وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین کے بچے ہوم ورک سے بے حال

جمعه 27 نومبر 2015 چین کے بچے ہوم ورک سے بے حال

chinese-students

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے کو اسکول سے بہت زیادہ ہوم ورک ملتا ہے تو ذرا چین کے بچوں کے بارےمیں سوچیے کہ جنہیں اوسطاً روزانہ تین گھنٹے ہوم ورک کو دینے پڑتے ہیں جو عالمی اوسط سے دو گنا زیادہ ہے۔

چین کے آن لائن تعلیمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق 18 سال سے قبل چین کے نو عمر طلبا اپنی زندگی کے اوسطاً 10,080 گھنٹے ہوم ورک کو دیتے ہیں، یعنی 7 ہزار فٹ بال میچز کے برابر کا وقت۔ افانتی نامی ادارے نے یہ رپورٹ اپنے 20 ملین صارفین کے تعلیمی ریکارڈ اور 1000 طلبا کے سروے سے ترتیب دی ہے۔

رپورٹ میں 45 فیصد بچوں نے کہا ہے کہ ان کا ہوم ورک بہت زیادہ ہوتا ہے اور اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی بچوں کو فرانس کے بچوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ،جاپان سے چار گنا اور جنوبی کوریا سے چھ گنا زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔

چین کے بچوں میں ریاضی سب سے مشکل مضمون گردانا جاتا ہے۔ 71.9 فیصد طلبا نے کہا کہ ان کا زیادہ تر وقت ریاضی میں صرف ہوتا ہے۔ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ زیادہ ہوم ورک ہونے کی وجہ سے بچوں کے معمولات، خاص طور پر نیند، شدید متاثر ہوتی ہے۔ تین سال کی عمر سے گھٹتے گھٹتے چینی بچوں کی نیند 12 سال تک آٹھ گھنٹے بھی نہیں رہتی۔

ہائی اسکول کے 87.6 فیصد طلبا نے سروے میں بتایا کہ وہ عام طور پر اپنا کام رات 11 بجے کے بعدہی مکمل کر پاتے ہیں۔ شنگھائی کے طلبا میں رات گئے تک جاگنے کا رحجان سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ 49.3 فیصد طلبا نے کہا کہ ہوم ورک وقت پر نہ کر پانے کی وجہ سے انہیں سخت مایوسی ہوتی ہے جبکہ 20 فیصد نے کہا کہ وہ شدید غصے میں آ جاتے ہیں اور ان کا دل چاہتا ہے کہ کتابیں کاپیاں پھاڑ دیں۔

سروے میں شامل 80 فیصد والدین نے کہا کہ بچوں کے زیادہ ہوم ورک کی وجہ سے وہ بھی بے حال ہو جاتے ہیں بلکہ 45فیصد نے اقرارکیا کہ وہ بچوں کو ہوم ورک چھوڑ دینے کا کہتے ہیں۔ 33 فیصد والدین نے کہا کہ انہوں نے اس مسئلے پر بچوں کے اساتذہ سے بات کی ہے۔


متعلقہ خبریں