... loading ...

ایم اے جناح روڈ پرتبت سینٹر کے قریب موٹرسائیکل پر سوار مسلح نقاب پوشوں نے ملٹری پولیس کی گاڑی کو یکم دسمبر (بروز منگل ) تین بج کر بیس اور پچیس منٹ کے درمیان فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 اہلکاردم توڑ گئے۔ اس حساس ترین واقعے کا مقدمہ پریڈی تھانے میں درج کیا گیا۔
اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق دو نقاب پوش دہشت گرد ملٹری پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہونے میں بآسانی کامیاب ہو گیے۔فائرنگ کے فوراً بعد زخمی فوجی اہلکاروں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں دونوں زخمی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ جن کی شناخت راشد اور ارشد کے نام سے ہوئی ۔حوالدار،ارشد کا تعلق کراچی اورلانس نائیک راشد کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا۔
دہشت گردی کی کارروائی کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ۔ تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے خول برآمد کرلیے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ ڈاکٹرجمیل کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے تبت سینٹر کے قریب کھڑی ملٹری پولیس کی گاڑی کو پیچھے سے نشانہ بنایا۔ وجود ڈاٹ کام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکاروں نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھیں ۔ مگر دہشت گردوں نے فوجی اہلکاروں کے سروں کو نشانہ بنایا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد نہایت ماہر نشانہ باز تھے اور بخوبی جانتے تھےکہ فوجی اہلکار وں نے بلٹ پروف جیکٹ زیب تن کر رکھی تھیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی ہے جس کے مطابق ملٹری پولیس اور گزشتہ دنوں اتحاد ٹاؤن میں رینجرز پر ہونے والے حملے میں استعمال شدہ اسلحے میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ تفتیشی اہلکاروں کی جانب سے جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کو فرانزک لیبارٹری بھیجا گیا جہاں فرانزک ٹیسٹ کے بعدیہ انکشاف ہوا ہے کہ ملٹری پولیس اور اتحاد ٹاؤن میں رینجرزپر حملے میں ایک ہی طریقہ اور اسلحہ استعمال کیا گیا جب کہ پیر آباد میں ڈاکٹر اور پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی یہی اسلحہ استعمال ہوتارہاہے۔ اطلاعات کے مطابق مومن آباد ، پیر آباد اور بلدیہ ٹاؤن سمیت اتحاد ٹاؤن اور اب ایم اے جناح روڈ پر ہونےوالی ان کارروائیوں میں ایک ہی اسلحے کے استعمال نے تحقیقاتی اداروں کو اس نتیجے پر پہنچایا ہے کہ ان مختلف علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ایک ہی گروہ ملوث ہے جو انتہائی منظم طریقے سے کارروائیاں کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اتحاد ٹاؤن میں رینجرز اہلکاروں کو 20 نومبر کو ابوہریرہ مسجد کے باہر نشانا بنایا گیا تھا۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے موقع پر دعویٰ کیا تھا کہ اس کے ذمہ داروں اور سرپرستوں کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ مگر دس روز گزرجانے کےباوجود فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایاجانے تک اتحاد ٹاؤن کے واقعے میں کسی پیشرفت کا کوئی علم تاحال نہیں ہو سکا تھا۔ مگر یکم دسمبر کو فوجی اہلکاروں کو تبت سینٹر پر نشانہ بنائے جانے کے بعد پولیس کے کاؤنٹر ٹیرزازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک دہشت گرد کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار دہشت گرد نے اتحاد ٹاؤن واقعے کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی ہیں۔
آخری اطلاعات کے مطابق ملٹری پولیس کے دونوں جاں بحق اہلکاروں کی نماز جنازہ کراچی چھاؤنی میں ادا کردی گئی۔ حوالدار ارشد اور لانس نائیک راشد کی نماز جنازہ میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی اور صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور سیال سمیت پاک فوج کے دیگر افسران و اہلکار نے بھی شرکت کی۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...