وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

سعودی عرب ایران تنازع، ایک نقشے کے روپ میں

جمعرات 07 جنوری 2016 سعودی عرب ایران تنازع، ایک نقشے کے روپ میں

شیعہ عالم دین نمر النمر کی سزائے موت کے بعد سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہوگئے ہیں اور خطہ ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ شام کے تنازع جو دونوں علاقائی حریفوں میں جو امن بات چیت ہونے جا رہی تھی وہ بھی اب خطرے سے دوچار ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحادی بحرین، سوڈان، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے ہیں اور دوسری جانب عراق اور لبنان میں ایران نواز جنگجوؤں نے نمر النمر کی موت کا بدلہ لینے کی باتیں کی ہیں۔ حالات بہت سنگین ہیں اور کوئی بھی دوسرا واقعہ انہیں مزید خراب کر سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں موجودہ صورت حال کیا ہے۔ فرانس کے ایمانوئیل پینے نے ایک نقشے کے ذریعے اسے بہت اچھی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے علاقائی اتحادی کون سے ہیں اور دونوں فرقہ ورانہ تقسیم کو اپنے فائدے کے لیے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ بھی دیکھیں

saudi-iran-proxy-war-map


متعلقہ خبریں


"سعودی حکمران گستاخ، بے ایمان ہیں،" خامنہ ای نے تمام حدیں پار کر ڈالیں وجود - بدھ 07 ستمبر 2016

حج بیت اللہ کے لیے دنیا بھر سے فرزندان توحید سرزمین حجاز پہنچ چکے ہیں، سوائے ایک ملک کے، ایران! سعودی عرب کی مخالفت میں حج جیسے اہم فریضے کو پیچھے چھوڑنے والے ایران کے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کہتے ہیں کہ اسلامی دنیا کو حرمین شریفین کے انتظامات پر سعودی عرب کو چیلنج کرنا چاہیے۔ خامنہ ای نے کہا کہ "سعودی حکمرانو! ایرانی مسلمانوں کو حج بیت اللہ سے روکنے والے رسوا اور گمراہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ظلم کے اقتدار میں ان کی بقا دنیا کی بدترین طاقتوں کا دفاع کرنے پر منحص...


اسرائیل کو چھوڑو، سعودی عرب کو نشانہ بناؤ: ایران کی حزب اللہ کو ہدایت وجود - بدھ 18 مئی 2016

لبنان کی حزب اللہ کو ایران کی جانب سے ہدایت ملی ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیوں کو معطل کرکے سعودی عرب کو نشانہ بنائے۔ یہ ہدایت شام میں اپنے اہم کمانڈر مصطفیٰ بدر الدین کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر پھیلے غم و غصے کے بعد دی گئی ہے، جس کا الزام حزب اللہ سعودی عرب کے "تکفیری" عناصر پر لگا رہا ہے۔ انتہائی قابل اعتماد ذرائع کے مطابق یہ حکم پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی نے بذات خود دیے ہیں، جو کمانڈر کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بیرو...

اسرائیل کو چھوڑو، سعودی عرب کو نشانہ بناؤ: ایران کی حزب اللہ کو ہدایت

مالدیپ نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے وجود - بدھ 18 مئی 2016

حکومت مالدیپ نے ایران کے ساتھ اپنے 40 سالہ سفارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے، اور کہا ہے کہ ایران کی پالیسیاں مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔ مالدیپ کی وزارت خارجہ سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کا خود مالدیپ کے امن، استحکام اور تحفظ سے تعلق ہے۔ بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل اس ننھے سے ملک کی آبادی ساڑھے 3 لاکھ کے قریب ہے اور تقریباً تمام آبادی مسلمان ہے اور سعودی عرب سے کافی قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ گزشتہ سال سعودی عرب ...

مالدیپ نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کرلیے

مشرق وسطیٰ میں حزب اللہ کے چینل کی نشریات روک دی گئیں وجود - جمعرات 07 اپریل 2016

ایک مشہور عرب سیٹیلائٹ آپریٹر نے حزب اللہ کے ٹیلی وژن چینل 'المنار' کی نشریات روک دی ہیں۔ یہ قدم لبنان سے تعلق رکھنے والے شیعہ گروہ کے پشت پناہ ایران اور اس کے حریف سعودی عرب کے درمیان جاری کشمکش میں نیا موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ ٹیلی وژن چینل المنار اور قاہرہ میں قائم نائل سیٹ دونوں نے تصدیق کی کہ چینل کی نشریات اس الزام کے ساتھ روکی گئی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ تنازع کو ہوا دے رہا ہے اور یوں معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ چینل کے جنرل مینیجر ابراہیم فرحت کہتے ہیں کہ یہ سراسر ایک...

مشرق وسطیٰ میں حزب اللہ کے چینل کی نشریات روک دی گئیں

سعودی-ایران میں کشیدگی: پاکستان کے مصالحتی مشن کی سعودی قیادت سے ملاقاتیں وجود - پیر 18 جنوری 2016

سعودی عرب اور ایران کے درمیان اپنے مصالحتی مشن کے آغاز میں وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف سعودی دارالحکومت ریاض پہنچ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ سلمان ایئر بیس پہنچے، جہاں ریاض کے گورنر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ بعد ازاں وزیر اعظم نواز شریف شاہی محل روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے سعودی فرماں رواشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی ، اس موقع پر جنرل راحیل شریف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ ...

سعودی-ایران میں کشیدگی: پاکستان کے مصالحتی مشن کی سعودی قیادت سے ملاقاتیں

وزیراعظم اور فوجی سربراہ کا سعودی عرب اور ایران کے دورے کا فیصلہ: ثالثی کردار ادا کرنے کی تیاریاں محمد احمد - هفته 16 جنوری 2016

پاکستان نے بالآخر سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خاتمہ کرنے کے لئے ایک مثبت اور سرگرم کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نوازشریف اور فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف مشترکہ طور پر بروز پیر( 18 جنوری ) سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل وزیراعظم نوازشریف نے وزیردفاع خواجہ آصف کا پہلے سے طے شدہ 18 جنوری کو ایران کا دورہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دوران میں اُنہوں نے فوجی سربراہ کے ساتھ مشاورت سے 18 جنوری کوپہلے سعودی عرب اور پھر ایرا...

وزیراعظم اور فوجی سربراہ کا سعودی عرب اور ایران کے دورے کا فیصلہ: ثالثی کردار ادا کرنے کی تیاریاں

وزیر دفاع خواجہ آصف کا دورہ ایران منسوخ: سعودی ایران کشیدگی میں فیصلے کی اہمیت بڑھ گئی! وجود - هفته 16 جنوری 2016

وزیر دفاع خواجہ آصف کا پیر 18 جنوری سے طے شدہ دورہ ایران منسوخ کردیا گیا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان پہلے سے طے شدہ نظام الاوقات کے مطابق دوطرفہ دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے وزیر دفاع خواجہ آصف کو دو روزہ دورے پر تہران جانا تھا۔ بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ دورہ وزیراعظم نواز شریف کی ہدایات پر منسوخ کیا گیا ہے۔ وزارت دفاع کی طرف سے دورے کی منسوخی کی تصدیق کے باوجود اس فیصلے کے حوالے سے کوئی سرکاری وجہ بیان نہیں کی گئی۔ بعض ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یہ...

وزیر دفاع خواجہ آصف کا دورہ ایران منسوخ: سعودی ایران کشیدگی میں فیصلے کی اہمیت بڑھ گئی!

پچیس سال بعد بغداد میں سعودی سفارت خانہ کھل گیا وجود - جمعرات 14 جنوری 2016

جب 1990ء میں صدام حسین نے سعودی عرب کے اتحادی کویت پر حملے کا اعلان کیا تھا تو سعودی عرب نے بغداد میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ اس کے بعد سے اب تک نہ عراق کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال ہوئے اور نہ ہی کوئی سفارت خانہ سرزمین عراق پر کھلا۔ لیکن حیران کن طور پر عین اس وقت جب ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور شیعہ اکثریتی عراق میں سعودی عرب کے خلاف زبردست مظاہرے بھی ہوئے ہیں، بغداد کے عین قلب میں سعودی سفارت خانہ کھل گیا ہے۔ ربع صدی بعد ع...

پچیس سال بعد بغداد میں سعودی سفارت خانہ کھل گیا

مشرق وسطیٰ میں امن، چین کا سعودی عرب اور ایران پر زور وجود - پیر 11 جنوری 2016

چین نے ایک حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے گزشتہ ہفتے سعودی عرب اور ایران میں اپنا نمائندہ بھیجا ہے اور دونوں ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی پر ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ یہ سفارتی اقدام اپنی نوعیت میں منفرد ترین ہے کیونکہ تیل کی رسد کے لیے خطے پر انحصار کے باوجود چین نے یہاں کے پالیسی معاملات کو ہمیشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر اراکین کے لیے چھوڑا ہے، یعنی امریکا، برطانیہ، روس و فرانس لیکن پہلی بار ایک نازک ترین موقع پر نائب وزیر خارجہ چینگ منگ کو دونوں ممالک کے دورے ...

مشرق وسطیٰ میں امن، چین کا سعودی عرب اور ایران پر زور

دنیا کا خطرناک ترین آدمی؟ وجود - اتوار 10 جنوری 2016

جب محمد بن سلمان کی عمر صرف 12 سال تھی تو وہ اپنے والد سلمان بن عبد العزیز کی زیر قیادت ہونے والے اجلاسوں میں شریک ہوتے تھے، جب وہ سعودی عرب کے صوبہ ریاض کے گورنر تھے۔ 17 سال بعد، 29 سال کی عمر میں وہ دنیا کے نوجوان ترین وزیر دفاع کی حیثیت سے یمن میں ایک وحشیانہ جنگ میں ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔ مملکت سعودی عرب اپنے علاقائی رقیب ایران کے ساتھ کشیدگی کا حصہ بنا ہوا ہے، اور اس معاملے میں سعودی عرب کا علم ایک ایسے شخص کے پاس ہے جسے مشرق وسطیٰ کا طاقتور ترین رہنما بننا ہے، محم...

دنیا کا خطرناک ترین آدمی؟

ایران سعودی عرب کے خلاف اقوام متحدہ پہنچ گیا وجود - هفته 09 جنوری 2016

سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی بحران نہ صرف دوسرے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے بلکہ اس میں ایک نیا موڑ بھی آیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے جواد ظریف نے سعودی عرب کی شکایت کے لیے ایک خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ریاض میں "چند لوگ" پورے خطے کو جان بوجھ کو بحران سے دوچار کرنا چاہ رہے ہیں۔ تیل کی دولت سے مالا مال خطے کی دونوں بڑی طاقتیں 2 جنوری سے سفارتی طور پر باہم دست و گریباں ہیں، جب سعودی عرب نے حکومت مخالف شیعہ عالم دین شیخ ن...

ایران سعودی عرب کے خلاف اقوام متحدہ پہنچ گیا

نمر النمر کون ہیں؟ سعودی عرب میں جاری سرگرمیوں کے حقائق کی تفصیلات سامنے آگئیں ! وجود - جمعه 08 جنوری 2016

سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی اور ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث شیعہ مذہبی رہ نما نمر النمر کو دی گئی سزائے موت پر ایک واویلا مچا ہوا ہے۔ مگر اس سے متعلق اصل حقائق کو کھوجنے کی جستجو کہیں پر بھی نہیں پائی جاتی۔ گزشتہ دنوں عرب ذرائع ابلاغ پر اس موضوع پر نہایت چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق نمر باقر النمر نامی شدت پسند مذہبی رہ نما طویل عرصے تک دہشت گردوں کی حمایت کرتے رہے۔مگر اُن کی تقاریر کے ذریعے سعودی عرب میں دہشت گردی کی حمایت کو بوجوہ ...

نمر النمر کون ہیں؟ سعودی عرب میں جاری سرگرمیوں کے حقائق کی تفصیلات سامنے آگئیں !