وجود

... loading ...

وجود

سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیوجعلی نکلی! سات برس بعد مقدمہ ختم کر دیاگیا! جعلسازی کا محاسبہ کو ن کرے گا؟

جمعرات 14 جنوری 2016 سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیوجعلی نکلی! سات برس بعد مقدمہ ختم کر دیاگیا! جعلسازی کا محاسبہ کو ن کرے گا؟

سوات میں سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو بالا خر جعلی ثابت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے سوات میں چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے پر لئے گیے ازخود نوٹس کو نمٹا دیا ہے۔ سوات میں چاند بی بی نامی ایک سترہ
سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی یہ جعلی ویڈیو 3 اپریل 2009 ء کو منظر عام پر آئی تھی۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ایک این جی اوسے تعلق رکھنے والی خاتون ثمر من اللہ نے اس کا چرچا کرنا شروع کردیا تھا۔

https://www.youtube.com/watch?v=Crfs8YsZPGE

ویڈیو میں کیا تھا؟

چاند بی بی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو موبائل فون سے بنائی گئی تھی۔ جس کا دورانیہ دو منٹ تھا۔ ویڈیو میں سرخ جوڑے میں ملبوس ایک جواں سال لڑکی کو دکھایا گیا تھا جسے زمین پر الٹا لِٹاکر کوڑے مارے گیے تھے۔ ویڈیو میں اس بات کا التزام کیا گیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے والے لوگ شکل وصورت سے طالبان کے حُلیے کے محسوس ہوں۔ چنانچہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کو پشت پر کوڑے برساتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔جبکہ ایک دوسرے شخص نے لڑکی کے پیروں کو پکڑا ہوا تھا اور تیسرے شخص نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو براہِ راست دیکھ رہے تھے۔ سزا دینے والے افرادپشتو زبان میں بات کررہے تھے۔ اور لڑکی بھی چیختی چلاتی پشتو میں فریاد کر رہی تھی ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ “میرے باپ کی توبہ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی۔”ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ پندرہ سے زائد کوڑے مارنے کے بعد لڑکی کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور لڑکی فوراًبعد شٹل کاک برقعہ میں ملبوس نظر آتی ہے۔ اُسی وقت وہاں موجود بڑی داڑھی والا ایک شخص اس لڑکی کو قریب واقع ایک کمرے میں لے جاتا ہے۔

ویڈیو کے پیچھے کون تھا؟

مذکورہ جعلی ویڈیو کو سامنے لانے والی ایک خاتون ثمر من اللہ تھی جو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک این جی او سے تعلق رکھتی تھی۔ ثمر من اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جن افراد نے لڑکی کو پکڑا ہے ان میں خود اس کا اپنا بھائی بھی شامل ہے۔ثمر من اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے میں مرکزی کردار لڑکی کے پڑوسی نے ادا کیا ہے۔وہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ٹیلی ویژن پر منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے چیخ وپکار کرنے میں سب سے نمایاں تھیں۔ اُن کے بعدطاہرہ عبداللہ نامی ایک خاتون نے بھی اس معاملے پر آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون طاہرہ عبد اللہ نے اُس موقع پر یہ کہا تھا کہ طالبان کا یہ عمل غیر انسانی ہے، ہمیں مشترکہ طور پر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ویڈیو جعلی تھی، پہلے دن سے ہی سب کو پتہ تھا!

عدالت عظمیٰ نے اب سات برس بعد فیصلہ سنا یا ہےکہ سوات میں 2009 میں 17سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو جعلی ثابت ہوئی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے 17 سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جس میں جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گلہ بان بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی تھی، جعلی ویڈیو کو میڈیا پر ریلیز کیا گیا۔یہی کچھ حکومتی وکیل نایاب گردیزی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ویڈیو جعلی نکلی تھی، چاند بی بی اور اس کے خاوند نے بیان دیا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ مگر یہ حقیقت اول روز سے ہی عیاں تھی۔پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں اس معاملے کو فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے۔ اس دوران پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکاہے۔

ویڈیو کے جعلی ہونے کا ثبوت ویڈیو کا تکنیکی جائزہ تھا۔ جو ماہرین نے اُسی وقت پیش کر دیا تھا۔ مگر تب کسی نے اس پر دھیان تک نہیں دیا۔ خود ویڈیو میں کوڑے کھانے والی لڑکی کے متعلق کبھی یہ درست طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ اُسے کوڑے کیوں مارے گیے۔ اس کی وجوہات پر الگ الگ دعوے ہوتے رہے۔ اور جس لڑکی کوکوڑے مارے گیے ، وہ لڑکی کون تھی ؟ اس پر بھی الگ الگ لڑکیا ں سامنے آتی رہیں۔ ابتدا میں کہا گیا کہ جس لڑکی کو ڑے مارے گیے، وہ چاند بی بی تھی۔اور وہ کنواری تھی۔ پھر بتایا گیا کہ نہیں وہ شادی شدہ ہیں۔ اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ منظر عام پر بھی آئیں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد ایک اور خاتون سائرہ بی بی منظر عام پر آئیں، جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی لڑکی چاند بی بی نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اور وہ کنواری نہیں بلکہ اُس کے دوبچے بھی تھے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے چاند بی بی کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی ہو چکا تھا کہ وہ کنواری ہے اور اُسے شادی سے انکار پر کوڑے مارے گیے تھے۔ دو بچوں کی ماں سائرہ بی بی نے چار باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس میں فضل ہادی نامی ایک شخص کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس کردار کا ذکر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ الغرض مذکورہ ویڈیو کےپہلے دن سے ہی جعلی ہونے کی حقیقت سب کے علم میں تھی۔اُس وقت کے کمشنر مالاکنڈ سید محمد جاوید نے ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عملے کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا تھا۔ تاکہ ویڈیوکے متعلق اصل حقائق کا سراغ لگایا جا سکے۔ تب کمشنر مالاکنڈ نے تحقیقات کے بعد ہی اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔اس طرح کا کوئی حقیقی واقعہ سرے سے سوات میں پیش ہی نہیں آیا تھا۔جعلی ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے پندرہ روز بعد تب کے وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے بھی یہی کہا تھا کہ سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔ طالبان سوات کے اُس وقت کے ترجمان مسلم خان نے اُس ویڈیو کو تب ہی ایک سے زیادہ مرتبہ جعلی کہا تھا۔ اُنہوں نے اپنے ردِ عمل میں اس کے دو مقاصد بیان کئے تھے۔ مغرب زدہ این جی اوز ویڈیو کے ذریعے اسلام کو بدنام کر رہی ہیں۔ اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے دونوں باتیں درست ثابت ہوئیں۔ مگر اس معاملے نے اس سے بھی بڑا ایک نقصان کیا تھا۔جس کا اندازہ پاکستان کے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقے تب لگا نہیں سکے تھے۔

نقصان کیا ہوا؟

طالبان نے تب طے کر لیا تھا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ اُن کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈے میں فریق ہیں۔ اور اُنہیں دونوں طرف کے موقف سننے کے بعد سچائی کو سامنے لانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کے اندر جاری مختلف معاملات میں اپنی پوزیشن کی وضاحت تک کرنے کے عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کو اُن قوتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا جو اِسے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی مرضی کا رخ دینا چاہتی تھیں۔ جس طرح کے ویڈیو کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس نقصان نے پاکستان کے عوام کو پروپیگنڈے کی یلغار میں کسی دوسرے متبادل نقطہ نظر کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے خود طالبان کی صفوں میں بھی ایک نہایت منفی ردِ عمل پیدا کردیا اور وہاں ایسے لوگ جگہہ بنانے میں رفتہ رفتہ کامیاب ہوتے چلے گیے جو ریاست پاکستان پر اپنا اعتماد کھو چکے تھے۔ اور جنگ میں ہر چیز کوجائز سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے پھر موقع ملتے ہی نئی نئی قیامتیں بھی ڈھائیں ۔

دوسری طرف اس کا نقصان یہ ہوا کہ جعلی ویڈیو کے بنائے گیے مصنوعی تاثر میں حکومت اور طالبان میں ہونے والا امن معاہدہ ختم ہو گیا۔ اور فوج نے سوات میں “آپریشن راہ راست”شروع کیا۔ جس کے بعد سوات میں کئی لاکھ لوگ بے گھر ہوگیے۔ اور اُن میں مملکت کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوگیے۔ یہ لوگ اور اُن کے بچے بعد میں طالبان کے لئے سب سے نرم چارہ ثابت ہوئے اور اگلے برسوں میں بھڑکائی گئی ہر آگ کا ایندھن یہی لوگ بنے۔ پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں اضافہ بھی اس آپریشن کے بعد ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں سال کے سب سے زیادہ خود کش حملے 2009ء میں ہی ہوئے۔ جن کی تعداد 76 تھی۔ عالمی سطح پر اس جعلی ویڈیو کو ذرائع ابلاغ نے زبردست پزیرائی دی اور اِسے پاکستان کی چھوی (امیج) کو بگاڑنے کے لئے بُری طرح استعمال کیا۔

ریاست کیسے حرکت میں آتی ہے؟

سوات کی اس ویڈیو نےیہ ثابت کردیا تھا کہ ریاستی دانش معاملات کے ادراک میں تہی دامن ہے ۔ اور کچھ مغرب نواز این جی اوز اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے خود ریاست کو بھی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پروپیگنڈے کے گردوغبار میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ رحمن ملک نے ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے سب سے انوکھی دلیل یہ دی کہ اب تک کوئی ایسا شخص اُن کے سامنے نہیں آیا جو یہ کہہ سکے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس لئے ویڈیو اصلی ہے۔ اُنہوں نے کمشنر مالا کنڈ کی تردیداور ماہرین کی طرف سے ویڈیو کے تکنیکی جائزے کو مکمل نظر انداز کردیا۔سب سے زیادہ طوفان اُس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے اُٹھایا ۔ اور مذکورہ ویڈیو کے سامنے آنے کے صرف تین روز بعد 6 اپریل 2009ء کو اس کا ازخود نوٹس لے لیا۔ یہی وہ نوٹس تھا جسے فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے ۔ اس دوران پروپیگنڈے کے جتنے بھی مقاصد حاصل کیے جانے تھے، سب حاصل کئے جا چکے ہیں۔ اور یہ معاشرہ بُری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔
آخری سوال

اب اس ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کے بعد اس کو اصلی ثابت کرنے والے اصل جعلسازوں کو کو ن سزا دے گا؟ اس کے پیچھے مقاصد کو کون افشا کرے گا؟اس سے پیدا ہونے والی نفرت کا ازالہ کب ہوگا؟ سوات آپریشن ، لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی، مملکت میں پیدا ہونے والی تقسیم کی گہری لکیریں، ریاست کی پروپیگنڈے کے ذریعے یرغمالی اور عدلیہ میں فیصلے کی تاخیر سے پہنچنے والے مسلسل نقصانات کی ذمہ داری کون لے گا؟


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر