وجود

... loading ...

وجود

عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

جمعرات 07 جنوری 2016 عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

عقیل کریم ڈھیڈی ملک کی معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ اُن کی کمپنی اے کے ڈی سیکورٹیز، اسٹاک مارکیٹ کے چند بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ وفاقی ادارے ایف آئی اے نے ۴؍جنوری بروز پیر اے کے ڈی سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسر سمیت تین ملازمین کو اچانک دھر لیا۔جسے حسب توقع جنگ گروپ نے اپنی اشاعتوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیاہے۔ ایگزیکٹ کے اسکینڈل کے بعد جنگ گروپ نے جس معاملے میں سب سے زیادہ دلچسپی اب تک دکھائی ہے وہ عقیل کریم ڈھیڈی کے مختلف معاملات سے متعلق ہے۔ مگر اس معاملے کے سیاق وسباق پر دھیان رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ یہ اندازا ہو سکے کہ اس کھیل کے پس پشت کون کون سے کردار متحرک ہیں؟ اور یہ معاملہ اصلاً کیا ہے؟

اصل مقدمہ کیا ہے؟

AKD

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے کے مقدمے کو سمجھنے کے لئے کسی اور کو نہیں خود جنگ گروپ کی اشاعت کو ہی بنیاد بناتے ہیں۔ جنگ نے اپنی اشاعت میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی آر کی تفصیلات شائع کی ہیں ۔ جس کے مطابق ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی)کے شیئرز کی خریداری کے معاملے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے مجرمانہ کردار(ایف آئی اے خود ہی عدالت بن گئی اور تعین کر دیا کہ اے کے ڈی کا کردار مجرمانہ ہے)سے قومی خزانے کو 29کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ۔ اس کی تفصیلات ایف آئی اے کی ایف آئی آر میں کچھ یوں درج ہے کہ میسرز ایمٹیکس کے مجموعی طور پر 17350000 حصص ای او بی آئی نے 337659914 روپے میں خریدے۔ایف آئی آر کے مطابق حصص کی یہ خریداری ای او بی آئی انوسٹمنٹ کمیٹی کی سفارش ومنظوری سے کی گئی۔ یہ کمیٹی ڈائریکٹر جنرل انوسٹمنٹ کنور خورشید وحید اور اس وقت کے چیئرمین ای او بی آئی ظفر اقبال گوندل پر مشتمل تھی۔ ان حصص کی مالیت 73.2 روپے فی حصص ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس عمل سے قومی خزانے اور ای او بی آئی کو 29 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

کیا اب تک جن جن اداروں کی ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پرجن جن کمپنیوں کا سرمایہ ڈوبا ہے ایف آئی اے اس پر اسی طرح کی کارروائی کرے گی؟

ایف آئی اے کی لمبی چوڑی ایف آئی آر میں ایمکیپ اور ایمٹیکس لمیٹڈ کی ملی بھگت کا ذکر ہے جس کے مالکان باپ بیٹے بتائے گئے ہیں۔ اس لمبی چوڑی تفصیلات کا عملاً اے کے ڈی سیکورٹیز سے کوئی تعلق نہیں۔ اُنہیں ایک جرم کے سہولت کنندہ کے طور پر اس طرح مقدمے میں ماخوذ کیا گیا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز نے اپنی ایک ریسرچ رپورٹ میں ای پی ایس 10.7روپے اور 93.9روپے برائے سال2010ء اور 2011ء کے لئے پیشگوئی کی تھی۔ لیکن درحقیقیت میسر زایمٹیکس کو بھاری خسارہ ہوا۔ اور 2011ء میں ای پی ایس کم ہو کر منفی 17.7 روپے اور 2012ء میں4.10روپے ہو گئی۔
اب صرف ایف آئی آر کو بنیاد بنایا جائے تو اے کے ڈی وہ کمپنی ہے جس کی ریسرچ رپورٹ کو اس کا ذمہ دار سمجھا گیا ہے کہ اُس کے باعث ای او بی آئی کو نقصان پہنچا۔ ایف آئی اے کے سندھ کے ڈائریکٹر اور اپنے تئیں خود کو’’ ایماندار‘‘باور کرانے والے شاہد حیات نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اے کے ڈی سیکورٹیز کو اس معاملے میں سہولت کنندہ سمجھتے ہیں اور اُن کا یہ جُرم مرکزی مجرموں جیسا ہے۔ حیرت انگیز طور پر شاہد حیات سے پروگرام کے ذہین اینکر ندیم ملک نے یہ نہیں پوچھا کہ ایسا وہ صرف اسی مقدمے میں سمجھتے ہیں یا پھر وہ ہر ایف آئی آر میں سہولت کنندہ کو مرکزی ملز م کے طو رپر لیتے ہیں ۔ اب ذرا دیکھ لیجئے کہ مقدمے کی اس جہت میں خامیاں کتنی ہیں؟ اور یہ معاملہ کتنی دیر تک قانون کی نگاہوں میں ٹک پائے گا۔ سب سے پہلی بات ریسرچ رپورٹ کی ہے۔ آخر یہ کیا ہوتی ہے؟

ریسرچ رپورٹ کا قضیہ کیا ہے؟

ریسرچ رپورٹ دراصل کسی بروکریج ہاؤس کی طرف سے اعداوشمار کی بنیاد پر ایک اندازا ہوتا ہے جس کی کبھی بھی ذمہ داری نہیں لی جاتی۔ اس میں کسی کمپنی کے شیئرز کے امکانات اور خدشات دونوں کا تجزیہ ہوتا ہے۔ جس میں مجموعی طور پر مذکورہ صنعت کا ایک مکمل جائزہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ ساری تفصیلات مختلف گرافس کے ذریعے واضح کردی جاتی ہے۔ پھر آخر میں ایک Disclaimer یعنی اعلان لاتعلقی بھی دے دیا جاتا ہے جس سے ریسرچ رپورٹ دینے والی کمپنی خود کو بری الذمہ قرار دے لیتی ہے۔ دنیا بھر میں یہ اسٹاک مارکیٹ کا ایک مجموعی اور قابل اعتبار نمونہ ہے جس کی بنیا د پر سرمائے یا حصص کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس میں سرمایہ پھیلتا اور مزید منافع کے ساتھ دگنا اور کئی گنا بھی ہوتا ہے اور ڈوب بھی جاتا ہے۔ مگر آج تک دنیا میں کہیں پر بھی اسٹاک مارکیٹ کے اس مسلمہ طریقے میں ریسرچ رپورٹ کے اس طرح غلط ثابت ہونے پر کبھی کسی ادارے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر اس نوع کی کارروائی ہوئی ہے۔ اب اس سے جو سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ

اس معاملے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کی جس ریسرچ رپورٹ کو بنیاد بنا کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہے وہ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری سے چھ ماہ پہلے 2010ء میں بنی تھی
  • کیا ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر ایف آئی اے اس طرح کی کوئی کارروائی کر سکتی ہے؟کیونکہ کسی بھی اسٹاک بروکریج ہاؤس کے خلاف محض ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی یہ پہلی کارروائی ہے۔
  • کیا کسی بھی ریسرچ رپورٹ کی بنیادپر شیئر ز کے غلط اندازوں کا یہ پہلا واقعہ ہے جسے بنیاد بنا کر کارروائی کی گئی ہے۔ اگر نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب تک جن جن اداروں کی ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر جن جن کمپنیوں کا سرمایہ ڈوبا ہے ایف آئی اے اس پر اسی طرح کی کارروائی کرے گی۔ کیا ایسا ہی ہو گا؟
  • ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر یہ ایک عمومی تبصرہ تھا۔ اب اِسے اے کے ڈی سیکورٹیز کے مخصوص مسئلے کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہاں موجود دیگر حقائق معاملے کی کس طرح کی نوعیت کو سامنے لاتے ہیں۔
  • اس معاملے کا سب سے پہلا نکتہ انتہائی اہم ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کی جس ریسرچ رپورٹ کو بنیاد بنا کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہے وہ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری سے چھ ماہ پہلے 2010 ء میں بنی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک چھ ماہ پہلے کی ریسرچ رپورٹ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری کے وقت کتنی اور کہاں تک متعلق رہ سکتی تھی؟ ایک ایسی مارکیٹ میں جس کا بھروسا چھ دن تک نہیں کیا جا سکتا۔ پھر مجموعی طور پر پاکستان میں چھ ماہ تک کون سی مارکیٹ اپنی جگہ مستحکم رہتی ہے۔
  • اس ضمن میں ایک دوسرا نکتہ یہ بھی ہے کہ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ریسرچ رپورٹ میں شیئرز کی قیمت ساڑھے تیرہ روپے ظاہر کی گئی۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے ذرائع ایف آئی اے کی اس رپورٹ کو چیلنج کرتے ہیں کہ ریسرچ رپورٹ میں کہیں پر بھی یہ بات تحریر نہیں کی گئی۔

ریسرچ رپورٹ کے اس مجموعی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال جائز طور پر اُٹھایا جاسکتا ہے کہ آخر ایف آئی اے کو مرکزی ملزمان سے زیادہ بقول اُن کے ریسرچ رپورٹ کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟اوپر یہ بات تحریر کی جاچکی ہے کہ خود شاہد حیات نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ وہ اس معاملے میں سہولت کنندہ کے ’’جرم‘‘ (وہ اِسے جرم کہنے کے مجاز کیسے ہوگئے)کو مرکزی مجرموں کے طور پر دیکھتے ہیں۔اس تناظر میں جنگ گروپ جہانگیر صدیقی کے ساتھ اپنے خاندانی تعلقات کے باعث جو دباؤ استعمال کر رہا ہے ، اُس کے کردار پر بھی بطور سہولت کنندہ کے ایک جائز سوال اُٹھتا ہے ۔

Jahangir-Siddiqui

جیو اور جنگ گروپ سے سوال

اگر سہولت کنندہ ہونے اور ایک ریسرچ رپورٹ کے باعث اے کے ڈی سیکورٹیز پر ایف آئی اے کی تفتیش جائز ہے تو پھر جنگ گروپ اور جیو میں آنے والے اشتہارات پر یقین کر کے جولوگ اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں، مختلف تعمیراتی منصوبوں میں جاکر پیسے لگاتے ہیں، اگر وہ ادارے لوگوں کے پیسے بٹور کر غائب ہو جائیں اور اُن تعمیراتی منصوبوں میں لوگوں کے پیسے ڈوب جائیں تو کیا یہ ادارے اس جعلسازی میں سہولت کنندہ کے طور پر اپنی ذمہ داری قبول کریں گے؟اگر ایسی ماضی کی بہت سی مثالیں پیش کی جائیں جس کے اشتہارات صرف جنگ میں لگے اور لوگوں کے ساتھ دھوکے ہوئے ہیں تو کیا ایف آئی اے اس پر تفتیش کرے گی؟ کیا ایماندار افسر کے ایمان میں اس سے کچھ جوش پیدا ہوگا؟

Mir-Shakil-ur-Rehman

اس مزے دار سوال سے قطع نظر اب یہاں اصل سوال اُٹھاتے ہیں کہ شاہد حیات ایک ریسرچ رپورٹ میں موجود اعلان لاتعلقی یعنی (disclaimer) کے باوجود ایسا کس قانون کے تحت کر رہے ہیں؟ اُن کی اس معاملے میں دلچسپی مرکزی ملزم کمپنی یعنی ایمٹیکس سے زیادہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کیوں ہے؟ وہ چائے سے زیادہ کیتلی پر کیوں گرم ہیں؟یہ سوالات بنیادی طور پر ہمیں شاہد حیات کے کردار کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

شاہد حیات کون ہیں؟

shahid-hayat

پاکستان کے جعلی ذرائع ابلاغ نے شاہد حیات کو ایک ایماندار افسر کے طور پر متعارف کرارکھا ہے۔ وہ کراچی کے سب سے زیادہ متنازع اور مخصوص مفاداتی گروہوں کے لئے کارگزار رہنے والی ایک شخصیت کا پس منظر رکھتے ہیں۔ مگر ہمارے جعلی ذرائع ابلاغ دراصل طاقت کے مراکز اور اُن ہی مفاداتی گروہوں سے فائدے کشید کرنے کے باعث یکطرفہ طو ر پر دن کو رات اور رات کودن باور کراتے رہتے ہیں۔ شاہد حیات پر عقیل کریم ڈھیڈی نے کچھ براہِ راست الزامات عائد کئے ہیں۔

شاہد حیات اگر اتنے ہی اُصول پسند افسر ہیں تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ اُنہوں نے اب تک ایگزیکٹ کے خلاف جو جو الزامات عائد کئے تھے اُن میں سے کتنے مقدمات عدالت میں لڑے؟

شاہد حیات نے ایک ٹی وی چینل پر یہ کہا کہ وہ ٹی وہ چینل پر نہیں عدالت میں مقدمہ لڑیں گے۔ اور اس طرح اُنہوں نے خود پر عائد الزامات کابراہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ مقدمہ عدالت میں ہی لڑنا چاہتے تھے تو پورا وقت ٹی وی پروگرام میں کیوں موجود رہے؟ اُنہوں نے وہ بھی باتیں کرنا کیوں ضروری سمجھا جو وہ اس مقدمے سے متعلق وہاں کرتے رہے۔ اگر وہ اتنے ہی اُصول پسند افسر ہیں تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ اُنہوں نے اب تک ایگزیکٹ کے خلاف جو جو الزامات عائد کئے تھے اُن میں سے کتنے مقدمات عدالت میں لڑے؟ اُنہوں نے ایگزیکٹ پر جو جو الزامات عائد کئے اُن میں سے کتنے مقدمات کے چالان عدالت میں پیش کئے؟ کیا وہ اپنے اس دعوے کے مطابق ذرا اپنے اُ س کردار کاجائزہ لینا بھی پسند کریں گے جو وہ ایگزیکٹ کے خلاف عدالت کے بجائے اسی میڈیا میں اپنا مقدمہ لڑ کر ظاہر کرتے رہے ہیں۔ شاہد حیات کی پوری زندگی اسی طرح کے تضادات پر مبنی ہے۔ شاہد حیات اسی طرح کی ہشیاری برتنے والے ایک پولیس افسر بھی رہے ہیں۔ جن کے متعلق بہت سی کہانیاں کراچی میں زیرگردش رہتی ہیں۔ یہاں محض ایک واقعہ پیش نظر رہے تاکہ اس اُصول پسند اور ایماندار افسر کی شہرت رکھنے والے شخص کے کردار کی جھلک میں حالیہ مسئلہ بھی سمجھنے میں آسانی ہو۔کراچی کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہے کہ مرتضیٰ بھٹو 20ستمبر 1996 ء کو کس طرح ایک سازش کے تحت 70۔ کلفٹن کے نزدیک پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو کے ایک ساتھی نور محمد کی ایک ایف آئی آر میں وہ شاہد حیات کو اُن ملزمان میں شامل کیا گیا تھا جو اس جعلی پولیس مقابلے کے ذمہ دار تھے۔ اس مقابلے کے وقت اے ایس پی صدر یہی شاہد حیات تھے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مقابلے میں اُنہیں ایک گولی لگی اور وہ زخمی ہوئے۔ شاہد حیات کی اس میڈیکو لیگل رپورٹ کو چیلنج کیا گیا اور مقتول کے ورثاء کی طرف سے عدالت کو استدعا کی گئی کہ وہ ایک آزاد میڈیکل بورڈ سے تحقیق کروائے کہ کیا شاہد حیات کو گولی کسی مقابلے میں لگی ہے یا نہیں۔ اس پر آغاخان اسپتال سے ایک بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے رپورٹ پیش کی کہ شاہد حیات کو یہ گولی دور سے نہیں بلکہ بہت قریب سے لگی ہے جو وہ خود ہی اپنے آپ کو مار سکتے تھے۔ اس رپورٹ کو بدلوانے کے لئے بے پناہ دباؤ کا استعمال ہوا مگر آغاخان میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کسی ردوبدل کو گوارا نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے دوڈاکٹر زنے اس دباؤ میں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے بجائے استعفیٰ دے دیئے۔ یہ اس ایماندار افسر کی کہانی جو ذرائع ابلاغ کے جعلی کہانیوں میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔

mir-murtaza-bhutto

شاہد حیات کے اس ماضی کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایگزیکٹ کی تازہ کارگزاری کوبھی سامنے رکھ لیا جائے جس میں وہ اب تک اس اداے پر عائد الزامات میں سے کسی ایک کو بھی درست ثابت کرنے میں ناکام رہے مگر اِسے پاکستان کے طاقت ور میڈیا یعنی جنگ گروپ اور ایکسپریس گروپ کی ایماء پر ٹھکانے لگانے کے لئے جعلسازی پر مبنی ایک میڈیا مہم میں اس کی امیج کو بالکل تباہ کرنے کا موجب بنے ہیں۔ تو پھراے کے ڈی سیکورٹیز والے مقدمے میں دھیان اُن الزامات پر جاتا ہے جو براہِ راست عقیل کریم ڈھیڈی نے شاہد حیات پر عاید کئے ہیں۔

عقیل کریم ڈھیڈی کے شاہد حیات پر الزامات

اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپہ مارنے سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر صدیقی (عقیل کریم ڈھیڈی کے پرانے حریف اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی) نے موہٹہ پیلیس میں شاہد حیات کے لئے ایک زبردست پروگرام کا انعقاد کیا
  • اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپہ مارنے سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر صدیقی (عقیل کریم ڈھیڈی کے پرانے حریف اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی) نے موہٹہ پیلیس میں شاہد حیات کے لئے ایک زبردست پروگرام کا انعقاد کیا۔
  • جہانگیر صدیقی کی پولو ٹیم کے ساتھ شاہد حیات کھیلتے ہیں۔
  • ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپے سے کچھ عرصے قبل تحریک انصاف کے ایک آئی ٹی اسپیشلسٹ کو گرفتار کرکے لے گئی۔ جس پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اے کے ڈی کے خلاف بیان دے گا تو اس کی گلوخلاصی ہوگی۔ عقیل کریم ڈھیڈی کے علم میں جب یہ معاملہ آیا اور اُنہوں نے متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کو اس بابت فون کیا تو اُس نے کہا کہ یہ سب ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات کی ایماپر ہورہا ہے ۔ عقیل کریم ڈھیڈی کی طرف سے جب شاہد حیات سے رابطہ کیا گیا تواس ’’ایماندار افسر‘‘ نے اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کو اس لئے معطل کردیا کہ اُس نے اپنے ایماندار باس کا بھانڈا کیوں پھوڑا۔
  • عقیل کریم ڈھیڈی کے شاید حیات جہانگیر صدیقی کی ایماء پر مختلف لوگوں کواُٹھا کر اُن کی پھینٹی بھی لگاتے رہے ہیں جن میں اسٹاک ایکسچینج کا ایک ڈائریکٹر اور خود جہانگیر صدیقی کی اپنی بہن سلطانہ صدیقی کا بیٹا تک شامل ہے۔

یہ کوئی معمولی الزامات نہیں بلکہ ایک قانونی ادارے کی طاقت کو اپنے منافع بخش تعلقات کے لئے غیرقانونی طور پر استعمال کرنے سے متعلق ہیں۔ کیا ایسی صورت میں خود شاہد حیات پر عائد الزامات کی بھی تحقیق نہیں ہونی چاہئے؟

یہ اس پورے معاملے کے محض چند ایک اہم پہلو ہیں۔ مگر اس معاملے کی مجموعی تصویر اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہے جس میں سیاسی ، کاروباری اور صحافتی اکٹھ سے پاکستان کے تمام کاروباری اور سیاسی مفادات پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لئے ایک منظم مافیا حرکت میں ہے جس کے ڈانڈے ایوان وزیراعظم سے میر شکیل الرحمان کے گھر تک میں جاتے ہیں۔ ان تفصیلات کو آئندہ پر اُٹھا رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

ایران میں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہو جائے گا ،آج بلیک میلنگ، کرپشن اور خونریزی کے 47 سالہ دور کا خاتمہ ہوجائے گا ٹرمپ کی دھمکی کا بیان پاگل پن اور نسل کشی کا انتباہ قرار(عرب میڈیا ) ہم نے ایران میں رجیم چینج کردی، موجودہ قیادت م...

آج ایرانی تہذیب ختم ہوجائے گی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس وجود - بدھ 08 اپریل 2026

سعودی عرب میں پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس حملوں پر اظہار تشویش،حملے غیر ضروری،کشیدگی میں اضافہ قرار، مشرق وسطی تنازع حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، فیلڈ مارشل آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسزکاپاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو یقینی بنانے کی صلاحیت پ...

ایران کے سعودیہ پر غیر ضروریحملے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی وجود - بدھ 08 اپریل 2026

مقدمات میں تاخیر اور عدالتی عمل میں رکاوٹیں نفرتوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کا نقصان ملک کو ہوگا بانی پی ٹی آئی کی پر امن رہائی تحریک کیلئے عملی ممبرشپ شروع ہو چکی ہے ،وزیراعلیٰ کی صحافی سے گفتگو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل افریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے کیسز میں تاخیر ...

عمران خان کی رہائی کیلئے انصاف ، کوئی رعایت نہیں مانگتے،سہیل آفریدی

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

سندھ حکومت مشاورت کے بعد جواب دے گی، توانائی بچت کیلئے شادی ہالز، ریسٹورنٹس، بیکریاں رات 10 بجے کے بعد کھولنے کی اجازت نہیں ہوگی، اطلاق آج سے ہوگا میڈیکل اسٹورزکے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے،وزیراعظم کی زیر صدارت توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے حوالے ...

ملک بھر میں بازار رات8بجے بند کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل وجود - منگل 07 اپریل 2026

آج کی ڈیڈ لائن حتمی ، ہماری فوج دنیا کی عظیم فوج ، ضرورت پڑی تو ایران کے تیل پر قبضہ کریں گے، ویسے ان کے پاس کچھ میزائل اور ڈرون باقی رہ گئے ہیں،ٹرمپ کاتقریب سے خطاب ایران نے امریکی تجاویز پر جنگ بندی کو مستردکردیا ، جنگ کا مستقل اور مکمل خاتمہ ضروری ہے ، ایران نے اپنا ردعمل پا...

ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم،امریکا ایران جنگ خطرناک مرحلے میں داخل

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 07 اپریل 2026

ملک بھر میںحکومت کی تیاری مکمل، موبائل ایپ کے ذریعے فیول خریداری کی مانیٹرنگ شہریوں کیلئے کوٹہ مقرر ، کسی شخص کو مقررہ حد سے زیادہ پیٹرول خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی حکومت نے ملک بھر کے پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے اور شہریوں کیلئے پٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کا...

پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد وجود - منگل 07 اپریل 2026

ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو جنگ بندی کیلئے اپنے مطالبات پہنچا دیے ہیں، ایران ایران کے واضح موقف کو کسی صورت پسپائی یا پیچھے ہٹنے کی علامت نہ سمجھا جائے،ترجمان ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ کے دوران پیر، کو تہران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن...

ایران کا امریکی انتباہ ماننے سے انکار؛ جنگ بندی کی تجاویز مسترد

مضامین
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست وجود جمعه 10 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ وجود جمعه 10 اپریل 2026
کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر