... loading ...
پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی جانب سے 25 جنوری کودوپہر ایک بج کر انیس منٹ پر ٹوئیٹر سے آنے والے ایک وضاحتی بیان نے پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ایک بھونچال پیدا کردیا ہے۔ اگر پاک فوج کے ترجمان نے فوجی سربراہ کی جانب سے ملازمت میں توسیع نہ لینے کے فیصلے کا اظہار اس لئے کیا تھا کہ اس سے ملک میں جاری قیاس آرائیوں کو ختم کیا جاسکے ۔ تو یہ مقصد کسی بھی طرح پورا نہیں ہو سکا۔ بلکہ یہ موضوع چہرہ بدل کر سماجی ویب سائیٹ سے مرکزی ذرائع ابلاغ کے دھارے میں داخل ہو گیا ہے۔
بدقسمتی سے اس معاملے میں جن حلقوں کی جانب سے بھی جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اظہار کیا جارہا تھا اُس نے جنرل راحیل شریف کے ساتھ ہی کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت کے خاتمے سے ایک سال پہلے ہی اُن حلقوں میں نامعلوم کیا بے چینی پیدا ہوگئی تھی کہ وہ باربار جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت کو موضوع بحث بنا رہے تھے۔ چند ہفتے قبل سابق صدرمملکت اور پاکستان کے متنازع جنرل(ر) پرویز مشرف کی طرف سے ایک انٹرویو میں پاک فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا مشورہ صاف الفاظ میں دیا گیا۔ اس سے ذرا پہلے اور بعد مخصوص ذرائع سے اس معاملے پر رائے زنی شروع کردی گئی تھی۔ نتائج سے بے پروا ذرائع ابلاغ نے اسے پہلے سے ہی اپنے سوالات میں منہ کا ذائقہ بدلنے کی خاطر ایک سوال کے طور پر برتنا شروع کر دیا تھا۔ یہ سب کون کررہا تھا اور کس کی ایما پر کررہا تھا، یہ تو واضح نہیں۔ مگر یہ ساری مہم جنرل راحیل شریف کے لئے نہایت منفی ثابت ہوئی ہے۔
انتہائی ذمہ دار ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا معاملہ حکومت نے ایک زبردست سیاسی حربے کے طور پر برتنا شروع کردیاتھا ۔یہ دراصل ایک دودھاری تلوار کی مانند معاملہ تھا جس میں فوجی اداروں سے بہت پہلے سے متحارب ذہن اس بات کو بہت اچھی طرح سے سمجھتے تھے کہ سربراہ فوج کی مدت ملازمت میں توسیع کا اشارہ جب قبل از وقت دیا جاتا ہے تو یہ خود فوجی حلقوں میں بے چینی پیدا کرتا ہے۔ اس لئے فوج کی اعلیٰ قیادت عام طور پر اس قسم کی قیاس آرائیوں اور خبروں کے قبل ازوقت افشاء سے بہت اجتناب برتتی ہے۔ فوجی حلقوں کی اس نزاکت کا سیاسی حلقوں کی جانب سے پوراپورا فائدہ اُٹھایا گیا۔ اور اس کا ایندھن وہ لوگ بھی بن گئے جو جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں دل سے توسیع چاہتے تھے۔ اُن کی طرف سے لب کشائی نے اس معاملے کو منفی طور پر ابھارنے میں مد ددی۔ رہی سہی کسر ٹیلی ویژن کے انتہائی جاہل اینکرز پوری کرتے رہے۔ جن میں سے ایک نے تو جنرل راحیل شریف کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے اُنہیں یہ اپیل بھی کردی کہ وہ اُنہیں “لٹیروں” کے رحم وکرم پرچھوڑ کر نہ جائیں۔افسوسناک طور پر فوجی حلقوں کی طرف سے ان “نادان دوستوں” کو کسی بھی سطح سے “شٹ اپ” کال نہیں دی گئی۔ بلکہ جس طرح سے یہ عمل مسلسل ہورہا تھا ، اُس سے تو لگتا ہے کہ ان “نادانیوں” کی کوئی حوصلہ افزائی بھی کررہا تھا۔ یہ آخری درجے کی بے احتیاطی تھی جو ایک پٹیشن کی صورت میں عدالت عظمیٰ کے دروازے تک پہنچی۔ جسے محمود اختر نقوی نے اس درخواست کے ساتھ پہنچایا کہ جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی جائے۔ محمود اختر نقوی کیوں اور کیسے بروئے کار آتے ہیں ؟ یہ راز کسی سے مخفی نہیں ۔
دوسری طرف انتہائی اعلیٰ سطح سے اعلیٰ عسکری قیادت کو ساتھ مل کر “آئندہ” بھی کام کرنے کے اشارے دئے جارہے تھے، مگر انتہائی خاموشی اور پُرکاری سے “متبادل” منصوبوں پر بھی بعض “خاندانی” ذرائع سے کام ہورہا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اس پورے معاملے سے آگاہ عسکری ذرائع نے اس پر اعلیٰ سطح کے ایک مشاورتی عمل کو کافی دنوں سے شروع کررکھا تھا۔اور کافی غوروفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے میں ایک وضاحتی بیان جاری کرکے قیاس آرائیوں کے دروازے بند کردیئے جائیں۔ مگر اسلام آباد کے بعض متحرک ذرائع کے مطابق دراصل یہ وضاحت قیاس آرائیوں کے خاتمے کے لئے نہیں بلکہ اس معاملے میں جاری دُہری پالیسیوں کے خاتمے کے لئے جاری کی گئی تھی۔ جسے بعض حلقے”شٹ اپ” کال بھی قرار دے رہے ہیں۔ اُن حلقوں کے مطابق اس وضاحتی بیان میں جس حصے کو زیادہ اہمیت دی گئی وہ اتنا اہم نہیں ،جتنا وہ حصہ اہم تھا جسے نظر انداز کردیا گیا۔ دراصل فوجی ترجمان نے جنرل راحیل شریف کے جس عزم کو اجاگر کیا تھا وہ اُن کے اگلے فقرے میں تھا کہ “میں مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجاؤں گا جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوششیں پورے عزم واستقلال کے ساتھ جاری رہیں گی۔”
بعض حلقوں کی جانب سے یہ اصرار کیا جارہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے نامعلوم وجوہات کے باعث آپریشن کے جن شعبوں میں نرمی برتی جارہی تھی یہ اُس کے خاتمے کی طرف ایک اشارہ ہے۔ کچھ بھی ہو ، پاک فوج کے ترجمان کی وضاحت نے اس مسئلے پر جاری بحث کا خاتمہ کرنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...
مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...
بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...
ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...
پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...
9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...
ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...
حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...
اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...
2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...
یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...
بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...