وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

این آئی سی ایل مقدمہ: ایف آئی اے نے جہانگیر صدیقی کی کمپنی کو کیسے بچایا؟

پیر 25 جنوری 2016 این آئی سی ایل مقدمہ: ایف آئی اے نے جہانگیر صدیقی کی کمپنی کو کیسے بچایا؟

NICL-scam-FIA-arrests-absconder-Aamir-Hussain

پاکستان میں سرکاری ادارے طاقت ور لوگوں کی ایک فرماں بردار کنیز بن چکے ہیں۔ ایف آئی اے گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح جہانگیر صدیقی کے احکامات کی بجاآوری میں مصروف نظر آتا ہے اس سے لگتا ہے کہ سرکاری ادارے اپنے قدروقیمت کھو کر اب بجائے خود ایک استحصالی روپ اختیار کرتے جارہے ہیں۔ اس تجزیئے کا ایک ایک حرف مشہور زمانہ ’’این آئی سی ایل‘‘ (نیشنل انشورنش کارپوریشن لمیٹیڈ) اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی کمپنی جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹیڈ کے خلاف ایف آئی اے کے کرائم سرکل کی ایک انتہائی خفیہ رپورٹ سے درست ثابت ہوتا ہے۔ جس میں جہانگیر صدیقی کے ادارے کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو بیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کے باوجود اُنہیں ایک محفوظ راستے سے نکلنے دیا گیا۔

ایف آئی اے کی تفتیش کے دوران یہ بات منکشف ہو گئی کہ این آئی سی ایل کی انتظامیہ اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی کمپنی جے ایس انوسٹمنٹ کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو بیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔

کاروباری اور صحافتی دنیا میں کسی کی بھی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ آخر جہانگیر صدیقی کے پاس میر شکیل الرحمان کے علاوہ ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ثابت شدہ جرائم کے باوجود قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہتے ہیں،بلکہ سرکاری اداروں کواپنے مقاصد کے تحت اور اپنے کاروباری حریفوں کے خلاف بھی پوری طرح استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں؟ کیا جہا نگیر صدیقی قانون وانصاف اور سرکاری اداروں سے بڑے بن چکے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب سمجھنے کے لئے این آئی سی ایل کی تحقیقات کو ہی مددگار بناتے ہیں۔

ایف آئی اے کی تفتیش کیا تھی؟

NjTMTci9

وجوڈ ڈاٹ کام کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جون 2013ء کی ایک درخواست پر ایف آئی اے نے این آئی سی ایل اور جے ایس انوسٹمنٹ کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو 25کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کی چھان بین شروع کی۔ایف آئی اے کے دو افسران سب انسپکٹر محمد رضوان اور سب انسپکٹر محمد منصور مہمندنے اس تفتیش میں جو دستاویزی ثبوت اکٹھے کئے اور جن متعلقہ حکام کے بیانات قلمبند کئے ۔

کاروباری اور صحافتی دنیا میں کسی کی بھی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ آخر جہانگیر صدیقی کے پاس میر شکیل الرحمان کے علاوہ ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ اپنے ثابت شدہ جرائم کے باوجود قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

وہ ابتدا میں ہی ہوش اڑا دینے کے لئے کافی تھے۔ ایف آئی اے کی تفتیش کے دوران یہ بات منکشف ہو گئی کہ این آئی سی ایل کی انتظامیہ اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کی کمپنی جے ایس انوسٹمنٹ کی ملی بھگت سے قومی خزانے کو بیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔

فراڈ پر فراڈ کرنے کا قصہ کیسے شروع ہوا؟

وجود ڈاٹ کام کے پاس موجود تحقیقی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے پر دوران تفتیش یہ انکشاف ہوا کہ 12مارچ 2009ء کو ہونے والی این آئی سی ایل کے سرمایہ کاری کمیٹی کے ایک اجلاس میں ایک تجویز پیش کی گئی کہ جے ایس انوسٹمنٹ کے فنڈ میں دو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے۔ کسی بھی توقف کے بغیر صرف ایک ہی روز بعد یعنی 13مارچ 2009ء کو این آئی سی ایل کے اُس وقت کے چیئرمین ایاز خان نیازی نے سرمایہ کاری کمیٹی کے اجلاس کی اس کارروائی (منٹس) کی منظوری بھی دے دی۔ یہی نہیں، بلکہ ٹھیک اسی روز یعنی 13مارچ کو ہی این آئی سی ایل نے جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹیڈ میں دوارب روپے کی سرمایہ کاری بھی کردی ۔

این آئی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس کے مطابق جے ایس انوسٹمنٹ نے سرمایہ کاری کے لئے اپنی پیشکش سرمایہ کار کمیٹی کے اجلاس سے صرف آدھا گھنٹے پہلے دستی طور پر پہنچائی تھی۔جسے بلاتاخیر اُسی وقت زیرغورلایا گیا۔

یہ رقم ایک ارب ستر کروڑ روپے اور تیس کروڑ روپے کے دوچیکوں کے ذریعے ادا کی گئی۔ ان میں سے ایک چیک مسلم کمرشل بینک مہدی ٹاور برانچ اور دوسرا حبیب بینک ایف ٹی سی برانچ کے جاری کئے گیے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے عام طور پر اس طرح کے کام کیچھوے کی چال سے بھی نہیں ہو پاتے ، مگر نامعلوم وجوہات کی بناء پر فراڈپر فراڈ کا یہ گورکھ دھندہ خرگوش کے پاؤں لگا کر کیا جارہا تھا۔ صرف دو دن کے اندر نہ صرف ایک منصوبہ سامنے آیا بلکہ منظور بھی ہو گیا اور منظوری والے دن ہی دوارب روپے کی سرمایہ کاری بھی کردی گئی۔

فراڈ کے دو چونکا دینے والے نکات کیا تھے؟

  • دوران تفتیش یہ بات سامنے آئی کہ اس سرمایہ کاری کے لئے کوئی تحقیقی کام نہیں کیا گیا۔نہ ہی کسی بھی سطح پر این آئی سی ایل نے کوئی مشاورت کی۔
  • این آئی سی ایل کی سرمایہ کاری کمیٹی کے اجلاس میں جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹیڈ میں سرمایہ کاری کے لئے پیشکش پر مبنی کسی خط کا کوئی اندراج تک تفتیش میں دستیاب نہیں کیا جاسکا۔این آئی سی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس کے مطابق جے ایس انوسٹمنٹ نے سرمایہ کاری کے لئے اپنی پیشکش سرمایہ کار کمیٹی کے اجلاس سے صرف آدھا گھنٹے پہلے دستی طور پر پہنچائی تھی، جسے بلاتاخیر اُسی وقت زیر غور لایا گیا۔ دوارب روپے کی سرمایہ کاری کی پیشکش اس طرح بھی نہیں کی گئی جیسے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں دہی دیا جاتا ہے۔ سرمایہ کاری کی دنیا میں یہ واقعہ اپنی مثال آپ ہے۔

فراڈ پر فراڈ کیسے ہوا؟

مقدمے کی مزید تفتیش کے دوران میں یہ انکشاف ہوا کہ چیئرمین این آئی سی ایل ایاز خان نیازی کی ہدایت پر سرمایہ کار کمپنی کے مورخہ 29اپریل 2010ء کو ہونے والے45ویں اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانس محمد ظہور نے اچانک یہ تجویز پیش کی کہ جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹڈمیں کی گئی سرمایہ کاری کی رقم کو واپس حاصل کر لیا جائے۔ یہ تجویز اس لئے نہایت حیران کن تھی کیونکہ مارچ 2009ء میں سرمایہ کاری کی گئی اس رقم کے ساتھ یہ شرط بھی عائد تھی کہ یہ رقم تین سال اور چھ ہفتے سے پہلے واپس نہیں لی جاسکے گی۔ اگر ایسا کیا گیا تو پھر حاصل شدہ آمدنی میں سے جے ایس انوسٹمنٹ پانچ فیصد کٹوتی کرے گا۔ این آئی سی ایل نے اس شرط کے باوجود سرمایہ کاری کو واپس لینے کی منظوری دے دی۔ اس طرح بورڈ آف ڈائریکٹرز کے12مئی 2010ء کے 70ویں اجلاس میں سرمایہ واپس لینے کے دستیاب تین میں سے ایک راستے کو اختیار کر لیا گیا۔ جس کے تحت جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹڈ کو یہ تجویز کیا گیا کہ وہ چار ماہانہ مساوی اقساط میں رقم لوٹا دے۔ اس طرح این آئی سی ایل کو اپنی سرمایہ کاری سے حاصل شدہ منافع میں سے پانچ فیصد کٹوتی بھی کرانا پڑی۔ اس دوران میں جے ایس انوسٹمنٹ این آئی سی ایل کی سرمایہ کاری پر 14لاکھ تیرہ ہزار ایک سو چون بونس شیئرز کا اعلان بھی کرچکی تھی۔مگر سرمایہ کاری سے دستبرداری کے اس فیصلے سے کرائی گئی اس کٹوتی کے باعث این آئی سی ایل کو محض چھ کروڑ سینتالیس لاکھ چوّن ہزار ایک سو انتیس روپے ہی بچ سکے۔ جو کہ درحقیقت سالانہ 2.35فیصدنفع ہی بنتا ہے۔ یہ بات اس لئے بھی زیادہ چبھنے لگی کیونکہ دوران تفتیش یہ انکشاف بھی ہوا کہ مارچ 2009ء میں ہی این آئی سی ایل کی اٹلس بینک میں کی گئی سرمایہ کاری سے این آئی سی ایل کو پندرہ فیصد سالانہ کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ یہ سارا کھیل دراصل این آئی سی ایل اور جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹڈ کے درمیان ایک اعلی سطح کی ملی بھگت سے کھیلا گیا تھا۔

ایف آئی اے کی تفتیش میں سفارش کیا تھی؟

قومی خزانے کو تقریباً بیس کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کی اس تفتیش میں ایف آئی اے کے افسران نے اپنی حتمی سفارش میں کہا تھا کہ این آئی سی ایل کے چار اور جے ایس آئی ایل کے دو ذمہ داران کے خلاف مقدمہ قائم ہونا چاہئے۔ این آئی سی ایل کے جن چار افراد کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی وہ درج ذیل تھے:

محمد ایا ز نیازی چیئرمین این آئی سی ایل

جاوید سید ڈائریکٹر

سید حر ریہائی ڈائریکٹر

سید نوید حسن زیدی ڈائریکٹر

ان کے علاوہ جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹڈ کے جن دوافراد کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کی سفارش کی گئی وہ مندرجہ ذیل تھے۔

منور عالم صدیقی چیئرمین ، ڈائریکٹر

علی رضا صدیقی ایگزیکٹو ڈائریکٹر

اگر اس سارے مقدمے کی تفتیش کا جائزہ لیا جائے تو یہ صرف اس تفتیش کا محض ایک پہلو ہے، جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ ایف آئی اے نے اپنی تفتیش میں سارا معاملہ بغیر کسی کمی بیشی کے منکشف کردیا۔ اور جرم کا پوری طرح پتا چلا لیا۔

تفتیش کے بعد کا دوسرا رخ

Jahangir-Siddiqui

ایف آئی اے کی اس تفتیش کے بعد پتا چلتا ہے کہ کس طرح جہانگیر صدیقی قومی خزانے کو مال مفت دل بے رحم کی طرح ہڑپ کرنے کے بعد ریاستی اداروں کو اپنی مرضی سے توڑتے مروڑتے ہیں۔ ایف آئی اے پر جہانگیر صدیقی نے تفتیش کے اس مرحلے پر ایسا کون سا جادو کیا کہ اُس نے ایک کھلے فراڈ کا مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت قائم کیا۔ جو محض سرکاری افسران کے اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم کا احاطہ کرتی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ دفعہ کسی بھی طرح سے جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹڈ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے موزوں نہیں تھی۔ اس طرح ایف آئی اے نے ایک ثابت شدہ فراڈ میں سے جہانگیر صدیقی کی کمپنی کے کرتادھرتاؤں کو آٹے میں سے بال کی طرح نکال دیا۔ اس طرح جہانگیر صدیقی اور جے ایس انوسٹمنٹ لمیٹڈ کے ذمہ داران ’’رند کے رند رہے اور ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘ کے بمصداق ثابت ہوئے۔ جنہیں ملزم بناکر فائلوں کا پیٹ بھی بھر دیا گیا اور اپنے پیٹ بھر کر اُنہیں باعزت بری ہونے کا راستہ بھی مہیا کردیا۔ یوں لگتا ہے کہ ایف آئی اسے پوری تفتیش کو مقدمے کے اندراج میں ایسے حربوں سے قابو کرنے میں کامیاب رہے کہ اُن کی چوری ثابت ہونے کے باوجود اُنہیں ہاتھ کاٹنے کی سزا کبھی نہ مل سکے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایف آئی اے جہانگیر صدیقی کے گندے کپڑے دھونے کی کوئی واشنگ مشین ہے؟این آئی سی ایل کی تفتیش کے انجام سے تو یہی لگتا ہے!!!!!!


متعلقہ خبریں


آبی جارحیت کی دھمکی، بھارتی اقدام پر سندھ بنجر ہو جائیگا انوار حسین حقی - بدھ 28 ستمبر 2016

’’آب اور لہو ایک ساتھ نہیں بہ سکتے ‘‘ یہ نئی بڑھک جنگی جنون میں مبتلا بھارت کے انتہا پسند ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے لگائی ہے ۔ کشمیری حریت پسندوں کے جذبہ حُریت سے خوفزدہ بھارتی قیادت نے بین الاقوامی سفارتی سطح پر پاکستان کے خلاف ناکامی کے بعد سندھ طاس کمیشن کے مذکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ مذاکرات کے التواء کا اقدام دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید کشیدہ صورتحال کے حوالے سے بھارت کی جانب سے اُٹھایا جانے والا سب سے ٹھوس قدم ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی م...

آبی جارحیت کی دھمکی، بھارتی اقدام پر سندھ بنجر ہو جائیگا

امریکہ کے صدارتی انتخابات: ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے وجود - منگل 27 ستمبر 2016

تحریر :۔ ایوان کورون امریکہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے، انتخابی بخار بھی بڑھتاجارہاہے، انتخابات میں ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے ہیں، اگرچہ امریکی عوام کے موڈ کی موجودہ کیفیت کو دیکھ کر یہی اندازہ ہوتاہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہزیمت کاسامنا کرنا پڑے گا اور امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون صدارت کامنصب سنبھالنے میں کامیاب ہوجائیں گے اور اس طرح ہیلری کلنٹن کو امریکہ کی خاتون اول کا درجہ دلانے والے سابق صدر بل کلنٹن امریکہ کے مر د اول بن جائیں گے...

امریکہ کے صدارتی انتخابات: ہلیری کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ آمنے سامنے

ڈنڈا بردار فورس بمقابلہ بلا بردار فورس، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف آمنے سامنے انوار حسین حقی - پیر 19 ستمبر 2016

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کے خلاف جاری تحریک احتساب کے دوران میں ’’رائے ونڈمارچ ‘‘ کی اصطلاح نے بھر پور شہرت حاصل کی ہے۔ رائے ونڈ لاہور کے نواح میں آباد وہ علاقہ ہے جو پہلے صرف تبلیغی جماعت کے مرکز کے حوالے سے معروف تھا۔ بعد میں شریف فیملی نے لاہور کے ماڈل ٹاؤن سے اپنی رہائش گاہیں رائے ونڈ کے زرعی فارم میں منتقل کر لیں جسے ’’جاتی عمراء ‘‘ کا نام دیا گیا۔ جاتی عمراء مشرقی پنجاب کا وہ گاؤں ہے جہاں شریف خاندان تقسیمِ ہند سے پہلے مقیم تھا۔ عمران خان کی جانب سے ر...

ڈنڈا بردار فورس بمقابلہ بلا بردار فورس، مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف آمنے سامنے

کیا بانی ایم کیو ایم کا باب واقعی بند ہوچکا؟ ابو محمد نعیم - اتوار 28 اگست 2016

ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے ہفتے کی شام پریس کانفرنس میں لندن سے مکمل لاتعلقی اور پہلی مرتبہ الطاف بھائی کے بجائے الطاف صاحب کہنے کے باوجودا بھی تک سوال اٹھ رہے ہیں۔۔ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کا باب واقعی بند ہوچکاہے؟یا حسب سابق وہ دستبرداری کے لاتعداد اعلانات کے بعد ایک مرتبہ پھر عوام کے بے حد اصرار پرشرطیہ نئی کاپی کے ساتھ لوٹ آئیں گے؟ اور شہری سندھ کے عوام ’’بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائی کی‘‘ کے بمصداق انہیں دوبارہ قبول کرلیں گے؟ ان ...

کیا بانی ایم کیو ایم کا باب واقعی بند ہوچکا؟

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرلی! اصل حقائق کیا ہیں؟ باسط علی - منگل 09 اگست 2016

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جماعت الاحرار گروپ نے کوئٹہ میں حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کے نام پر ذمہ داری قبول کرنے کا یہ عمل درست بھی ہے یانہیں۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سول اسپتال کی ایمرجنسی میں کیے جانے والے خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار گروپ نے قبول کی ہے۔ خبر رساں ادارے نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جماعت الاحرارکے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ای میل میں ...

کوئٹہ دھماکے کی ذمہ داری جماعت الاحرار نے قبول کرلی! اصل حقائق کیا ہیں؟

تحریک انصاف کی تحریک احتساب: خدشات، امکانات باسط علی - پیر 08 اگست 2016

تحریک انصاف نے 7 اگست کو زبردست جوش وخروش سے تحریک احتساب کا آغاز کردیا ہے۔ پاناما لیکس کے تناظر میں وزیراعظم نوازشریف کے احتساب کے بنیادی مطالبے سے شروع ہونے والی اس تحریک کو عوام اور فعال طبقات میں دراصل نوازشریف کی رخصتی کی تحریک سمجھا جارہا ہے۔ جس کے مستقبل اور نتیجہ خیزی کو عمران خان کے ماضی کے دھرنے کے انجام سے منسلک کرکے دیکھا جارہا ہے۔ جب عمران خان نے 17 دسمبر 2014 کو 126 روز (تقریباً چار ماہ) کادھرنا آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے باعث پُرنم آنکھوں سے ختم کرنے کا اعلان ...

تحریک انصاف کی تحریک احتساب: خدشات، امکانات

وزیر داخلہ چودھری نثار کی غیر دانشمندانہ ضد، رینجرز اختیارات کامسئلہ قانونی کے بجائے سیاسی بناد یا! وجود - بدھ 03 اگست 2016

وزیر داخلہ چودھری نثار نے سندھ کے معاملے میں مکمل غیر دانش مندانہ رویہ اختیار کررکھا ہے۔ تازہ ترین واقعہ یہ ہوا ہے کہ اُن کی وزارت سندھ حکومت کی جانب سے ارسال کردہ رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی سمری کو مکمل مسترد کردیا ہے۔ جس نے سندھ میں بعض خطرناک مباحث کو جنم دینا شروع کردیا ہے۔ انتہائی ناعاقبت اندیشانہ انداز اور یکطرفہ رویئے کے ساتھ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر رینجرز کے اختیارات کو کراچی تک محدود رکھا گیا اور رینجرز کو پورے سندھ میں...

وزیر داخلہ چودھری نثار کی غیر دانشمندانہ ضد، رینجرز اختیارات کامسئلہ قانونی کے بجائے سیاسی بناد یا!

لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس: آخر جھگڑا کیا ہے؟ باسط علی - جمعه 29 جولائی 2016

لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس حسب پروگرام 22 سے 24 جولائی دوشہروں میں منعقد ہوئی۔ اور حسب عادت اس کانفرنس کے حوالے سے پاکستان اور برطانیہ کے پاکستانی حلقوں میں خاصا مخالفانہ شور بھی اُٹھا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مختلف اداروں میں پائے جانے والی شکررنجی اور مسابقت کا جذبہ اب سیاسی تعصبات سے آگے بڑھتے بڑھتے عداوت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں کسی بھی پروگرام سے خالص اختلاف رائے کا اظہار ایک ناممکن عمل بن چکا ہے بلکہ اب اختلاف رائے دراصل اختلاف شخصیات کا روپ دھا ...

لندن میں دوسری انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس: آخر جھگڑا کیا ہے؟

وزیراعظم نوازشریف نے اسلام آباد کا قصد کرلیا وجود - جمعرات 21 جولائی 2016

وزیر اعظم نوازشریف نے بآلاخر ایک طویل وقفے کے بعد دارالحکومت اسلام آباد جانے کا قصد کر لیا ہے۔ وہ آج کسی بھی وقت اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد وہ جمعہ کو قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ جس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان کے علاوہ وزیردفاع، داخلہ، خزانہ اور مشیر قومی سلامتی امور شریک ہوں گے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نوازشریف لندن میں اپنے علاج کے اڑتالیس دنوں بعد رواں ماہ 9 جولائی کو وطن واپس پہنچے تھے۔ مگر اُنہوں ...

وزیراعظم نوازشریف نے اسلام آباد کا قصد کرلیا

وزیراعظم نوازشریف تاحال دارالحکومت اسلام آباد جانے سے گریزاں، افواہیں گردش میں محمد احمد - منگل 19 جولائی 2016

پاکستان کے تمام سیاسی، اقتصادی اور صحافتی حلقوں میں ان دنوں واحد موضوع سیاسی حکومت اور عسکری حلقوں کے درمیان تال میل سے متعلق ہے۔ جس پر مختلف حلقوں کے اندر مختلف اندازے قائم کیے جارہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے جتنی افواہیں گردش کررہی ہیں، اُس تنا سب سے اطلاعات کی کمی بھی ہیں۔ البتہ افواہوں کو تقویت دینے کا ماحول خود وزیراعظم نوازشریف کی عدم فعالیت اور بیماری کے پراسرار ماحول میں خود کو چھپانے سے بن رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اب بھی خود کو دارالحکومت...

وزیراعظم نوازشریف تاحال دارالحکومت اسلام آباد جانے سے گریزاں، افواہیں گردش میں

تنازعات کوجنم دینے والی ماڈل گرل قندیل بلوچ کی زندگی موت کے تنازع پر ختم، بھائی نے قتل کردیا! محمد احمد - هفته 16 جولائی 2016

پاکستانی ذرائع ابلاغ کی بھوک کو اپنی بے ہودگیوں سے غذا فراہم کرنے والی ماڈل گرل قندیل بلوچ کو اُس کے اپنے ہی بھائی نے مبینہ طور پر قتل کر دیا۔ فیس بک اور یوٹیوب پر پر ناگفتہ بہ ویڈیوز کے ذریعے اچانک شہرت پانے والی قندیل بلوچ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ کو یرغمال اور پاکستانی سماج کو بے ہودگیوں سے کافی حد تک آلودہ رکھا۔ افسوس ناک طور پر اُس کی زندگی کی نظرانداز کیے جانے کے قابل کہانیوں کو اُن ٹی وی چینلز نے چسکے لے لے کر پیش کیا جس کے اپنے مالکان، ٹی وی اینکرز اور نیوز کاسٹرز ایس...

تنازعات کوجنم دینے والی ماڈل گرل قندیل بلوچ کی زندگی موت کے تنازع پر ختم،  بھائی نے قتل کردیا!

وفاقی کابینہ نے یوم الحاق پاکستان کے دن یوم سیاہ منانے کا سیاہ فیصلہ کرلیا! باسط علی - هفته 16 جولائی 2016

وزیراعظم نوازشریف نے لندن سے واپسی کے بعد بھی طبی جواز بناکر خود کو دارالحکومت اسلام آباد سے دور رکھنے اور لاہور میں قیام کا فیصلہ برقرار رکھا ہے اور ناگزیر حالات میں وفاقی کابینہ کا اجلاس گورنر ہاؤس لاہور میں طلب کیا۔ اگرچہ اس اجلاس میں کم وبیش 113 نکاتی ایجنڈا تھا، مگر بنیادی طور پر یہ اجلاس مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات پر طلب کیا گیا تھا۔مگر وفاقی کابینہ نے کشمیر کے مسئلے پر ایک ایسی غلطی کی ہے جو نادانستہ قرار دیئے جانے کے باوجود ان کی صلاحیت پر سنگین سوال اُٹھاتی ہے۔اطلا...

وفاقی کابینہ نے یوم الحاق پاکستان کے دن یوم سیاہ منانے کا سیاہ فیصلہ کرلیا!

مضامین
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
جامہ عریانی کا قامت پہ مری آیا ہے راست <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

کامی یاب مرد۔۔
(علی عمران جونیئر)
وجود بدھ 16 اکتوبر 2019
کامی یاب مرد۔۔<br> (علی عمران جونیئر)

تری نگاہِ کرم کوبھی
منہ دکھانا تھا !
(ماجرا۔۔محمد طاہر)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
تری نگاہِ کرم کوبھی <br>منہ دکھانا تھا ! <br>(ماجرا۔۔محمد طاہر)

معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود منگل 15 اکتوبر 2019
معاہدے سے پہلے جنگ بندی سے انکار <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا
(ماجرا۔۔۔محمدطاہر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
ہاتھ جب اس سے ملانا تو دبا بھی دینا<br> (ماجرا۔۔۔محمدطاہر)

وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
وزیراعلیٰ سندھ کی گرفتاری کے امکانات ختم ہوگئے۔۔۔؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔
(عمران یات..علی عمران جونیئر)
وجود پیر 14 اکتوبر 2019
پانچ کیریکٹر،ایک کیپٹل۔۔ <br>(عمران یات..علی عمران جونیئر)

طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی) قسط نمبر:3 وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
طالبان تحریک اور حکومت.(جلال نُورزئی)  قسط نمبر:3

دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر) وجود بدھ 09 اکتوبر 2019
دودھ کا دھلا۔۔ (علی عمران جونیئر)

سُکھی چین کے 70 سال سیاسی
(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
سُکھی چین کے 70 سال  سیاسی <Br>(زائچہ...راؤ محمد شاہد اقبال)

دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی!
(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)
وجود پیر 07 اکتوبر 2019
دنیا کے سامنے اتمام حجت کردی گئی! <br>(صحرا بہ صحرا..محمد انیس الرحمن)

حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی) وجود بدھ 02 اکتوبر 2019
حدِ ادب ۔۔۔۔۔۔(انوار حُسین حقی)

اشتہار