وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

جمعرات 07 جنوری 2016 عقیل کریم ڈھیڈی کے خلاف ایف آئی اے کیوں حرکت میں آئی؟

عقیل کریم ڈھیڈی ملک کی معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ اُن کی کمپنی اے کے ڈی سیکورٹیز، اسٹاک مارکیٹ کے چند بڑے اداروں میں سے ایک ہے۔ وفاقی ادارے ایف آئی اے نے ۴؍جنوری بروز پیر اے کے ڈی سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو افسر سمیت تین ملازمین کو اچانک دھر لیا۔جسے حسب توقع جنگ گروپ نے اپنی اشاعتوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیاہے۔ ایگزیکٹ کے اسکینڈل کے بعد جنگ گروپ نے جس معاملے میں سب سے زیادہ دلچسپی اب تک دکھائی ہے وہ عقیل کریم ڈھیڈی کے مختلف معاملات سے متعلق ہے۔ مگر اس معاملے کے سیاق وسباق پر دھیان رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ یہ اندازا ہو سکے کہ اس کھیل کے پس پشت کون کون سے کردار متحرک ہیں؟ اور یہ معاملہ اصلاً کیا ہے؟

اصل مقدمہ کیا ہے؟

AKD

اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی اے کے مقدمے کو سمجھنے کے لئے کسی اور کو نہیں خود جنگ گروپ کی اشاعت کو ہی بنیاد بناتے ہیں۔ جنگ نے اپنی اشاعت میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف ایف آئی آر کی تفصیلات شائع کی ہیں ۔ جس کے مطابق ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی)کے شیئرز کی خریداری کے معاملے میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے مجرمانہ کردار(ایف آئی اے خود ہی عدالت بن گئی اور تعین کر دیا کہ اے کے ڈی کا کردار مجرمانہ ہے)سے قومی خزانے کو 29کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ۔ اس کی تفصیلات ایف آئی اے کی ایف آئی آر میں کچھ یوں درج ہے کہ میسرز ایمٹیکس کے مجموعی طور پر 17350000 حصص ای او بی آئی نے 337659914 روپے میں خریدے۔ایف آئی آر کے مطابق حصص کی یہ خریداری ای او بی آئی انوسٹمنٹ کمیٹی کی سفارش ومنظوری سے کی گئی۔ یہ کمیٹی ڈائریکٹر جنرل انوسٹمنٹ کنور خورشید وحید اور اس وقت کے چیئرمین ای او بی آئی ظفر اقبال گوندل پر مشتمل تھی۔ ان حصص کی مالیت 73.2 روپے فی حصص ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس عمل سے قومی خزانے اور ای او بی آئی کو 29 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

کیا اب تک جن جن اداروں کی ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پرجن جن کمپنیوں کا سرمایہ ڈوبا ہے ایف آئی اے اس پر اسی طرح کی کارروائی کرے گی؟

ایف آئی اے کی لمبی چوڑی ایف آئی آر میں ایمکیپ اور ایمٹیکس لمیٹڈ کی ملی بھگت کا ذکر ہے جس کے مالکان باپ بیٹے بتائے گئے ہیں۔ اس لمبی چوڑی تفصیلات کا عملاً اے کے ڈی سیکورٹیز سے کوئی تعلق نہیں۔ اُنہیں ایک جرم کے سہولت کنندہ کے طور پر اس طرح مقدمے میں ماخوذ کیا گیا ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز نے اپنی ایک ریسرچ رپورٹ میں ای پی ایس 10.7روپے اور 93.9روپے برائے سال2010ء اور 2011ء کے لئے پیشگوئی کی تھی۔ لیکن درحقیقیت میسر زایمٹیکس کو بھاری خسارہ ہوا۔ اور 2011ء میں ای پی ایس کم ہو کر منفی 17.7 روپے اور 2012ء میں4.10روپے ہو گئی۔
اب صرف ایف آئی آر کو بنیاد بنایا جائے تو اے کے ڈی وہ کمپنی ہے جس کی ریسرچ رپورٹ کو اس کا ذمہ دار سمجھا گیا ہے کہ اُس کے باعث ای او بی آئی کو نقصان پہنچا۔ ایف آئی اے کے سندھ کے ڈائریکٹر اور اپنے تئیں خود کو’’ ایماندار‘‘باور کرانے والے شاہد حیات نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اے کے ڈی سیکورٹیز کو اس معاملے میں سہولت کنندہ سمجھتے ہیں اور اُن کا یہ جُرم مرکزی مجرموں جیسا ہے۔ حیرت انگیز طور پر شاہد حیات سے پروگرام کے ذہین اینکر ندیم ملک نے یہ نہیں پوچھا کہ ایسا وہ صرف اسی مقدمے میں سمجھتے ہیں یا پھر وہ ہر ایف آئی آر میں سہولت کنندہ کو مرکزی ملز م کے طو رپر لیتے ہیں ۔ اب ذرا دیکھ لیجئے کہ مقدمے کی اس جہت میں خامیاں کتنی ہیں؟ اور یہ معاملہ کتنی دیر تک قانون کی نگاہوں میں ٹک پائے گا۔ سب سے پہلی بات ریسرچ رپورٹ کی ہے۔ آخر یہ کیا ہوتی ہے؟

ریسرچ رپورٹ کا قضیہ کیا ہے؟

ریسرچ رپورٹ دراصل کسی بروکریج ہاؤس کی طرف سے اعداوشمار کی بنیاد پر ایک اندازا ہوتا ہے جس کی کبھی بھی ذمہ داری نہیں لی جاتی۔ اس میں کسی کمپنی کے شیئرز کے امکانات اور خدشات دونوں کا تجزیہ ہوتا ہے۔ جس میں مجموعی طور پر مذکورہ صنعت کا ایک مکمل جائزہ بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ ساری تفصیلات مختلف گرافس کے ذریعے واضح کردی جاتی ہے۔ پھر آخر میں ایک Disclaimer یعنی اعلان لاتعلقی بھی دے دیا جاتا ہے جس سے ریسرچ رپورٹ دینے والی کمپنی خود کو بری الذمہ قرار دے لیتی ہے۔ دنیا بھر میں یہ اسٹاک مارکیٹ کا ایک مجموعی اور قابل اعتبار نمونہ ہے جس کی بنیا د پر سرمائے یا حصص کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس میں سرمایہ پھیلتا اور مزید منافع کے ساتھ دگنا اور کئی گنا بھی ہوتا ہے اور ڈوب بھی جاتا ہے۔ مگر آج تک دنیا میں کہیں پر بھی اسٹاک مارکیٹ کے اس مسلمہ طریقے میں ریسرچ رپورٹ کے اس طرح غلط ثابت ہونے پر کبھی کسی ادارے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر اس نوع کی کارروائی ہوئی ہے۔ اب اس سے جو سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ

اس معاملے کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کی جس ریسرچ رپورٹ کو بنیاد بنا کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہے وہ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری سے چھ ماہ پہلے 2010ء میں بنی تھی
  • کیا ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر ایف آئی اے اس طرح کی کوئی کارروائی کر سکتی ہے؟کیونکہ کسی بھی اسٹاک بروکریج ہاؤس کے خلاف محض ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی یہ پہلی کارروائی ہے۔
  • کیا کسی بھی ریسرچ رپورٹ کی بنیادپر شیئر ز کے غلط اندازوں کا یہ پہلا واقعہ ہے جسے بنیاد بنا کر کارروائی کی گئی ہے۔ اگر نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب تک جن جن اداروں کی ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر جن جن کمپنیوں کا سرمایہ ڈوبا ہے ایف آئی اے اس پر اسی طرح کی کارروائی کرے گی۔ کیا ایسا ہی ہو گا؟
  • ریسرچ رپورٹ کی بنیاد پر یہ ایک عمومی تبصرہ تھا۔ اب اِسے اے کے ڈی سیکورٹیز کے مخصوص مسئلے کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہاں موجود دیگر حقائق معاملے کی کس طرح کی نوعیت کو سامنے لاتے ہیں۔
  • اس معاملے کا سب سے پہلا نکتہ انتہائی اہم ہے کہ اے کے ڈی سیکورٹیز کی جس ریسرچ رپورٹ کو بنیاد بنا کر اتنی بڑی کارروائی کی گئی ہے وہ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری سے چھ ماہ پہلے 2010 ء میں بنی تھی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک چھ ماہ پہلے کی ریسرچ رپورٹ ای او بی آئی کے شیئرز کی خریداری کے وقت کتنی اور کہاں تک متعلق رہ سکتی تھی؟ ایک ایسی مارکیٹ میں جس کا بھروسا چھ دن تک نہیں کیا جا سکتا۔ پھر مجموعی طور پر پاکستان میں چھ ماہ تک کون سی مارکیٹ اپنی جگہ مستحکم رہتی ہے۔
  • اس ضمن میں ایک دوسرا نکتہ یہ بھی ہے کہ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ریسرچ رپورٹ میں شیئرز کی قیمت ساڑھے تیرہ روپے ظاہر کی گئی۔ اے کے ڈی سیکورٹیز کے ذرائع ایف آئی اے کی اس رپورٹ کو چیلنج کرتے ہیں کہ ریسرچ رپورٹ میں کہیں پر بھی یہ بات تحریر نہیں کی گئی۔

ریسرچ رپورٹ کے اس مجموعی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال جائز طور پر اُٹھایا جاسکتا ہے کہ آخر ایف آئی اے کو مرکزی ملزمان سے زیادہ بقول اُن کے ریسرچ رپورٹ کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کرنے میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟اوپر یہ بات تحریر کی جاچکی ہے کہ خود شاہد حیات نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں یہ کہا کہ وہ اس معاملے میں سہولت کنندہ کے ’’جرم‘‘ (وہ اِسے جرم کہنے کے مجاز کیسے ہوگئے)کو مرکزی مجرموں کے طور پر دیکھتے ہیں۔اس تناظر میں جنگ گروپ جہانگیر صدیقی کے ساتھ اپنے خاندانی تعلقات کے باعث جو دباؤ استعمال کر رہا ہے ، اُس کے کردار پر بھی بطور سہولت کنندہ کے ایک جائز سوال اُٹھتا ہے ۔

Jahangir-Siddiqui

جیو اور جنگ گروپ سے سوال

اگر سہولت کنندہ ہونے اور ایک ریسرچ رپورٹ کے باعث اے کے ڈی سیکورٹیز پر ایف آئی اے کی تفتیش جائز ہے تو پھر جنگ گروپ اور جیو میں آنے والے اشتہارات پر یقین کر کے جولوگ اپنی سرمایہ کاری کرتے ہیں، مختلف تعمیراتی منصوبوں میں جاکر پیسے لگاتے ہیں، اگر وہ ادارے لوگوں کے پیسے بٹور کر غائب ہو جائیں اور اُن تعمیراتی منصوبوں میں لوگوں کے پیسے ڈوب جائیں تو کیا یہ ادارے اس جعلسازی میں سہولت کنندہ کے طور پر اپنی ذمہ داری قبول کریں گے؟اگر ایسی ماضی کی بہت سی مثالیں پیش کی جائیں جس کے اشتہارات صرف جنگ میں لگے اور لوگوں کے ساتھ دھوکے ہوئے ہیں تو کیا ایف آئی اے اس پر تفتیش کرے گی؟ کیا ایماندار افسر کے ایمان میں اس سے کچھ جوش پیدا ہوگا؟

Mir-Shakil-ur-Rehman

اس مزے دار سوال سے قطع نظر اب یہاں اصل سوال اُٹھاتے ہیں کہ شاہد حیات ایک ریسرچ رپورٹ میں موجود اعلان لاتعلقی یعنی (disclaimer) کے باوجود ایسا کس قانون کے تحت کر رہے ہیں؟ اُن کی اس معاملے میں دلچسپی مرکزی ملزم کمپنی یعنی ایمٹیکس سے زیادہ اے کے ڈی سیکورٹیز کے خلاف کیوں ہے؟ وہ چائے سے زیادہ کیتلی پر کیوں گرم ہیں؟یہ سوالات بنیادی طور پر ہمیں شاہد حیات کے کردار کی جانب متوجہ کرتے ہیں۔

شاہد حیات کون ہیں؟

shahid-hayat

پاکستان کے جعلی ذرائع ابلاغ نے شاہد حیات کو ایک ایماندار افسر کے طور پر متعارف کرارکھا ہے۔ وہ کراچی کے سب سے زیادہ متنازع اور مخصوص مفاداتی گروہوں کے لئے کارگزار رہنے والی ایک شخصیت کا پس منظر رکھتے ہیں۔ مگر ہمارے جعلی ذرائع ابلاغ دراصل طاقت کے مراکز اور اُن ہی مفاداتی گروہوں سے فائدے کشید کرنے کے باعث یکطرفہ طو ر پر دن کو رات اور رات کودن باور کراتے رہتے ہیں۔ شاہد حیات پر عقیل کریم ڈھیڈی نے کچھ براہِ راست الزامات عائد کئے ہیں۔

شاہد حیات اگر اتنے ہی اُصول پسند افسر ہیں تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ اُنہوں نے اب تک ایگزیکٹ کے خلاف جو جو الزامات عائد کئے تھے اُن میں سے کتنے مقدمات عدالت میں لڑے؟

شاہد حیات نے ایک ٹی وی چینل پر یہ کہا کہ وہ ٹی وہ چینل پر نہیں عدالت میں مقدمہ لڑیں گے۔ اور اس طرح اُنہوں نے خود پر عائد الزامات کابراہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ مقدمہ عدالت میں ہی لڑنا چاہتے تھے تو پورا وقت ٹی وی پروگرام میں کیوں موجود رہے؟ اُنہوں نے وہ بھی باتیں کرنا کیوں ضروری سمجھا جو وہ اس مقدمے سے متعلق وہاں کرتے رہے۔ اگر وہ اتنے ہی اُصول پسند افسر ہیں تو سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ اُنہوں نے اب تک ایگزیکٹ کے خلاف جو جو الزامات عائد کئے تھے اُن میں سے کتنے مقدمات عدالت میں لڑے؟ اُنہوں نے ایگزیکٹ پر جو جو الزامات عائد کئے اُن میں سے کتنے مقدمات کے چالان عدالت میں پیش کئے؟ کیا وہ اپنے اس دعوے کے مطابق ذرا اپنے اُ س کردار کاجائزہ لینا بھی پسند کریں گے جو وہ ایگزیکٹ کے خلاف عدالت کے بجائے اسی میڈیا میں اپنا مقدمہ لڑ کر ظاہر کرتے رہے ہیں۔ شاہد حیات کی پوری زندگی اسی طرح کے تضادات پر مبنی ہے۔ شاہد حیات اسی طرح کی ہشیاری برتنے والے ایک پولیس افسر بھی رہے ہیں۔ جن کے متعلق بہت سی کہانیاں کراچی میں زیرگردش رہتی ہیں۔ یہاں محض ایک واقعہ پیش نظر رہے تاکہ اس اُصول پسند اور ایماندار افسر کی شہرت رکھنے والے شخص کے کردار کی جھلک میں حالیہ مسئلہ بھی سمجھنے میں آسانی ہو۔کراچی کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہے کہ مرتضیٰ بھٹو 20ستمبر 1996 ء کو کس طرح ایک سازش کے تحت 70۔ کلفٹن کے نزدیک پولیس کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو کے ایک ساتھی نور محمد کی ایک ایف آئی آر میں وہ شاہد حیات کو اُن ملزمان میں شامل کیا گیا تھا جو اس جعلی پولیس مقابلے کے ذمہ دار تھے۔ اس مقابلے کے وقت اے ایس پی صدر یہی شاہد حیات تھے جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اس مقابلے میں اُنہیں ایک گولی لگی اور وہ زخمی ہوئے۔ شاہد حیات کی اس میڈیکو لیگل رپورٹ کو چیلنج کیا گیا اور مقتول کے ورثاء کی طرف سے عدالت کو استدعا کی گئی کہ وہ ایک آزاد میڈیکل بورڈ سے تحقیق کروائے کہ کیا شاہد حیات کو گولی کسی مقابلے میں لگی ہے یا نہیں۔ اس پر آغاخان اسپتال سے ایک بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے رپورٹ پیش کی کہ شاہد حیات کو یہ گولی دور سے نہیں بلکہ بہت قریب سے لگی ہے جو وہ خود ہی اپنے آپ کو مار سکتے تھے۔ اس رپورٹ کو بدلوانے کے لئے بے پناہ دباؤ کا استعمال ہوا مگر آغاخان میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ میں کسی ردوبدل کو گوارا نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے دوڈاکٹر زنے اس دباؤ میں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کے بجائے استعفیٰ دے دیئے۔ یہ اس ایماندار افسر کی کہانی جو ذرائع ابلاغ کے جعلی کہانیوں میں ایک ہیرو کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔

mir-murtaza-bhutto

شاہد حیات کے اس ماضی کو دھیان میں رکھتے ہوئے ایگزیکٹ کی تازہ کارگزاری کوبھی سامنے رکھ لیا جائے جس میں وہ اب تک اس اداے پر عائد الزامات میں سے کسی ایک کو بھی درست ثابت کرنے میں ناکام رہے مگر اِسے پاکستان کے طاقت ور میڈیا یعنی جنگ گروپ اور ایکسپریس گروپ کی ایماء پر ٹھکانے لگانے کے لئے جعلسازی پر مبنی ایک میڈیا مہم میں اس کی امیج کو بالکل تباہ کرنے کا موجب بنے ہیں۔ تو پھراے کے ڈی سیکورٹیز والے مقدمے میں دھیان اُن الزامات پر جاتا ہے جو براہِ راست عقیل کریم ڈھیڈی نے شاہد حیات پر عاید کئے ہیں۔

عقیل کریم ڈھیڈی کے شاہد حیات پر الزامات

اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپہ مارنے سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر صدیقی (عقیل کریم ڈھیڈی کے پرانے حریف اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی) نے موہٹہ پیلیس میں شاہد حیات کے لئے ایک زبردست پروگرام کا انعقاد کیا
  • اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپہ مارنے سے ایک ہفتہ قبل جہانگیر صدیقی (عقیل کریم ڈھیڈی کے پرانے حریف اور میر شکیل الرحمان کے سمدھی) نے موہٹہ پیلیس میں شاہد حیات کے لئے ایک زبردست پروگرام کا انعقاد کیا۔
  • جہانگیر صدیقی کی پولو ٹیم کے ساتھ شاہد حیات کھیلتے ہیں۔
  • ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اے کے ڈی سیکورٹیز پر چھاپے سے کچھ عرصے قبل تحریک انصاف کے ایک آئی ٹی اسپیشلسٹ کو گرفتار کرکے لے گئی۔ جس پر یہ دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اے کے ڈی کے خلاف بیان دے گا تو اس کی گلوخلاصی ہوگی۔ عقیل کریم ڈھیڈی کے علم میں جب یہ معاملہ آیا اور اُنہوں نے متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر کو اس بابت فون کیا تو اُس نے کہا کہ یہ سب ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سندھ شاہد حیات کی ایماپر ہورہا ہے ۔ عقیل کریم ڈھیڈی کی طرف سے جب شاہد حیات سے رابطہ کیا گیا تواس ’’ایماندار افسر‘‘ نے اپنے ڈپٹی ڈائریکٹر کو اس لئے معطل کردیا کہ اُس نے اپنے ایماندار باس کا بھانڈا کیوں پھوڑا۔
  • عقیل کریم ڈھیڈی کے شاید حیات جہانگیر صدیقی کی ایماء پر مختلف لوگوں کواُٹھا کر اُن کی پھینٹی بھی لگاتے رہے ہیں جن میں اسٹاک ایکسچینج کا ایک ڈائریکٹر اور خود جہانگیر صدیقی کی اپنی بہن سلطانہ صدیقی کا بیٹا تک شامل ہے۔

یہ کوئی معمولی الزامات نہیں بلکہ ایک قانونی ادارے کی طاقت کو اپنے منافع بخش تعلقات کے لئے غیرقانونی طور پر استعمال کرنے سے متعلق ہیں۔ کیا ایسی صورت میں خود شاہد حیات پر عائد الزامات کی بھی تحقیق نہیں ہونی چاہئے؟

یہ اس پورے معاملے کے محض چند ایک اہم پہلو ہیں۔ مگر اس معاملے کی مجموعی تصویر اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک ہے جس میں سیاسی ، کاروباری اور صحافتی اکٹھ سے پاکستان کے تمام کاروباری اور سیاسی مفادات پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لئے ایک منظم مافیا حرکت میں ہے جس کے ڈانڈے ایوان وزیراعظم سے میر شکیل الرحمان کے گھر تک میں جاتے ہیں۔ ان تفصیلات کو آئندہ پر اُٹھا رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں


وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ وجود - پیر 12 اپریل 2021

وزیر اعظم عمران خان نے اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان فواد چوہدری کو دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ذرائع کے مطابق اتوار کو وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری خصوصی طورپر جہلم سے اسلام آباد پہنچنے اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فواد چوہدری کو اطلاعات و نشریات کا اضافی قلمدان دینے کا فیصلہ کیا ۔ ذرائع کے مطابق فواد چوہدری کو اضافی ذمہ داریاں ملنے کا نوٹیفکیشن (آج) پیر تک جاری ہونے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فواد چوہدری کو وزارتِ...

وزیر اعظم سے فواد چوہدری کی ملاقات ، وزیر اطلاعات کا اضاقی قلمدان دینے کا فیصلہ

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی وجود - پیر 12 اپریل 2021

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی ہے ۔فافن نے گزشتہ روز این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب پر اپنی رپورٹ جاری کردی ہے ۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ انتخاب شفاف رہے ، الیکشن عملے نے توجہ سے انتخابی عمل سرانجام دیا۔رپورٹ کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب میں انتخابی خلاف ورزیوں کے واقعات کم رونما ہوئے ، فافن عملے نے الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی۔فافن رپورٹ کے مطابق 193 میں...

فافن نے ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں 193 انتخابی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کردی

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا وجود - پیر 12 اپریل 2021

کراچی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے دوران الیکشن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا۔الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ اطلاع ہے کہ آپ حلقے میں پی ٹی آئی امیدوار کے جلسے میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔نوٹس میں کہا گیا کہ حلقے میں آپ کی موجودگی انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔خیال رہے کہ کراچی کے حلقہ این اے 249 کی یہ نشست فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد ہی خالی ہوئی ہے ، جنھوں نے 2018 کے عام...

الیکشن کمیشن نے سینیٹر فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کردیا

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد وجود - پیر 12 اپریل 2021

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے جنوبی افریقا پر پاکستان کے خلاف پہلے ٹی ٹوئنٹی میں سلو اوور ریٹ پر جرمانہ عائد کردیا۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقا کی کرکٹ ٹیم پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقی کپتان ہینرچ کلاسن نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فیصلے کو قبول کرلیا ہے ۔خیال رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقا کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں دلچسپ مقابلے کے بعد 4 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کیخلاف سلو اوور ریٹ پر جنوبی افریقا پر جرمانہ عائد

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل وجود - هفته 10 اپریل 2021

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز باقاعدہ شامل ہوگئے ۔سینیٹ سیکرٹریٹ نے 6 آزاد اراکین پر مشتمل سینیٹرز کے نئے آزاد گروپ کا سرکولر جاری کردیا۔سینیٹر دلاور خان آزاد گروپ کے پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے ہیں۔فاٹا کے دو آزاد اراکین سینیٹر ہلال الرحمن، سینیٹر ہدایت اللّٰہ آزاد گروپ میں شامل ہوگئے ۔

سینیٹ، گیلانی کے حمایت یافتہ گروپ میں 2 نئے سینیٹرز شامل

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد وجود - هفته 10 اپریل 2021

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16لاشوں کو نکال لیا گیا ہے اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔یاد رہے کہ جوا کی کے پہاڑی علاقے میں مارچ 2012 میں اجتماعی قبروں سے 50 سے زائد لاشیں ملی تھیں۔

کوہاٹ کے پہاڑی علاقے بوبو خیل میں اجتماعی قبر سے 16 لاشیں برآمد

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں وجود - هفته 10 اپریل 2021

اقوام متحدہ کی فوڈ ایجنسی کے مطابق عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں میں 10 ماہ سے اضافہ جاری ہے جس نے رواں سال مارچ کے مہینے میں جون 2014 کے بعد سے بلند ترین سطح کو عبور کرلیا ہے جس کی وجہ خوردنی تیل، گوشت اور دودھ کے نرخوں میں اضافہ ہے ۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کا فوڈ پرائز انڈیکس، جو اناج، دالیں، دودھ سے بنی مصنوعات، گوشت اور چینی کی قیمتوں میں ماہانہ تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے ، کے مطابق ان کی قیمتوں میں گزشتہ ماہ اوسطاً 118.5 پوائنٹس ...

عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتیں 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت وجود - هفته 10 اپریل 2021

ترکی نے اطالوی وزیر اعظم ماریو ڈریغی کی جانب سے ترک صدر رجب طیب اردوان پر یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین کی توہین کرنے اور انہیں آمر کہنے کے الزامات عائد کرنے کی مذمت کی ہے ۔تفصیلات کے مطابق وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے منگل کے روز انقرہ میں ترک صدر سے ملاقات کی تھی۔رپورٹ کے مطابق کمیشن کے سربراہ کو ملاقات میں کرسی نہ مل سکی تھی کیونکہ اس ملاقات کے دوران صرف دو کرسیاں تیار کی گئی تھیں جس پر یورپی کونسل کے صدر اور ترک صدر بیٹھ گئے تھے ۔طیب اردوان ا...

اطالوی وزیراعظم کے طیب اردوان کو 'آمر' کہنے پر ترکی کی مذمت

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے وجود - هفته 10 اپریل 2021

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شوہر، برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک رائل کونسورٹ کے عہدے پر رہنے والے شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے ۔شہزادہ فلپ کی موت کا اعلان شاہی خاندان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ٹوئٹ میں کیا گیا۔ٹوئٹ میں کہا گیا کہ انتہائی دکھ کے ساتھ ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزاد فلپ، ڈیوک آف ایڈنبرا نہیں رہے ۔رائل فیملی کی ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ شہزادہ فلپ کی اچانک موت آج (9اپریل کی) صبح کو ونڈسر محل میں ہوئی۔بیان میں کہا گ...

ملکہ برطانیہ کے شوہر، شہزادہ فلپ 99 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان وجود - هفته 10 اپریل 2021

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔عرب میڈیا کے مطابق ماہرین فلکیات نے بتایا کہ اس سال سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل بروز منگل کو ہونے کا امکان ہے ۔ماہرین فلکیات کے مطابق اس سال رمضان المبارک میں 30 روزے اور چار جمعے ہوں گے ۔ماہرین کے مطابق رواں برس سعودی عرب میں عید الفطر 13 مئی کو ہونے کی توقع ہے ۔

سعودی عرب میں پہلا روزہ 13 اپریل کو ہونے کا امکان

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق وجود - هفته 10 اپریل 2021

نومولود بچوں کی نگہداشت کرنے والی مائیں کووڈ 19 ویکسین سے حاصل ہونے والی اینٹی باڈیز اپنے دودھ کے ذریعے کئی ماہ تک بچوں میں منتقل کرتی ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں 5 ماؤں کو شامل کیا گیا تھا جن کو فائزر/بائیو این ٹیک کورونا وائرس استعمال کرائی گئی تھی۔تحقیق میں ان ماؤں کے دودھ کے نمونوں میں ویکسین کی پہلی خوراک سے قبل اینٹی باڈیز کی سطح کو دیکھا گیا اور پھر ویکسین کے بعد 80 دن تک روانہ کی بنیاد پر ...

ماں کے دودھ سے کووڈ 19 کی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، تحقیق

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار وجود - جمعرات 08 اپریل 2021

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں قومی مردم شماری کے نتائج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا، اختلافات برقرارہیں، پیر کوورچوئل اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی سی آئی کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ طویل مدت سے آئینی تقاضے سے انحراف کیاجا رہا تھا آئین کے تحت سی سی آئی کا مستقل سکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 44 واں اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ وزراء اور حکام شریک ہوئے جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں...

مشترکہ مفادات کونسل میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافات برقرار