وجود

... loading ...

وجود

جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے

بدھ 11 نومبر 2015 جمعیت علمائے اسلام بلوچستان کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کرگئے

Fazlur-Rehman

جمعیت علمائے اسلام (ف)بلوچستان کے اندرونی اختلافات کا اظہار اکثر اوقات ذرائع ابلاغ پر ہو تا ہے ۔ رہنما جماعت کے فورم کے بجائے الزامات و جوابات کا آغاز میڈیا پر کر دیتے ہیں ۔حتیٰ کہ تنظیمی خطوط اور شوکاز نوٹسز بھی سوشل میڈیا پر لائے جاتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام صوبے کے اندر تنظیمی طور پر گویا عملاً تقسیم ہے ایک جماعت وہ ہے جو انیس جون2014ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی جس کے امیر مولانا فیض محمد ہیں اور سیکریٹری جنرل ملک سکندر ایڈووکیٹ ہیں۔ دوسری تنظیم گویا مولانا محمد خان شیرانی کی ہے جوجماعتی الیکشن میں ہارنے کے باوجود متوازی تنظیم چلارہے ہیں۔ سینیٹر حافظ حمداللہ سمیت جے یو آئی کے بلوچستان اسمبلی میں اکثر اراکین مولانا شیرانی کے زیر اثر ہیں۔ مو لانا شیرانی اور ان کے رفیق اپنے طور پر اجلاس منعقد کرتے ہیں۔جلسے جلوس کا اہتمام کرتے ہیں ۔ مختلف اضلاع کے دوروں کے موقع پر ان کا استقبال ہوتا ہے۔ منتخب صوبائی تنظیم اس خلاف ورزی پر ان کو نوٹسز جاری کرچکی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کی اندرونی کہانی کھینچا تانی ، اتار چڑھاؤ ، اختلافات اور تضادات سے پُر ہے اور ان کے تنظیمی انتخابات میں نہ صرف دھاندلی عام ہے بلکہ ووٹ کی خاطر کسی بھی ممکنہ خلاف ِدستور اقدام سے دریغ نہیں کیا جاتا

تازہ احوال یہ ہے کہ جے یو آئی کی صوبائی تنظیم اور پارلیمانی ارکان یعنی مولانا عبدالواسع کے درمیان ٹھن گئی ہے۔ 31؍اکتوبر 2015 کو صوبائی امیر مولانا فیض محمد اور سیکریٹری جنرل ملک سکندر ایڈووکیٹ نے پریس کانفرنس میں کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی تنظیم یا صوبائی جماعت کے علاوہ کسی بھی شکل میں کسی بھی نام و عنوان سے کسی بھی اجلاس، جلسہ ، نشست و اجتماع میں شرکت نہ کریں اور صوبائی نظم کے علاوہ کسی بھی سیاسی و تنظیمی عمل میں حصہ لینا جماعت میں انتشار کا موجب اور جے یو آئی کیلئے رکاؤٹ اور دشواریاں پیدا کرنے کا باعث ہے جو دستور کے سراسر منافی ہے ۔ ‘‘ اس پریس کانفرنس میں ان رہنماؤں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ’’جے یو آئی آئندہ بننے والی ممکنہ صوبائی حکومت میں شامل نہیں ہوگی اور صوبائی جماعت سے ہٹ کر کوئی بھی رکن صوبائی اسمبلی یا جمعیت کا کوئی بھی ساتھی کسی سیاسی جماعت سے حکومت میں حصہ داری یا کسی اتحاد کی بات نہیں کرے گا۔ ‘‘ صوبائی تنظیم کا اصل ہدف بلوچستان اسمبلی میں ان کا پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع ہے۔ مولانا عبدالواسع متحدہ اپوزیشن کے قائد بھی ہیں ۔ در حقیقت پارلیمانی ارکان میں ایک دو کے علاوہ باقی اراکین خود کو صوبائی تنظیم کے تحت لانے کی بجائے مولانا عبدالواسع کے تابع کارگزار ہیں ۔جبکہ مو لانا عبد الواسع خود کو مو لانا شیرانی کی ہدایات کا پابند سمجھتے ہیں۔ مولانا عبدالواسع کی کوشش بھی یہی ہے کہ وہ جے یو آئی کے اراکین اسمبلی کو اپنے کنٹرول میں رکھیں۔ مولانا عبدالواسع طویل پارلیمانی تجربہ رکھتے ہیں۔ دو بار سینئر وزیر رہ چکے ہیں۔ چنانچہ صوبائی مجلس شوریٰ نے مولانا عبدالواسع کو نہ صرف قلعہ سیف اللہ کی امارات سے سبکدوش کردیا ہے بلکہ ان کی بنیادی رکنیت بھی ختم کردی ۔ 30؍ستمبر 2015ء کو مولانا عبدالواسع کو جاری کئے گئے مراسلے میں انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ آپ نے نئی تنظیم کی راہ میں روز اول سے روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے اور صوبائی جماعت اور اضلاع کی جماعتوں کو ناکام بنانے کیلئے خطیر رقم خرچ کرکے مختلف اضلاع کے دورے کئے۔ صوبائی و مرکزی فیصلوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ دستور اور جماعتی تنظیم کے خلاف اقدامات کی فہرست بہت طویل ہیں۔ ‘‘اسی مراسلے میں آگے جاکر لکھا گیا کہ ’’ بلوچستان سے جمعیت کی دو مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کے بارے میں صوبائی جماعت میں ان کے نمائندوں رؤف عطا ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر ذوالفقار رخشانی کو 17مارچ2015ء کے صوبائی عاملہ کے اجلاس میں طلب کیا گیا اور ان کی مشاورت اور رضا مندی سے خواتین ایم پی اے کو پبلک فنڈ میں سے 65فیصد بلوچستان کے 32اضلاع میں صوبائی جماعت کی مشاورت سے خرچ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ صوبائی جماعت نے تمام 32اضلاع کو اس فیصلے اور طرز تقسیم سے آگاہ کیا لیکن بعد میں ان دو اراکین اسمبلی نے اس فیصلے سے انحراف کیا اور جواز یہ بتایا کہ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ وہ فنڈ خود تقسیم کریں گے یعنی صوبائی جماعت کی مشاورت نہ مانی جائے۔ ‘‘ مزید تحریر ہے کہ ’’صوبائی جماعت نے ایم پی ایز اور ایم این اے کے فنڈز کی تقسیم سے متعلق ستمبر2014 میں واضح فیصلہ کیا کہ ایم پی اے اپنی ضلعی جماعت کی مشاورت سے اور ایم این اے اپنے حلقہ انتخاب پر مشتمل اضلاع کے نظم کی مشاورت سے پبلک فنڈز عوام میں خرچ کریں گے لیکن جب آپ (مولانا عبدالواسع) کو اس ضمن میں20 اپریل 2015ء کو نوٹس دیا گیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنی ضلعی شوریٰ سے مشاورت کی جس نے صوبائی فیصلے سے اتفاق نہیں کیا گویا آپ کی ضلعی مجلس شوریٰ صوبائی نظم سے بالاتر ہے اور آپ کے ضلع کے فیصلے صوبائی جماعت پر حاوی ہیں۔ آپ (مولانا عبدالواسع) کو اضلاع میں افرا تفری پیدا کرنے اور صوبائی نظم کے ساتھ مقابلے میں دورے کرنے کے بارے میں20اپریل2015 ہء ی کے نوٹس میں جواب مانگا تو اس کا بھی آپ نے انتہائی لا پرواہی سے جواب دیا اور جواب گول مول کردیا۔ اور15جون2015ء کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں دیئے گئے نوٹس کا جواب دینا تک گوارانہ کیا۔ ایک سال دو ماہ صوبائی جماعت آپ کی غیر دستوری اور تنظیم کی صریح خلاف ورزیوں کا جائزہ لیتی رہی۔ اس امید کے ساتھ تحمل سے کام لیا کہ آپ اپنی روش میں تبدیلی لائیں گے۔ صوبائی جماعت کی برداشت اور درگزر کا مفہوم غلط انداز میں لیا اور اخلاقیات کی بھی پرواہ نہیں کی ۔یہ امر ناگزیر ہوگیا کہ دستور اور جماعتی نظم کے تقاضے پورے کئے جائیں ۔ لہٰذا آپ مولانا عبدالواسع کی جمعیت علمائے اسلام سے بنیادی رکنیت ختم کی جاتی ہے ۔ اس طرح آپ کو ضلع قلعہ سیف اللہ کے امیر کے عہدے سے بھی برطرف کیا جاتا ہے اور مولوی سید محمد کو فوری طور پر نگراں ضلعی امیر مقرر کیا جاتا ہے اور قلعہ سیف اللہ کی ضلعی کابینہ بھی تحلیل کی جاتی ہے تاکہ جماعت کو ا س کے فکری اور نظریاتی اساس پر چلانے کیلئے راہ ہموار ہو۔‘‘ مولانا عبدالواسع نے اس تنظیمی کارروائی کے خلاف میڈیا پر بولنا شروع کردیا بلکہ صوبائی تنظیم کو نا تجربہ کار قرار دیا ۔ یہاں تک کہا کہ تنظیم انہیں نوٹس جاری ہی نہیں کرسکتی ۔کیونکہ پارٹی کے دستور میں ترامیم ہوچکی ہیں جس کی رو سے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان ہی ان کی رکنیت ختم کرنے پر قاد رہیں اور کہا کہ پارٹی کو ایک وکیل چلارہے ہیں ۔اُن کا اشارہ صوبائی سیکریٹری جنرل سکندر ایڈووکیٹ کی طرف تھا۔

مولانا عبدالواسع نے اس پر بھی بس نہ کرتے ہوئے 3؍نومبر2015ء کو پریس کانفرنس بھی کی جس میں کہا کہ صوبائی قیادت نے ایک بار اجلاس بلایا تھا جس میں انہوں نے شرکت کرلی تھی۔ اس کے علاوہ کسی اجلاس میں نہیں بلایا گیا ۔ مولانا عبدالواسع نے بار بار کہا کہ موجودہ صوبائی تنظیم جے یو آئی کے انتخابات میں ٹھپے لگا کر منتخب ہوئی ہے۔ بہر حال جمعیت علمائے اسلام کی اندرونی کہانی اس کھینچا تانی ، اتار چڑھاؤ ، اختلافات اور تضادات سے پُر ہے اور ان کے تنظیمی انتخابات میں نہ صرف دھاندلی عام ہے بلکہ ووٹ کی خاطر کسی بھی ممکنہ خلاف ِدستور اقدام سے دریغ نہیں کیا جاتا ۔انتخاب سے قبل امیدوار یا گروہ اپنی کامیابی کے لئے ہر کس و ناکس کو ممبر بنا کر کارڈ جاری کرتا ہے۔ جے یو ٓائی کے اندر کی رسہ کشی کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام نظریاتی وجود آئی ہے ۔ نظریاتیوں کا بنیادی اختلاف بھی مو لانا شیرانی کی اس متوازی سوچ سے تھا ۔ اس وقت بھی کئی رہنما خفا ہوکر ایک طرف بیٹھے ہوئے ہیں۔ رہی بات موجودہ صوبائی حکومت میں شامل ہونے کی تو در حقیقت نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی حکومت میں جے یو آئی کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ اگر ان دو جماعتوں کی غیر موجودگی میں کوئی موقع آتا ہے، تو مولانا عبدالواسع اس کا حصہ بننے کے لئے ہر ممکن جتن کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی تنظیم کے فیصلے کو مولانا فضل الرحمان کے ہاں کتنی اہمیت ملتی ہے؟


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر