وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

منگل 16 فروری 2016 آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

Zamrooda-Habib2

انجم زمرودہ حبیب اسلام آباد (اننت ناگ) سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی خاتون ہیں جنہوں نے 80ء کی دہائی میں ہی وومینز ایسوسی ایشن بنائی تھی، جہاں سے وہ خواتین کے مختلف سماجی مسائل کو حل کرنے میں ایک کردار ادا کررہی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ زمردہ جی، حنفیہ کالج اسلام آباد میں اس وقت ایک معلمہ کی حیثیت سے کام کررہی تھیں، جب کشمیری مردو زن سڑکوں پر نکل آئے اور پوری قوت سے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ کشمیری جوانوں نے بھارتی ہٹ دھرمی توڑنے کے لیے بندوق اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انجم زمرودہ حبیب نے خواتین کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 1990ء میں زمرد نے مسلم خواتین مرکز کے نام پرایک خواتین تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ جہاں کہیں بھی معرکے، بے گناہوں کا قتل عام، خواتین کی بے حرمتی کے واقعات رونما ہوتے، زمرد وہاں پہنچتی، اس کے خلاف احتجاج کرتی، بین الاقوامی اداروں کو تحریری طور پر اطلاع پہنچاتی اور مصیبت زدہ لوگوں کی دلجوئی کرتی۔ اپنے اس مشن پر کام کرتے ہوئے زمرد نے بہت سارے بیرونی ممالک کے دورے کئے اور وہاں کشمیری عوام پر ڈھائے گئے مظالم کی درد ناک کہانیا ں سناتی رہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں۔ انہوں نے بیوگان کے دستاویزی ریکارڈ کو مرتب کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ 6؍فروری2003ء کو زمرد حبیب کو بنکاک میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں وہ دہلی پہنچیں، اس دورے میں ان کا بنکاک سے پاکستان بھی جانے کا ارادہ تھا، لیکن انہیں تھائی ایمبیسی کے باہر ہی گرفتار کیا گیا۔ وہ پانچ سال تک تہاڑ جیل کی زینت بنی رہیں۔ جیل کے اندر ان پر کیا بیتی، اپنی کتاب قیدی نمبر 100میں وہ اس کا احاطہ یوں کرتی ہیں:

’’اس پرائے شہر کے سب سے بڑے زندان میں جہاں انسانی شکل میں درندے بستے ہیں، میں نے اللہ کی رحمت کے بھروسے پر ان تمام مصیبتوں کا سامنا کیا۔ رفتہ رفتہ میں نے مصیبتوں سے دوستی کرلی تھی۔ پانچ سو عورتوں میں ایک دو دوست خیر خواہ بھی مل گئیں مگر وہ جلدی چھوٹ گئیں۔ ان کے چھوٹنے کا غم نہیں۔ بقول مولانا ابو الکلام آزاد: قید خانے میں بھی سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، یہاں بھی رات کو تارے چمکتے ہیں، یہاں بھی صبح اندھیروں کو چیر کے روشنی لاتی ہے، یہاں بھی خزاں کے بعد بہار آتی ہے، یہاں بھی پرندے صبح چہکتے ہیں مگر ان کا معنیٰ باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتا ہے ’’رہائی کے لیے پل پل گن کر ان چیزوں کا جائزہ ایک قدرتی عمل تھا۔ بہار کے آنے کی امید لیے کئی بہاریں بیت جاتی تھیں، مگر پھر بھی بہار کا انتظار ختم نہیں ہوتا تھا۔ میں بھی استقامت کے ساتھ بہار کا انتظار کررہی تھی‘‘

۔ ۔ ۔ ’’رہائی پانے کے بعد بھی میں بے خوابی کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ نیند کی دوائی کھائے بغیر مجھے نیند نہیں آتی، رات رات بھر جاگتی رہتی ہوں۔ گھٹن بھرے خواب اب بھی مجھے ستاتے ہیں، کیو نکہ خواب میں، میں جیل، جیل کی سلاخیں، جیل کا سٹاف اور جیل کا پر تناو ماحول دیکھتی ہوں۔ ابھی بھی جب شام کے چھ بج جاتے ہیں تو ایک خوف سا طاری ہوجاتا ہے۔ چھ بجے کے بعد گھر سے نکلنا مجھے ایک معمہ سا لگتا ہے۔ کیونکہ شام کے چھ بجے جیل کی گنتی بند ہوجاتی تھی اور اس عادت نے میرے ذہن کو مقفل کردیا ہے۔ بظاہر میں آزاد دنیا میں ہوں مگر ابھی بھی بنا ہاتھ پکڑے میں سڑک پر اطمینان سے چل نہیں سکتی کیونکہ پانچ سال تک پولیس والے میرا ہاتھ پکڑے مجھے تہاڑجیل سے عدالت اور عدالت سے تہاڑ تک لے جایا کرتے تھے اور اس عادت نے میرے ذہن میں وہ نقوش چھوڑے ہیں جن کا مٹنا مشکل ہے‘‘

زمرودہ حبیب کی آزادی کی جستجو آج بھی جاری ہے اور اس کا برملا اظہار انہوں نے ہندستانی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ: ’’ہم آزادی چاہتے ہیں‘‘۔ اور جب صدر ہند نے پوچھا: ’’ کس قسم کی آزادی؟‘‘ تو زمرد نے جواب دیاـ’’ ویسی ہی آزادی جیسے آپ نے انگریزوں سے حاصل کی۔ ‘‘ یہ گفتگو ہندستانی صدر پرتیبھا پاٹل اور ایک خواتین وفد کے درمیان 29؍ستمبر2010ء کو (Women’s Initiative of Peace for South Asia (WIPSA))کے اہتمام سے ہوئی تھی۔ آج کل سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کا نفرنس کے انسانی حقوق کے شعبے اور کشمیر تحریک خواتین تنظیم کی سربراہ ہیں۔ وجود ڈاٹ کام کیلئے ان کا یہ انٹرویو سرینگر سے خصوصی طور پر لیا گیا)

جب میں تہاڑ جیل سے رہا ہوئی، میں ہر جذبہ سے عاری تھی۔ کوئی خوشی نہ غم۔ میں ایک واہمہ کا شکار تھی اور میں طے نہیں کر پا رہی تھی کہ میں جیل میں ہوں یا آزاد ہوں

س: آپ کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے، آرام و آسائش کی کوئی کمی نہیں، کیوں تحریک آزادی کاخاردار اور پر خطر راستہ اپنے لئے چن لیا؟

ج: ایک با ضمیر انسان اپنی قوم کی خوشحالی، ترقی اور خاص کر آزادی کے لئے کام کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ ern womens conc کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ میرے ذہن میں تھیں۔ جب مسلح تحریک شروع ہوئی، عورتوں کے متعلق جتنے بھی کام تھے وہback drop پر چلے گئے۔ لیکن میں نے تحریک آزادی کا محاذ سنبھالا، ہماری رشتہ داری اور ہمارے محلے کے کچھ نوجوانوں نے قابض فورسز کے خلاف ہتھیار اُٹھائے اور میں نے اُن کا کھل کرساتھ دیا۔ کشمیر کی ہر بہن ہر ماں نے خلوص کے ساتھ عسکری تحریک کا ساتھ دیا اور اپنے گھروں میں مجا ہدین کو جگہ دی، ان کے گھر والوں کی ہر ممکنہ مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران سرینگرکی کچھ تحریک نواز خواتین میرے گھر آگئیں اور ہم نے 1990میں با قاعدہ مسلم خواتین مرکز تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ بختاور بہن جی، نذہت روڈا، ماہ جبین اختر، محمودہ باجی، مسرت اقبال، بلْیس میر اور میں اس تنظیم کے بنیادی ممبران تھے، مجھے اس تنظیم کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ بختاور بہن جی اس تنظیم کی پہلی صدر تھیں۔ ضلع اسلام آباد میں میرے ساتھ اُس وقت دو سو لڑکیاں ا ور خواتین تھیں اور ان میں سے تقریبا پچاس لڑکیوں نے نرسنگ کا کورس بھی کیا تا کہ اگر کوئی بھارتی افواج کے ہاتھوں زخمی ہوتا ہے تو فوراََ اسے طبی امداد مہیا ہوجائے۔ اسی دوران گرفتاریوں، چھاپوں اور کریک ڈاؤنز کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور میں پہلی بار مارچ1991 میں بھارتی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئی۔ تب سے گرفتاریوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔

س :آپ ایک سیاسی کار کن بھی ہیں اور انسانی حقوق کی کار کن بھی، آپ یہ کردارکس طرح نبھارہی ہیں؟

ج۔ میں حریت کانفرنس کی بنیادی ممبر ہوں، اور اس وقت میں حریت کا نفرنس میں انسانی حقوق پر کام کرتی ہوں۔ میں نے جنیوا۔ امریکا، برطانیا اور کئی ممالک میں کشمیر میں ہورہے انسانی حقوق کی پا ما لیوں اور خاص کر عورتوں کی عفت پر حملے کے خلاف آواز بلند کی۔ جو ہم پر ظلم وتشدد کیاجا رہا ہے وہ صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے سیاسی حق، حق خودارادیت کے لئے پُر امن جد جہد کر رہے ہیں۔ سیاسی حقوق انسانوں کو دئیے جاتے ہیں، سیاسی حق اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ میں الحمد للہ دونوں کرداروں کو نبھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔

س: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پا ما لیوں کے سلسلے میں مقامی اور بین ا لاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے کردارکے بارے میں آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟

ج: کشمیر میں انسانی حقوق کی نہ صرف پا مالی ہورہی ہے بلکہ انہیں پاوٗں تلے رونداجا رہا ہے۔ بین الاقومی سطح پر پوری دنیا کھلی آنکھوں سے یہاں ہورہی انسانی پا ما لیوں کو دیکھتے ہیں مگر مجرمانہ خا مو شی اختیار کئے ہوئے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کا رونا تو رورہے ہیں، لیکن عالمی برادری ابھی تک خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہی ہے۔ توقع ہے کہ ایک دن ضرور آئیگا جب عالمی برادری بالخصوص عالمی قوتیں اس طرف توجہ مبذول کریں گی اور نہ صرف انسانی حقوق کی ان پا مالیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ جس وجہ سے یہ انسانی پا مالیوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، اس وجہ کو ایڈریس کیا جائیگا۔ اور سب جانتے ہیں وہ وجہ ہے بھارت کی ہٹ دھرمی اور ریاست پر اس کا غاصبانہ قبضہ۔ ظلم جب بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ ظلم ظالم سمیت ان شا ء اللہ ضرور مٹے گا۔

Zamrooda-Habib1

س : آپ نے بدنام زمانہ بھارتی تہاڑ جیل میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ کیا آپ مختصر الفاظ میں ہمارے قارئین کو اپنی گرفتاری اور بھارتی عدالتی نظام کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی ؟

ج: 1991ء سے آج تک میں کئی بار گرفتار ہوچکی ہوں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں ظلم و تشدد، سرکار ی دہشت گردی، فرضی جھڑپوں، بلا جواز گرفتاریوں کے خلاف پروٹسٹ کرتی رہتی ہوں اور ہمیشہ پولیس اور بھارتی انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظروں میں رہتی ہوں۔ 2003 میں مجھے ہیومن رائٹس کے حوالے سے بنکاک میں منعقدہ ایک کانفرنس میں جانا تھا۔ ویزے کے سلسلے میں میں چنکیہ پوری دہلی میں بنکاک ایمبیسی کی طرف جارہی تھی کہ سی بی آئی والوں نے میری گاڑی روک دی اور مجھے گرفتار کر کے لودھی پولیس تھانے(ا سپیشل سیل) لے گئے، دس دن تک وہ میرا انٹروگیشن کرتے رہے، مجھے بہت ہی اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا۔ دس دن بعد مجھے بد نام زمانہ تہاڑجیل بھیجا گیا جہاں عرصہ دراز تک میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرتی رہی، مگر اللہ کا کرم ہے کہ وہ میری ہمت کو توڑ نہیں پائے۔ جہاں تک بھارت کا عدالتی نظام ہے اس میں کشمیریوں کیلئے انصاف کا معنیٰ کچھ اور ہے۔ وہ ہر کشمیری کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھتی ہیں، جج بھی ہوسٹائل، قانون بھی ہوسٹائل، وکلا بھی ہوسٹائل ا ور جیل کے حکام بھی جانبدار۔ جب میں تہاڑ جیل سے رہا ہوئی، میں ہر جذبہ سے عاری تھی۔ کوئی خوشی نہ غم۔ میں ایک واہمہ کا شکار تھی اور میں طے نہیں کر پا رہی تھی کہ میں جیل میں ہوں یا آزاد ہوں۔ باہر حریت کا نفرنس کا شیرازہ بکھر چکا تھا، تنظیموں کے کئی کئی دھڑے ہوچکے تھے اور میری آنکھیں وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ میری اپنی تنظیم میں بھی وہ نظم و ضبط نہیں رہا تھا جس کے لئے میں نے بے پناہ کوشش کی تھیں۔ اپنے تحریک نوازوں کے ساتھ سنجیدہ مشورے کے بعد میں نے اپنی تنظیم کا نام تبدیل کیا اور اب اس کا نام ’’ کشمیر تحریک خواتین ‘‘ رکھا ہے۔ رہا ہونے کے بعد میں نے نظر بندوں کی ایک تنظیم”Association For Families Of Kashmiri Prisoners” کی بنیاد ڈالی۔ چونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے نظر بندوں کے حقوق کی پا ما لی دیکھی تھی اور نظربندوں اور اُن کے لواحقین کا درد میرے دل کے قریب تھا۔ میں جا نتی تھی کہ بیشتر لواحقین ناداری اور کسمپری کی حالت میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ اور ایسی کوئی تنظیم بھی موجود نہ تھی جو ان اسیر جیالوں کو یاد رکھتی۔ میں نظربندوں کے لواحقین سے ملتی رہی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں نے نظر بندوں کے حوالے سے Data based ایک ڈاکومینٹیشنDocumentation)) شروع کیا اور اسے ایک کتا بچے “Forgotten Prisoners of Kashmir” کی شکل دے کر شائع کیاہے۔ ’’کشمیر تحریک خواتین ‘‘ نے Our Widows”‘‘ کے نام پر شہداء کی بیواؤں کیdocumentation شروع کی ہے جس کا ایک ایڈیشن شایع ہو چکا ہے۔

س: آپ کے والدین، عزیز و اقارب آپ کے حوالے سے زیادہ متفکر تو نہیں رہتے؟

ج: یہ ایک قدرتی بات ہے۔ اور جب بات ایک بیٹی کی ہو اور آگے بھارت کا ظلم و جبر ہو، تو ان کا متفکر ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔

س: تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کے کردار کے بارے میں کچھ فرمانا پسند کریں گی؟
ج: تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کشمیر نے بے پناہ قر با نیاں دیں اور دے رہی ہیں، اُن کی قربا نیوں کو ہر گز نظر اندازا ور فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر مجھ سے رواں تحریک کے بارے میں پوچھا جائے تو میرا جواب یہ ہو گا کہ یہ تحریک ماں بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے، اُسی کا بیٹا وطن آزادی کے لئے اپنی عزیز جانوں کی قر بانی پیش کرہا ہے، اُسی کا باپ جرم بے گناہی میں بھارتی افواج کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے، اُسی کے عزیز و اقارب بھارت کے محتلف اذیت خانوں میں عر صہ دراز سے مقید ہے اور اُسی کا لخت جگر زندہ غائب کیا گیا اور کیا جارہاہے۔ ہزاروں کی تعداد میں کشمیر میں بیوائیں ہیں جو نہایت ہی مشکلات سے دوچار ہونے کے با وجود تحریک کا ساتھ دے رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف متنازع خطوں میں عورتوں نے اپنے حصے کا کر دار نبھایا ہے اور کشمیر دنیا سے الگ نہیں ہے۔ ہماری ماں بہنیں سیاسی طور با شعور ہیں اور اس رواں تحریک آزادی میں اُن کا ایک منفرد اہم کردار ہے جو وہ نبھانا جانتی ہیں اور نبھاتی بھی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے کردار کوrecognize نہیں کیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت کبھی بھی انٹرنیشنل تنظیموں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس وجہ سے وہ کئی دلخراش ا ور انسانیت سوز واقعات سے اچھی طرح واقف نہیں ہو سکتے ہیں

س: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ مقبو ضہ کشمیر میں ہو نے والی انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا با خبر ہے۔ اگر نہیں تو ایسا کیوں ہے اور اس سلسلے میں کیا کچھ کیا جا نا چاہئے ؟

ج: کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں سے شا ید دنیا پوری طرح با خبر نہیں ہے اس کی وجہ شاید ہماری ان تک رسائی نہیں ہے۔ ہمیں سفری دستاویزات نہیں دی جاتی ہیں اور حکومت ہندوستان کبھی بھی انٹر نیشنل تنظیموں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس وجہ سے وہ کئی دلخراش و انسانیت سوز واقعات سے اچھی طرح واقف نہیں ہو سکتے ہیں۔ اور ٹھوس مواد بھی اُن تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔ اس سلسلے میں جو کشمیری محتلف ملکوں میں رہائش پزیر ہیں اُن پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وہاں کے با اثر لوگوں تک ہماری آواز کو پہنچائے۔ تاہم میں پھر اس بات کا اعادہ کرتی ہوں، کہ جتنا کچھ بھی دنیا تک پہنچ جاتا ہے، اگر اسی کو ہی بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے، تو شاید صورتحال کچھ بہتر ہوتی، لیکن عالمی ادارے اپنا دٔباو بڑھانے میں ابھی انتظار کررہے ہیں۔

س: کیا آل پار ٹیز حریت کا نفر نس انسانی حقوق کا ادارہ جو آپ کی نگرانی میں قائم ہے، عالمی انسانی حقوق کی کو نسل اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے تحت قائم انسانی حقوق کے اداروں کو مسلمہ ضا بطوں کے تحت جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں شکایا ت بھیجتاہے اور کیا وہ ادارے اپنی رپورٹوں میں اس کا ریفرنس دیتے ہیں ؟

ج: حریت کانفرنس کی ’’کمیٹی برائے انسانی حقوق ‘‘ جس کی میں صدر ہوں، نے ابھی تک باضابطہ طور کام شروع نہیں کیا ہے، انفرادی طورپر کئی لوگ انسانی حقوق پر کام کرتے ہیں۔

س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کشمیری قیادت تقسیم ہے اور اس تقسیم کا مفاد پرست بھارت نواز تنظیمیں اور بھارتی حکمراں فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کیا یہ تاثر درست ہے۔

ج: فیض احمد فیض کا ایک شعر اس سوال کا جواب دینے کیلئے کا فی سمجھتی ہوں۔ ۔

یہ ساغر شیشے لال و گوہر سالم ہو تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑ ے ہوں تو فقط چبھتے ہیں لہو رُلواتے ہیں

س: کیا آپ کو یقین ہے کہ عالمی برادری کبھی مسئلہ کشمیر پر توجہ دے گی اور اسے کشمیری عوام کی رائے کے مطا بق حل کرنے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہوجائیگی؟

ج: مجھے یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری ضرور توجہ دے گی۔ بھارت اور پاکستان( جو مسئلہ کشمیر کے فریق ہیں) ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اور کشمیریوں کی رائے کے مطابق ہی اُن کویہ مسئلہ ایک نہ ایک دن کشمیریوں کی رائے کے عین مطا بق حل کرنا ہوگا۔ ہم پر زبردستی کوئی بھی حل تھوپا نہیں جا سکتا۔ ہم جنگ و جدل نہیں چاہتے ہیں لیکن بھارت سے مکمل آزادی چاہتے اور اس کے لئے ہم نے لاکھوں جوانوں کی قربا نیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساؤتھ ایشیا کا امن ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے، اور یہ عیاں حقیقت ہے کہ اس خطے میں امن و سکون تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب مسئلہ کشمیر کو پُر امن طریقے سے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطا بق حل کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام پر ترک حملے کے بعد امریکا نے ایکشن لیتے ہوئے ترکی پر پابندیاں عائد کردیں جب کہ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ترکی کی معیشت کو برباد کرنے کیلئے مکمل تیار ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کی جانب سے ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ ترکی کے دو وزرا اور تین سینئر عہدیداروں پر بھی پابندی لگادی گئی ۔میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ترکی پر عائد کی گئی پابندیاں بہت سخت ہیں جو اس کی معیشت پر بہت زیادہ اثر...

شام پر حملہ ،امریکا کی ترکی پر پابندیاں

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

برطانوی ملکہ الزبتھ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا، جنوری 2021 سے یورپی شہریوں کو برطانیہ کا ویزہ درکار ہو گا۔برطانوی ملکہ الزبتھ نے برطانوی پارلیمان سے خطاب کے دوران وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے تیار کیے گئے امیگریشن کے اس قانونی مسودے کو متعارف کرایا ہے جو یورپین یونین سے برطانیہ کی حتمی علیحدگی کے بعد نافذ ہو گا۔اس بل کے تحت یورپی ممالک کے شہریوں کیلئے آزادانہ طور پر برطانیہ آنے جانے کی سہولت جنوری 2021 سے ختم کر دی جائے گی اور ان پر برطانیہ آنے کیلئے ویزے اور دیگر...

برطانوی ملکہ نے بریگزٹ امیگریشن بل متعارف کروا دیا

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ وورتھ میں میں سفید فام پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ فورٹ وورتھ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ روز پولیس آفیسر ایرن ڈین نے علاقہ میں معمول کے گشت کے دوران 28سالہ خاتون کو مشکوک سمجھتے ہوئے اس وقت کھڑکی کے باہر سے فائر کرکے ہلاک کر دیا جب وہ اپنے بھتیجے کے ہمراہ ویڈیو گیم کھیل رہی تھی ، مقا می پولیس نے گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرہ کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے دو پولیس افسروںکی جانب سے سرچ لائٹ کے ساتھ گھر کی کھڑ...

امریکا ، سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام خاتون کو گولی مار کر ہلاک کر دیا

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں کردوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے ترکی کی جانب سے ان کے خلاف جاری کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی فوج کو شمالی سرحد پر بھیجنے پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ کی جانب سے شام کی غیر مستحکم صورتحال اور وہاں سے اپنی باقی تمام فوج کو نکالنے کے بعد سامنے آیا ہے۔اس سے قبل شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا تھا کہ فوج کو شمال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ترکی کی جانب سے کردوں کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد افواج کو اس سرحدی علاقے سے نکالنا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیرین آبزرو...

کرددوں کا ترکی سے نمٹنے کیلئے شامی فوج سے معاہدہ

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام کے شہر راس العین میں ترکی کے فضائی حملے میں شہریوں اور صحافیوں سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبد الرحمن نے بتایا کہ یہ حملہ شمالی شام کے علاقے القاشملی سے راس العین میں یکجہتی کے لیے آنے والے ایک گروپ پر کیا گیا۔شام میں کردوں کی نمایندہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز'ایس ڈی ایف' کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے "سویلین قافلے" پر حمل...

تْرکی کا شام میں اہم تزویراتی شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

2017 تک تاشپولات طیپ ایک جانے پہچانے معلم اور سنکیانگ یونیورسٹی کے سربراہ تھے، ان کے دنیا بھر میں رابطے تھے جبکہ انھوں نے فرانس کی مشہور پیرس یونیورسٹی سے اعزازی ڈگری بھی حاصل کر رکھی تھی۔لیکن اسی برس وہ بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاپتہ ہو گئے اور اس حوالے سے چینی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ پروفیسر طیپ کو علیحدگی کی تحریک چلانے کا ملزم قرار دیا گیا، ان پر خفیہ انداز میں مقدمہ چلا اور بعدازاں اس جرم کی پاداش میں انھیں سزائے موت دے دی گئی۔پروف...

اویغور مسلمان‘ چین میں لاپتہ جغرافیہ کے پروفیسر کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

تیونس میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید نے اپنے حریف نبیل القروی کو واضح اکثریت سے شکست دے دی ہے اور وہ ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔قبل ازیں تیونس کے موزیق ایف ریڈیو نے پولنگ کمپنی امرود کے ایگزٹ پول کے حوالے سے یہ اطلاع دی تھی کہ صدارتی امیدوار قیس سعید نے 72.53 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ایک اور فرم سگما کنسلٹنگ کے ایگزٹ پول کے مطابق آزاد امیدوار قیس سعید نے اپنے حریف کے مقابلے میں بھاری ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے اور ...

ریٹائرڈ پروفیسر قیس سعید بھاری ووٹوں سے تیونس کے نئے صدر منتخب

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

کیلیفورنیا امریکہ کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس امریکی ریاست کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔اخبار سان فرانسیسکو کرانیکل کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید...

کیلی فورنیا میں جانوروں کی پوستین سے بنی چیزوں پر پابندی

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، 2011 سے 2018 کے دوران صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 2 ہزار 424 افراد غیرت کی بھینٹ چڑھے۔پنجاب پولیس کی جانب سے مرتب شدہ اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیگ سنگھ اور چنیوٹ کے علاقوں پر مشتمل فیصل آباد ریجن غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں سر فہرست رہا جہاں گزشتہ آٹھ سال کے دوران 527 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ سرگودھا ریجن میں سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بھکر کے علاقے شامل ہیں، 338 مقدمات کے س...

پنجاب بھر میں غیرت کے نام پر 8 سال میں 2400 سے زائد افراد قتل ہوئے

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

خوش شکل اور خوش لباس حدیقہ کیانی کا شمار پاکستان میں پاپ موسیقی کی گنی چنی کامیاب گلوکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہم عصر مرد گلوکاروں کو فن کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ حدیقہ کیانی نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔روایتی آلات موسیقی اور جدید میوزک کے دلآویز امتزاج سے گلوکارہ حدیقہ کیانی 1995ء سے 2017ء تک مسحور کن آواز اور مدھر دھنوں سجے اپنے البمز ’راز، روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان اور وجد‘ سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔نفسیا...

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہاہے آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے،اگر سندھ میں معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ آخری آپشن ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ جمہوری اقدار میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے،اس وقت حکومت دنیا بھر میں کشمیریوں کے حقوق اور آزادی کا مقدمہ لڑ رہی ہے،ان تمام معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کو دھرنا نہیں دینا چاہیئے،مولاناکواپنے ف...

آئین میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے ،خالد مقبول صدیقی

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل وجود - منگل 15 اکتوبر 2019

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،موکل نے کسی معززجج کیخلاف تعصب یاذاتی عناد کاالزام نہیں لگایا، فل کورٹ اورالگ ہونے والے ججز پرکوئی اعتراض نہیں، اعلی عدلیہ کے ججز پر دبائو ڈالنا اس کیس کی جان ہے، لندن کا پہلا فلیٹ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے 2004 میں لیا، پہلا فلیٹ خریدنے کے پانچ سال بعد جسٹس قاضی فائز عیسی جج بنے، دوسرا اور تیسرا فلیٹ 2013 میں ج...

فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ ہی جسٹس قاضی فائز کیخلاف ریفرنس کی بنیاد بنا،وکیل

مضامین
تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔
َِ(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
سگریٹ چھوڑ ۔۔فارمولا۔۔<BR> َِ(علی عمران جونیئر)

خطابت روح کا آئینہ ہے !
(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)
وجود پیر 30 ستمبر 2019
خطابت روح کا آئینہ ہے ! <br>(ماجرا۔۔۔محمد طاہر)

اشتہار