... loading ...

صحافت کے لئے ایک زبردست نگراں قوت کی ضرورت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ ہرروز ایسے واقعات ہمارے گرد و پیش میں رونما ہورہے ہیں جسے ذرائع ابلاغ غیر جانبدارنہ طور پر رپورٹ کرنے کے بجائے اُس میں فریق بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ کسی بھی مقدمے کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے غیر جانبدارانہ کردار کے بجائے کسی ایک فریق کے ساتھ مل کر اُس کے فوائد سمیٹنے والے پہلو سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ یوں جانب دارانہ طرز عمل اختیار کرکے فریقین کے لئے عدالتی فیصلے تک پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس معاملے میں پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی مرکز جنگ گروپ کا حال سب سے زیادہ قابل اعتراض ہے۔ وہ بول اور اے کے ڈی سیکورٹیز کے معاملے میں الزامات کا ایک ایسا طوفان اُٹھاتا رہا ہے کہ جو عدالت کی معمول کی کارروائی پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔
جنگ گروپ کے بانی میر خلیل الرحمان کے ہاتھوں سے پھسل کر یہ ادارہ جب میرشکیل الرحمان کے ہاتھوں میں پہنچا تو وہ یہ غلط فہمی پال چکے تھے کہ اُنہیں اس ملک میں ایک بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ جنگ گروپ ہمیشہ اقتدار کے کھیل کے علاوہ ملک میں فیصلہ سازی کے عمل پر ایک گرفت پیدا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست پر اثرانداز ہونے والے تمام ذرائع پر خود اثر ڈالنے کی منظم مہم ہمیشہ جاری رکھتا ہے۔ اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ میر شکیل الرحمان نے کس طرح عدلیہ بحالی کی تحریک کو اپنے مقصد میں ڈھالنے کے لئے خاموشی سے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے تال میل بنائی تھی۔ (کسی کو بھی اگر اس کی تفصیلات درکار ہوں تو وجود ڈاٹ کام اُسے مہیا کر سکتا ہے)
میر شکیل الرحمان ایک مدت سے خود اپنے متعلق بھی عدالتی عمل کو روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اور ان کی خاندانی میراث سے متعلق بہت سی عدالتی کارروائیوں کی مسلوں پر کتابی کیڑے لگ چکے ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ایک مرتبہ پھر میر شکیل الرحمان بول اور اے کے ڈی سیکورٹیز کے معاملے میں ذرائع ابلاغ کی قوت کا نہایت بہیمانہ استعمال کر رہے ہیں۔ اور اپنی نجی محفلوں میں انتہائی دیانت دار منصفین کے حوالے سے بھی اپنی اثرپزیری کی قوت کی غلط بیانیاں کر رہے ہیں۔ مگر آخری فیصلہ انصاف کی سربلندی کا ہی ہوتا ہے۔ مشہور کہاوت ہے کہ دنیا میں محاذ جنگ کے بعد سب سے بڑی ناانصافیاں عدالتوں میں ہوتی ہیں۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ پھر انصاف کا آخری فیصلہ بھی وہیں سے آتا ہے۔
گزشتہ کچھ ہفتوں سے کراچی کے کاروباری حلقوں میں شدید بے چینی پیدا ہوچکی ہے۔ اور وہ ایف آئی اے ، جہانگیر صدیقی کی تال میل کے ساتھ جنگ گروپ کی طرف سے عدالتی کارروائیوں پر اثر ڈالنے والی خبروں کو مایوسی کے عالم میں دیکھنے لگے ہیں۔ اس ضمن میں ایسی خبروں کو ایک ترتیب سے دیکھا جاسکتا ہے جو عدالتی تاریخوں کے ساتھ ساتھ محض اس لئے شائع کی گئی تاکہ ایف آئی اے کے کمزور مقدمے کو سہارا مل سکے۔ اور وہ اُن خبروں کے ماحول کا فائدہ اُٹھا کر عدالتی عمل کو درخواستوں کے مطابق موڑ سکیں ۔ اگر چہ عدالتیں آخری فیصلے کے وقت اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتیں۔ مگر یہ معاملہ عدالتوں سے زیادہ اب ملک کی معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی کی دو اہم کاروباری شخصیات نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ اُن سمیت کافی لوگ اب اپنے کاروبار مستقل طور پر پاکستان سے سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں۔اُنہوں نے توجہ دلائی کہ جب بھی نوازشریف کی حکومت مرکز میں آتی ہے تو کراچی سے کاروباری سرگرمیاں سمٹنے لگتی ہے۔ اس مرتبہ اس میں جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان اور اُن کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی تال میل نے زیادہ خطرات پیدا کردیے ہیں۔ کراچی کے مایوس کاروباری طبقات اب عدالتوں سے انصاف کی آخری اُمید رکھتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...