... loading ...

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات کے بعد جواعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق طرفین نے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے۔خارجہ سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مذاکرات کے تحت آنے والے امور،جن میں امن و سلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ، تجارتی اشتراک ،سیاچن ،سرکریک ،وولر بیراج ،جموں وکشمیر،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں و فود کے تبالوں اور مذہبی سیاحت جیسے معاملات شامل ہیں،کیلئے شیڈول اور طریقہ کار ترتیب دیں گے۔
عالمی برادری نے جامع مذاکرات کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم چاہتے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات مل کر حل کریں اور ان مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں جن کا انھیں تاحال سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا تو بس چاہتا ہے کہ بات چیت جاری رہے اور اس لئے وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بات چیت کو حوصلہ افزا سمجھتا ہے کیونکہ یہ بالکل وہی چیز ہے جس کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا امریکا پاکستانی فوج کی سفارت کاری کے عمل میں شمولیت کو قبول کرتا ہے، ان کاکہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے کہ کون شامل ہوتا ہے یا نہیں۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کو خوش آئندقرار دیا ہے ۔
اُدھر بھارت کے اندر ابھی تک سیاسی پارٹیاں اور بھارتی میڈیا محتاط رد عمل کا مظاہرہ کررہا ہے ۔کا نگریس کے ترجمان ٹام وڈاکنTom Vadakkan نے ان مذاکرات پر خوشی کا اظہار کیا تاہم مودی حکومت سے انہوں نے یہ سوال کیا کہ مذاکرات کی بحالی کی وجہ کیا بنی۔مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے بی جے پی حمایت یا فتہ وزیر اعلیٰ نے ہندو پاک بات چیت عمل کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی جیت سے تعبیر کیا ہے۔اُنہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ہندوستان پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کیلئے کوئی دباؤ تھا۔

بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے ان مذاکرات کو فضول مشق قرار دیتے کہا کہ ہندوپاک نے گزشتہ68سال سے کشمیر پر بات چیت کی ہے لیکن صرف یہ طے پایا کہ اگلی بات چیت کب ہوگی۔دونوں ممالک ہمیشہ ان مذاکرات کے دوران میں کشمیر کی زمینی صورتحال بدلنے میں ناکام رہے۔سید علی گیلانی جمعرات کو حریت کا نفرنس کے صدر دفتر پر’’جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اوراقوام متحدہ‘ ‘کے عنوان پر سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ حریت سربراہ نے کہا کہ ایک طرف مذاکراتی عمل جاری تھاتو دوسری طرف مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کشمیری عوام کے عزم کو دبانے کیلئے بھارتی فورسز اور پولیس کی طرف سے بلا روک ٹوک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بزرگ مزاحمتی رہنمانے کہا کہ 1947سے ہندوستان اور پاکستان کے مابین150مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور پھر بھی کشمیری مسلسل سزا بھگت رہے ہیں، کشمیری، مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔یہ مذاکرا ت تب تک ایک فضول مشق ہے جب تک ہندوپاک اقوام متحدہ کی قراردادیں عمل میں لانے پر متفق نہیں ہوجاتے۔

حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے’’ وجود ڈاٹ کام ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک کروڑ 40لاکھ لوگوں کے مستقبل کا معا ملہ ہے۔اس مسئلے کو یا تو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے عین مطا بق حل کیا جا سکتا ہے یا پھر انہی قرادادوں کی روشنی میں سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔سید صلاح الدین نے کہا کہ ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے سے ہی حل ہوجائے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بھارت مذاکرات برائے مذاکرات کا قائل ہے اور ان مذاکرات کی آڑ میں وہ روز بروز ریاست پر اپنا قبضہ مستحکم کررہا ہے ۔اس لئے عسکری مزاحمت ہی اس مسئلے کا حل ہے اور یہ مزاحمت تاحصول آزادی پوری قوت سے جاری رہیگی۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یا سین ملک نے ان مذاکرات کو تب تک وقت کا ضیاع قرار دیا جب تک بنیادی فریق جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کو ایک فریق کی حیثیت میں مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر متنازع مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کی مرضی کے خلاف کشمیریوں پر کوئی منصوبہ تھونپا گیا تو حساس کشمیری قوم2 199ء کی طرح آر پار کشمیر کے مابین دیوار کو توڑ کر خونی لکیر کو روندکر ایک دوسرے سے آ ملیں گے۔جمعرات کو سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے جس میں ہندوپاک بیٹھ کر فیصلہ سنائیں گے ۔مسئلہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور یہ کوئی بے زبان جانوروں کا مسئلہ نہیں ہے جس میں ان سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کے فیصلے لئے جائیں۔

تاہم حریت کا نفرنس میر واعظ گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فارق نے بھارت اور پاکستان کے درمیان معطل شدہ مذاکراتی عمل کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مذاکراتی عمل تب تک ادھورا ہے جب تک ان مذاکرات میں کشمیری عوام کو شامل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور حکومت ہندوستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے ضمن میں طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی جرأت مندی سے عبارت اقدامات اٹھائے۔معروف کشمیری رائٹر اور صحافی گو ہر گیلانی نیان نے مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک طرف بھارتی میڈیا کی زبان نہیں تھکتی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،وہیں دوسری طرف یہی کشمیر دو طرفہ مذاکرات میں شا مل ہے۔،تو اس کا صاف مطلب ہے کہ بھارت نے اسے متنا زع تسلیم کیا ہے ۔ممتاز کشمیری صحافی احمد علی فیاض نے وزراء خارجہ کے مشتر کہ اعلامئے کو کشمیری عوام اور شہداء کی توہین قرار دیا ہے۔لکھتے ہیں امن و سلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ، تجارتی اشتراک ،سیاچن ،سرکریک ،ولر بیراج ،جموں وکشمیر،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں ،و فود کے تبادلوں کے موضوعات میں 26سالہ خونریزی اور ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کی اہمیت وولر بیراج کے قضیے کی سطح پر آگئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...