسی نوٹ اور گزٹ واپس لیے جانے لگے تو پورا ریاستی نظام ہی گر پڑے گا۔ ‘کونسل آف کمپلین’ کی بول کے خلاف کارروائی قطعی غیر قانونی تھی جب کہ پیمرا نے بول کا لائسنس معطل کر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر