وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

جمعرات 07 جنوری 2016 عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

عقیل کریم ڈھیڈی ملک کی معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ اُن کی کمپنی اے کے ڈی سیکورٹیز، اسٹاک مارکیٹ کے چند بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ وفاقی ادارے ایف آئی اے نے ۴؍جنوری بروز پیر اے کے ڈی سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسر سمیت تین ملازمین کو اچانک دھر لیا۔جسے حسب توقع جنگ گروپ نے اپنی اشاعتوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیاہے۔ ایگزیکٹ کے اسکینڈل کے بعد جنگ گروپ نے جس معاملے میں سب سے زیادہ دلچسپی اب تک دکھائی ہے وہ عقیل کریم ڈھیڈی کے مختلف معاملات سے متعلق ہے۔ مگر اس معاملے کے سیاق وسباق پر دھیان رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ یہ اندازا ہو سکے کہ اس کھیل کے پس پشت کون کون سے کردار متحرک ہیں؟ اور یہ معاملہ اصلاً کیا ہے؟

اصل مقدمہ کیا ہے؟

AKD

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے کے مقدمے کو سمجھنے کے لئے کسی اور کو نہیں خود جنگ گروپ کی اشاعت کو ہی بنیاد بناتے ہیں۔ جنگ نے اپنی اشاعت میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی آر کی تفصیلات شائع کی ہیں ۔ جس کے مطابق ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی)کے شیئرز کی خریداری کے معاملے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے مجرمانہ کردار(ایف آئی اے خود ہی عدالت بن گئی اور تعین کر دیا کہ اے کے ڈی کا کردار مجرمانہ ہے)سے قومی خزانے کو 29کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ۔ اس کی تفصیلات ایف آئی اے کی ایف آئی آر میں کچھ یوں درج ہے کہ میسرز ایمٹیکس کے مجموعی طور پر 17350000 حصص ای او بی آئی نے 337659914 روپے میں خریدے۔ایف آئی آر کے مطابق حصص کی یہ خریداری ای او بی آئی انوسٹمنٹ کمیٹی کی سفارش ومنظوری سے کی گئی۔ یہ کمیٹی ڈائریکٹر جنرل انوسٹمنٹ کنور خورشید وحید اور اس وقت کے چیئرمین ای او بی آئی ظفر اقبال گوندل پر مشتمل تھی۔ ان حصص کی مالیت 73.2 روپے فی حصص ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس عمل سے قومی خزانے اور ای او بی آئی کو 29 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

کیا اب تک جن جن اداروں کی ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پرجن جن کمپنیوں کا سرمایہ ڈوبا ہے ایف آئی اے اس پر اسی طرح کی کارروائی کرے گی؟

ایف آئی اے کی لمبی چوڑی ایف آئی آر میں ایمکیپ اور ایمٹیکس لمیٹڈ کی ملی بھگت کا ذکر ہے جس کے مالکان باپ بیٹے بتائے گئے ہیں۔ اس لمبی چوڑی تفصیلات کا عملاً اے کے ڈی سیکورٹیز سے کوئی تعلق نہیں۔ اُنہیں ایک جرم کے سہولت کنندہ کے طور پر اس طرح مقدمے میں ماخوذ کیا گیا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز نے اپنی ایک ریسرچ رپورٹ میں ای پی ایس 10.7روپے اور 93.9روپے برائے سال2010ء اور 2011ء کے لئے پیشگوئی کی تھی۔ لیکن درحقیقیت میسر زایمٹیکس کو بھاری خسارہ ہوا۔ اور 2011ء میں ای پی ایس کم ہو کر منفی 17.7 روپے اور 2012ء میں4.10روپے ہو گئی۔
اب صرف ایف آئی آر کو بنیاد بنایا جائے تو اے کے ڈی وہ کمپنی ہے جس کی ریسرچ رپورٹ کو اس کا ذمہ دار سمجھا گیا ہے کہ اُس کے باعث ای او بی آئی کو نقصان پہنچا۔ ایف آئی اے کے سندھ کے ڈائریکٹر اور اپنے تئیں خود کو’’ ایماندار‘‘باور کرانے والے شاہد حیات نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اے کے ڈی سیکورٹیز کو اس معاملے میں سہولت کنندہ سمجھتے ہیں اور اُن کا یہ جُرم مرکزی مجرموں جیسا ہے۔ حیرت انگیز طور پر شاہد حیات سے پروگرام کے ذہین اینکر ندیم ملک نے یہ نہیں پوچھا کہ ایسا وہ صرف اسی مقدمے میں سمجھتے ہیں یا پھر وہ ہر ایف آئی آر میں سہولت کنندہ کو مرکزی ملز م کے طو رپر لیتے ہیں ۔ اب ذرا دیکھ لیجئے کہ مقدمے کی اس جہت میں خامیاں کتنی ہیں؟ اور یہ معاملہ کتنی دیر تک قانون کی نگاہوں میں ٹک پائے گا۔ سب سے پہلی بات ریسرچ رپورٹ کی ہے۔ آخر یہ کیا ہوتی ہے؟

ریسرچ رپورٹ کا قضیہ کیا ہے؟

ریسرچ رپورٹ دراصل کسی بروکریج ہاؤس کی طرف سے اعداوشمار کی بنیاد پر ایک اندازا ہوتا ہے جس کی کبھی بھی ذمہ داری نہیں لی جاتی۔ اس میں کسی کمپنی کے شیئرز کے امکانات اور خدشات دونوں کا تجزیہ ہوتا ہے۔ جس میں مجموعی طور پر مذکورہ صنعت کا ایک مکمل جائزہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ ساری تفصیلات مختلف گرافس کے ذریعے واضح کردی جاتی ہے۔ پھر آخر میں ایک Disclaimer یعنی اعلان لاتعلقی بھی دے دیا جاتا ہے جس سے ریسرچ رپورٹ دینے والی کمپنی خود کو بری الذمہ قرار دے لیتی ہے۔ دنیا بھر میں یہ اسٹاک مارکیٹ کا ایک مجموعی اور قابل اعتبار نمونہ ہے جس کی بنیا د پر سرمائے یا حصص کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس میں سرمایہ پھیلتا اور مزید منافع کے ساتھ دگنا اور کئی گنا بھی ہوتا ہے اور ڈوب بھی جاتا ہے۔ مگر آج تک دنیا میں کہیں پر بھی اسٹاک مارکیٹ کے اس مسلمہ طریقے میں ریسرچ رپورٹ کے اس طرح غلط ثابت ہونے پر کبھی کسی ادارے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر اس نوع کی کارروائی ہوئی ہے۔ اب اس سے جو سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ

اس معاملے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کی جس ریسرچ رپورٹ کو بنیاد بنا کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہے وہ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری سے چھ ماہ پہلے 2010ء میں بنی تھی
  • کیا ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر ایف آئی اے اس طرح کی کوئی کارروائی کر سکتی ہے؟کیونکہ کسی بھی اسٹاک بروکریج ہاؤس کے خلاف محض ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی یہ پہلی کارروائی ہے۔
  • کیا کسی بھی ریسرچ رپورٹ کی بنیادپر شیئر ز کے غلط اندازوں کا یہ پہلا واقعہ ہے جسے بنیاد بنا کر کارروائی کی گئی ہے۔ اگر نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب تک جن جن اداروں کی ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر جن جن کمپنیوں کا سرمایہ ڈوبا ہے ایف آئی اے اس پر اسی طرح کی کارروائی کرے گی۔ کیا ایسا ہی ہو گا؟
  • ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر یہ ایک عمومی تبصرہ تھا۔ اب اِسے اے کے ڈی سیکورٹیز کے مخصوص مسئلے کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہاں موجود دیگر حقائق معاملے کی کس طرح کی نوعیت کو سامنے لاتے ہیں۔
  • اس معاملے کا سب سے پہلا نکتہ انتہائی اہم ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کی جس ریسرچ رپورٹ کو بنیاد بنا کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہے وہ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری سے چھ ماہ پہلے 2010 ء میں بنی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک چھ ماہ پہلے کی ریسرچ رپورٹ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری کے وقت کتنی اور کہاں تک متعلق رہ سکتی تھی؟ ایک ایسی مارکیٹ میں جس کا بھروسا چھ دن تک نہیں کیا جا سکتا۔ پھر مجموعی طور پر پاکستان میں چھ ماہ تک کون سی مارکیٹ اپنی جگہ مستحکم رہتی ہے۔
  • اس ضمن میں ایک دوسرا نکتہ یہ بھی ہے کہ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ریسرچ رپورٹ میں شیئرز کی قیمت ساڑھے تیرہ روپے ظاہر کی گئی۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے ذرائع ایف آئی اے کی اس رپورٹ کو چیلنج کرتے ہیں کہ ریسرچ رپورٹ میں کہیں پر بھی یہ بات تحریر نہیں کی گئی۔

ریسرچ رپورٹ کے اس مجموعی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال جائز طور پر اُٹھایا جاسکتا ہے کہ آخر ایف آئی اے کو مرکزی ملزمان سے زیادہ بقول اُن کے ریسرچ رپورٹ کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟اوپر یہ بات تحریر کی جاچکی ہے کہ خود شاہد حیات نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ وہ اس معاملے میں سہولت کنندہ کے ’’جرم‘‘ (وہ اِسے جرم کہنے کے مجاز کیسے ہوگئے)کو مرکزی مجرموں کے طور پر دیکھتے ہیں۔اس تناظر میں جنگ گروپ جہانگیر صدیقی کے ساتھ اپنے خاندانی تعلقات کے باعث جو دباؤ استعمال کر رہا ہے ، اُس کے کردار پر بھی بطور سہولت کنندہ کے ایک جائز سوال اُٹھتا ہے ۔

Jahangir-Siddiqui

جیو اور جنگ گروپ سے سوال

اگر سہولت کنندہ ہونے اور ایک ریسرچ رپورٹ کے باعث اے کے ڈی سیکورٹیز پر ایف آئی اے کی تفتیش جائز ہے تو پھر جنگ گروپ اور جیو میں آنے والے اشتہارات پر یقین کر کے جولوگ اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں، مختلف تعمیراتی منصوبوں میں جاکر پیسے لگاتے ہیں، اگر وہ ادارے لوگوں کے پیسے بٹور کر غائب ہو جائیں اور اُن تعمیراتی منصوبوں میں لوگوں کے پیسے ڈوب جائیں تو کیا یہ ادارے اس جعلسازی میں سہولت کنندہ کے طور پر اپنی ذمہ داری قبول کریں گے؟اگر ایسی ماضی کی بہت سی مثالیں پیش کی جائیں جس کے اشتہارات صرف جنگ میں لگے اور لوگوں کے ساتھ دھوکے ہوئے ہیں تو کیا ایف آئی اے اس پر تفتیش کرے گی؟ کیا ایماندار افسر کے ایمان میں اس سے کچھ جوش پیدا ہوگا؟

Mir-Shakil-ur-Rehman

اس مزے دار سوال سے قطع نظر اب یہاں اصل سوال اُٹھاتے ہیں کہ شاہد حیات ایک ریسرچ رپورٹ میں موجود اعلان لاتعلقی یعنی (disclaimer) کے باوجود ایسا کس قانون کے تحت کر رہے ہیں؟ اُن کی اس معاملے میں دلچسپی مرکزی ملزم کمپنی یعنی ایمٹیکس سے زیادہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کیوں ہے؟ وہ چائے سے زیادہ کیتلی پر کیوں گرم ہیں؟یہ سوالات بنیادی طور پر ہمیں شاہد حیات کے کردار کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

شاہد حیات کون ہیں؟

shahid-hayat

پاکستان کے جعلی ذرائع ابلاغ نے شاہد حیات کو ایک ایماندار افسر کے طور پر متعارف کرارکھا ہے۔ وہ کراچی کے سب سے زیادہ متنازع اور مخصوص مفاداتی گروہوں کے لئے کارگزار رہنے والی ایک شخصیت کا پس منظر رکھتے ہیں۔ مگر ہمارے جعلی ذرائع ابلاغ دراصل طاقت کے مراکز اور اُن ہی مفاداتی گروہوں سے فائدے کشید کرنے کے باعث یکطرفہ طو ر پر دن کو رات اور رات کودن باور کراتے رہتے ہیں۔ شاہد حیات پر عقیل کریم ڈھیڈی نے کچھ براہِ راست الزامات عائد کئے ہیں۔

شاہد حیات اگر اتنے ہی اُصول پسند افسر ہیں تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ اُنہوں نے اب تک ایگزیکٹ کے خلاف جو جو الزامات عائد کئے تھے اُن میں سے کتنے مقدمات عدالت میں لڑے؟

شاہد حیات نے ایک ٹی وی چینل پر یہ کہا کہ وہ ٹی وہ چینل پر نہیں عدالت میں مقدمہ لڑیں گے۔ اور اس طرح اُنہوں نے خود پر عائد الزامات کابراہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ مقدمہ عدالت میں ہی لڑنا چاہتے تھے تو پورا وقت ٹی وی پروگرام میں کیوں موجود رہے؟ اُنہوں نے وہ بھی باتیں کرنا کیوں ضروری سمجھا جو وہ اس مقدمے سے متعلق وہاں کرتے رہے۔ اگر وہ اتنے ہی اُصول پسند افسر ہیں تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ اُنہوں نے اب تک ایگزیکٹ کے خلاف جو جو الزامات عائد کئے تھے اُن میں سے کتنے مقدمات عدالت میں لڑے؟ اُنہوں نے ایگزیکٹ پر جو جو الزامات عائد کئے اُن میں سے کتنے مقدمات کے چالان عدالت میں پیش کئے؟ کیا وہ اپنے اس دعوے کے مطابق ذرا اپنے اُ س کردار کاجائزہ لینا بھی پسند کریں گے جو وہ ایگزیکٹ کے خلاف عدالت کے بجائے اسی میڈیا میں اپنا مقدمہ لڑ کر ظاہر کرتے رہے ہیں۔ شاہد حیات کی پوری زندگی اسی طرح کے تضادات پر مبنی ہے۔ شاہد حیات اسی طرح کی ہشیاری برتنے والے ایک پولیس افسر بھی رہے ہیں۔ جن کے متعلق بہت سی کہانیاں کراچی میں زیرگردش رہتی ہیں۔ یہاں محض ایک واقعہ پیش نظر رہے تاکہ اس اُصول پسند اور ایماندار افسر کی شہرت رکھنے والے شخص کے کردار کی جھلک میں حالیہ مسئلہ بھی سمجھنے میں آسانی ہو۔کراچی کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہے کہ مرتضیٰ بھٹو 20ستمبر 1996 ء کو کس طرح ایک سازش کے تحت 70۔ کلفٹن کے نزدیک پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو کے ایک ساتھی نور محمد کی ایک ایف آئی آر میں وہ شاہد حیات کو اُن ملزمان میں شامل کیا گیا تھا جو اس جعلی پولیس مقابلے کے ذمہ دار تھے۔ اس مقابلے کے وقت اے ایس پی صدر یہی شاہد حیات تھے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مقابلے میں اُنہیں ایک گولی لگی اور وہ زخمی ہوئے۔ شاہد حیات کی اس میڈیکو لیگل رپورٹ کو چیلنج کیا گیا اور مقتول کے ورثاء کی طرف سے عدالت کو استدعا کی گئی کہ وہ ایک آزاد میڈیکل بورڈ سے تحقیق کروائے کہ کیا شاہد حیات کو گولی کسی مقابلے میں لگی ہے یا نہیں۔ اس پر آغاخان اسپتال سے ایک بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے رپورٹ پیش کی کہ شاہد حیات کو یہ گولی دور سے نہیں بلکہ بہت قریب سے لگی ہے جو وہ خود ہی اپنے آپ کو مار سکتے تھے۔ اس رپورٹ کو بدلوانے کے لئے بے پناہ دباؤ کا استعمال ہوا مگر آغاخان میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کسی ردوبدل کو گوارا نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے دوڈاکٹر زنے اس دباؤ میں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے بجائے استعفیٰ دے دیئے۔ یہ اس ایماندار افسر کی کہانی جو ذرائع ابلاغ کے جعلی کہانیوں میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔

mir-murtaza-bhutto

شاہد حیات کے اس ماضی کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایگزیکٹ کی تازہ کارگزاری کوبھی سامنے رکھ لیا جائے جس میں وہ اب تک اس اداے پر عائد الزامات میں سے کسی ایک کو بھی درست ثابت کرنے میں ناکام رہے مگر اِسے پاکستان کے طاقت ور میڈیا یعنی جنگ گروپ اور ایکسپریس گروپ کی ایماء پر ٹھکانے لگانے کے لئے جعلسازی پر مبنی ایک میڈیا مہم میں اس کی امیج کو بالکل تباہ کرنے کا موجب بنے ہیں۔ تو پھراے کے ڈی سیکورٹیز والے مقدمے میں دھیان اُن الزامات پر جاتا ہے جو براہِ راست عقیل کریم ڈھیڈی نے شاہد حیات پر عاید کئے ہیں۔

عقیل کریم ڈھیڈی کے شاہد حیات پر الزامات

اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپہ مارنے سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر صدیقی (عقیل کریم ڈھیڈی کے پرانے حریف اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی) نے موہٹہ پیلیس میں شاہد حیات کے لئے ایک زبردست پروگرام کا انعقاد کیا
  • اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپہ مارنے سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر صدیقی (عقیل کریم ڈھیڈی کے پرانے حریف اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی) نے موہٹہ پیلیس میں شاہد حیات کے لئے ایک زبردست پروگرام کا انعقاد کیا۔
  • جہانگیر صدیقی کی پولو ٹیم کے ساتھ شاہد حیات کھیلتے ہیں۔
  • ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپے سے کچھ عرصے قبل تحریک انصاف کے ایک آئی ٹی اسپیشلسٹ کو گرفتار کرکے لے گئی۔ جس پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اے کے ڈی کے خلاف بیان دے گا تو اس کی گلوخلاصی ہوگی۔ عقیل کریم ڈھیڈی کے علم میں جب یہ معاملہ آیا اور اُنہوں نے متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کو اس بابت فون کیا تو اُس نے کہا کہ یہ سب ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات کی ایماپر ہورہا ہے ۔ عقیل کریم ڈھیڈی کی طرف سے جب شاہد حیات سے رابطہ کیا گیا تواس ’’ایماندار افسر‘‘ نے اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کو اس لئے معطل کردیا کہ اُس نے اپنے ایماندار باس کا بھانڈا کیوں پھوڑا۔
  • عقیل کریم ڈھیڈی کے شاید حیات جہانگیر صدیقی کی ایماء پر مختلف لوگوں کواُٹھا کر اُن کی پھینٹی بھی لگاتے رہے ہیں جن میں اسٹاک ایکسچینج کا ایک ڈائریکٹر اور خود جہانگیر صدیقی کی اپنی بہن سلطانہ صدیقی کا بیٹا تک شامل ہے۔

یہ کوئی معمولی الزامات نہیں بلکہ ایک قانونی ادارے کی طاقت کو اپنے منافع بخش تعلقات کے لئے غیرقانونی طور پر استعمال کرنے سے متعلق ہیں۔ کیا ایسی صورت میں خود شاہد حیات پر عائد الزامات کی بھی تحقیق نہیں ہونی چاہئے؟

یہ اس پورے معاملے کے محض چند ایک اہم پہلو ہیں۔ مگر اس معاملے کی مجموعی تصویر اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہے جس میں سیاسی ، کاروباری اور صحافتی اکٹھ سے پاکستان کے تمام کاروباری اور سیاسی مفادات پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لئے ایک منظم مافیا حرکت میں ہے جس کے ڈانڈے ایوان وزیراعظم سے میر شکیل الرحمان کے گھر تک میں جاتے ہیں۔ ان تفصیلات کو آئندہ پر اُٹھا رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بحرین میں ایک دوا کی خریداری کے لیے 400 سے زائد جعلی نسخے دینے پر تین افراد کو 5 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے جن میں سے دو ایشیائی شہری ہیں جنہیں سزا مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کی نیشنل ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی نے میڈیکل اسٹورز کی معمول کی چیکنگ کے دوران محسوس کیا کہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کی دوا حیران کن طور پر وافر مقدار میں موجود ہے ۔تحقیقات سے پتا چلا کہ اعصابی درد میں استعمال ہونے والی اس دوا کے نسخے چند ڈاکٹرز کی جانب سے مسلسل...

بحرین میں سکون آور دوا کے 400جعلی نسخوں پر دو ایشیائی سمیت تین افراد قید

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

مسجد اقصی کے باہر گذشتہ روز ہزاروں افراد نے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے والے ممالک کے خلاف شدید نعرے بازے کی اور انہیں خائن اور غدارقرار دیا۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مسجد اقصی کے باہر مظاہرے کا اہتمام اسلامک ایکشن محاذ کی طرف سے کیا گیا ۔نماز ظہر کے بعد ہزاروں افراد نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا کر متحدہ عرب امارات اور بحرین کے خلاف مظاہرے کیے ۔ مظاہرین نے امریکا کی سرپرستی میں اسرائیل کے سات...

فلسطینی عوام کا غدار حکمرانوں کا القدس میں داخلہ بند کرنے کا مطالبہ

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

خلیجی ریاست بحرین میں حکومت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان اور صہیونی ریاست کیساتھ معاہدے کرنے کے خلاف عوامی سطح پر احتجاجی مظاہرے شرو ہوگئے ۔میڈیارپورٹس کے مطابق منامہ میں حکومت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے ۔ منامہ میں ایک مظاہرہ کیاگیا جس میں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی شدید مذمت کی۔ادھر سماجی کارکنوں نے منامہ میں اسرائیل ۔ عرب دوستی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی تفص...

اسرائیل کے ساتھ دوستی، بحرینی عوام کے اپنی ہی حکومت کے خلاف مظاہرے

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ وجود - پیر 21 ستمبر 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یو ٹرن لیتے ہوئے شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والا مجوزہ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ انہیں خوشی ہوگی کہ وہ چینی ایپلی کیشنز اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ معاہدے کے مطابق تینوں ادارے مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گ...

ٹرمپ کا ایک اور یو ٹرن ، ٹک ٹاک کیساتھ معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار وجود - پیر 21 ستمبر 2020

بھارت میں ہفتے کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کے ایک بیان میں کہاگیاکہ القاعدہ بھارت میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھی۔ بھارت کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی کے مطابق ان گرفتاریوں کے لیے مختلف ریاستوں میں بیک وقت چھاپے مارے گئے ۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ گروہ بھارت میں متعدد اہم مقامات پر دہشت گردانہ حملے کا منصوبہ بنا رہا تھا، جب کہ ان حملوں کا ممکنہ مقصد عام افراد کو ہلاک...

بھارت میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں نو افراد گرفتار

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک میں بادشاہ کے خلاف سڑکوں پر آگئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مظاہرین نے ''تھائی لینڈ عوام کا ہے '' کے نعرے کے ساتھ دارالحکومت میں مارچ کیا اور ملک میں بادشاہت کے وجود پر سوال اٹھا ئے ۔ گزشتہ دو ماہ سے بنکاک میں قریب روزانہ کی بنیاد پر احتجاج جاری ہے ، جس میں نوجوان طلبہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ 2014 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی سربراہ اور موجودہ وزیراعظم پرایوت چن اوچا مستعفی ہوں۔ مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ شاہی خاندان ملکی سیا...

تھائی لینڈ میں ہزاروں نوجوان ملک کے بادشاہ کے خلاف سڑکوں پرآ گئے

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے وجود - پیر 21 ستمبر 2020

ایک حالیہ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ تقریبا نصف امریکی ویکسین استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں پیو ریسرچ سینٹرکے رواں ماہ کیے گئے جائزے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ کرونا وائرس کی ویکسین دستیاب ہونے کی صورت میں 49 فی صد امریکی ویکسین لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے ۔ جب کہ 51 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین ضرور لیں گے ۔ویکسین لگوانے سے انکار کرنے والے امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں ویکسین کے منفی اثرات سے متعلق خدشات ہیں۔ویکسین سے متعلق تحفظات کی وجہ یہ ہے ک...

نصف امریکی کورونا وائرس کی ویکسین لینے کے حق میں نہیں ہیں،سروے

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کوروناوباء امریکہ میںاندازے سے پہلے پھیلنا شروع ہوچکی تھی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایسے شواہد کو دریافت کیا گیا جن سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا وائرس امریکا میں دسمبر کے آخر میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 22 دسمبر سے امریکا کے مختلف طبی مراکز اور ہسپتالوں میں نظام تنفس کی بیماری کے شکار افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ تحقیق کے مطابق چین میں کووڈ 19 کا پہلا مصدقہ کیس یکم ستمبر کو سامنے آیا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ...

کورونا وائرس دسمبر میں ہی امریکا پہنچ چکا تھا،نئی تحقیق میں انکشاف

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

گوگل میٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروایا گیا ہے جس میں صارفین ویڈیو کال کے دوران پیچھے کے منظر کو دھندلا کرسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوگل نے نئے بلاگ میں بتایا کہ گوگل میٹ میں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا جارہا ہے ، اس فیچر کے ذریعے پس منظر دھندلا ہوجائے گا مگر صارف کال میں شامل دیگر افراد کو صاف طور پر نظر آئے گا۔شور کو فلٹر آوٹ کرنے کی صلاحیت کی طرح یہ نیا فیچر گوگل کی جانب سے کانفرنس کالز کے دوران انتشار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔گوگل کا کہ...

گوگل میٹ نے صارفین کیلئے زبردست فیچر متعارف کرادیا

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈان کی وجہ سے برطانیہ کی سرکاری ائیرلائن برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار ہوگئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیا کے مطابق برٹش ائیرویز کے سی ای او نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ عالمگیر وبا کورونا وائرس کے دوران پراوزیں اڑانے سے ڈرنے کی وجہ سے حالات فوری معمول پر آنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں لیکن ائیرلائن کی جانب سے موسم سرما کا سیزن گزارنے کے لیے ہرممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔برٹش ائیرویز کے سی ای او کا کہنا ت...

کورونا وائرس کے باعث برٹش ائیرویز تاریخ کے بدترین مالی بحران کا شکار

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او وجود - جمعه 18 ستمبر 2020

عالمی ادارہ صحت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اکتوبر اور نومبر میں یورپ کرونا وبا سے شدید متاثر ہو گا جب کہ ہلاکتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔یورپ میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ہانس کلوگ نے غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ بدقسمتی سے اکتوبر اور نومبر یورپ کے کئی ملکوں کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ ان کے بقول کرونا وبا سے یورپ میں ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے عہدے دار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور اسپین سمیت یورپ کے 55 ممالک میں جمعے کو کرونا کے 51 ہزار کے لگ بھگ کیس...

یورپ میں اکتوبر، نومبر میں کرونا سے ہلاکتیں بڑھ سکتی ہیں، ڈبلیو ایچ او

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے وجود - منگل 15 ستمبر 2020

دنیا کے بڑے اورترقی یافتہ ممالک میں اس وقت کورونا وائرس کی ویکسین کے حوالے سے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ یہ دوڑ علامتی طور پر ایک نئے طاقت کے اُبھار اور عالمی سطح پر نئے رجحانات کی تشکیل کا سبب بھی یقینی طور بنے گی۔ اس ضمن میں عالمی ذرائع ابلاغ پر روزانہ کی بنیاد پر اندازے ظاہر کیے جاتے ہیںاور اس دوڑ میں شامل ملکوں میں جاری تحقیقات کو جگہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے اب یہ بات زیادہ زور دے کر دہرائی جارہی ہے کہ چین دنیا میں کورونا ویکسین متعارف کرانے والا پہلا ملک بن سکتا ہے ۔ برطانوی ...

کورونا ویکسین کی دوڑ میں چین سب سے آگے