... loading ...

نیب ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف آج (25 فروری) 5ء 462 ارب روپے کا ایک ریفرنس دائر کر رہا ہے۔ جس میں ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف منی لانڈرنگ سمیت کل پانچ الزامات عائد کئے گیے ہیں۔ان الزامات میں منی لانڈرنگ، سرکاری اختیارات کاناجائز استعمال، سرکاری اراضی پر غیر قانونی تجاوزات اور فراڈ الاٹمنٹ کے معاملات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریفرنس میں 2013 میں فرٹیلائزر کارٹیل کے ذریعے گیس کی بلیک مارکیٹنگ کا الزام بھی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر نیب کے پاس پہلے سے موجود ان تحقیقات میں شریک ملزم کے طور پر جہانگیر صدیقی کے متعلق تمام حقائق کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر ان دیکھا کر دیا گیا ہے۔
انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کے جو الزامات ڈاکٹر عاصم حسین پر عائد کئے جارہے ہیں۔ اُن میں جہانگیر صدیقی ایک مرکزی کردار کے طور پر ملوث پائے گیے ہیں۔ جو خود نیب کی تحقیقات کا بھی ہدف رہے۔ مگر پھرکچھ پراسرار وجو ہات کی بناء پر ڈاکٹر عاصم حسین اور جہانگیر صدیقی کے تال میل سے ہونے والی بدعنوانیوں کے اُس حصے میں سے جہانگیر صدیقی کا نام غائب کردیا گیا ہے۔ جہانگیر صدیقی کے جے ایس گروپ نے ایک خطرناک منصوبے کے ذریعے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا چونا لگایا تھا۔اس منصوبے کے مختلف حصوں میں سے ایک کے تحت 2006ء سے 2008ء کے دوران گروپ کے اداروں کی حصص کی قیمتیں اچانک بڑھادی گئی تھیں تاکہ جے ایس سی ایل کی خالص اثاثہ جات کی ویلیو کے بارے میں مصنوعی تاثر قائم ہو اور پھر حصص کو گرا کر جعلی قیمتوں سے بڑے پیمانے پر دونوں ہاتھوں سے منافع لوٹا گیا تھا۔اسی طرح مختلف ماتحت اداروں اور ایسوسی ایٹس کے حصص کی قیمتیں بھی اسی طرح کی سازشوں کے ذریعے بڑھائی گئیں تاکہ مصنوعی تاثر دیا جا سکے۔ اس کے بعد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حقوق کے ساتھ ساتھ حصص بھی جاری کیے اور ان سرمایہ کاروں کو بڑا نقصان پہنچایا گیا تھا۔ ایس ای سی پی نے ڈاکٹر عاصم حسین اورسابق وزیر خزانہ نوید قمر کے اثر و رسوخ تلے دب کے تب اُنہیں غیر قانونی استثنا دیئے تھے۔
ایس ای سی پی نے جے ایس گروپ کے ان اقدامات کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ بھی دائر کیا تھا، جس میں منی لانڈرنگ اور کالعدم گروہوں کی مبینہ سرمایہ کاری کے آثار بھی پائے گیے تھے۔ رپورٹ نے خانانی اینڈ کالیا منی ایکسچینج کے ساتھ متعدد ملزمان کے روابط کا بھی انکشاف موجود تھا۔ ان روابط کی چھان بین ایسے حالات میں اور زیادہ ضروری ہو جاتی ہے جبکہ امریکا نے خود خانانی اینڈ کالیا پر پابندی عائد کردی ہے۔ اور دوسری طرف ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف نیب کے دائر کردہ ریفرنس میں منی لانڈرنگ کے اُن ہی ادوار کو لیا جارہا ہے جب ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ جہانگیر صدیقی بھی گردن گردن منی لانڈرنگ میں دھنسے ہوئے تھے۔ ایس ای سی پی کی تب ہونے والی تحقیقات سے اندازہ ہوا تھا کہ تب سرمایہ مارکیٹ کو کریش کرکے کم وبیش 150 ارب روپے کا فراڈ کیا گیا تھا۔ مگر آج تک اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا کہ فراڈ کی یہ رقم کہاں گئی؟ باخبر ذرائع کے مطابق یہ ساری رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھیج دی گئی تھی۔ جس میں ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ جہانگیر صدیقی ایک مرکزی کھلاڑی تھے۔ مگر نیب کے آج دائر کئے جانے والے ریفرنس میں جہانگیر صدیقی کا نام کہیں پر بھی شامل نہیں۔
وجود ڈاٹ کام نے اس سلسلے میں جب نیب کے مختلف ذرائع کو ٹٹولا تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ جہاں ایک طرف جہانگیر صدیقی کے لئے سرکاری سطح پر یہ غیر تحریری اور زبانی ہدایات موجود ہیں کہ اُنہیں کسی بھی بدعنوانی کے معاملے میں کہیں پر بھی تنگ نہ کیا جائے، وہیں جہانگیر صدیقی کے لئے کام کرنے والے ایک شخص عمران شیخ کا بھی سراغ ملاہے۔ نیب کے ایک ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ عمران شیخ اپنا تقریباً تمام وقت نیب کے مختلف افسران پر ہی صرف کرتے ہیں ، جو صرف جہانگیر صدیقی کےمفادات کا تحفظ کرنے اور اُن کے خلاف سرکاری کاغذوں کے حرکت میں آنے کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس کے لئے اُن کے پاس جہانگیر صدیقی کی طرف سے دیا گیا سرمایہ اور دیگر تمام رنگین وسنگین لوازمات ہر وقت مہیا رہتے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس طرح وہ خود نیب اور ایف آئی اے کے مختلف افسران کو مالیاتی اور اخلاقی طور پر کرپٹ کرتے رہتے ہیں اور اس کا فائدہ جہانگیر صدیقی کے خلاف تحقیقات کو رکوانے کی صور ت میں اُٹھاتے ہیں۔ یوں جہانگیر صدیقی نیچے سے اوپر تک ہر جگہ خود کو محفوظ رکھنے کے لئے سیاسی اور حکومتی اثرورسوخ کے علاوہ ہرقسم کے رنگین وسنگین حربے ، عشوے، غمزے اور طریقے آزماتے رہتے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے کھیل میں نیب اپنی غیرجانبداری کیسے برقرار رکھتی ہے اور ایک ہی قسم کی ساتھ ساتھ کی جانے والی بدعنوانیوں اور منی لانڈرنگ کے معاملات میں ڈاکٹر عاصم حسین کے ساتھ جہانگیر صدیقی کے معاملے کو کیسے سنبھالتی ہے؟
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...