وجود

... loading ...

وجود

نیب سے خوف زدہ نہیں، پیپلز پارٹی میگا اسکینڈلز کی تحقیقات کرانا چاہے تو کرا لے! چودھری نثار

پیر 22 فروری 2016 نیب سے خوف زدہ نہیں، پیپلز پارٹی میگا اسکینڈلز کی تحقیقات کرانا چاہے تو کرا لے! چودھری نثار

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی ایف آئی اے کی کارروائیوں پر کسی غلط فہمی کا شکار ہے توعدالتی اسکروٹنی کے لئے تیار ہیں، اگر تحفظات ہیں تو تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان کو ان اسکینڈلز کے بارے میں متعلقہ افسران بریفنگ دینے کو تیار ہیں، پھراس کے بعد وہ خود فیصلہ کرلیں کہ اس میں کسی قسم کی حکومتی مداخلت کی گنجائش تھی،ان اسکینڈلز پر آگے نہ بڑھیں تو یہ کسی جرم سے کم نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں شاید واحد اسلامی مملکت ہوگی جہاں پچھلے دور حکومت میں حج اور عمرہ میں بھی کرپشن کی گئی، آج پیپلزپارٹی کی جانب سے مجھ پر تنقید کی جاتی ہے، کاش وہ اپنے دور حکومت میں ہونے والی کرپشن پر غور کرتے، ایف آئی اے عدالتی حکم پر حج کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کر رہا ہے، ساری کارروائی سیاسی مصلحت سے پاک ہے، ہم نے ایف آئی اے کو حکومتی مداخلت سے بھی دور رکھا، کبھی ایف آئی اے کو نہیں کہا کہ اس کو پکڑ لو یا اس کو چھوڑ دو۔وزیر داخلہ چودھری نثار نے ان خیالات کا اظہار خود اُن کی جانب سے ایف آئی اے کے معاملات پر عدالتی کمیشن کے قیام کی پیشکش کو سندھ حکومت کی جانب سےقبول کرنےپر جوابی ردعمل کے طور پر کیا ہے۔سندھ حکومت کی طرف سے وزیرداخلہ کی پیشکش قبول کرنے کے فیصلےکے ساتھ کہا گیا تھا کہ وہ کے ایم سی کی پندرہ ہزار فائلوں کو ایف آئی اے کی جانب سے اُٹھا کرلے جانے کے معاملے کی عدالتی کمیشن کی طرف سے چھان بین کرائیں کہ کیا اُنہیں اس کا قانونی اختیار تھا یا نہیں۔ وزیرداخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس پر اپنا ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن چھوٹے چھوٹے معاملات پر نہیں بنایا جاسکتا۔اگر میگا اسکینڈلز پر پیپلزپارٹی کو تحفظات ہیں تو میں تمام سیاسی جماعتوں کو حقائق دینے کو تیار ہوں اور اگر اس پر ریٹائرڈ ججز پر مشتمل کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے بھی تیار ہیں لیکن کمیشن میں ایسے ججز کا انتخاب کرلیں جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری کوشش کی ہے کہ ایف ائی اے کو پاکستان کا ادارہ بنایا جائے جس میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہ ہو، ایف آئی اے کی اینٹی کرپشن میں ریکوری اربوں روپے میں ہونے لگی ہے جو 2013 سے قبل کروڑوں میں تھی، اور 15-2014 کے اعداد و شمار کے مطابق ایف آئی اے نے قومی خزانے میں 14.6 ارب روپے تک جمع کرائے، ایف آئی اے کی اچھی کارکردگی ہے، اس لئے اس ادارے کی کارکردگی کو سیاسی بیان بازی کی نذر نہ کیاجائے۔

وزیر داخلہ نے نیب سے متعلق وزیر اعظم کی جانب سے سخت ردعمل دیئے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نیب سے ناراض ہے اور نہ خوفزدہ ہے۔ حکومت نیب کے پرکاٹنے کی ہر گز کوشش نہیں کررہی۔ چودھری نثار نے وزیراعظم کے بیان کا پس منظر واضح کرتے ہوئے کہا کہ چند بڑے بزنس مین وزیراعظم کے پاس آئے اور انہیں باور کرانے کی کوشش کی کہ ان سے ناانصافی ہورہی ہے اور نیب انہیں خوفزدہ کررہی ہے جب کہ ایک بڑے بزنس مین نے میری موجودگی میں وزیراعظم کے سامنے نیب کی جانب سے خوفزدہ کئے جانے کی بات کی جس پر وزیراعظم نے میڈیا میں آکر اظہار خیال کیا اس لئے وزیراعظم کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ چیئرمین نیب حکومت اوراپوزیشن کی رضامندی سے منتخب ہوئے اس سے پہلے پرویز مشرف یا آصف زرداری کی ایما پر منتخب ہوتے رہے، نیب تو اصل میں بنی ہی مسلم لیگ (ن) کے خلاف تھی، پیپلزپارٹی دورمیں جوچیرمین نیب مقررہوئے اس میں میری مشاورت شامل نہیں تھی،گزشتہ پانچ سالوں میں ایف آئی اے ایک مذاق تھا، ہم نے کبھی یہ واویلا نہیں کیا کہ صوبائی خودمختاری پرحملہ ہوگیا، ہم نے عدالت میں جاکر مقدمہ پیش کیا، اگر حکومت سندھ کو کسی ایک کیس پر تحفظات ہیں توان کے پاس ایک راستہ ہے کہ عدالتوں میں جائیں،اگر سندھ حکومت کو ڈاکٹر عاصم کے معاملے پر تکلیف ہے تو اسے سیاسی بنانے کے بجائے کیس عدالت میں پیش کرے۔

بھارتی ایئرفورس بیس پٹھان کوٹ حملے پر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ پٹھان کوٹ واقعے سے متعلق بھارت نے کچھ موبائل نمبرزاور نام شیئرز کئے تھے، ان سب پر ابتدائی تفتیش ضرور ہوئی ہے مگر اصل تفتیش تب ہوسکتی ہے جب مقدمہ درج ہو اس لئے گوجرانوالہ میں مقدمہ درج کیا گیا لیکن مخالفین نے ایف آئی آرکو طرح طرح سے ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی، قانونی پیش رفت کے لئے ضروری ہے کہ ایف آئی آر درج ہو، جب ممبئی کا واقعہ پیش آیا تو ایف آئی آر پاکستان میں درج ہوئی جب کہ دوسری طرف سے موقف ہے کہ واقعہ کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی اور یہاں سے لوگ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چند روز میں اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم بھارت جائے گی جس کے لئے بھارت کو خط لکھا جاچکا ہے جس کا جواب اتفاق میں ملا مگر ساتھ ساتھ کہا گیا ہے کہ جب بھی ٹیم کو آنا ہو تو 5 دن پہلے آگاہ کیا جائے جب کہ بھارتی اطلاعات کی بنیاد پر کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں لیکن ان گرفتاریوں کا ٹیلی فون نمبرز یا ناموں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اس کی تفتیش ہونا باقی ہے۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر