... loading ...

وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ اُن کی وزیراعظم سے ناراضی تھی، ہے ، نہ ہوگی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیر اعظم نواز شریف سے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی اہم ملاقات میں کراچی آپریشن پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ تاہم رینجرز کے اختیارات کے متنازع مسئلے کر مل بیٹھ کر حل کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔مبصرین کے نزدیک ان میں سے کوئی ایک بات بھی نئی نہیں ہے جو اس ملاقات کے نتیجے میں الگ طور پر بیان کی جاسکی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت پہلے سے ہی کراچی آپریشن کی حامی ہے۔ وہ صرف رینجرز کے اختیارات کی حدود پراپنے تحفظات دور کرنا چاہتی ہے جو ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کے بعد اُسے لاحق ہیں۔اور جسے وہ صوبائی خودمختاری میں مداخلت کے ہم معنی قرار دے رہی ہے۔ مگر میاں نوازشریف نے کم ازکم اس ملاقات میں قائم علی شاہ کو اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔ تاہم اُنہوں نے ملاقات میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کو اگلے ہفتے کراچی کا دورہ کرکے سندھ حکومت کے تحفظات کو دور کرنے کی تاکید کردی ہے۔
اس پر قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ رینجرز کے اختیارات کے متعلق وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے تحفظات دور نہیں کئے تو ساٹھ دنوں کے بعد ایک بار پھر یہ مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے یہ الفاظ دراصل سندھ حکومت کی ایک متعین حکمت عملی کے تناظر میں کہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت کےرینجرز کے اختیارات کے متعلق نوٹیفیکیشن پر اعتراضات اور احتجاج برقرار رکھتے ہوئے اسے ساٹھ دنوں تک جوں کاتوں قبول کر لے گی۔ اس دوران میں اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ رینجرز کی طرف سے کوئی بڑی چھیڑخانی نہیں کی جاتی تو خاموشی اختیار کی جائے گی، لیکن اگر رینجرز نے ڈاکٹر عاصم حسین کے انکشافات کی روشنی میں اپنی تفتیش کے دائرے کو وسیع کرتے ہوئے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی بڑی شخصیات کو قانونی شکنجے میں کسنے کی کوشش کی تو پھر نوٹیفیکشن کی مدت یعنی ساٹھ روز گزار کر رینجرز کی خدمات لینے یا نہ لینے کے مرحلے پر سندھ حکومت اپنے انتہائی اقدام پر بھی غور کرے گی، جس میں رینجرز کی مزید خدمات نہ لینے کا ممکنہ فیصلہ بھی ہوسکتا ہے۔
اس پورے تناظر میں سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنماوؤں نے رینجرز کو حاصل ساٹھ دنوں کے لئے ان نئے اختیارات کو عدالت میں چیلنج کرنے کے آپشن کو بھی استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس دوران میں سائیں سرکار صرف یہ کوشش کریں گے کہ وفاقی حکومت اُنہیں رینجرز کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائے کہ اُن کی حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو ڈاکٹر عاصم حسین کے بعد کسی اور مسئلے میں ہدف نہیں بنا یا جائے گا۔اگر یہ ممکن ہو سکا تو پھر یہ تنازع نہایت خاموشی سے ختم ہو جائے گااور اگر اس معاملے میں رینجرز نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی تو پھر قائم علی شاہ کی صوبائی حکومت رینجرز کو ملنے والےساٹھ روزہ اختیارات اپنی مدت اختتام پر نئے تنازعات میں گھر جائیں گے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی ملاقات میں سندھ میں رینجرز کے اختیارات کے علاوہ کراچی میں جاری آپریشن پر 9 ارب روپے کے اخراجات سے متعلق تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، سندھ کے وزراء مراد علی شاہ اور سہیل انور سیال بھی ملاقات میں شریک تھے۔وزیراعلی سندھ رینجرز کے اختیارات کے تنازع پر بات چیت کے لئے وزیر اعظم کی دعوت پر اسلام آبادپہنچے تھے۔جو گزشتہ ایک ماہ سے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان نزاع کا سبب بنا ہوا ہے۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...