وجود

... loading ...

وجود

عمران خان جیسے آدمی پر ہاتھ اُٹھا سکتی ہوں تو یہ اسٹاف کیا چیز ہے! ریحام کا نیو کے دفتر میں پہلا جھگڑا

پیر 14 دسمبر 2015 عمران خان جیسے آدمی پر ہاتھ اُٹھا سکتی ہوں تو یہ اسٹاف کیا چیز ہے! ریحام کا نیو کے دفتر میں پہلا جھگڑا

reham imran

ریحام خان نے نیو کے لئے اپنے پروگرام’’ تبدیلی‘‘کی ریکارڈنگ کرادی ہے،جو آج نشر ہوگا۔ یہ ریکارڈنگ آئندہ دنوں میں ملک میں تو یقینا کوئی تبدیلی نہیں لاسکے گا۔ مگر نیو ٹی وی چینل میں خاصی تبدیلیاں لانے والا ہے۔ ریحام خان کو پہلا مسئلہ ہی یہ درپیش ہے کہ اُسے اپنے پروگرام میں کوئی مہمان میسر نہیں آرہا۔ ٹی وی کے مہمانوں کے ساتھ کئے جانے والے پروگراموں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ صرف پیپلز پارٹی کے مہمانوں کے ساتھ موثر نہیں ہوتے۔ اس میں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے مہمانوں کی موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ ریحام خان کے پروگرام میں کسی تحریک انصاف کے رہنما کی شرکت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مگر مسلم لیگ نون کے رہنما بھی اس پروگرام میں شرکت کے حوالے سے نہایت محتاط ہیں ۔ اب تک اسلام آباد سے اس پروگرام کے ایگزیکٹو پروڈیوسر نے جن لیگی رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں۔ اُن میں صف اوّل کے کسی بھی رہنما نے پروگرام میں شرکت کی حامی نہیں بھری، جبکہ درجہ دوم کے سیاست دان بھی اس پروگرام میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ اس متوقع پریشانی کا اندازہ ٹی وی انتظامیہ نے کسی بھی سطح پر نہیں لگایا تھا۔ چنانچہ اب یہ مسئلہ ایک بحران بن کر تبدیلی کے پہلے پروگرام میں اس طرح نمایاں ہو ا ہے کہ اس میں ایک مہمان کے طور پر ریحام خان نے ایک دوسری اینکر خاتون عاصمہ چوہدری کو مدعو کیا ہے۔

2

ایک ناپختہ ٹیم کے ساتھ عجلت میں سامنے لائے گیے چینل کی نوزائیدگی اور کم مائیگی کا خیال نہ کرتے ہوئے ریحام خان نے اس پروگرام کی ریکارڈنگ میں گرجنے برسنے سے آغاز کیا ۔ اور بعض سنگین نوعیت کے مسائل پہلے پروگرام کی پہلی ہی ریکارڈنگ سے پیدا کر دیئے ہیں۔ نیو کے ساتھ اُس کے آغاز سے ہی کچھ فنی مسائل ہیں۔ جس میں سمعی خرابیاں بھی شامل ہیں۔ ریحام خان نے جب ریکارڈنگ کے دوران اس سمعی (آڈیو) مسئلے کا سامنا کیا تو وہ آپے سے باہر ہو گئیں۔ اورریکارڈنگ کے وقفے میں کہا کہ ’’میرے اسٹاف کو ‘behave’ کرنا پڑے گا، میں جب عمران خان جیسے آدمی پر ہاتھ اُٹھا سکتی ہوں تو یہ اسٹاف کیا چیز ہے؟‘‘ اس جملے کی ادائی کے فوراً ہی بعد جو وقفے کے باوجود ریکارڈ ہو چکا ہے۔ چینل کے مالک چوہدری عبدالرحمان کو مطلع کیا گیا کہ موصوفہ کی زبانِ شیریں سے ان الفاظ کی رال ٹپکی ہیں۔وجود ڈاٹ کا م کو اسلام آباد کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس پر اسٹاف کوفوراً ہی چوہدری عبدالرحمان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ مذکورہ فوٹیج اُنہیں واٹس ایپ کریں اور ریکارڈنگ سے حذف کردیں ۔ ریحام کا یہ فقرہ جو سیاسی طور پر خاصا کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کہاں سے ’’لیک‘‘ کیا جاتا ہے۔ اس فقرے کے خریداروں میں ماڈل ٹاؤن کا ایک’’ گھر ‘‘بھی ہو سکتا ہے جو اِسے اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے مناسب دام میں حاصل کرنا چاہے گا۔ اور عمران خان سے اپنی بے عزتی کی قیمت وصول کرسکتا ہے۔ اس فقرے کی ادائی کے ساتھ ہی ریحام خان نے دراصل مشہور صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی کی اس خبر کو بھی خود ہی درست ثابت کر دیا ہے، جس میں اُنہوں نے منکشف کیا تھا کہ ریحام خان نے عمران خان پر ہاتھ اُٹھانے کی بھی کوشش کی تھی۔

چوہدری عبدالرحمان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ مذکورہ فوٹیج اُنہیں واٹس ایپ کریں اور ریکارڈنگ سے حذف کردیں ۔ ریحام کا یہ فقرہ جو سیاسی طور پر خاصا کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کہاں سے ’’لیک‘‘ کیا جاتا ہے۔

اس معاملے کا ایک اور حیرت انگیز اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ریحام خان عارف نظامی کی خبروں پر بہت گرجتی برستی رہی ہیں۔ مگر عملاً وہ جب بھی اس موضوع پر لب کشائی کرتی ہیں تو وہ عارف نظامی کی خبروں کو درست ثابت کرنے کی موجب بنتی ہیں۔ اپنی اس کیفیت کے باعث وہ عارف نظامی پر گفتگو کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ چنانچہ وجود ڈاٹ کام کو معلوم ہو اہے کہ اپنے پہلے ہی پروگرام میں موصوفہ نے عارف نظامی پر تبریٰ بھیجنے سے گریز نہیں کیا۔ اگر ریکا رڈ شدہ پروگرام میں سے عارف نظامی کے متعلق ادا کئے گیے الفاظ آخر وقت تک قطع وبُرید (ایڈیٹنگ) کے عمل سے نہیں گزرے تو صحافتی برادری میں ریحام خان کے الفاظ اُن کا اپنا مضحکہ اڑانے کے لئے کافی ہوں گے۔ اُنہوں نے اپنے پروگرام میں کہا ہے کہ میری کردار کشی کے لئے ایسے لوگوں نے حصہ لیا ، جن کا میں نے کبھی نام ہی نہیں سنا۔ پھر موصوفہ نے عارف نظامی کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے اُنہیں ایک غیر معروف صحافی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ میرے بارے میں غلط خبریں دیتے ہوئے دراصل صحافت میں اپنا قد بلند کرتے رہے ہیں۔

arif-nizami

یہ ایک حُسنِ اتفاق ہی ہے کہ عارف نظامی نے آج کے ہی دن روزنامہ دنیا میں اپنا اردو کالم دوبارہ شروع کردیا ہے۔ وہ بنیادی طور پر انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار پاکستان ٹوڈے کے ایڈیٹر ہیں۔ اور ایک ٹی وی’’ چینل 24 ‘‘پر ہفتے میں چار دن براہِ راست پروگرام بھی کرتے ہیں۔ ریحام خان کو شاید معلوم نہیں کہ جب اُنہوں نے اپنی بلوغت کی عمر میں قدم رکھ کر ابھی پہلے شوہر اعجاز رحمان کے ساتھ جھگڑے شروع کئے ہوں گے، یا اُن کے ساتھ ہاتھا پائی کا آغا زکیا ہوگا ، تب عارف نظامی یہ خبر دے رہے تھے کہ غلام اسحق خان بے نظیر بھٹو کی حکومت کو چلتا کرنے والے ہیں۔ عارف نظامی کا خاندان پاکستان کے قیام کے ساتھ صحافت کررہا ہے۔ اور دی نیشن کے اداریئے جب عارف نظامی لکھا کرتے تھے،تو وہ پاکستان کے انگریزی اخبار میں واحد اداریہ ہوتا تھا جس میں تبصرے کے ساتھ خبریت بھی ہوتی تھی۔ عارف نظامی نے روزنامہ دنیا میں اپنا پہلا کالم ’’پھر حاضری ‘‘ کے عنوان سے سجایا ہے،اور اس میں اجمالاً عمران خان کی شادی کے متعلق اپنی خبروں کے خالص پیشہ ورانہ میریٹ کا ذکر کیا ہے۔ اگر ریحام خان کے الفاظ جوں کے توں نشر کئے جاتے ہیں ، تو ممکنہ طور پر اُن کے ٹی وی پروگرام یا پھر کالم زیربحث سے کچھ مزید چسکے کشید کئے جاسکیں گے، جو ممکنہ طور پر انکشافات کے دائرے میں آتے ہوں۔

ریحام خان کے پروگرام ’’تبدیلی‘‘ کی ریکارڈنگ کے دوران مزید کچھ واقعات بھی نہایت دلچسپی کے حامل ہیں۔ موصوفہ نے اپنے پہلے پروگرام میں ایگزیکٹو پروڈیوسر مبین رشید کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا۔ مبین رشید لندن میں ہونے والی میڈیا کانفرنس کے میزبانوں میں شامل تھے ، اُنہوں نے ہی ریحام خان کے نیو میں معاملات طے کرانے کی حکمت عملی میں حصہ لیا اور ریحام کا تین اقساط پر مشتمل تفصیلی انٹرویو بھی کیا ۔ مگر اب وہ اس پروگرام اور خود نیو انتظامیہ کے لئے بھی شاید بوجھ بن گئے ہیں اسی لئے جب وہ اسلام آباد میں پروگرام کے ایگزیکٹو پروڈیوسر کی حیثیت میں ریکارڈنگ والے روز پہنچے تو اُنہیں ریحام خان نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے روک دیا ، اور کہا کہ وہ باہر تشریف رکھیں کیونکہ وہ اپنے اسٹاف کے ساتھ میٹنگ میں مصروف ہیں۔ دوگھنٹے کے طویل انتظار کے بعد جب اُنہوں نے نیو کے ڈائریکٹر پروگرام تیمور شجاع سے اس اذیت ناک صورتِ حال کے بارے میں معلوم کرنا چاہا تو اُنہیں انتظامیہ کی مرضی کا جواب انتہائی مودبانہ انداز سے دے دیا گیا۔ مبین رشید کے لئے اب شاید واپس لندن میں ایک دوسری میڈیا کانفرنس کی تیاری کا راستہ ہی باقی بچا ہو۔

ریحام خان نے پروگرام کی ریکارڈنگ سے قبل ، ریکارڈنگ کے دوران میں اورریکارڈنگ کے بعد انتہائی سخت الفاظ ٹی وی انتظامیہ کے لئے باربار اور متواتر استعمال کئے۔ وہ مسلسل نیو کی خرابیوں اورکمیوں کی نشاندہی کرتی رہیں۔ اور ایک موقع پر تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’میں نے تین دن پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ یہاں سے چلی جاؤں ، مگر مجھے کسی نے یہ مشورہ دیا کہ ابھی فوراً ادارے کو چھوڑنا مناسب نہیں ہے۔ اگر انتظامیہ نے میری ضرورتیں پوری نہیں کی تو میں یہاں پر نہیں رہوں گی۔‘‘ کہتے ہیں کہ خربوزے کو دیکھ کر تربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔چنانچہ ریحام خان کی فرمائشوں کی انتظامیہ کی طرف سے ہانپتے کانپتے مسلسل تکمیل کو دیکھتے ہوئے اسلام آباد میں ایک اور پروگرام کے اینکر نے بھی اپنی فرمائشوں کی ایک لمبی فہرست انتظامیہ کو تھما دی ہے۔ پروگرام اختلاف کے میزبان بابر اعوان نے نیو کے ڈائریکٹر پروگرام تیمور شجاع کو بلا کر اُنہیں اپنے پروگرام کے لئے درکار سہولتوں کی ایک لمبی فہرست تھما دی ہے۔ اسلام آباد کے نیو دفتر میں اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے نچلے درجے کے اسٹاف نے اپنی نوکریوں کی تلاش کا عمل شروع کردیا ہے۔ اُنہیں ریحام کے پروگرام کی ریکارڈنگ کے بعد آپس میں یہ گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا کہ ادارہ صرف ریحام خان اور بابر اعوان کے دو پروگرامات پر 86 لاکھ کے بھاری اخراجات اُٹھا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال نیو جیسے ادارے کے لئے زیادہ دیر تک قابلِ برداشت نہیں ہوگی اور اُسے جلد کٹو تیوں کی طرف جانا پڑے گا۔

اس پوری صورتِ حال کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریحام خان اور کچھ کرے یا نہ کرے مگر ’’نیو‘‘ چینل کو ضرور تبدیل کردے گی۔ کہتے ہیں کہ چھوٹی آنکھوں میں بڑے خواب اور بڑے پاؤں میں چھوٹے جوتے چبھتے بہت ہیں۔ لیکن ٹی وی مالکان ابھی ریحام کی آمد کے رومان سے ہی نہیں نکل سکے کہ وہ اُن سوراخوں کا اندازا کرے جو کشتی میں ہونے لگے ہیں۔ ابھی تو ریحام کچھ بھی کرے، ٹی وی چینل کے مالک کے لئے یہ خوشخبری ہی بہت ہے کہ کمپنی کی مشہوری جاری ہے۔ مگر مشہور تو ریما بھی بہت ہے۔


متعلقہ خبریں


وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف وجود - بدھ 28 جنوری 2026

خیبر پختونخوا حکومت فوج پر ملبہ ڈالنا چاہتی ہے، جرگہ کے بعد صوبائی حکومت کی طرف سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا صوبائی حکومت کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،وزیر دفاع کی پریس کانفرنس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی معمول کی بات ہے، خیبر پختو...

وادی تیراہ میں نقل مکانی ہے فوجی آپریشن نہیں،خواجہ آصف

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

وادی تیراہ کے جس علاقے میں آپریشن کیا جا رہا ہے وہاں برفباری کے باعث جانور زندہ نہیں رہ سکتے آفریدی قوم نے کمیٹی ممبران سے اتفاق نہیں کیا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی فوجی آپریشن کی سختی سے مخالفت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی س...

لوگ ازخود نہیں جارہے مجبور کیاگیا ، سہیل آفریدی

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند وجود - بدھ 28 جنوری 2026

متاثرہ عمارت کے اطراف میں پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات کر دیے گئے دکانداروں کو بھی حفاظتی اقدامات کے ساتھ اندر لے کر جائیں گے،ڈی سی (رپورٹ: افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن اور ملبہ اٹھانے کا کام مکمل بند کردیا گیاہے، انتظامیہ نے متاثرہ عمارت کو کراچی بلڈنگ کن...

سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ آپریشن ،ملبہ اٹھانے کا کام بند

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ وجود - بدھ 28 جنوری 2026

کراچی مسائل کا حل صوبائی یا وفاقی کنٹرول نہیں، بااختیار کراچی سٹی گورنمنٹ ہے، حافظ نعیم یکم فروری کو شاہراہ فیصل پر جینے دو کراچی مارچ کیا جائے گا، پریس کانفرنس سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے منگل کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ک...

جماعت اسلامی کاوزیر اعلیٰ مراد شاہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی وجود - بدھ 28 جنوری 2026

دہشت گرد ثناء اللہ کو سرنڈر کرنے کا موقع دیا مگر اس نے انکار کر کے فائرنگ شروع کر دی راکٹ لانچر، کلاشنکوف،ہینڈ گرنیڈز، ایس ایم جیز اور بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے کلی کربلا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پیر کی رات ایک طویل اور...

پشین میں آپریشن، 6 دہشت گرد ہلاک، 10 سی ٹی ڈی اہلکار زخمی

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی) وجود - بدھ 28 جنوری 2026

اسرائیلی ڈرون حملوں میںسیکڑوں افراد تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعددا سکولوں کو خالی کروا لیا اسرائیلی فورسز کی غزہ میں جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ، تازہ حملوں میں مزید 3فلسطینی شہید جبکہ اسرائیلی ڈرون حملوں میں 20افراد زخمی بھی ہوئے۔غی...

اسرائیل کی بربریت بدستور جاری ، 3فلسطینی شہید( 20 زخمی)

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ وجود - منگل 27 جنوری 2026

کسی صورت 8 فروری کے احتجاج کی کال واپس نہیں لیں گے، محمود خان اچکزئی کی شیریں مزاری سے ملاقات، بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہرکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ان کے گھر آمد لوگوں کے لئے آواز اٹھانے والے اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں(مصطفیٰ نواز کھوکھر ) ایمان اور ہادی کو جس انداز سے سزا...

اپوزیشن اتحادکا جیل بھرو تحریک شروع کرنے کا عندیہ

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان وجود - منگل 27 جنوری 2026

5 لاکھ گل پلازہ کے ہردکاندار کو دیں گے تاکہ 2 ماہ تک گھر کا کچن چلا سکے، وزیراعلیٰ سندھ ایک کروڑ کا قرضہ دینگے جس کا سود سندھ حکومت ادا کرے گی،مراد علی شاہ میڈیا سے گفتگو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو 2 ماہ میں دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان کردی...

2 ماہ میں متاثرین کو دکانیں تیار کرکے دینے کا اعلان

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط وجود - منگل 27 جنوری 2026

وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی فنڈزکی عدم ادائیگی مالی بحران کاباعث بن رہی ہے،وزیراعلیٰ وفاقی قابل تقسیم پول سے 658 ارب کے مقابلے میں صرف 604 ارب ملے،لکھے گئے خط کا متن وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو خط ارسال ...

سہیل آفریدی کا وفاقی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو خط

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی وجود - پیر 26 جنوری 2026

پختون قوم کا جرگہ بلاؤں گا اور معاملہ رکھوں گا،مکینوں کا ازخود جانے کا دعویٰ جھوٹ ہے، مکینوں سے پوچھیں گے، بات جھوٹی ہوئی تو ہم خود انہیں واپس لائیں گے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مجھے ہٹانے کیلئے تین آپشن ، گورنر راج ، نااہل ورنہ مجھے مار دیا جائے،کمیٹی کو ڈرایا دھمکایا گیا، بیانی...

بند کمروں کے فیصلے قبول نہیں،وادی تیراہ خالی کرنے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے، سہیل آفریدی

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار وجود - پیر 26 جنوری 2026

کم سے کم درجہ حرارت 8.5ڈگری سینٹی گریڈجبکہ پارہ سنگل ڈیجٹ میں ریکارڈ کیاگیا شمال مشرقی سمت سے 20تا 40کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں متوقع، محکمہ موسمیات کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جس کے سبب شہر میں اتوارکو بھی پارہ سنگل ڈیجٹ میں ری...

کراچی کویخ بستہ ہوائوں نے جکڑلیا، سردی کی شدت برقرار

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق وجود - پیر 26 جنوری 2026

مزید ایک لاش کا ڈی این اے،متاثرہ عمارت کے ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری دہلی کالونی کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا، متاثرہ خاندان شاپنگ کیلئے پلازہ گیا تھا (رپورٹ:افتخار چوہدری)سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شن...

سانحہ گل پلازہ،23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

مضامین
افراد، نظام اورادارے وجود جمعرات 29 جنوری 2026
افراد، نظام اورادارے

بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بھارتی سپریم کورٹ کا مقدمہ کشمیر سننے سے انکار

انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے ! وجود جمعرات 29 جنوری 2026
انتظار ہماری آخری شناخت بن چکاہے !

بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری وجود جمعرات 29 جنوری 2026
بنگلہ دیشی مطالبہ اور آئی سی سی کی جانبداری

آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر