وجود

... loading ...

وجود

آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

منگل 16 فروری 2016 آزادی کشمیر کی تحریک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے!

Zamrooda-Habib2

انجم زمرودہ حبیب اسلام آباد (اننت ناگ) سے تعلق رکھنے والی ایک ایسی خاتون ہیں جنہوں نے 80ء کی دہائی میں ہی وومینز ایسوسی ایشن بنائی تھی، جہاں سے وہ خواتین کے مختلف سماجی مسائل کو حل کرنے میں ایک کردار ادا کررہی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ زمردہ جی، حنفیہ کالج اسلام آباد میں اس وقت ایک معلمہ کی حیثیت سے کام کررہی تھیں، جب کشمیری مردو زن سڑکوں پر نکل آئے اور پوری قوت سے آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف مظاہرے کرنے لگے۔ کشمیری جوانوں نے بھارتی ہٹ دھرمی توڑنے کے لیے بندوق اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انجم زمرودہ حبیب نے خواتین کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 1990ء میں زمرد نے مسلم خواتین مرکز کے نام پرایک خواتین تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ جہاں کہیں بھی معرکے، بے گناہوں کا قتل عام، خواتین کی بے حرمتی کے واقعات رونما ہوتے، زمرد وہاں پہنچتی، اس کے خلاف احتجاج کرتی، بین الاقوامی اداروں کو تحریری طور پر اطلاع پہنچاتی اور مصیبت زدہ لوگوں کی دلجوئی کرتی۔ اپنے اس مشن پر کام کرتے ہوئے زمرد نے بہت سارے بیرونی ممالک کے دورے کئے اور وہاں کشمیری عوام پر ڈھائے گئے مظالم کی درد ناک کہانیا ں سناتی رہیں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں۔ انہوں نے بیوگان کے دستاویزی ریکارڈ کو مرتب کرنے کے کام کا آغاز کیا۔ 6؍فروری2003ء کو زمرد حبیب کو بنکاک میں ایک سیمینار میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں وہ دہلی پہنچیں، اس دورے میں ان کا بنکاک سے پاکستان بھی جانے کا ارادہ تھا، لیکن انہیں تھائی ایمبیسی کے باہر ہی گرفتار کیا گیا۔ وہ پانچ سال تک تہاڑ جیل کی زینت بنی رہیں۔ جیل کے اندر ان پر کیا بیتی، اپنی کتاب قیدی نمبر 100میں وہ اس کا احاطہ یوں کرتی ہیں:

’’اس پرائے شہر کے سب سے بڑے زندان میں جہاں انسانی شکل میں درندے بستے ہیں، میں نے اللہ کی رحمت کے بھروسے پر ان تمام مصیبتوں کا سامنا کیا۔ رفتہ رفتہ میں نے مصیبتوں سے دوستی کرلی تھی۔ پانچ سو عورتوں میں ایک دو دوست خیر خواہ بھی مل گئیں مگر وہ جلدی چھوٹ گئیں۔ ان کے چھوٹنے کا غم نہیں۔ بقول مولانا ابو الکلام آزاد: قید خانے میں بھی سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے، یہاں بھی رات کو تارے چمکتے ہیں، یہاں بھی صبح اندھیروں کو چیر کے روشنی لاتی ہے، یہاں بھی خزاں کے بعد بہار آتی ہے، یہاں بھی پرندے صبح چہکتے ہیں مگر ان کا معنیٰ باہر کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتا ہے ’’رہائی کے لیے پل پل گن کر ان چیزوں کا جائزہ ایک قدرتی عمل تھا۔ بہار کے آنے کی امید لیے کئی بہاریں بیت جاتی تھیں، مگر پھر بھی بہار کا انتظار ختم نہیں ہوتا تھا۔ میں بھی استقامت کے ساتھ بہار کا انتظار کررہی تھی‘‘

۔ ۔ ۔ ’’رہائی پانے کے بعد بھی میں بے خوابی کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ نیند کی دوائی کھائے بغیر مجھے نیند نہیں آتی، رات رات بھر جاگتی رہتی ہوں۔ گھٹن بھرے خواب اب بھی مجھے ستاتے ہیں، کیو نکہ خواب میں، میں جیل، جیل کی سلاخیں، جیل کا سٹاف اور جیل کا پر تناو ماحول دیکھتی ہوں۔ ابھی بھی جب شام کے چھ بج جاتے ہیں تو ایک خوف سا طاری ہوجاتا ہے۔ چھ بجے کے بعد گھر سے نکلنا مجھے ایک معمہ سا لگتا ہے۔ کیونکہ شام کے چھ بجے جیل کی گنتی بند ہوجاتی تھی اور اس عادت نے میرے ذہن کو مقفل کردیا ہے۔ بظاہر میں آزاد دنیا میں ہوں مگر ابھی بھی بنا ہاتھ پکڑے میں سڑک پر اطمینان سے چل نہیں سکتی کیونکہ پانچ سال تک پولیس والے میرا ہاتھ پکڑے مجھے تہاڑجیل سے عدالت اور عدالت سے تہاڑ تک لے جایا کرتے تھے اور اس عادت نے میرے ذہن میں وہ نقوش چھوڑے ہیں جن کا مٹنا مشکل ہے‘‘

زمرودہ حبیب کی آزادی کی جستجو آج بھی جاری ہے اور اس کا برملا اظہار انہوں نے ہندستانی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے یہ کہہ کر کیا کہ: ’’ہم آزادی چاہتے ہیں‘‘۔ اور جب صدر ہند نے پوچھا: ’’ کس قسم کی آزادی؟‘‘ تو زمرد نے جواب دیاـ’’ ویسی ہی آزادی جیسے آپ نے انگریزوں سے حاصل کی۔ ‘‘ یہ گفتگو ہندستانی صدر پرتیبھا پاٹل اور ایک خواتین وفد کے درمیان 29؍ستمبر2010ء کو (Women’s Initiative of Peace for South Asia (WIPSA))کے اہتمام سے ہوئی تھی۔ آج کل سید علی گیلانی کی قیادت والی حریت کا نفرنس کے انسانی حقوق کے شعبے اور کشمیر تحریک خواتین تنظیم کی سربراہ ہیں۔ وجود ڈاٹ کام کیلئے ان کا یہ انٹرویو سرینگر سے خصوصی طور پر لیا گیا)

جب میں تہاڑ جیل سے رہا ہوئی، میں ہر جذبہ سے عاری تھی۔ کوئی خوشی نہ غم۔ میں ایک واہمہ کا شکار تھی اور میں طے نہیں کر پا رہی تھی کہ میں جیل میں ہوں یا آزاد ہوں

س: آپ کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے، آرام و آسائش کی کوئی کمی نہیں، کیوں تحریک آزادی کاخاردار اور پر خطر راستہ اپنے لئے چن لیا؟

ج: ایک با ضمیر انسان اپنی قوم کی خوشحالی، ترقی اور خاص کر آزادی کے لئے کام کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ ern womens conc کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ میرے ذہن میں تھیں۔ جب مسلح تحریک شروع ہوئی، عورتوں کے متعلق جتنے بھی کام تھے وہback drop پر چلے گئے۔ لیکن میں نے تحریک آزادی کا محاذ سنبھالا، ہماری رشتہ داری اور ہمارے محلے کے کچھ نوجوانوں نے قابض فورسز کے خلاف ہتھیار اُٹھائے اور میں نے اُن کا کھل کرساتھ دیا۔ کشمیر کی ہر بہن ہر ماں نے خلوص کے ساتھ عسکری تحریک کا ساتھ دیا اور اپنے گھروں میں مجا ہدین کو جگہ دی، ان کے گھر والوں کی ہر ممکنہ مدد کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران سرینگرکی کچھ تحریک نواز خواتین میرے گھر آگئیں اور ہم نے 1990میں با قاعدہ مسلم خواتین مرکز تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ بختاور بہن جی، نذہت روڈا، ماہ جبین اختر، محمودہ باجی، مسرت اقبال، بلْیس میر اور میں اس تنظیم کے بنیادی ممبران تھے، مجھے اس تنظیم کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ بختاور بہن جی اس تنظیم کی پہلی صدر تھیں۔ ضلع اسلام آباد میں میرے ساتھ اُس وقت دو سو لڑکیاں ا ور خواتین تھیں اور ان میں سے تقریبا پچاس لڑکیوں نے نرسنگ کا کورس بھی کیا تا کہ اگر کوئی بھارتی افواج کے ہاتھوں زخمی ہوتا ہے تو فوراََ اسے طبی امداد مہیا ہوجائے۔ اسی دوران گرفتاریوں، چھاپوں اور کریک ڈاؤنز کا طویل سلسلہ شروع ہوا اور میں پہلی بار مارچ1991 میں بھارتی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئی۔ تب سے گرفتاریوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے۔

س :آپ ایک سیاسی کار کن بھی ہیں اور انسانی حقوق کی کار کن بھی، آپ یہ کردارکس طرح نبھارہی ہیں؟

ج۔ میں حریت کانفرنس کی بنیادی ممبر ہوں، اور اس وقت میں حریت کا نفرنس میں انسانی حقوق پر کام کرتی ہوں۔ میں نے جنیوا۔ امریکا، برطانیا اور کئی ممالک میں کشمیر میں ہورہے انسانی حقوق کی پا ما لیوں اور خاص کر عورتوں کی عفت پر حملے کے خلاف آواز بلند کی۔ جو ہم پر ظلم وتشدد کیاجا رہا ہے وہ صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ ہم اپنے سیاسی حق، حق خودارادیت کے لئے پُر امن جد جہد کر رہے ہیں۔ سیاسی حقوق انسانوں کو دئیے جاتے ہیں، سیاسی حق اور انسانی حقوق ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ میں الحمد للہ دونوں کرداروں کو نبھانے کی کوشش کر رہی ہوں۔

س: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پا ما لیوں کے سلسلے میں مقامی اور بین ا لاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے کردارکے بارے میں آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ؟

ج: کشمیر میں انسانی حقوق کی نہ صرف پا مالی ہورہی ہے بلکہ انہیں پاوٗں تلے رونداجا رہا ہے۔ بین الاقومی سطح پر پوری دنیا کھلی آنکھوں سے یہاں ہورہی انسانی پا ما لیوں کو دیکھتے ہیں مگر مجرمانہ خا مو شی اختیار کئے ہوئے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ادارے انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کا رونا تو رورہے ہیں، لیکن عالمی برادری ابھی تک خاموش تماشائی کی طرح دیکھ رہی ہے۔ توقع ہے کہ ایک دن ضرور آئیگا جب عالمی برادری بالخصوص عالمی قوتیں اس طرف توجہ مبذول کریں گی اور نہ صرف انسانی حقوق کی ان پا مالیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ جس وجہ سے یہ انسانی پا مالیوں کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، اس وجہ کو ایڈریس کیا جائیگا۔ اور سب جانتے ہیں وہ وجہ ہے بھارت کی ہٹ دھرمی اور ریاست پر اس کا غاصبانہ قبضہ۔ ظلم جب بڑھ جاتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔ ظلم ظالم سمیت ان شا ء اللہ ضرور مٹے گا۔

Zamrooda-Habib1

س : آپ نے بدنام زمانہ بھارتی تہاڑ جیل میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔ کیا آپ مختصر الفاظ میں ہمارے قارئین کو اپنی گرفتاری اور بھارتی عدالتی نظام کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی ؟

ج: 1991ء سے آج تک میں کئی بار گرفتار ہوچکی ہوں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں ظلم و تشدد، سرکار ی دہشت گردی، فرضی جھڑپوں، بلا جواز گرفتاریوں کے خلاف پروٹسٹ کرتی رہتی ہوں اور ہمیشہ پولیس اور بھارتی انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظروں میں رہتی ہوں۔ 2003 میں مجھے ہیومن رائٹس کے حوالے سے بنکاک میں منعقدہ ایک کانفرنس میں جانا تھا۔ ویزے کے سلسلے میں میں چنکیہ پوری دہلی میں بنکاک ایمبیسی کی طرف جارہی تھی کہ سی بی آئی والوں نے میری گاڑی روک دی اور مجھے گرفتار کر کے لودھی پولیس تھانے(ا سپیشل سیل) لے گئے، دس دن تک وہ میرا انٹروگیشن کرتے رہے، مجھے بہت ہی اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑا۔ دس دن بعد مجھے بد نام زمانہ تہاڑجیل بھیجا گیا جہاں عرصہ دراز تک میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرتی رہی، مگر اللہ کا کرم ہے کہ وہ میری ہمت کو توڑ نہیں پائے۔ جہاں تک بھارت کا عدالتی نظام ہے اس میں کشمیریوں کیلئے انصاف کا معنیٰ کچھ اور ہے۔ وہ ہر کشمیری کو دہشت گرد کی نظر سے دیکھتی ہیں، جج بھی ہوسٹائل، قانون بھی ہوسٹائل، وکلا بھی ہوسٹائل ا ور جیل کے حکام بھی جانبدار۔ جب میں تہاڑ جیل سے رہا ہوئی، میں ہر جذبہ سے عاری تھی۔ کوئی خوشی نہ غم۔ میں ایک واہمہ کا شکار تھی اور میں طے نہیں کر پا رہی تھی کہ میں جیل میں ہوں یا آزاد ہوں۔ باہر حریت کا نفرنس کا شیرازہ بکھر چکا تھا، تنظیموں کے کئی کئی دھڑے ہوچکے تھے اور میری آنکھیں وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ میری اپنی تنظیم میں بھی وہ نظم و ضبط نہیں رہا تھا جس کے لئے میں نے بے پناہ کوشش کی تھیں۔ اپنے تحریک نوازوں کے ساتھ سنجیدہ مشورے کے بعد میں نے اپنی تنظیم کا نام تبدیل کیا اور اب اس کا نام ’’ کشمیر تحریک خواتین ‘‘ رکھا ہے۔ رہا ہونے کے بعد میں نے نظر بندوں کی ایک تنظیم”Association For Families Of Kashmiri Prisoners” کی بنیاد ڈالی۔ چونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے نظر بندوں کے حقوق کی پا ما لی دیکھی تھی اور نظربندوں اور اُن کے لواحقین کا درد میرے دل کے قریب تھا۔ میں جا نتی تھی کہ بیشتر لواحقین ناداری اور کسمپری کی حالت میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ اور ایسی کوئی تنظیم بھی موجود نہ تھی جو ان اسیر جیالوں کو یاد رکھتی۔ میں نظربندوں کے لواحقین سے ملتی رہی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں نے نظر بندوں کے حوالے سے Data based ایک ڈاکومینٹیشنDocumentation)) شروع کیا اور اسے ایک کتا بچے “Forgotten Prisoners of Kashmir” کی شکل دے کر شائع کیاہے۔ ’’کشمیر تحریک خواتین ‘‘ نے Our Widows”‘‘ کے نام پر شہداء کی بیواؤں کیdocumentation شروع کی ہے جس کا ایک ایڈیشن شایع ہو چکا ہے۔

س: آپ کے والدین، عزیز و اقارب آپ کے حوالے سے زیادہ متفکر تو نہیں رہتے؟

ج: یہ ایک قدرتی بات ہے۔ اور جب بات ایک بیٹی کی ہو اور آگے بھارت کا ظلم و جبر ہو، تو ان کا متفکر ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔

س: تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کے کردار کے بارے میں کچھ فرمانا پسند کریں گی؟
ج: تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کشمیر نے بے پناہ قر با نیاں دیں اور دے رہی ہیں، اُن کی قربا نیوں کو ہر گز نظر اندازا ور فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر مجھ سے رواں تحریک کے بارے میں پوچھا جائے تو میرا جواب یہ ہو گا کہ یہ تحریک ماں بہنوں اور بیٹیوں کی تحریک ہے، اُسی کا بیٹا وطن آزادی کے لئے اپنی عزیز جانوں کی قر بانی پیش کرہا ہے، اُسی کا باپ جرم بے گناہی میں بھارتی افواج کے ہاتھوں قتل کیا جا رہا ہے، اُسی کے عزیز و اقارب بھارت کے محتلف اذیت خانوں میں عر صہ دراز سے مقید ہے اور اُسی کا لخت جگر زندہ غائب کیا گیا اور کیا جارہاہے۔ ہزاروں کی تعداد میں کشمیر میں بیوائیں ہیں جو نہایت ہی مشکلات سے دوچار ہونے کے با وجود تحریک کا ساتھ دے رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف متنازع خطوں میں عورتوں نے اپنے حصے کا کر دار نبھایا ہے اور کشمیر دنیا سے الگ نہیں ہے۔ ہماری ماں بہنیں سیاسی طور با شعور ہیں اور اس رواں تحریک آزادی میں اُن کا ایک منفرد اہم کردار ہے جو وہ نبھانا جانتی ہیں اور نبھاتی بھی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے کردار کوrecognize نہیں کیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت کبھی بھی انٹرنیشنل تنظیموں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس وجہ سے وہ کئی دلخراش ا ور انسانیت سوز واقعات سے اچھی طرح واقف نہیں ہو سکتے ہیں

س: کیا آپ سمجھتی ہیں کہ مقبو ضہ کشمیر میں ہو نے والی انسانی حقوق کی پامالیوں سے دنیا با خبر ہے۔ اگر نہیں تو ایسا کیوں ہے اور اس سلسلے میں کیا کچھ کیا جا نا چاہئے ؟

ج: کشمیر میں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں سے شا ید دنیا پوری طرح با خبر نہیں ہے اس کی وجہ شاید ہماری ان تک رسائی نہیں ہے۔ ہمیں سفری دستاویزات نہیں دی جاتی ہیں اور حکومت ہندوستان کبھی بھی انٹر نیشنل تنظیموں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس وجہ سے وہ کئی دلخراش و انسانیت سوز واقعات سے اچھی طرح واقف نہیں ہو سکتے ہیں۔ اور ٹھوس مواد بھی اُن تک نہیں پہنچ پاتا ہے۔ اس سلسلے میں جو کشمیری محتلف ملکوں میں رہائش پزیر ہیں اُن پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ وہاں کے با اثر لوگوں تک ہماری آواز کو پہنچائے۔ تاہم میں پھر اس بات کا اعادہ کرتی ہوں، کہ جتنا کچھ بھی دنیا تک پہنچ جاتا ہے، اگر اسی کو ہی بھارت پر عالمی دباؤ بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے، تو شاید صورتحال کچھ بہتر ہوتی، لیکن عالمی ادارے اپنا دٔباو بڑھانے میں ابھی انتظار کررہے ہیں۔

س: کیا آل پار ٹیز حریت کا نفر نس انسانی حقوق کا ادارہ جو آپ کی نگرانی میں قائم ہے، عالمی انسانی حقوق کی کو نسل اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے تحت قائم انسانی حقوق کے اداروں کو مسلمہ ضا بطوں کے تحت جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں شکایا ت بھیجتاہے اور کیا وہ ادارے اپنی رپورٹوں میں اس کا ریفرنس دیتے ہیں ؟

ج: حریت کانفرنس کی ’’کمیٹی برائے انسانی حقوق ‘‘ جس کی میں صدر ہوں، نے ابھی تک باضابطہ طور کام شروع نہیں کیا ہے، انفرادی طورپر کئی لوگ انسانی حقوق پر کام کرتے ہیں۔

س: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کشمیری قیادت تقسیم ہے اور اس تقسیم کا مفاد پرست بھارت نواز تنظیمیں اور بھارتی حکمراں فائدہ اٹھارہے ہیں۔ کیا یہ تاثر درست ہے۔

ج: فیض احمد فیض کا ایک شعر اس سوال کا جواب دینے کیلئے کا فی سمجھتی ہوں۔ ۔

یہ ساغر شیشے لال و گوہر سالم ہو تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑ ے ہوں تو فقط چبھتے ہیں لہو رُلواتے ہیں

س: کیا آپ کو یقین ہے کہ عالمی برادری کبھی مسئلہ کشمیر پر توجہ دے گی اور اسے کشمیری عوام کی رائے کے مطا بق حل کرنے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہوجائیگی؟

ج: مجھے یقین ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری ضرور توجہ دے گی۔ بھارت اور پاکستان( جو مسئلہ کشمیر کے فریق ہیں) ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اور کشمیریوں کی رائے کے مطابق ہی اُن کویہ مسئلہ ایک نہ ایک دن کشمیریوں کی رائے کے عین مطا بق حل کرنا ہوگا۔ ہم پر زبردستی کوئی بھی حل تھوپا نہیں جا سکتا۔ ہم جنگ و جدل نہیں چاہتے ہیں لیکن بھارت سے مکمل آزادی چاہتے اور اس کے لئے ہم نے لاکھوں جوانوں کی قربا نیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساؤتھ ایشیا کا امن ترقی اور خوشحالی جڑی ہوئی ہے، اور یہ عیاں حقیقت ہے کہ اس خطے میں امن و سکون تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب مسئلہ کشمیر کو پُر امن طریقے سے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطا بق حل کیا جائے۔


متعلقہ خبریں


نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع وجود - اتوار 25 جنوری 2026

پاکستان کی بقالوکل گورنمنٹ میں ہے، اختیارات نچلی سطح پرمنتقل نہیں ہوں گے تووہ عوام سے دھوکے کے مترادف ہوگا،میں نے 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلہ کہا جو کئی لوگوں کو بہت برا لگا، خواجہ آصف لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں بیوروکریسی کو ہے،پتا نہیں کیوں ہم اندر سے خوف زدہ ہیں یہ ہوگیا تو...

نئے صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں ، خوفزدہ نہ ہوں، وزیردفاع

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 25 جنوری 2026

ہم فسطائیت کیخلاف احتجاج کر رہے ہیں جو ہمارا حق ہے،جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا، وزیراعلیٰ آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور ہم ضرور استعمال کریں گے، ریلی کے شرکاء سے خطاب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے تاروجبہ کے مقام پرا سٹریٹ موومنٹ ریلی کے ...

8 فروری تک اسٹریٹ موومنٹ کو عروج پر لے جائیں گے، سہیل آفریدی

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ وجود - اتوار 25 جنوری 2026

جس مقام پرقرآنِ کریم موجود تھا، آگ سے اطراف میں مکمل تباہی ہوئی،ریسکیو اہلکار 15ارب کا نقصان ، حکومت نے 24 گھنٹے میں ادائیگیوں کی یقین دہانی کرائی ، تنویر پاستا گل پلازہ میں تباہ کن آتشزدگی کے باوجود قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی مکمل محفوظ طور پر محفوظ رہے، اطراف کی چیزیں ج...

گل پلازہ سانحہ،قرآنِ کریم اور لوحِ قرآنی محفوظ

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان وجود - هفته 24 جنوری 2026

میں آپ کے قانون کو چیلنج کرتا ہوں آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، ایسے قوانین ملک میں نہیں چلنے دیں گے، جس نے یہ قانون بنایا اس مائنڈ سیٹ کیخلاف ہوں ،سربراہ جے یو آئی کا حکومت کو چیلنج نواز اور شہبازغلامی قبول کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مبارک، ہم قبول نہیں کریں گے،25 کروڑ انسانوں ...

قانون کی خلاف ورزی کرونگا، 10 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا،مولانا فضل الرحمان

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا وجود - هفته 24 جنوری 2026

آپریشن میں مزید انسانی باقیات برآمد، سول اسپتال میں باقیات کی مقدار زیادہ ہے تباہ شدہ عمارت میں ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ،ڈی سی سائوتھ (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل ہوگیا ہے، مزید انسانی باقیات برآمد ہونے ک...

سانحہ گل پلازہ آپریشن کا کام حتمی مراحل میں داخل،71 اموات،77 لاپتا

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن وجود - هفته 24 جنوری 2026

بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ نظام میں واضح بہتری آئے گی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔شرجیل میمن کی ...

جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیرشہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، شرجیل میمن

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مضامین
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟ وجود اتوار 25 جنوری 2026
پاکستان میں شعور کا ارتقا کیوں کر ممکن ہے؟

بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں! وجود اتوار 25 جنوری 2026
بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں!

ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا وجود اتوار 25 جنوری 2026
ملبے تلے لاشیں نہیں ،نظام دفن ہوچکا

بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس وجود اتوار 25 جنوری 2026
بیجنگ اور اوٹاوا میں قربت عالمی تبدیلی کی عکاس

ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب وجود هفته 24 جنوری 2026
ٹرمپ کا طلوع آفتاب اور مسلم شعور کا غروب

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر