وجود

... loading ...

وجود

قائد حزب اختلاف نے فائدے اٹھائے(چوہدری نثار ) نوازشریف کی آستینوں میں سانپ چھپے ہیں (خورشید شاہ)

جمعه 29 جنوری 2016 قائد حزب اختلاف نے فائدے اٹھائے(چوہدری نثار ) نوازشریف کی آستینوں میں سانپ چھپے ہیں (خورشید شاہ)

nisar and khursheed

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے ٹھیک آٹھ روز بعد اچانک سامنے آئے ہیں اور اُنہوں نے اُن تمام ناقدوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو اُن پر اس عرصے میں تنقید کے تیربرساتے رہے۔ اُنہوں نے اپنی گفتگو میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اور اُن کے متعلق دو باتیں ایسی کی ہیں جس سے خود اُن کی حکومت اور وزیر اعظم نوازشریف پر بھی سوالات اُٹھ جاتے ہیں۔ چوہدر نثار نے کہا کہ قائد حزب اختلا ف کے طور پر خورشید شاہ نے حکومت وقت سے فوائد سمیٹے ہیں۔ اُنہوں نے اس ضمن میں دوسری بات زیادہ خطرناک یہ کہی کہ عمران خان ماضی میں یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ حکومت اور حزب اختلاف میں مک مکا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ اس بات کو “کنفرم کرتے ہیں۔”

سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اتنے سادہ تو نہیں کہ اُنہیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ جوکچھ کہہ رہے ہیں اس کی زد خود اُن کی حکومت پر بھی پڑتی ہے۔ پھر بھی اُنہوں نے یہ باتیں کیوں کی؟

چوہدری نثار کی جانب سے کی جانے والی یہ دونوں باتیں دراصل یکساں طور پر خود اُن کی حکومت کو بھی اُن ہی الزامات کا ذمہ دار ٹہراتی ہیں۔ کیونکہ اگر حزب اختلاف کا حکومت سے مک مکا تھا ۔ تو ذمہ دار وہ حکومت بھی تھی جس کے وہ وزیر داخلہ ہیں۔ اور اگر خورشید شاہ نے کوئی فائدے اُٹھائے ہیں اور وہ غلط تھے ، تو فائدے پہنچانے والی حکومت بھی ذمہ دار ہے جس کے وہ وزیر داخلہ ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اتنے سادہ تو نہیں کہ اُنہیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کی زد خود اُن کی حکومت پر بھی پڑتی ہے۔ پھر بھی اُنہوں نے یہ باتیں کیوں کی؟ کیا وہ ان باتوں کے ساتھ خود حکومت کے لئے بھی شرمندگی کا کوئی سامان پیدا کررہے تھے؟ یا وہ غصے میں اتنے بے قابو ہو گئے کہ اُس تلوار کو بھی پکڑ لیا جو دو دھاری تھا؟ اس کاجواب کچھ بھی ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ چوہدری نثار ایک نہایت نازک موقع پر اس تنازع کو گود لے بیٹھے ہیں جب مرکزی حکومت کو اگلے چند دنوں میں خطرناک بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چوہدری نثار کی یہ بات کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہئے، اپنی جگہ بالکل درست ہے مگر پھر اپنی پریس کانفرنس میں اُنہوں نے وہی کچھ کیا ہے جس کی وہ نشاندہی کرر ہے تھے۔

چوہدری نثار کی اس پریس کانفرنس میں حزب اختلاف پر اُن کے گرجنے برسنے سے جو ماحول پیدا ہوا ، اُس سے اُن کی پریس کانفرنس کے وہ حصے نظروں سے اوجھل ہوگئے جو زیادہ سنجیدگی سے غوروفکر کی کے قابل تھے۔ مثلاً اُنہوں نے چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف بندوق کی جنگ تو جیت رہے ہیں مگر نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں ۔ چوہدری نثار کے مطابق دہشت گردی کے ایک واقعے پر طوفان برپا کرکے مایوسی پھیلائی جاتی ہے، اس طرح ہم وہی کچھ کرنے لگتے ہیں جو دراصل دشمن چاہتا ہے۔چوہدری نثار نے بجا طور پر کہا کہ جب ملک حالت جنگ میں ہوں تو قوم کو امید دلائی جاتی ہے، انھیں مایوسی کی طرف نہیں دھکیلا جاتا۔یہ دراصل دشمنوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے ۔ اُن کی یہ بات بھی بالکل درست تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور جب جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف سےوار ہوتے ہیں ۔ لہذا اس سلسلے میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔

چوہدری نثار کی یہ بات کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہئے، اپنی جگہ بالکل درست ہے مگر پھر اپنی پریس کانفرنس میں اُنہوں نے وہی کچھ کیا ہے جس کی وہ نشاندہی کرر ہے تھے۔ اُنہوں نے خورشید شاہ کےگزشتہ دنوں کے اُس بیان کو آڑے ہاتھوں لیا جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ سانحہ چارسدہ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بھی مذمتی بیان آگیا مگرچوہدری نثار نے اس واقعے کی مذمت نہیں کی۔ اس کے جواب میں چوہدری نثار نے جو کچھ کہا اُس کے بعد قائد حزب اختلاف سکھر میں حرکت میں آئے اور اُنہوں نے بھی ایک پریس کانفرنس کر ڈالی۔ جس میں اُنہوں نے اپنے پسندیدہ فقرے کو ایک مرتبہ پھر دُہرایا کہ وزیراعظم نوازشریف کی آستینوں میں سانپ چھپے ہوئے ہیں۔ اور وہ چوہدری نثار کی باتوں کا جواب پارلیمنٹ میں نوازشریف کی موجودگی میں دیں گے۔ اور اگر وزیراعظم نے اُنہیں مطمئن نہیں کیا تو پھر وہ عدالت جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ الزامات لگانا موجودہ حکومت کا وطیرہ بن گیا ہے۔ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس کے بعد خورشید کی جوابی پریس کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر سیاسی ماحول کو آلودہ کردیا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فوجی سربراہ کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے اعلان کے بعد ایک مرتبہ پھر سندھ اور ملک بھر میں آپریشن تیز کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ، جس پر سندھ حکومت کو شدید تحفظات ہیں۔ اگلے چند دنوں میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا معاملہ ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے لئے مسائل کا سبب بننے والا ہے۔ اس سے چند دن پیشتر اس نوع کی لڑائی نے مسائل بڑھنے کے اندیشوں کو مزید گہرا کردیا ہے۔


متعلقہ خبریں


غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل وجود - جمعه 30 جنوری 2026

حماس غزہ میں انتظامی ذمہ داریاںفلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کیلئے تیار صدرٹرمپ کی سربراہی میںکمیٹی جنگ کے بعد غزہ کے روزمرہ انتظامی امور چلائے گی فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کے ...

غزہ میں اقتدار کی منتقلی کے انتظامات مکمل، فائلیں تیار، کمیٹیاں تشکیل

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

مضامین
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بسنت تہوار ثقافت، حفاظت، اور اخلاقی ذمہ داری

بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات وجود جمعه 30 جنوری 2026
بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات

بیداری وجود جمعه 30 جنوری 2026
بیداری

افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر