وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

پولیس گردی کے سڑکوں پر کھلے عام مظاہرے

پیر 11 جنوری 2016 پولیس گردی کے سڑکوں پر کھلے عام مظاہرے

police-gardi

کراچی کے معروف علاقے پی آئی ڈی سی کے قریب شہری سے معمولی تکرار پر ٹریفک پولیس کے اہلکار نے اُس کی ہیلمیٹ اور لاتوں سے پٹائی کردی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک اہلکار کے پیٹی بند بھائی بھی آگے بڑھے اور یہ جانے بغیر کہ کس کا قصور ہے اور کس کا نہیں؟ اُنہوں نے اپنے پیٹی بند بھائی کی مدد میں شہری کی اکٹھے مل کر پٹائی شروع کردی ۔۔۔۔موقع پر موجود عام لوگ اس کھلی پولیس گردی کا صرف نظارہ کرتے رہے!!!!!

Traffic cops ka shehri per tashadud

Police ki dada giri urooj per. #TrafficPolice #Karachi #PIDC #Rangers

Posted by Samaa TV on Monday, January 11, 2016


متعلقہ خبریں


سندھ حکومت کے ناجائز احکامات نہ ماننے کی پاداش میں گرفتار کئے گئے تفتیشی افسر کا معاملہ دبانے کی کوشش شہزاد احمد - منگل 13 ستمبر 2016

ڈاکٹر عاصم کیس میں حکومت سندھ اور حکمراں جماعت کے نا جائز احکامات نہ ماننے والے تفتیشی افسر کو گرفتار کرنے کے معاملے میں اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ سندھ کے انسپکٹر کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے معطل کردیا گیا ہے‘ ڈاکٹر عاصم کے دہشت گردوں کی معاونت اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے مقدمے میں سندھ حکومت کی ڈاکٹر عاصم کو ریلیف دینے کے احکامات نہ ماننے والے کراچی پولیس کے تفتیشی افسر انسپکٹر راؤ ذوالفقار کو 6 نومبر کو ان کی سرکاری رہائش واقع شاہراہ فیصل تھانے کے احاطے سے اینٹی کر...

سندھ حکومت کے ناجائز احکامات نہ ماننے کی پاداش میں گرفتار کئے گئے تفتیشی افسر کا معاملہ دبانے کی کوشش

قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے، کرپٹ ایس ایس پی کی چیرہ دستیاں وجود - پیر 12 ستمبر 2016

قانون کے محافظ اور رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے کرپٹ افسر کی چیرہ دستیاں بے نقاب ہوگئیں۔ ایس ایس پی (سی ٹی ڈی) کیپٹن (ر) محمد اسد علی نے دو افراد کو اٹھا لیا، رہائی کے عوض 30 لاکھ روپے رشوت لینے کے باوجود نہیں چھوڑا اور مزید رقم کا تقاضا کرتا رہا۔ مزید پیسے نہ ملنے پر زیرتحویل شخص کو تشدد کا نشانا بھی بنایا۔ محکمہ جاتی انکوائری میں مذکورہ ایس ایس پی کی قانون شکنی اور بدعنوانی ثابت ہوگئی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ تفص...

قانون کے رکھوالے ہی قانون شکن بن گئے، کرپٹ ایس ایس پی کی چیرہ دستیاں

سندھ پولیس میں کرپشن کی نشاندہی افسران کو مہنگی پڑگئی شہزاد احمد - جمعه 09 ستمبر 2016

کرپشن کے عوض پولیس میں بھرتیاں کرنے والے سندھ پولیس کے 12 ایس ایس پیز کے خلاف کارروائی کی سفارش سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اے ڈی خواجہ اور دوسرے سینئر افسر ثناء اللہ عباسی کو بھاری پڑ گئی ۔ سندھ پولیس کے باخبر ذرائع کے مطابق چند روز قبل اے آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ثناء اللہ عباسی کی ایک رپورٹ کو‘ جس میں سندھ پولیس کے 12 پولیس افسران کے حوالے سے رشوت کے عوض پولیس میں کانسٹیبل کی اسامیوں پر سینکڑوں بھرتیاں کرنے کا بتایا گیا تھا‘ بنیاد بنا کر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سندھ ...

سندھ پولیس میں کرپشن کی نشاندہی افسران کو مہنگی پڑگئی

قانون کے محافظ عوام کے لٹیرے بن گئے وجود - هفته 20 اگست 2016

شہر کراچی میں پولیس کے ہاتھوں روز کسی نہ کسی شکل میں لٹنے والے شہریوں کے لیے یہ خبر ایک بجلی بن کر گری ہے کہ اب پولیس نے انفرادی وارداتوں کے ساتھ منظم طور پر اجتماعی طور پر ڈکیتیاں بھی ڈالنا شروع کردی ہے۔ یہ تازہ ترین انکشاف ایک کار شوروم کے مالک کے گھر ہونے والی ڈکیتی کی واردات کھلنے کے بعد ہوا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے بنارس میں اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں پولیس کی چارگاڑیوں میں بیس اہلکاروں نے یکم اگست کو کار شوروم کے مالک شاہ نسیم کے گھر پر چھاپہ مارا، پولیس ...

قانون کے محافظ عوام کے لٹیرے بن گئے

انٹرنیشنل شہرکی پولیس۔۔۔۔! الیاس شاکر - بدھ 01 جون 2016

’’سندھ پولیس‘‘ میں ہزاروں ڈاکوؤں اور کرمنلز کو بھرتی کیا گیا ہے۔ یہ بات بند کمرے میں نہیں بلکہ حیدرآباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کے دوران پیر پگارا نے کہی۔ سندھ پولیس اپنی بعض اچھی خوبیوں کے باوجود ہمیشہ تنقید اور ’’عدمِ احترام‘‘ کا شکار رہتی آئی ہے۔ سندھ پولیس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی جمہوری ملک کے’’انٹرنیشنل‘‘ شہر کراچی کو کنٹرول کرنے والی پولیس نہیں لگتی۔ لندن پولیس کے لئے یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی یہ خوبی ہے کہ اسے دیکھ کر عوام کو ڈر نہیں لگتا۔ لندن کے تمام سیاحتی ...

انٹرنیشنل شہرکی پولیس۔۔۔۔!

ایف۔ آئی۔ آر محمد اقبال دیوان - هفته 12 مارچ 2016

جوہر آباد تھانے کی وہ ایف آئی آر جو اے ایس آئی منیر نسیم نے درج کی تھی اپنی زبان کی چاشنی، اٹھکیلیوں اور اختصار کی بنیاد پر مرزا ہادی رسوا کے شہرہ آفاق ناول ’’ امراؤ جان ادا ‘‘کا ایک کم معروف پیراگراف لگتی تھی۔ کراچی کا جوہر آباد تھانہ 1988 میں علاقے میں اپنی دھاک رکھتا تھا۔ یہاں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی رہائش گاہ تھی۔ کارکنان بے رحم غیر مہاجر پولیس کے خوف اور احتیاط کے مارے اس مرکز تجلیات کے لیے گفتگو میں نائن زیرو کا کوڈ استعمال کرتے تھے۔ دراصل یہ وہاں زیر...

ایف۔ آئی۔ آر

آئی جی سندھ پر فردِ جرم : قانون، انصاف کے کٹہرے میں باسط علی - بدھ 25 نومبر 2015

کراچی میں بھتے ، جرائم اور قتل وغارت گری کا معاملہ محض سیاسی نہیں ۔ اس کی جڑیں خود قانون کے اندر گہری اُتری ہوئی ہیں۔ حکومتیں کس طرح نفاذِ قانون کے ذمہ داروں سے خود غیر قانونی کام لیتی آئی ہیں ، اور پھر اس کا فائدہ خود یہی نفاذِ قانون کے ذمہ داران کس طرح اُٹھاتے ہیں؟ اس کی ایک جھلک آئی جی سندھ کے معاملے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ جو بظاہر ایک توہین عدالت کے مقدمہ سے متعلق معاملہ لگتا ہے ۔ مگر یہ اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر خطرناک بن جاتا ہے جب اِسے گہرائی میں جا کر دیکھا جائے۔ بظ...

آئی جی سندھ پر فردِ جرم : قانون، انصاف کے کٹہرے میں

پولیس رینجرز تنازع :اشتہار کے جھگڑے نے تنازع کو بھی اشتہاری کر دیا ابو محمد نعیم - جمعه 09 اکتوبر 2015

وزیر اعلی سندھ مسلسل فرما رہے ہیں کہ کوئی ہے جو رینجرز اور سندھ پولیس کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس کی تحقیقات کی جائے گی۔دونوں فورسز ہی صوبے اور خاص طور پر کراچی میں امن وامان کے قیام میں اہم کردارادا کررہی ہیں۔ادھرسندھ رینجرزکےترجمان نے پولیس کی جانب سےاخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات کو کراچی میں امن کے خلاف سازش قرار دیاہے۔رینجرزکے بیان کو آسان کیاجائے تومطلب یہ بنتاہے کہ کراچی پولیس نے رینجرز اہلکاروں کے خلاف اشتہار شائع کراکے درحقیقت شہر کا امن خراب کرنے ...

پولیس رینجرز تنازع :اشتہار کے جھگڑے نے تنازع کو بھی اشتہاری کر دیا