وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

مہوش اینڈ جہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کے خلاف نیب میں تحقیقات

هفته 16 جنوری 2016 مہوش اینڈ جہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کے خلاف نیب میں تحقیقات

Jahangir-Siddiqui-JS-Bank

عدالتی حکم پر جے ایس گروپ کی پانچ کمپنیوں کے خلاف نیب میں جاری تحقیقات، میر شکیل الرحمان کے بھاری بھرکم ذرائع ابلاغ کے اثرورسوخ کے نیچے دبی ہوئی ہیں۔ جس میں آزگردنائن حصص کی اندرونی تجارت سمیت بدعنوانی کی نہایت انوکھی قسموں پر تفتیش کی جارہی تھی۔

یہ جے ایس گروپ کے خلاف ‘کاریگری’ دکھانے کا واحد مقدمہ نہیں ہے۔ اس میں اسپرنٹ انرجی پرائیوٹ لمیٹڈ کے نام سے سی این جی اسٹیشنوں کے متعدد مقامات کی منتقلی کا ایک اور معاملہ بھی شامل ہے۔ اگر ادارے کے فارم “اے” اور فارم “29” دیکھے جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کمپنی کس سطح کی بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ اس پر خود ایف آئی اے نے بھی جعلی این او سیز کے استعمال کے 13 مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔

جے ایس سی ایل ، پاکستان انٹرنیشنل کنٹیٹر ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی سی ٹی ایل) میں 20 فیصد سے زیادہ حصص کی ملکیت رکھتا ہے۔ یہ حصص ایک منصوبے کے تحت فروخت کیے گئے تھے کہ زیادہ حصص رکھنے والا اپنے حصص کمپنی کو فروخت کرنے پر رضامند ہوا اور یوں کمپنی نئے مالک کے حوالے کردی گئی تھی۔ اس معاملے میں 432 ملین روپے کی مشاورتی فیس جی ایس سی ایل کی جانب سے علی جہانگیر صدیقی کو ادا کی گئی، جو جہانگیر صدیقی کے بیٹے ہیں۔ یہ معاملہ بڑے شیئر ہولڈر کے کنٹرول کے غلط استعمال کی بدترین مثال ہے، جس میں کئی ملین روپے اپنے بیٹے کو دیئے گئے، اور نہ صرف کمپنی بلکہ اس کے حصص یافتگان کو بھی بڑا نقصان پہنچایا گیا۔ جے ایس گروپ قیمتوں میں گڑبڑ کرنے اور ‘واش ٹریڈ’ میں مہارت رکھنے کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ پی آئی سی ٹی ایل کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ جے ایس گروپ نے اپنے حصص بینک جولیئس بائیر کو فروخت کیے، جو مبینہ طور پر جہانگیر صدیقی کے اپنے لیے کام کرتا ہے۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ ایس ای سی پی نے آزگرد نائن معاملے پر اپنی تحقیقات میں جے ایس بینک کو مجرمانہ ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اس معاملے کی سنجیدگی اس سے ثابت ہوتی ہے کہ جے ایس گروپ ایچ ایس بی سی گروپ خریدنے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری کا خواہشمند تھا جس نے کئی وجوہات کی بنیاد پر انکار کردیا، جن میں جے ایس بینک کا آزگرد نائن معاملے میں شامل ہونا بھی اہم تھا۔ معتبر ذرائع کے مطابق اس پر جے ایس گروپ نےاپنی رشتہ دار ایک مشہور میڈیا شخصیت کی مدد سے ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک سے زبردستی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی، اور ایس ای سی پی کے اس وقت کے چیئرمین محمد علی اور پھر گورنر ایس بی پی یاسین انور کو کراچی کے ایک گھر میں صبح سے شام تک “اغوا” کیے رکھا تاکہ وہ جے ایس گروپ کو ایچ ایس بی سی خریدنے کی اجازت دیں۔

قومی احتساب بیورو نے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں 28 اپریل کو فیصلہ کیا اور منظوری دی تھی کہ آزگرد نائن کے حصص کی ‘اندرونی تجارت’ اور مہوش اینڈ جہانگیر صدیقی فاؤنڈیشن کی کرپٹ حرکات کے خلاف تحقیقات کرے گا۔ جو بہت عرصے سے ضروری تھیں کیونکہ یہ معاملہ انوکھی نوعیت کی کرپشن کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتا تھا۔ یہ نیب کا ایک احسن قدم تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی ‘اندرونی تجارت’ اور قیمتوں میں اس گڑبڑ پر جے ایس گروپ کے پانچ اداروں سمیت متعدد افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا تھا۔ سیشن کورٹ کراچی (جنوبی) نے 17 اپریل 2013ء کو مجرموں کے خلاف احکامات جاری کیے تھے۔

جے ایس گروپ مشہور این آئی سی ایل کیس میں بھی ملوث رہا ہے، جس کی تحقیقات سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے مطابق کی گئیں۔ اس اسکینڈل میں جے ایس گروپ کا کردار بہت اہم تھا کیونکہ جے ایس گروپ، این آئی سی ایل کے دیگر حکام کے تعاون سے دستاویزات پر ‘کاریگری’ دکھا رہا تھا اور رقم کو 200 ملین سے 2000 ملین میں تبدیل کیا تھا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاک امریکن فرٹیلائزیشن کے جاری کردہ ٹی ایف سیز میں سرمایہ کاری کے لیے 1 اعشاریہ 2 بلین روپے کا نقصان ہوا۔ ریکارڈ صاف ظاہر کرتا ہے کہ ٹی ایف سی کے اجرا میں جے ایس گروپ ملوث تھا۔


متعلقہ خبریں


سندھ کاخزانہ لوٹنے والے شرجیل میمن احتساب کے شکنجے میں آگئے وجود - بدھ 25 اکتوبر 2017

نیب نے سابق وزیراطلاعات شرجیل میمن کے خلاف اپنی تحقیقات میں کیا کیا الزامات عائد کیے اور ان تحقیقات کا خلاصہ کیا ہے؟ یہ تمام پہلو اب تک ذرائع ابلاغ میںتفصیل کے ساتھ شائع نہیں ہوسکے۔ ذرائع ابلاغ چونکہ اس کھیل میں بالواسطہ اور بلاواسطہ خود بھی شریک ہیں ۔ لہذا اُنہوں نے اس اہم ترین اسکینڈل کو دبائے رکھا۔ اس ضمن میں جرأت نے 19 ، 20اور 21؍ اکتوبر 2016 کی اشاعتوں میں بدعنوانیوں کی اس ہوشربا داستان کا کچھ حصے شائع کیے تھے۔ بدقسمتی سے اس داستان کی اشاعت پر جرأت کو مختلف ذرائع سے بے...

سندھ کاخزانہ لوٹنے والے شرجیل میمن احتساب کے شکنجے میں آگئے

سندھ حکومت اور نیب میں ٹھن گئی الیاس احمد - بدھ 16 اگست 2017

پاناما گیٹ اسکینڈل کا کیس جیسے ہی آخری مرحلے میں داخل ہوا تو حکومت سندھ نے غنیمت جان کر سندھ میں ایسی قانون سازی کر دی ہے جس سے نہ صرف کرپٹ سیاستدانوں اور افسران کو بچانا ہے بلکہ مستقبل میں کرپشن کے خلاف موثر کارروائی کے تصور کو بھی ختم کرنا ہے۔ اسی بنا ء پر پیپلز پارٹی کی قیادت کے کہنے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شدید مخالفت کے باوجود سندھ میں نیب کے قوانین کو ختم کر دیا۔ اس پر پہلے گورنر سندھ محمد زبیر نے بل پر دستخط سے انکار کیا اور بل واپس کر دیا تاکہ اس پر حکومت سن...

سندھ حکومت اور نیب میں ٹھن گئی

ڈی ایچ اے مقدمہ: سابق فوجی سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کا پروانہ گرفتاری جاری وجود - منگل 19 جولائی 2016

نیب (قومی احتساب بیورو ) نے ڈی ایچ اے اسکینڈل میں مطلوب سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کاپروانہ گرفتاری جاری کردیاہے۔چیئرمین نیب قمر زمان چودھری نے کامران کیانی کے پروانہ گرفتاری جاری کرنے کی منظوری دی، جس کے بعد نیب ہیڈ کوارٹر نے کامران کیانی کا پروانہ گرفتاری ڈی جی نیب راولپنڈی اور آئی جی پنجاب پولیس کو ارسال کردیا۔پروانہ گرفتاری کے مطابق کامران کیانی مکان نمبر 21/295 طفیل روڈ لاہور کینٹ کے رہائشی ہیں اور ڈی ایچ اے مقدمے میں نیب کو مطلوب ہیں، ...

ڈی ایچ اے مقدمہ: سابق فوجی سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے بھائی کامران کیانی کا پروانہ گرفتاری جاری

نیب اسحاق ڈار کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے تیار وجود - جمعه 15 جولائی 2016

نیب پاکستان کے ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو چکا ہے جو سرکاری دباؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ عملاً "لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا" کے بمصداق بااثر لوگوں کو ایک ایسی چھتری فراہم کرتا ہے جس سے یہ اپنے اوپر عائد الزامات سے خود کو بری کراکے پاک صاف بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف یہ چھوٹے کاروباری حضرات کے خلاف ایک ننگی تلوار اور بلیک میلنگ کا ہتھیار بن جاتے ہیں ۔ چنانچہ یہ نیب ہی ہے جس نے مسلم لیگ نون سے مسلم لیگ ق نکالنے میں مدد دی تھی۔ یہ نیب میں بنائے گئے مقدمات کا خوف ہی ...

نیب اسحاق ڈار کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے تیار

جہانگیر صدیقی نیب کے نشانے پر: آزگرد کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دے دی وجود - جمعرات 26 مئی 2016

قومی احتساب بیورو نے بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے مختلف اداروں اور لوگوں کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے جس میں جہانگیر صدیقی کے ادارے آزگرد نائن لمیٹڈ میں اندرونی تجارت (ان سائیڈر ٹریڈنگ) کا معاملہ بھی شامل ہے۔ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس چیئرمین قمر زمان چودھری کی قیادت میں نیب ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہوا جس میں بدعنوانی کے کئی معاملات پر تحقیقات کے فیصلے کیے گئے جن میں آزگرد نائن لمیٹڈ کے حصص کی خریداری میں اندرونی تجارت اور نیشنل بینک کی جانب ...

جہانگیر صدیقی نیب کے نشانے پر: آزگرد کے خلاف نئی تحقیقات کی منظوری دے دی

پاکستان میں سرمایہ لوٹنے والا جہانگیر صدیقی لندن میں سرمایہ کاری کانفرنس کا میزبان بن گیا! وجود - پیر 23 مئی 2016

پاکستان میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس میں سرمایہ لوٹنے والا سرمائے کا محافظ بن جاتا ہوں۔ جہانگیر صدیقی پاکستان میں بدعنوانیوں کی ایک بدترین مثال ہے مگر وہ 23 اور 24 مئی کولندن میں ایک سرمایہ کاری کانفرنس کے میزبان بن گیے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس کانفرنس میں اُن کے شریک میزبانوں میں کراچی اسٹاک ایکسچینج کا نام بھی شامل ہے ۔ جس کے سرمایہ کاروں کے سرمائے کو منظم طور پر ڈبونے اور ہڑپنے کے لیے جہانگیر صدیقی نے 2006 سے 2008 تک ایک ایسا جال بچھ...

پاکستان میں سرمایہ لوٹنے والا جہانگیر صدیقی لندن میں سرمایہ کاری کانفرنس کا میزبان بن گیا!

پاناما لیکس نے جنگ کی صحافتی اخلاقیات کو بھی ننگا کردیا!علی صدیقی کا ذکر گول کردیا! وجود - منگل 10 مئی 2016

پاناما لیکس کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر جنگ گروپ او ر جیو نے اپنی متعصبانہ صحافت کی قے کی۔ ایک طرف جنگ نوازشریف خاندان پر پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے پید اہونے والے دباؤ کو کم کرنے کے لیے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے نام بار بار شائع کررہا تھا۔ تو دوسری طرف وہ کچھ نام پر اخفا کا پردہ بھی ڈال رہا تھا ۔ جن میں میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کے صاحبزادے علی صدیقی کا نام بھی شامل ہے۔ پاناما لیکس کی حالیہ جاری ہونے والی فہرست میں جو نیے نام سامنے آئے تھے، اُن...

پاناما لیکس نے  جنگ کی صحافتی اخلاقیات کو بھی ننگا کردیا!علی صدیقی کا ذکر گول کردیا!

مشتاق رئیسانی کی گرفتاری سے بلوچستان حکومت کا کھاتہ بھی کھل گیا! وجود - هفته 07 مئی 2016

نیب صوبہ سندھ کے بعد اب بلوچستان میں بھی پوری حرکت میں ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کے گھر میں ایک کارروائی کے دوران میں 73 کروڑ روپے سے زائد کی رقم برآمد کر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکریٹری خزانہ کے گھر سے ایک لوکر اور نوٹوں سے بھرے 14 بیگ تحویل میں لیے گئے ہیں جبکہ نوٹوں کے علاوہ گھر سے کروڑوں روپے مالیت کا سونا، پرائز بانڈ اور سیونگ سرٹیفیکٹ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔یہ بلوچستان میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ سندھ کے بعد اب ب...

مشتاق رئیسانی کی گرفتاری سے  بلوچستان حکومت کا کھاتہ بھی کھل گیا!

جہانگیر صدیقی نے قومی دولت پر اپنے گندے ہاتھ کیسے صاف کیے!تحقیقاتی ادارے جے ایس کی بدعنوانیوں پر خاموش! وجود - پیر 25 اپریل 2016

(گزشتہ روز وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نےتحریک انصاف کے جلسے سے قبل ایک عجیب وغریب منطق یہ اختیار کی کہ جن لوگوں پر ای او بی آئی میں خورد بُرد کے الزامات لگے وہ عمران خان کے جلسے کے اخراجات اُٹھاتے ہیں۔وزیراطلاعات یہ فراموش کر گیے کہ پاناما لیکس میں نوازشریف کے بچوں پر جو الزامات لگے ہیں اُس کی وضاحت سرکاری طور پر کیوں کی جارہی ہے؟ اور اس کے لیے عوامی پیسوں سے اشتہارات کیوں دیئے جارہے ہیں؟ وفاقی وزیراطلاعات یہ امر بھی فراموش کر گیے کہ خود اُن کی جماعت بھی اپنے اخراجات خود ن...

جہانگیر صدیقی نے قومی دولت پر اپنے گندے ہاتھ کیسے صاف کیے!تحقیقاتی ادارے جے ایس کی بدعنوانیوں پر خاموش!

نیب کو وزیراعظم کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے! لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر وجود - جمعرات 14 اپریل 2016

عدالت عالیہ لاہور نے پانامہ لیکس کے معاملے پر دائر درخواستوں کی روشنی میں وفاقی حکومت ، وزارت داخلہ، نیب اور شریف خاندان کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔ عدالت عالیہ لاہور میں تحریک انصاف کے رہنما گوہر نوازسندھو سمیت دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 2013 کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کے وقت نوازشریف نے اپنے بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات چھپائیں۔ اس طرح وزیر اعظم نوازشریف نے کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی سے کام لیا تھا۔اب پاناما لیکس کے انکشافات سے وزیر اعظ...

نیب کو وزیراعظم کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے! لاہور ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر

شاہد حیات کی چھٹیاں یا چھٹی؟ باسط علی - جمعرات 14 اپریل 2016

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات عمران شیخ کے دبئی فرار کے بعد بآلاخر چھٹیوں پر چلے گیے۔ پاکستان کے سب سے کثیر الاشاعت اخبار کے ذریعے اپنی "جعلی"ایمانداری کا تاثر مستحکم رکھ کر بے ایمان لکھنے والوں سے اپنی "ایمانداری" کی سند پانے والے شاہد حیات اپنے کیرئیر کے عروج میں مکمل بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اور یہ کام کسی اور نے نہیں اُن کے سب سے قریبی دوست اور اُن کی تمام دن کی روشنیوں اور رات کی تاریکیوں کی سرگرمیوں کے رازداں عمران شیخ نے سرانجام دیا۔ عمران شیخ کے پاس سے ایک 14...

شاہد حیات کی چھٹیاں یا چھٹی؟

عمران شیخ رہائی کے بعد دبئی فرار! قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ مجروح محمد احمد - هفته 09 اپریل 2016

دوسو بلین سے زائد کی بدعنوانیوں میں دھنسے جہانگیر صدیقی کے رازداں عمران شیخ اپنی پراسرار رہائی کے بعد گزشتہ دنوں اچانک دبئی فرار ہو گیے۔ عمران شیخ جنگ او رجیو گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کے سمدھی جہانگیر صدیقی کے تمام کرتوتوں سے آگاہ تھے۔ جہانگیر صدیقی کے سرکاری مسائل کو حل کرنے اور اُن کے مختلف فراڈز کو سرکاری اداروں میں چھان بین سے روکنے کے کاموں پر مامور عمران شیخ سندھ پولیس ، ایف آئی اے اور نیب میں خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ اپنے تعلقات پر نازاں اور سرکاری اداروں کو جہا...

عمران شیخ رہائی کے بعد دبئی فرار! قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ مجروح