وجود

... loading ...

وجود

سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیوجعلی نکلی! سات برس بعد مقدمہ ختم کر دیاگیا! جعلسازی کا محاسبہ کو ن کرے گا؟

جمعرات 14 جنوری 2016 سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیوجعلی نکلی! سات برس بعد مقدمہ ختم کر دیاگیا! جعلسازی کا محاسبہ کو ن کرے گا؟

سوات میں سترہ سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو بالا خر جعلی ثابت ہوئی۔ عدالت عظمیٰ نے سوات میں چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے پر لئے گیے ازخود نوٹس کو نمٹا دیا ہے۔ سوات میں چاند بی بی نامی ایک سترہ
سالہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی یہ جعلی ویڈیو 3 اپریل 2009 ء کو منظر عام پر آئی تھی۔ واضح رہے کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی ایک این جی اوسے تعلق رکھنے والی خاتون ثمر من اللہ نے اس کا چرچا کرنا شروع کردیا تھا۔

https://www.youtube.com/watch?v=Crfs8YsZPGE

ویڈیو میں کیا تھا؟

چاند بی بی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو موبائل فون سے بنائی گئی تھی۔ جس کا دورانیہ دو منٹ تھا۔ ویڈیو میں سرخ جوڑے میں ملبوس ایک جواں سال لڑکی کو دکھایا گیا تھا جسے زمین پر الٹا لِٹاکر کوڑے مارے گیے تھے۔ ویڈیو میں اس بات کا التزام کیا گیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے والے لوگ شکل وصورت سے طالبان کے حُلیے کے محسوس ہوں۔ چنانچہ طالبان کے حُلیے میں ایک شخص لڑکی کو پشت پر کوڑے برساتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔جبکہ ایک دوسرے شخص نے لڑکی کے پیروں کو پکڑا ہوا تھا اور تیسرے شخص نے جسم کے اوپر کے حصے کو دبوچا ہوا ہے۔ اس موقع پر درجنوں افراد دائرے میں کھڑے اس منظر کو براہِ راست دیکھ رہے تھے۔ سزا دینے والے افرادپشتو زبان میں بات کررہے تھے۔ اور لڑکی بھی چیختی چلاتی پشتو میں فریاد کر رہی تھی ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ “میرے باپ کی توبہ، میرے دادا کی توبہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی۔”ویڈیو میں صاف نظر آتا ہے کہ پندرہ سے زائد کوڑے مارنے کے بعد لڑکی کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور لڑکی فوراًبعد شٹل کاک برقعہ میں ملبوس نظر آتی ہے۔ اُسی وقت وہاں موجود بڑی داڑھی والا ایک شخص اس لڑکی کو قریب واقع ایک کمرے میں لے جاتا ہے۔

ویڈیو کے پیچھے کون تھا؟

مذکورہ جعلی ویڈیو کو سامنے لانے والی ایک خاتون ثمر من اللہ تھی جو خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک این جی او سے تعلق رکھتی تھی۔ ثمر من اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ جن افراد نے لڑکی کو پکڑا ہے ان میں خود اس کا اپنا بھائی بھی شامل ہے۔ثمر من اللہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس معاملے میں مرکزی کردار لڑکی کے پڑوسی نے ادا کیا ہے۔وہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ٹیلی ویژن پر منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے چیخ وپکار کرنے میں سب سے نمایاں تھیں۔ اُن کے بعدطاہرہ عبداللہ نامی ایک خاتون نے بھی اس معاملے پر آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون طاہرہ عبد اللہ نے اُس موقع پر یہ کہا تھا کہ طالبان کا یہ عمل غیر انسانی ہے، ہمیں مشترکہ طور پر ان کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ویڈیو جعلی تھی، پہلے دن سے ہی سب کو پتہ تھا!

عدالت عظمیٰ نے اب سات برس بعد فیصلہ سنا یا ہےکہ سوات میں 2009 میں 17سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق ویڈیو جعلی ثابت ہوئی ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے 17 سالہ لڑکی چاند بی بی کو کوڑے مارنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جس میں جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گلہ بان بچی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی تھی، جعلی ویڈیو کو میڈیا پر ریلیز کیا گیا۔یہی کچھ حکومتی وکیل نایاب گردیزی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ویڈیو جعلی نکلی تھی، چاند بی بی اور اس کے خاوند نے بیان دیا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ مگر یہ حقیقت اول روز سے ہی عیاں تھی۔پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں اس معاملے کو فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے۔ اس دوران پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکاہے۔

ویڈیو کے جعلی ہونے کا ثبوت ویڈیو کا تکنیکی جائزہ تھا۔ جو ماہرین نے اُسی وقت پیش کر دیا تھا۔ مگر تب کسی نے اس پر دھیان تک نہیں دیا۔ خود ویڈیو میں کوڑے کھانے والی لڑکی کے متعلق کبھی یہ درست طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ اُسے کوڑے کیوں مارے گیے۔ اس کی وجوہات پر الگ الگ دعوے ہوتے رہے۔ اور جس لڑکی کوکوڑے مارے گیے ، وہ لڑکی کون تھی ؟ اس پر بھی الگ الگ لڑکیا ں سامنے آتی رہیں۔ ابتدا میں کہا گیا کہ جس لڑکی کو ڑے مارے گیے، وہ چاند بی بی تھی۔اور وہ کنواری تھی۔ پھر بتایا گیا کہ نہیں وہ شادی شدہ ہیں۔ اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ منظر عام پر بھی آئیں۔ اس واقعہ کے ڈیڑھ سال بعد ایک اور خاتون سائرہ بی بی منظر عام پر آئیں، جس نے یہ دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی لڑکی چاند بی بی نہیں بلکہ وہ خود ہے۔ اور وہ کنواری نہیں بلکہ اُس کے دوبچے بھی تھے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے چاند بی بی کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی ہو چکا تھا کہ وہ کنواری ہے اور اُسے شادی سے انکار پر کوڑے مارے گیے تھے۔ دو بچوں کی ماں سائرہ بی بی نے چار باغ میں ایک مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس میں فضل ہادی نامی ایک شخص کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس کردار کا ذکر اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ الغرض مذکورہ ویڈیو کےپہلے دن سے ہی جعلی ہونے کی حقیقت سب کے علم میں تھی۔اُس وقت کے کمشنر مالاکنڈ سید محمد جاوید نے ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عملے کے ساتھ علاقے کا دورہ کیا تھا۔ تاکہ ویڈیوکے متعلق اصل حقائق کا سراغ لگایا جا سکے۔ تب کمشنر مالاکنڈ نے تحقیقات کے بعد ہی اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ اعلان کیا تھا کہ لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔اس طرح کا کوئی حقیقی واقعہ سرے سے سوات میں پیش ہی نہیں آیا تھا۔جعلی ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے پندرہ روز بعد تب کے وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے بھی یہی کہا تھا کہ سوات میں لڑکی کو کوڑے مارنے کی ویڈیو جعلی ہے۔ طالبان سوات کے اُس وقت کے ترجمان مسلم خان نے اُس ویڈیو کو تب ہی ایک سے زیادہ مرتبہ جعلی کہا تھا۔ اُنہوں نے اپنے ردِ عمل میں اس کے دو مقاصد بیان کئے تھے۔ مغرب زدہ این جی اوز ویڈیو کے ذریعے اسلام کو بدنام کر رہی ہیں۔ اور طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے دونوں باتیں درست ثابت ہوئیں۔ مگر اس معاملے نے اس سے بھی بڑا ایک نقصان کیا تھا۔جس کا اندازہ پاکستان کے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقے تب لگا نہیں سکے تھے۔

نقصان کیا ہوا؟

طالبان نے تب طے کر لیا تھا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ اُن کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈے میں فریق ہیں۔ اور اُنہیں دونوں طرف کے موقف سننے کے بعد سچائی کو سامنے لانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے رفتہ رفتہ پاکستان کے اندر جاری مختلف معاملات میں اپنی پوزیشن کی وضاحت تک کرنے کے عمل میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کو اُن قوتوں کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا جو اِسے پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی مرضی کا رخ دینا چاہتی تھیں۔ جس طرح کے ویڈیو کے ذریعے کیا گیا تھا۔ اس نقصان نے پاکستان کے عوام کو پروپیگنڈے کی یلغار میں کسی دوسرے متبادل نقطہ نظر کے قابل ہی نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے خود طالبان کی صفوں میں بھی ایک نہایت منفی ردِ عمل پیدا کردیا اور وہاں ایسے لوگ جگہہ بنانے میں رفتہ رفتہ کامیاب ہوتے چلے گیے جو ریاست پاکستان پر اپنا اعتماد کھو چکے تھے۔ اور جنگ میں ہر چیز کوجائز سمجھتے تھے۔ اُنہوں نے پھر موقع ملتے ہی نئی نئی قیامتیں بھی ڈھائیں ۔

دوسری طرف اس کا نقصان یہ ہوا کہ جعلی ویڈیو کے بنائے گیے مصنوعی تاثر میں حکومت اور طالبان میں ہونے والا امن معاہدہ ختم ہو گیا۔ اور فوج نے سوات میں “آپریشن راہ راست”شروع کیا۔ جس کے بعد سوات میں کئی لاکھ لوگ بے گھر ہوگیے۔ اور اُن میں مملکت کے خلاف منفی جذبات پیدا ہوگیے۔ یہ لوگ اور اُن کے بچے بعد میں طالبان کے لئے سب سے نرم چارہ ثابت ہوئے اور اگلے برسوں میں بھڑکائی گئی ہر آگ کا ایندھن یہی لوگ بنے۔ پاکستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں اضافہ بھی اس آپریشن کے بعد ہوا۔ پاکستان کی تاریخ میں سال کے سب سے زیادہ خود کش حملے 2009ء میں ہی ہوئے۔ جن کی تعداد 76 تھی۔ عالمی سطح پر اس جعلی ویڈیو کو ذرائع ابلاغ نے زبردست پزیرائی دی اور اِسے پاکستان کی چھوی (امیج) کو بگاڑنے کے لئے بُری طرح استعمال کیا۔

ریاست کیسے حرکت میں آتی ہے؟

سوات کی اس ویڈیو نےیہ ثابت کردیا تھا کہ ریاستی دانش معاملات کے ادراک میں تہی دامن ہے ۔ اور کچھ مغرب نواز این جی اوز اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے خود ریاست کو بھی گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پروپیگنڈے کے گردوغبار میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ۔ رحمن ملک نے ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے سب سے انوکھی دلیل یہ دی کہ اب تک کوئی ایسا شخص اُن کے سامنے نہیں آیا جو یہ کہہ سکے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔ اس لئے ویڈیو اصلی ہے۔ اُنہوں نے کمشنر مالا کنڈ کی تردیداور ماہرین کی طرف سے ویڈیو کے تکنیکی جائزے کو مکمل نظر انداز کردیا۔سب سے زیادہ طوفان اُس وقت کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے اُٹھایا ۔ اور مذکورہ ویڈیو کے سامنے آنے کے صرف تین روز بعد 6 اپریل 2009ء کو اس کا ازخود نوٹس لے لیا۔ یہی وہ نوٹس تھا جسے فیصل ہونے میں سات برس لگ گیے ۔ اس دوران پروپیگنڈے کے جتنے بھی مقاصد حاصل کیے جانے تھے، سب حاصل کئے جا چکے ہیں۔ اور یہ معاشرہ بُری طرح تقسیم ہو چکا ہے۔
آخری سوال

اب اس ویڈیو کے جعلی ثابت ہونے کے بعد اس کو اصلی ثابت کرنے والے اصل جعلسازوں کو کو ن سزا دے گا؟ اس کے پیچھے مقاصد کو کون افشا کرے گا؟اس سے پیدا ہونے والی نفرت کا ازالہ کب ہوگا؟ سوات آپریشن ، لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی، مملکت میں پیدا ہونے والی تقسیم کی گہری لکیریں، ریاست کی پروپیگنڈے کے ذریعے یرغمالی اور عدلیہ میں فیصلے کی تاخیر سے پہنچنے والے مسلسل نقصانات کی ذمہ داری کون لے گا؟


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر