وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

منگل 16 فروری 2016 آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

Zamrooda-Habib2

انجم زمرودہ حبیب اسلام آباد (اننت ناگ) سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی خاتون ہیں جنہوں نے 80ء کی دہائی میں ہی وومینز ایسوسی ایشن بنائی تھی، جہاں سے وہ خواتین کے مختلف سماجی مسائل کو حل کرنے میں ایک کردار ادا کررہی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ زمردہ جی، حنفیہ کالج اسلام آباد میں اس وقت ایک معلمہ کی حیثیت سے کام کررہی تھیں، جب کشمیری مردو زن سڑکوں پر نکل آئے اور پوری قوت سے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ کشمیری جوانوں نے بھارتی ہٹ دھرمی توڑنے کے لیے بندوق اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انجم زمرودہ حبیب نے خواتین کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 1990ء میں زمرد نے مسلم خواتین مرکز کے نام پرایک خواتین تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ جہاں کہیں بھی معرکے، بے گناہوں کا قتل عام، خواتین کی بے حرمتی کے واقعات رونما ہوتے، زمرد وہاں پہنچتی، اس کے خلاف احتجاج کرتی، بین الاقوامی اداروں کو تحریری طور پر اطلاع پہنچاتی اور مصیبت زدہ لوگوں کی دلجوئی کرتی۔ اپنے اس مشن پر کام کرتے ہوئے زمرد نے بہت سارے بیرونی ممالک کے دورے کئے اور وہاں کشمیری عوام پر ڈھائے گئے مظالم کی درد ناک کہانیا ں سناتی رہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں۔ انہوں نے بیوگان کے دستاویزی ریکارڈ کو مرتب کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ 6؍فروری2003ء کو زمرد حبیب کو بنکاک میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں وہ دہلی پہنچیں، اس دورے میں ان کا بنکاک سے پاکستان بھی جانے کا ارادہ تھا، لیکن انہیں تھائی ایمبیسی کے باہر ہی گرفتار کیا گیا۔ وہ پانچ سال تک تہاڑ جیل کی زینت بنی رہیں۔ جیل کے اندر ان پر کیا بیتی، اپنی کتاب قیدی نمبر 100میں وہ اس کا احاطہ یوں کرتی ہیں:

’’اس پرائے شہر کے سب سے بڑے زندان میں جہاں انسانی شکل میں درندے بستے ہیں، میں نے اللہ کی رحمت کے بھروسے پر ان تمام مصیبتوں کا سامنا کیا۔ رفتہ رفتہ میں نے مصیبتوں سے دوستی کرلی تھی۔ پانچ سو عورتوں میں ایک دو دوست خیر خواہ بھی مل گئیں مگر وہ جلدی چھوٹ گئیں۔ ان کے چھوٹنے کا غم نہیں۔ بقول مولانا ابو الکلام آزاد: قید خانے میں بھی سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، یہاں بھی رات کو تارے چمکتے ہیں، یہاں بھی صبح اندھیروں کو چیر کے روشنی لاتی ہے، یہاں بھی خزاں کے بعد بہار آتی ہے، یہاں بھی پرندے صبح چہکتے ہیں مگر ان کا معنیٰ باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتا ہے ’’رہائی کے لیے پل پل گن کر ان چیزوں کا جائزہ ایک قدرتی عمل تھا۔ بہار کے آنے کی امید لیے کئی بہاریں بیت جاتی تھیں، مگر پھر بھی بہار کا انتظار ختم نہیں ہوتا تھا۔ میں بھی استقامت کے ساتھ بہار کا انتظار کررہی تھی‘‘

۔ ۔ ۔ ’’رہائی پانے کے بعد بھی میں بے خوابی کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ نیند کی دوائی کھائے بغیر مجھے نیند نہیں آتی، رات رات بھر جاگتی رہتی ہوں۔ گھٹن بھرے خواب اب بھی مجھے ستاتے ہیں، کیو نکہ خواب میں، میں جیل، جیل کی سلاخیں، جیل کا سٹاف اور جیل کا پر تناو ماحول دیکھتی ہوں۔ ابھی بھی جب شام کے چھ بج جاتے ہیں تو ایک خوف سا طاری ہوجاتا ہے۔ چھ بجے کے بعد گھر سے نکلنا مجھے ایک معمہ سا لگتا ہے۔ کیونکہ شام کے چھ بجے جیل کی گنتی بند ہوجاتی تھی اور اس عادت نے میرے ذہن کو مقفل کردیا ہے۔ بظاہر میں آزاد دنیا میں ہوں مگر ابھی بھی بنا ہاتھ پکڑے میں سڑک پر اطمینان سے چل نہیں سکتی کیونکہ پانچ سال تک پولیس والے میرا ہاتھ پکڑے مجھے تہاڑجیل سے عدالت اور عدالت سے تہاڑ تک لے جایا کرتے تھے اور اس عادت نے میرے ذہن میں وہ نقوش چھوڑے ہیں جن کا مٹنا مشکل ہے‘‘

زمرودہ حبیب کی آزادی کی جستجو آج بھی جاری ہے اور اس کا برملا اظہار انہوں نے ہندستانی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ: ’’ہم آزادی چاہتے ہیں‘‘۔ اور جب صدر ہند نے پوچھا: ’’ کس قسم کی آزادی؟‘‘ تو زمرد نے جواب دیاـ’’ ویسی ہی آزادی جیسے آپ نے انگریزوں سے حاصل کی۔ ‘‘ یہ گفتگو ہندستانی صدر پرتیبھا پاٹل اور ایک خواتین وفد کے درمیان 29؍ستمبر2010ء کو (Women’s Initiative of Peace for South Asia (WIPSA))کے اہتمام سے ہوئی تھی۔ آج کل سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کا نفرنس کے انسانی حقوق کے شعبے اور کشمیر تحریک خواتین تنظیم کی سربراہ ہیں۔ وجود ڈاٹ کام کیلئے ان کا یہ انٹرویو سرینگر سے خصوصی طور پر لیا گیا)

جب میں تہاڑ جیل سے رہا ہوئی، میں ہر جذبہ سے عاری تھی۔ کوئی خوشی نہ غم۔ میں ایک واہمہ کا شکار تھی اور میں طے نہیں کر پا رہی تھی کہ میں جیل میں ہوں یا آزاد ہوں

س: آپ کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے، آرام و آسائش کی کوئی کمی نہیں، کیوں تحریک آزادی کاخاردار اور پر خطر راستہ اپنے لئے چن لیا؟

ج: ایک با ضمیر انسان اپنی قوم کی خوشحالی، ترقی اور خاص کر آزادی کے لئے کام کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ ern womens conc کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ میرے ذہن میں تھیں۔ جب مسلح تحریک شروع ہوئی، عورتوں کے متعلق جتنے بھی کام تھے وہback drop پر چلے گئے۔ لیکن میں نے تحریک آزادی کا محاذ سنبھالا، ہماری رشتہ داری اور ہمارے محلے کے کچھ نوجوانوں نے قابض فورسز کے خلاف ہتھیار اُٹھائے اور میں نے اُن کا کھل کرساتھ دیا۔ کشمیر کی ہر بہن ہر ماں نے خلوص کے ساتھ عسکری تحریک کا ساتھ دیا اور اپنے گھروں میں مجا ہدین کو جگہ دی، ان کے گھر والوں کی ہر ممکنہ مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران سرینگرکی کچھ تحریک نواز خواتین میرے گھر آگئیں اور ہم نے 1990میں با قاعدہ مسلم خواتین مرکز تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ بختاور بہن جی، نذہت روڈا، ماہ جبین اختر، محمودہ باجی، مسرت اقبال، بلْیس میر اور میں اس تنظیم کے بنیادی ممبران تھے، مجھے اس تنظیم کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ بختاور بہن جی اس تنظیم کی پہلی صدر تھیں۔ ضلع اسلام آباد میں میرے ساتھ اُس وقت دو سو لڑکیاں ا ور خواتین تھیں اور ان میں سے تقریبا پچاس لڑکیوں نے نرسنگ کا کورس بھی کیا تا کہ اگر کوئی بھارتی افواج کے ہاتھوں زخمی ہوتا ہے تو فوراََ اسے طبی امداد مہیا ہوجائے۔ اسی دوران گرفتاریوں، چھاپوں اور کریک ڈاؤنز کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور میں پہلی بار مارچ1991 میں بھارتی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئی۔ تب سے گرفتاریوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔

س :آپ ایک سیاسی کار کن بھی ہیں اور انسانی حقوق کی کار کن بھی، آپ یہ کردارکس طرح نبھارہی ہیں؟

ج۔ میں حریت کانفرنس کی بنیادی ممبر ہوں، اور اس وقت میں حریت کا نفرنس میں انسانی حقوق پر کام کرتی ہوں۔ میں نے جنیوا۔ امریکا، برطانیا اور کئی ممالک میں کشمیر میں ہورہے انسانی حقوق کی پا ما لیوں اور خاص کر عورتوں کی عفت پر حملے کے خلاف آواز بلند کی۔ جو ہم پر ظلم وتشدد کیاجا رہا ہے وہ صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے سیاسی حق، حق خودارادیت کے لئے پُر امن جد جہد کر رہے ہیں۔ سیاسی حقوق انسانوں کو دئیے جاتے ہیں، سیاسی حق اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ میں الحمد للہ دونوں کرداروں کو نبھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔

س: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پا ما لیوں کے سلسلے میں مقامی اور بین ا لاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے کردارکے بارے میں آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟

ج: کشمیر میں انسانی حقوق کی نہ صرف پا مالی ہورہی ہے بلکہ انہیں پاوٗں تلے رونداجا رہا ہے۔ بین الاقومی سطح پر پوری دنیا کھلی آنکھوں سے یہاں ہورہی انسانی پا ما لیوں کو دیکھتے ہیں مگر مجرمانہ خا مو شی اختیار کئے ہوئے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کا رونا تو رورہے ہیں، لیکن عالمی برادری ابھی تک خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہی ہے۔ توقع ہے کہ ایک دن ضرور آئیگا جب عالمی برادری بالخصوص عالمی قوتیں اس طرف توجہ مبذول کریں گی اور نہ صرف انسانی حقوق کی ان پا مالیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ جس وجہ سے یہ انسانی پا مالیوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، اس وجہ کو ایڈریس کیا جائیگا۔ اور سب جانتے ہیں وہ وجہ ہے بھارت کی ہٹ دھرمی اور ریاست پر اس کا غاصبانہ قبضہ۔ ظلم جب بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ ظلم ظالم سمیت ان شا ء اللہ ضرور مٹے گا۔

Zamrooda-Habib1

س : آپ نے بدنام زمانہ بھارتی تہاڑ جیل میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ کیا آپ مختصر الفاظ میں ہمارے قارئین کو اپنی گرفتاری اور بھارتی عدالتی نظام کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی ؟

ج: 1991ء سے آج تک میں کئی بار گرفتار ہوچکی ہوں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں ظلم و تشدد، سرکار ی دہشت گردی، فرضی جھڑپوں، بلا جواز گرفتاریوں کے خلاف پروٹسٹ کرتی رہتی ہوں اور ہمیشہ پولیس اور بھارتی انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظروں میں رہتی ہوں۔ 2003 میں مجھے ہیومن رائٹس کے حوالے سے بنکاک میں منعقدہ ایک کانفرنس میں جانا تھا۔ ویزے کے سلسلے میں میں چنکیہ پوری دہلی میں بنکاک ایمبیسی کی طرف جارہی تھی کہ سی بی آئی والوں نے میری گاڑی روک دی اور مجھے گرفتار کر کے لودھی پولیس تھانے(ا سپیشل سیل) لے گئے، دس دن تک وہ میرا انٹروگیشن کرتے رہے، مجھے بہت ہی اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا۔ دس دن بعد مجھے بد نام زمانہ تہاڑجیل بھیجا گیا جہاں عرصہ دراز تک میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرتی رہی، مگر اللہ کا کرم ہے کہ وہ میری ہمت کو توڑ نہیں پائے۔ جہاں تک بھارت کا عدالتی نظام ہے اس میں کشمیریوں کیلئے انصاف کا معنیٰ کچھ اور ہے۔ وہ ہر کشمیری کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھتی ہیں، جج بھی ہوسٹائل، قانون بھی ہوسٹائل، وکلا بھی ہوسٹائل ا ور جیل کے حکام بھی جانبدار۔ جب میں تہاڑ جیل سے رہا ہوئی، میں ہر جذبہ سے عاری تھی۔ کوئی خوشی نہ غم۔ میں ایک واہمہ کا شکار تھی اور میں طے نہیں کر پا رہی تھی کہ میں جیل میں ہوں یا آزاد ہوں۔ باہر حریت کا نفرنس کا شیرازہ بکھر چکا تھا، تنظیموں کے کئی کئی دھڑے ہوچکے تھے اور میری آنکھیں وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ میری اپنی تنظیم میں بھی وہ نظم و ضبط نہیں رہا تھا جس کے لئے میں نے بے پناہ کوشش کی تھیں۔ اپنے تحریک نوازوں کے ساتھ سنجیدہ مشورے کے بعد میں نے اپنی تنظیم کا نام تبدیل کیا اور اب اس کا نام ’’ کشمیر تحریک خواتین ‘‘ رکھا ہے۔ رہا ہونے کے بعد میں نے نظر بندوں کی ایک تنظیم”Association For Families Of Kashmiri Prisoners” کی بنیاد ڈالی۔ چونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے نظر بندوں کے حقوق کی پا ما لی دیکھی تھی اور نظربندوں اور اُن کے لواحقین کا درد میرے دل کے قریب تھا۔ میں جا نتی تھی کہ بیشتر لواحقین ناداری اور کسمپری کی حالت میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ اور ایسی کوئی تنظیم بھی موجود نہ تھی جو ان اسیر جیالوں کو یاد رکھتی۔ میں نظربندوں کے لواحقین سے ملتی رہی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں نے نظر بندوں کے حوالے سے Data based ایک ڈاکومینٹیشنDocumentation)) شروع کیا اور اسے ایک کتا بچے “Forgotten Prisoners of Kashmir” کی شکل دے کر شائع کیاہے۔ ’’کشمیر تحریک خواتین ‘‘ نے Our Widows”‘‘ کے نام پر شہداء کی بیواؤں کیdocumentation شروع کی ہے جس کا ایک ایڈیشن شایع ہو چکا ہے۔

س: آپ کے والدین، عزیز و اقارب آپ کے حوالے سے زیادہ متفکر تو نہیں رہتے؟

ج: یہ ایک قدرتی بات ہے۔ اور جب بات ایک بیٹی کی ہو اور آگے بھارت کا ظلم و جبر ہو، تو ان کا متفکر ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔

س: تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کے کردار کے بارے میں کچھ فرمانا پسند کریں گی؟
ج: تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کشمیر نے بے پناہ قر با نیاں دیں اور دے رہی ہیں، اُن کی قربا نیوں کو ہر گز نظر اندازا ور فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر مجھ سے رواں تحریک کے بارے میں پوچھا جائے تو میرا جواب یہ ہو گا کہ یہ تحریک ماں بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے، اُسی کا بیٹا وطن آزادی کے لئے اپنی عزیز جانوں کی قر بانی پیش کرہا ہے، اُسی کا باپ جرم بے گناہی میں بھارتی افواج کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے، اُسی کے عزیز و اقارب بھارت کے محتلف اذیت خانوں میں عر صہ دراز سے مقید ہے اور اُسی کا لخت جگر زندہ غائب کیا گیا اور کیا جارہاہے۔ ہزاروں کی تعداد میں کشمیر میں بیوائیں ہیں جو نہایت ہی مشکلات سے دوچار ہونے کے با وجود تحریک کا ساتھ دے رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف متنازع خطوں میں عورتوں نے اپنے حصے کا کر دار نبھایا ہے اور کشمیر دنیا سے الگ نہیں ہے۔ ہماری ماں بہنیں سیاسی طور با شعور ہیں اور اس رواں تحریک آزادی میں اُن کا ایک منفرد اہم کردار ہے جو وہ نبھانا جانتی ہیں اور نبھاتی بھی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے کردار کوrecognize نہیں کیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت کبھی بھی انٹرنیشنل تنظیموں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس وجہ سے وہ کئی دلخراش ا ور انسانیت سوز واقعات سے اچھی طرح واقف نہیں ہو سکتے ہیں

س: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ مقبو ضہ کشمیر میں ہو نے والی انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا با خبر ہے۔ اگر نہیں تو ایسا کیوں ہے اور اس سلسلے میں کیا کچھ کیا جا نا چاہئے ؟

ج: کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں سے شا ید دنیا پوری طرح با خبر نہیں ہے اس کی وجہ شاید ہماری ان تک رسائی نہیں ہے۔ ہمیں سفری دستاویزات نہیں دی جاتی ہیں اور حکومت ہندوستان کبھی بھی انٹر نیشنل تنظیموں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس وجہ سے وہ کئی دلخراش و انسانیت سوز واقعات سے اچھی طرح واقف نہیں ہو سکتے ہیں۔ اور ٹھوس مواد بھی اُن تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔ اس سلسلے میں جو کشمیری محتلف ملکوں میں رہائش پزیر ہیں اُن پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وہاں کے با اثر لوگوں تک ہماری آواز کو پہنچائے۔ تاہم میں پھر اس بات کا اعادہ کرتی ہوں، کہ جتنا کچھ بھی دنیا تک پہنچ جاتا ہے، اگر اسی کو ہی بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے، تو شاید صورتحال کچھ بہتر ہوتی، لیکن عالمی ادارے اپنا دٔباو بڑھانے میں ابھی انتظار کررہے ہیں۔

س: کیا آل پار ٹیز حریت کا نفر نس انسانی حقوق کا ادارہ جو آپ کی نگرانی میں قائم ہے، عالمی انسانی حقوق کی کو نسل اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے تحت قائم انسانی حقوق کے اداروں کو مسلمہ ضا بطوں کے تحت جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں شکایا ت بھیجتاہے اور کیا وہ ادارے اپنی رپورٹوں میں اس کا ریفرنس دیتے ہیں ؟

ج: حریت کانفرنس کی ’’کمیٹی برائے انسانی حقوق ‘‘ جس کی میں صدر ہوں، نے ابھی تک باضابطہ طور کام شروع نہیں کیا ہے، انفرادی طورپر کئی لوگ انسانی حقوق پر کام کرتے ہیں۔

س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کشمیری قیادت تقسیم ہے اور اس تقسیم کا مفاد پرست بھارت نواز تنظیمیں اور بھارتی حکمراں فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کیا یہ تاثر درست ہے۔

ج: فیض احمد فیض کا ایک شعر اس سوال کا جواب دینے کیلئے کا فی سمجھتی ہوں۔ ۔

یہ ساغر شیشے لال و گوہر سالم ہو تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑ ے ہوں تو فقط چبھتے ہیں لہو رُلواتے ہیں

س: کیا آپ کو یقین ہے کہ عالمی برادری کبھی مسئلہ کشمیر پر توجہ دے گی اور اسے کشمیری عوام کی رائے کے مطا بق حل کرنے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہوجائیگی؟

ج: مجھے یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری ضرور توجہ دے گی۔ بھارت اور پاکستان( جو مسئلہ کشمیر کے فریق ہیں) ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اور کشمیریوں کی رائے کے مطابق ہی اُن کویہ مسئلہ ایک نہ ایک دن کشمیریوں کی رائے کے عین مطا بق حل کرنا ہوگا۔ ہم پر زبردستی کوئی بھی حل تھوپا نہیں جا سکتا۔ ہم جنگ و جدل نہیں چاہتے ہیں لیکن بھارت سے مکمل آزادی چاہتے اور اس کے لئے ہم نے لاکھوں جوانوں کی قربا نیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساؤتھ ایشیا کا امن ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے، اور یہ عیاں حقیقت ہے کہ اس خطے میں امن و سکون تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب مسئلہ کشمیر کو پُر امن طریقے سے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطا بق حل کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہ ایسا کچھ طے ہوا ، امریکی صدر وجود - پیر 23 ستمبر 2019

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بہت لچکدار رویہ رکھتے ہیں لیکن ایرانی حکام سے ابھی ملاقات کا نہ ارادہ ہے اور نہ ایسا کچھ طے ہوا ہے ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ایرانی حکام سے ملاقات کے سوال پر انہوںنے کہا کہ کسی بھی بات کا امکان مکمل ختم نہیںہوتا لیکن ان کا ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ بہت لچکدار رویہ کے حامل شخص ہیں اگر ایرانی حکام چاہتے تو ان سے...

ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ نہ ایسا کچھ طے ہوا ، امریکی صدر

چین نے دو سیٹلائٹس کو زمین کے گردکو مدار میں بھیج دیا وجود - پیر 23 ستمبر 2019

چین نے بے دوئے ۔ 3 سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹم کے مزید دو سیٹلائٹس کو زمین کے گرد مدار میں بھیج دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو سیٹلائٹس کو صبح 5 بج کر 10 منٹ پر چین کے شی چھانگ لانچنگ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ زمین کے گرد مدار میں چھوڑا گیا۔ تین گھنٹوں کے سفر کے بعد یہ دو سیٹلائٹس مقررہ مدار میں پہنچ گئے ۔ یہ دونوں سیٹلائٹس بعد میں سسٹم میں شامل ہو کر مواصلاتی خدمات فراہم کریں گے ۔

چین نے دو سیٹلائٹس کو زمین کے گردکو مدار میں بھیج دیا

سری لنکن صدر کی ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم وجود - پیر 23 ستمبر 2019

سری لنکا کے صدر مائی تریپالا سری سینا نے کیتھولک گرجا گھر کے حکام کی جانب سے تحقیقات پر خدشات کا اظہار کیے جانے پر ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم دے دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کیتھولک گرجا گھر کے حکام نے گذشتہ تحقیقات پر خدشات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد صدر متھری پالا سری سینا نے ججوں پر مشتمل 5 رکنی پینل قائم کیا جسے 3 ماہ کے اندر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ۔واضح رہے کہ رواں سال ایسٹر کے موقع پر 21 اپریل کو سری لنکا میں 3 گرجا گھروں ،3 ہوٹلوں پر دھماک...

سری لنکن صدر کی ایسٹر بم دھماکوں کی نئے سرے سے تحقیقات کا حکم

بانی وکی لیکس کے ساتھ د ہشتگردوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا گیا ، کرسٹین وجود - پیر 23 ستمبر 2019

وکی لیکس کے ایڈیٹر ان چیف کرسٹین ہرافنسن نے الزام لگایا ہے کہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے ساتھ برطانیہ کے افسران دہشت گردوں سے بھی برا سلوک کر رہے ہیں اور انہیں عدالتی کارروائی کی تیاری کرنے سے روک رہے ہیں۔ہرافنسن نے کہا کہ جولین اسانج کو عدالت کی کارروائی سے متعلق تیاری کرنے کے لئے کوئی بھی سہولت مہیا نہیں کی جا رہی اور انہیں 24 گھنٹے صرف جیل میں ہی رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے برطانیا کے حکام پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جولین کو صرف کچھ دنوں پہلے عدالتی کارروائی کی تی...

بانی وکی لیکس کے ساتھ د ہشتگردوں سے بھی زیادہ بُرا سلوک کیا گیا ، کرسٹین

لمبی،صحت مند زندگی کا راز، مایوسی کی جگہ امید پیدا کرلیں،نئی تحقیق وجود - جمعه 30 اگست 2019

امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی میں کی گئی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان اگر لمبی اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو مایوسی کی جگہ امید کو اپنے اندر پیدا کرلیں۔درحقیقت مثبت سوچ رکھنے والے افراد میں لمبی زندگی کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جو 85 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ ذہنی تناؤ کو زیادہ اچھے طریقے سے قابو کرلیتے ہیں، ان کی جسمانی صحت بھی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ایسے افراد زندگی کے مقصد کا تعین ب...

لمبی،صحت مند زندگی کا راز، مایوسی کی جگہ امید پیدا کرلیں،نئی تحقیق

پیرو میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھائے گئے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت وجود - جمعه 30 اگست 2019

جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں چیموز دیوتاؤں کے لیے بھینٹ چڑھائے جانے والے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت ہوگئیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پیرو کے دارالحکومت لیما کے ساحلی علاقے ہونیچوکو میں 227 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی عمریں 5 سے 14 برس تھیں۔آثار قدیمہ ماہرین کے مطابق دریافت کی گئی قبریں کم از کم 500 سال پرانی ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ برس پیرو کے دو مختلف مقامات پر مجموعی طور پر 200 بچوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔ماہرین نے بتایا تھا کہ جب کھدائی کی گئی تو بعض بچ...

پیرو میں دیوتاؤں کی بھینٹ چڑھائے گئے بچوں کی قدیم اجتماعی قبریں دریافت

مقبول اینڈرائیڈ ایپ کیم اسکینر میں میل وئیر کی موجودگی کا انکشاف وجود - جمعه 30 اگست 2019

گوگل نے اینڈرائیڈ فونز میں استعمال ہونے والی ایک مقبول ایپ کیم اسکینر کو پلے اسٹور سے نکال دیا ہے۔یہ ایپ پی ڈی ایف دستاویزات اسکین کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اب میل وئیر پھیلا رہی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق2010 سے یہ ایپ موجود ہے اور اسے 10 کروڑ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور حالیہ دنوں میں اینٹی وائرس کمپنی کاس پیرسکے نے دریافت کیا تھا کہ اس پلیکشن نے اینڈرائیڈ ڈیوائسز میں میل وئیر پھیلانا شروع کردیا ہے۔اس رپورٹ کے بعد گوگل نے پلے اسٹور سے کیم اسکینر کو نکال دیا ہے...

مقبول اینڈرائیڈ ایپ کیم اسکینر میں میل وئیر کی موجودگی کا انکشاف

اسرائیل نے ایرانی شہریوں کیلئے فارسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کردیے وجود - جمعه 30 اگست 2019

اسرائیل نے ایرانی شہریوں تک رسائی کے لیے فارسی زبان میں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کر دیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے فارسی زبان میں متعدد سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کھولنے کا انکشاف کیا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق ٹوئٹر، انسٹاگرام، ٹیلی گرام پر فارسی زبان میں متعدد اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں، جس کے تحت ایرانی شہریوں کو یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ خود کے دشمن نہیں ہیں بلکہ جابرانہ ایرانی حکومت ان کی دشمن ہے۔اس حوالے سے اسرائیل کے عسکری ٹوئٹر اکاؤنٹ میں کہا گیا ک...

اسرائیل نے ایرانی شہریوں کیلئے فارسی زبان میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس فعال کردیے

بریگزٹ معاملے پر ملکہ برطانیانے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی وجود - جمعه 30 اگست 2019

برطانیا کی ملکہ ایلزبتھ دوم نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے معاملے پر وزیراعظم بورس جونسن کی درخواست پر پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ملکہ برطانیہ کی منظوری کے بعد ستمبر کے دوسرے ہفتے میں پارلیمنٹ معطل کردی جائے گی اور 5 ہفتوں بعد ملکہ ایلزبتھ دوم 14 اکتوبر کو تقریر کریں گی۔دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم بورس جونسن نے پارلیمنٹ سے متعلق کہا کہ معطلی کا فیصلہ ضروری تھا کیونکہ ان کی حکومت کو آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔اس ضمن میں بتایا...

بریگزٹ معاملے پر ملکہ برطانیانے پارلیمنٹ معطل کرنے کی منظوری دے دی

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر وجود - جمعه 30 اگست 2019

چین اور ویٹی کن سٹی کے درمیان مفاہمت کو بڑھانے کی غرض سے ایک معاہدے کے تحت پوپ اور بیجنگ کی مشترکہ منظوری کے بعد پہلی مرتبہ چینی کیتھولک پادری کا تقرر کردیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چین میں ایک کروڑ 20 لاکھ کیتھولک افراد حکومت کے تحت چلنے والی ایسوسی ایشن اور ویٹی کن سٹی سے ہمدردی رکھنے والے انڈر گراؤنڈ چرچ میں تقسیم ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومت کی سرپرستی میں ایسوسی ایشن پادری کا انتخاب حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کرتی تھی۔چین اور ویٹی کن کے درمیان طے پانے والی شرائط کے...

ویٹی کن سٹی سے معاہدے کے تحت پہلی مرتبہ چینی پادری کا تقرر

آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر امریکا کو تشویش وجود - جمعه 30 اگست 2019

امریکی حکومت کے ایک مشاورتی بورڈ نے بھارتی ریاست آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن کے دوران ممکنہ زیادتیوں کے حوالے سے انہیں تحفظات ہیں،واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے آسام میں رہنے والوں سے کہا ہے کہ بھارتی شہریت کے حصول کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ سن1971سے قبل ان کے والدین یا ان سے بھی پہلے کی نسل اس ریاست میں رہائش پزیر تھی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس بورڈ کے سربراہ ٹونی پیرکنز نے کہاکہ آسام میں شہریوں کی رجس...

آسام میں شہریوں کی رجسٹریشن پر امریکا کو تشویش

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی وجود - بدھ 07 اگست 2019

طالبان نے افغانستان میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات روکنے کے لیے حملوں کی دھمکی دے دی۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کی اور کہا کہ ان کے جنگجو انتخابات روکنے کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔طالبان نے عوام پر زور دیا کہ انتخابی ریلی سے دور رہیں جنہیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ طالبان نے 28ستمبر کو انتخابات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غیرملکی طاقتیں افغان امن عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔انہوں نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ مذکورہ ان...

طالبان نے صدارتی انتخابات روکنے کیلئے حملوں کی دھمکی دیدی